المیہ جمعرات

المیہ جمعرات0%

المیہ جمعرات مؤلف:
قسم: مناظرے
صفحے: 32

المیہ جمعرات

مؤلف: محمد تیجانی سماوی (تیونس)
قسم:

صفحے: 32
مشاہدے: 713
ڈاؤن لوڈ، اتارنا: 17

تبصرے:

  • مقدّمہ مؤلف

  • حدیث قرطاس:-

  • پیغمبر نے زبر دستی نوشتہ کیوں نہ لکھا ؟:-

  • واقعہ قرطاس اور علمائے اہل سنت کی تاویلات:

  • فصل اول

  • مسئلہ وصیت

  • خلافت علی (ع) کے دلائل

  • سواد اعظم کا نظریہ خلافت

  • معتزلہ کا نظریہ خلافت

  • حدیث قرطاس

  • رسول خدا (ص) کیا لکھنا چاہتے تھے ؟

  • دور معاویہ میں وضع حدیث

  • ابو طالب(ع) کی اسلامی خدمات

  • شعب ابی طالب

  • علی (ع) کی اسلامی خدمات

  • 1:- شب ہجرت

  • 2:-مواخات

  • 3:- جنگ احد اور علی (علیہ السلام)

  • 4:- علی(ع) اور تبلیغ براءت

  • 5:-علی (ع) تبلیغ اسلام کے لیے یمن جاتے ہیں

  • 6:- ہارون محمدی

  • 7:- فاتح خیبر

  • فصل دوم

  • سقیفہ: کی کاروائی

  • 1:حضرت ابو بکر صدیق

  • واقعات سقیفہ کا تجزیہ

  • حضرت علی خلافت سے محرومی کی ایک اور وجہ

  • واقعہ فدک

  • فدک مختلف ہاتھوں میں

  • مامون کی واپسی فدک

  • محاکمہ فدک

  • "لاوارثی "حدیث اور قرآن

  • "لا وارثی حدیث"قرآن کے منافی ہے

  • "لاوارثی " حدیث اور عقل ونقل کے تقاضے

  • فدک بعنوان ہبہ

  • فرع کی اصل کے لئے گواہی

  • مباہلہ کی گواہی

  • خلیفۃ المسلمین کا عملی تضاد

  • سقیفائی حکومت کا دوسرا چہرہ

  • ب :- حضرت عمر بن الخطاب

  • خلیفہ اول کی حضرت عمر کے لئے وصیت

  • شوری

  • شوری کی کاروائی

  • چند سوال

  • ارکان شوری کے متعلق حضرت عمر کی رائے

  • بزم شوری میں حضرت علی (علہہ السلام)کا احتجاج

  • مجلس شوری کا تجزیہ

  • حضرت عمر کے بعض اجتہادات

  • سیرت رسول اور سیرت عمر میں اختلاف

  • سیرت شیخین کا باہمی تضاد

  • مالک بن نویرہ کا واقعہ

  • واقعہ مالک کا تجزیہ

  • سقیفہ کا تیسرا چہرہ

  • 3:- حضرت عثمان بن عفان:-

  • بنی امیہ کی اسلام دشمنی

  • جنگ بدر

  • بنی امیہ کا اسلام

  • بنی امیہ پر نوازشات

  • حضرت علی (ع) کی مالی پالیسی

  • چند مشاہیر کی دولت

  • حضرت عثمان کی حکومتی پالیما

  • عثمانی عمّال کی سیرت

  • ولید بن عقبہ

  • کوفہ میں ولید شراب نوشی

  • ولید کو والی کوفہ کیوں بنایا گیا

  • حضرت عثمان کا صحابہ سے سلوک

  • عبداللہ بن مسعود کی داستان مظلومیت

  • مخالفین کے حضرت عثمان پر الزامات

  • اپنوں کی طوطا چشمی

  • ایک "زود پشمان " کی پشمانی

  • عمرو بن العاص اور حضرت عثمان

  • حضرت عثمان اور ام المومنین عائشہ

  • بنی امیہ کا اجلاس

  • ایک سوال جس کا جواب ضروری ہے

  • قتل عثمان

  • قتل عثمان کے بعد بنی امیہ کی سازشیں

  • فصل سوم

  • خلافت امیرالمومنین علیہ السلام

  • فصل چہارم

  • ناکثین (بعیت شکن)

  • عائشہ کو علی سے پرانی عداوت تھی

  • طلحہ وزبر کی مخالفت کی وجہ

  • جنگ جمل کے محرّک بصرہ میں

  • محرّکین جمل کے جرائم

  • فصل پنجم

  • گروہ قاسطین (منکرین حق)

  • جنگ صفین

  • فصل ششم

  • تحکیم ۔مارقین ۔شہادت

  • عمر بن العاص کی شخصتت

  • عمرو بن العاص ،معاویہ کے پاس

  • تحکیم اور موقف علی (ع)

  • حضرت علی (ع) کی مشکلات

  • فصل ہفتم

  • سیرت امام (ع) سے چند اقتباسات

  • آئین حکومت

  • بیت المال اور علی (ع)

  • 3 ۔آپ کی تواضع اور عدل

  • 4۔آپ کی سیاست عامہ کا تجزیہ

  • 5- آپ کے چند اقوال زریں

  • حسن علیہ السلام کو وصیت

  • 6- حضرت علی (ع) اور انطباق آیات

  • فصل ہشتم

  • کردار معاویہ کی چند جھلکیاں

  • حضرت حجر بن عدی کا المیہ

  • غدر معاویہ کے دیگر نمونے

  • زیاد بن ابیہ کا الحاق

  • اقوال معاویہ

  • بنی ہاشم اور بنی امیہ کے متعلق حضرت علی (ع) کا تبصرہ

  • کتاب ہذا کے مصادر

کتاب کے اندر تلاش کریں
  • شروع
  • پچھلا
  • 32 /
  • آگے
  • آخر
  •  
  • مشاہدے: 713 / ڈاؤن لوڈ، اتارنا: 17
سائز سائز سائز
المیہ جمعرات

المیہ جمعرات

مؤلف:

مقدّمہ مؤلف نام کتاب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔المیہ جمعرات
تالیف۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محمد تیجانی سماوی (تیونس)
مترجم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مقصود احمد انصاری
ای بک کمپوزنگ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حافظی
نیٹ ورک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شبکہ امامین حسنین علیھما السلام

اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم
بسم اللہ الرحمان الرحیم
الحمد اللہ رب العالمین
والصلواۃ والسلام والتحیۃ و الاکرام علی سید الاونبیاء والمرسلین
واھل بیتہ الطیبین الطاھرین المعصومین
الذین اذھب اللہ عنھم الرجس وطھر ھم تطھیرا
وغضب اللہ علی اعدائھم الی یوم الدین ۔

٭٭٭٭٭

٩
مقدّمہ مؤلف قارئین کرام !
ہر دور میں مسئلہ امامت وخلافت کے متعلق اہل علم نے کتابیں تصنیف کیں اور مقالات لکھے اور یہ مقالات سال کے چار موسموں کی طرح یکے بعد دیگرے لکھے جاتے رہے ۔
شہرستانی نے " الملل والنحل" میں بالکل بجا لکھا ہے کہ امت اسلامیہ میں مسئلہ خلافت پر جس قدر نزاع ہوا ہے اتنا نزاع کسی دوسرے مسئلہ پر دیکھنے میں نہیں آیا ۔
میں نے اپنی سابقہ کتابوں میں ان عوامل پر کافی بحث کی ہے جو مسلمانوں کی بد نصیبی اور زوال کا سبب بنے اور بحمد اللہ میری کتابوں کو قارئین کرام کے ایک طبقہ میں کافی نصیب ہوئی ۔اس پزیرائی کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ میں خود زندگی کے ایک طویل عرصہ تک اندھی تقلید میں مبتلا رہا پھر اللہ تعالی نے مجھ پر خاص کرم کیا اور اس اندھی تقلید کے حلقہ سے مجھے باہر نکالا اور حقیقت کی معرفت عطا فرمائی اور ادراک حق میں مانع پردوں اور حجابات کو میری نگاہوں سے دور کردیا ۔
اس نعمت غیر مترقبہ کے شکرانے کا تقاضا بنتا تھا کہ میں حق کا دفاع کروں ۔اور اپنے قلم ،زبان ،اور ہاتھ کی تمام توانائیوں کو کام میں لا کر حق کی نصرت کروں ۔

١٠
الغرض یہ کتاب اسی شکرانہ نعمت کے طور پر لکھی گئی ہے ۔اور آپ نے اس کتاب کا ایک طویل عرصہ تک انتظار کیا ۔جس کے لئے میں آپ کا شکر گزار ہوں ۔جب یہ کتاب لکھ رہا تھا تو بہت سے افراد مجھ پر خفا بھی ہوئے ۔جب کہ حق پرست احباب نے میری حوصلہ افزائی بھی فرمائی ۔ ناراض اذہان نے مجھ پر بعض غیر ملکی طاقتوں کے ایجنٹ ہونے کا بھی الزام لگانے سے گریز نہیں کیا ۔اور حوصلہ شکن حالات کے باوجود میں بلا خوف لومتہ الائمہ کتاب لکھنے میں مصروف رہا اور اسے کے ساتھ میں نے دل ودماغ میں یہ فیصلہ کیا کہ دنیا کے ہر الزام کو برداشت کیا جاسکتا ہے لیکن ضمیر اور حقیقت کو جھٹلایا نہیں جا سکتا ۔
موجودہ کتاب "المیہ جمعرات " اس درد کی داستان ہے جسے سینکڑوں بر س بیت چکے ہیں ۔لیکن امت اسلامیہ کے وجود میں آج بھی اس درد کی ٹیسیں محسوس ہو رہی ہیں اور جب تک سلسلہ روز شب باقی ہے اس کا درد محسوس ہوتا رہے گا ۔
آپ اس ہولناک منظر کو ذہن میں لائیں ۔یہ وہ وقت تھا جب خاتم النبیین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ظاہری زندگی کا چراغ بجھنے والا تھا ۔ رسول خدا نے اسامہ بن زید کی لشکر مقرر کیا ۔خلفائے ثلاثہ اور دیگر اکابر صحابہ کو اس لشکر میں جانے کا حکم صادر فرمایا ۔لیکن خلفائے ثلاثہ نے لشکر کی روانگی میں جان بوجھ کر تاخیر کرائی اور یہ کہہ کر لشکر کو جانے سے روکتے رہے کہ "حضور اکرم کی طبیعت ناساز ہے ۔اور ادھر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر سے ام المومنین عائشہ انہیں لمحہ لمحہ کی خبر دے رہی تھیں ۔
ام المومنین اپنے والد محترم کو اس لئے خبریں فراہم کر رہی تھیں کیونکہ وہ چاہتی تھیں کہ ان کے والد مدینہ آکر مسلمانوں کو نماز پڑھائیں ۔اور پھر ان کی "امامت الصلواۃ"کو بنیاد بنا کر انہیں خلافت رسول کا حقدار ثابت کیا جائے ۔
جناب رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سخت تکلیف میں تھے ۔انھوں نے

١١
جب لوگوں کا شور غوغا سنا تو پوچھا کہ معاملہ کیا ہے ؟اس وقت آپ کو بتایا گیا کہ ابوبکر نماز پڑھا رہے ہیں ۔
جب آپ نے یہ الفاظ سنے تو اپنا تمام جسمانی درد بھول گئے اور حکم دیا کہ انہیں سہارا دے کر مسجد میں لے جائیں ۔ارشاد نبوی سن کر حضرت علی علیہ السلام اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے آپ کو سہارا دیا ۔ آپ ان کے کندھوں کا سہارا لے کر مسجد میں آئے اور آتے ہی حضرت ابو بکر کو مصلائے امامت سے پیچھے ہٹا دیا اور خود مسلمانوں کو نماز پڑھائی ۔
جناب رسول خدا نے خود جماعت کراکے مزعومہ خلافت وفضیلت کی دھجیاں فضائے بسیط میں بکھیر کر رکھ دیں اور اس گروہ کو اس قابل نہ چھوڑا کہ وہ امامت نماز کا بہانہ کر کے خلافت کا دعوی کر سکے ۔حضرت سید الانبیاء نے لشکر اسامہ سے روگردانی کرنے والوں پر کھلے لفظوں مین اپنی ناراضگی کا اظہار فرمایا بلکہ نفرین فرمائی ۔انہی دنوں مدینہ طیبہ میں ایک سانحہ پیش آیا :
حمعرات کا دن تھا ۔جناب رسول خدا (ص) بیماری کی وجہ سے بے تاب تھے اور لشکر اسامہ سے روگردانی کرنے والے افراد حضور کریم کے بیت الشرف میں بظاہر عیادت کرنے آئے ہوئے تھے اور اس گروہ میں حضرت عمر بن خطاب نمایا ں تھے ۔ حضور اکرم نے حاضرین سے کاغذ اور قلم طلب فرمایا تاکہ امت کو ہمیشہ کی گمراہی سے بچایا جاسکے اور اس کے ساتھ ارشاد فرمایا " انی تارک فیکم الثقلین کتاب اللہ وعترتی اھل بیتی ما ان تمسّکتم بھما لن تضلّوا بعدی ابدا ولن یفترقا حتی یردا علیّ الحوض"
"میں تمہارے درمیان دو گراں قدر چیزیں چھوڑ کر جارہا ہوں : اللہ کی کتاب او راپنی عترت اہل بیت ۔تم جب تک ان دونوں سے تمسّک رکھو گے ۔میرے بعد ہرگز گمراہ نہ ہوگے یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گے ۔یہاں تک کہ

١٢
میرے پاس حوض کوثر پر وارد ہوں ۔"
حضرت عمر نے آنحضرت کے فرمان کو ٹھکرا کر کہا "حسبنا کتاب اللہ " ہمارے لئے اللہ کی کتاب کافی ہے " اور یہ کہ محمد(ص) اس وقت ہذیان کہہ رہے ہیں (نعوذ با اللہ )
حضرت عمر کے الفاظ سے آنحضرت سخت ناراض ہوئے اور فرمایا "قوموا عنی " میرے پاس سے اٹھ کر چلے جاؤ۔ جب حضور اکرم کی زندگی میں ہی آپ کے فرمان کو لائق اعتنا نہیں سمجھا گیا تو آپ کے بعد آپ کے فرامین پر کیا عمل ہوا ہوگا ؟
حضرت عمر کے جواب کو کسی طرح سے بھی حسن نیت یا اجتہاد پر محمول نہیں کیا جا سکتا ۔
اس درد نکا واقعہ کی تفصیل اور علمائے اہل سنت کی جانب سے جو جوابات دیئے گئے ہیں اور وہ جواب جتنے کمزور ہیں ، اس کے لئے ہم اپنے قارئین کے سامنے علامہ سید عبد الحسین شرف الدین اعلی اللہ مقامہ کی کتاب "النص و الاجتھاد"اور "المراجعات" سے اقتباسات پیش کرتے ہیں ۔



۱
حدیث قرطاس المیہ جمعرات

حدیث قرطاس:-
اس واقعہ کی تفصیل بیان کرتے ہوئے اصحاب صحاح اور اصحاب مسانید اور اہل سیر و تاریخ رقم طراز ہیں ۔
ہم بحث کی ابتدا امام بخاری سے کرتے ہیں :
اما م بخاری اپنی اسناد س عبید اللہ بن عبد اللہ بن مسعود سے وہ ابن عباس سے روایت کرتے ہیں کہ :رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وقت آخر تھا اور اس وقت گھر میں بہت سے افراد جمع تھے جن میں عمربن خطاب بھی موجود تھے ۔

١٣
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :" میں تمہیں ایسی تحریر لکھ کر دوں کہ میرے بعد تم گمراہ نہ ہو سکو گے "۔
حضرت عمر نے کہا نبی پر درد کا غلبہ ہے ۔تمہارے پاس قرآن موجود ہے ۔ہمارے لئے اللہ کی کتاب کافی ہے ۔اس پر گھر میں بیٹھے ہوئے افراد تکرار کرنے لگے ۔کچھ کہتے تھے کہ قلم دوات لاؤ تاکہ حضور تمہیں وہ چیز لکھ دیں تمہیں گمراہی سے بچا سکے اور کچھ وہی کچھ کہتے تھے جو عمر نے کہا تھا ۔
جب حضور اکرم کے پاس شوروغوغا زیادہ ہوا تو آپ نے فرمایا :" میرے پاس سے اٹھ کر چلے جاؤ"۔
عبد اللہ بن مسعود کہا کرتے تھے کہ ابن عباس کہتے تھے کہ : سب سے بڑا المیہ اور سانحہ یہی ہوا کہ لوگوں نے اپنے اختلاف اور شور وغوغا کی وجہ سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ سلم کو نوشتہ لکھنے سے روکر دیا ۔ اسی حدیث کو امام مسلم نیشاپوری نے اپنی کتاب صحیح مسلم میں " کتاب الوصیۃ" کے آخر میں درج کیا ہے ۔
اسی روایت کو امام احمد بن حنبل نے ابن عباس کی زبانی نقل کیا ہے ۔
اور اکثر محدثین نے "ان النبی لیھجر" کے الفاظ میں بے ادبی اور گستاخی کی جھلک دیکھ کر اس میں تصرّف معنوی سے کام لیتے ہوئے " ان النبی قد غلب علیہ الوجع " یعنی (حضور ص پر درد کا غلبہ ہے ) کے الفاظ سے تعبیر کیا ہے ۔ ورنہ حقیقت یہ ہے کہ حضرت عمر نے کوئی لگی لپٹی رکھے بغیر حضور کے فرمان کو لفظ "ہذیان" سے تعبیر کیا تھا ۔ لیکن بعد میں آنے والے محدثین نے اس لفظ کی کراہت کو کم کرنے کے لئے دوسرے الفاظ تراشے ۔
ہمارے اس دعوی کی تصدیق کے لئے ابو بکر احمد بن عبدالعزیز الجوھری کی

١٤
کتاب "کتاب السقیفہ "کا مطالعہ فرمائیں ۔
علامہ مذکور ابن عباس سے روایت کرتے ہیں ۔ لمّا حضرت رسو ل اللہ (ص) الوفاۃ و فی البیت رجال فیھم عمر بن الخطاب قال رسول اللہ ایتونی بدواۃ وصحیفۃ اکتب لکم کتابا لاتصلون بعدہ قال ،فقال عمر کلمۃ معناھا ان الوجع قد غلب علی رسول (ص) ثم قال عندنا القرآن حسبنا کتاب اللہ فاختلف ممن فی البیت و اختصموا فمن قائل قربو ا یکتب لکم النبی (ص) ومن قائل ما قال عمر فلمّا اکثروا اللغط واللغو والاختلاف غضب (ص) فقال قوموا ۔(الحدیث)
جب رسول خدا(ص) کاآخری وقت آیا اس وقت گھر میں بہت سے افراد موجود تھے ۔ ان میں عمر بن خطاب بھی تھے ۔رسول خدا نے فرمایا : میرے پاس دوات اور کا غذ لاؤ میں تمھیں ایسی تحریر لکھ دوں جس کے بعد تم گمراہ نہ ہوگے ۔
یہ سن کر حضرت عمر نے ایک بات کہی جس کا مفہوم یہ تھا کہ اس وقت رسول خدا پر درد کا غلبہ ہے اور ہمارے پاس قرآن موجود ہے ۔ہمارے لئے اللہ کی کتاب کافی ہے ۔گھر میں بیٹھے ہوئے افراد میں اختلاف ہوگیا اور آپس میں جھگڑنے لگے کچھ لوگ وہی کہتے تھے جو عمر نے کہاتھا ۔جب حضور کریم کے پاس اختلاف اور جھگڑا بڑھا تو آپ ناراض ہوئے اور فرمایا "اٹھ چلے جاؤ"الحدیث
جوہری کے الفاظ سے آپ کو معلوم ہوگیا ہوگا کہ "حضور پر درد کا غلبہ ہے " جیسے محتاط الفاظ " روایت بالعنی "کے طور پر وارد ہوئے ہیں ورنہ حضرت عمر نے آنحضرت کے فرمان کو صریحا "ہذیان "کہہ کر ٹھکرا دیا تھا ۔
یہی وجہ ہے کہ آپ محدثین کی کتابوں میں یہ سب دیکھیں گے کہ جب وہ اس واقعہ کی روایت لفظ "ہذیان" سے کرتے ہیں تو انہیں ان کی مسلکی وابستگی اس بات کی

١٥
اجازت نہیں دیتی کہ کھل کر یہ بیان کر سکیں کہ "ہذیان" کی تہمت لگانے والا اور رسول خدا کے دماغ پر حملہ کرنے والا کون تھا ۔
اس مقام پر پہنچ کر واقعہ کے اہم کردار کو نمایاں کرنے کی بجائے اسے بے نام ونشان چھوڑ کر گزر جاتے ہیں ۔
جیسا کہ امام بخاری "کتاب الجہاد والسیر" کے باب "جوائز الوفد" میں لکھتے ہیں :-حدثنا قبیصۃ حدثنا ابن عیینۃ عن سلیمان الاحول عن سعید بن جبیر عن ابن عباس انہ قال یو م الخمیس وما یو م الخمیس ثمّ بکی حتی خضب دمعہ الحصیاء ،فقال اشتد برسول اللہ (ص) وجعہ یو م الخمیس فقال ایتونی بکتاب اکتب لکم کتابا لن تضلوا بعدہ ابدا فتنازعوا ولا ینبغی عند نبی تنازعوا فقالوا ھجر رسول اللہ (ص) قال(ص) دعونی فالذی انا فیہ خیر مما تدعوننی الیہ واوصی عند موتہ بثلاث ،اخرجوا المشرکین من جزیرۃ العرب واجیزو ا الوقد بنحو ما کنت اجیزہ (قال) ونسیت الثالثۃ۔
(بحذف اسناد) ابن عباس کہتے تھے پنچ شنبہ کا دن ؛ ہائے وہ کیا دن تھا پنچ شنبہ کا ! یہ کہہ کر اتنا روئے کہ ان کے آنسو ؤں سے سنگریزے تر ہوگئے ۔پھر کہااسی پنچ شنبہ کے دن رسول خدا کی تکلیف بہت بڑھ گئی تر ہوگئے ۔ پھر کہا اسی پنچ شنبہ کے دن رسول خدا(ص) کی تکلیف بہت بڑھ گئ تھی ۔ آنحضرت نے فرمایا "میرے پا س کاغذ اور قلم لاؤ ۔میں تمھیں نوشتہ لکھ دوں تا کہ تم پھر کبھی گمراہ نہ ہوسکو "
اس پر لوگ جھگڑنے لگے ۔حالانکہ نبی کے پاس جھگڑا مناسب نہیں ۔لوگوں نے کہا : رسول "بے ہودہ بک رہے ہیں (نعوذ با اللہ)۔اس پر آنحضرت نے فرمایا " مجھے میرے حال پر چھوڑ دو میں جس حال میں ہوں وہ اس سے بہتر ہے جس کی طرف تم مجھے بلا رہے ہو اور آنحضرت نے وفات سے پہلے تین وصیتیں فرمائیں :ایک تو یہ کہ مشرکین کو جزیرہ عرب سے نکال باہر کرو اور دوسری وصیت یہ تھی کہ وفد بھیجنے کا سلسلہ اسی طرح باقی رکھو جس طرح میں بھیجا کرتا تھا ۔ ابن عباس کہتے ہیں کہ تیسری وصیت میں بھول گیا ۔"

١٦
جی ہاں ! تیسری بات جسے فراموش کردیا گیا وہی بات تھی جسے پیغمبر وقت انتقال نوشتہ کی صورت میں لکھ جانا چاہئے تھے تاکہ امت کے افراد گمراہی سے محفوظ رہیں یعنی امیر المومنین امام علی (علیہ السلام) کی خلافت ۔
سیاسی شاطروں نے محدثیں کو مجبور کیا کہ وہ اس چیز کو جانتے بوجھتے بھول جائیں ۔جیسا کہ مفتی حنفیہ شیخ ابو سلیمان داؤد نے صراحت کی ہے اس حدیث کو امام مسلم نے صحیح مسلم "کتاب الوصیۃ " کے آخر میں بواسطہ سعید بن جبیر ، ابن عباس سے ایک دوسرے طریقہ سے روایت کیا ہے ۔
"ابن عباس کہتے تھے پنچ شنبہ کا دن ، ہائے وہ دن کیا دن تھا پنچ شنبہ کا !
پھر آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور رخساروں پر یوں بہتے دیکھے گئے جیسے موتی کی لڑی ہو۔
اس کے بعد ابن عباس نے کہا کہ رسول خدا نے ارشاد فرمایا :
"میرے پاس دوات اور کاغذ یا لوح ودوات لاؤ تا کہ میں ایسا نوشتہ لکھ دوں کہ اس کے بعد تم پھر کبھی گمراہ نہ ہو" تو لوگوں نے اس پر کہا :رسول (ص) ہذیان کہہ رہے ہیں (نعوذ باللہ)(١)
صحاح ستہ کا مطالعہ کریں اور اس مصیبت کے ماحول پر نظر دوڑائیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ جس شخص نے سب سے پہلے "ہذیان" کی بات کی وہ حضرت عمر ہی تھے ۔انہوں نے ہی سب سے پہلے یہ جملہ کہا تھا اور اس کے بعد ان کے ہم خیال افراد نے ان کی ہم نوائی کی تھی ۔
آپ ابن عباس کا یہ فقرہ پہلی حدیث میں سن چکے ہیں ۔ گھر میں موجود افراد آپس میں تکرار کرنے لگے ۔بعض کہتے تھے کہ کاغذ اور قلم دوات لاؤ تاکہ رسول (ص)وہ نوشتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(١):-صحیح مسلم جلد دوم صفحہ ٢٢٢ علاوہ ازاین اس حدیث کو انہی الفاظ میں امام احمد نے مسند جلد اول ص ٣٥٥ پر روایت کیا ہے ۔اس کے علاوہ بھی اجلہ حفاظ حدیث نے نقل کیا ہے ۔

١٧
لکھ جائیں اور بعض حضرت عمر کی موافقت کرتے رہے ۔یعنی وہ بھی یہی کہہ رہے تھے کہ رسول ہذیان کہہ رہے ہیں ۔
ایک دوسری روایت میں ہے کہ جو طبرانی نے اوسط میں حضرت عمر سے روایت کی ہے کہ : جب رسول خدا بیمار ہوئے تو آپ نے فرمایا : میرے پاس کا غذ اور قلم دوات لاؤ تاکہ میں ایسا نوشتہ لکھ دوں کہ اس کے بعد تم کبھی گمراہ نہ ہو ۔اس پر پردے کے پیچھے سے عورتوں نے کہا تم سنتے نہیں کہ رسول (ص) کیا کہہ رہے ہیں ؟ میں نے کہا :تم یوسف والی عورتیں ہو جب رسول (ص) بیمار پڑتے ہیں تو اپنی آنکھیں نچوڑ ڈالتی ہو اور جب تندرست ہوتے ہیں تو گردن پر سوار رہتی ہو ۔
رسول خدا نے فرمایا :"عورتوں کو جانے دو یہ تم سے تو بہتر ہی ہیں "(١)
اس واقعہ سے آپ ملاحظہ کر سکتے ہیں کہ یہاں صحابہ نے ارشاد پیغمبر کی تعمیل نہیں کی ۔اگر حضور (ص) کی بات مان لیتے تو ہمیشہ
کے لیئے گمراہی سے بچ جاتے ۔
اے کاش کہ صحابہ رسول خدا (ص) کی بات مانتے ٹال دیتے لیکن رسول خدا کو یہ روکھا جواب تو نہ دیتے کہ "حسبنا کتا ب اللہ "(ہمارے لئے کتاب خدا کافی ہے )۔
اس فقرہ سے تو یہ دھوکا ہوتا ہے کہ معاذاللہ جیسے رسول خدا جانتے ہی نہ تھے ۔ اس کے اسرار ورموز سے زیادہ واقف تھے ۔
اے کاش! اس پر اکتفا کر لیا ہوتا اور رسول خدا (ص) کے دماغ پر حملہ نہ کیا ہوتا اور یہ نہ کہتے کہ رسول (ص) ہذیان کہہ رہے ہے ہیں ۔یہ الفاظ کہہ کر رسول کریم کو ناگہانی صدمہ نہ پہنچاتے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(١):- اسی روایت کو امام بخاری نے عبیداللہ بن عتبہ بن مسعود سے انہوں نے ابن عباس سے روایت کیا اور امام مسلم وغیرہ نے بھی اس کی روایت کی ہے ۔

١٨
رسول خدا چند گھڑی کے مہمان تھے ۔آپ کا دم واپسین تھا۔ ایسی حالت میں یہ ایذا رسانی کہاں تک مناسب تھی؟ کیسی بات کہہ کر رسول کو رخصت کررہے ہیں ؟
گویا ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے کتاب خدا کیا یہ واضح اعلان نہیں سنا تھا "ما آتاکم الرسول فخذوہ وما نھا کم عنہ فانتھوا ۔۔۔۔۔"یعنی رسول جو کچھ تمہیں دیں اس کو لے لو اور جس سے منع کریں اس سے باز ہو"
اور رسول خدا(ص) پر ہذیان کی تہمت لگاتے وقت انہیں قرآن مجید کی یہ آیت بھول گئی تھی "انہ لقو ل رسول کریم ذی قوۃ عند ذی العرش مکین مطاع ثم امین وما صاحبکم بمجنون" یعنی بے شک یہ قرآن ایک معزز فرشتہ کی زبان کا پیغام ہے ۔جو بڑا قوی ،عرش کے مالک کی بارگاہ میں بلند مرتبہ ہے ۔ وہاں سب فرشتوں کا سردار اور امانت دار ہے اور تمہارے ساتھی (محمد) دیوانے نہیں ہیں "۔
اور کیا قول رسول کو ہذیان کہنے والوں نے یہ آیت نہیں پڑھی تھی ؟ "انہ لقول رسول کریم وماھو بقول شاعر قلیلا ما یومنون ولا بقول کا ھن قلیلا ما تذکرون تنزیل من رب العالمین "۔ یعنی بے شک یہ قرآن ایک معزز فرشتہ کا لایا ہوا پیغام ہے اور یہ کسی شاعر کی تک بندی نہیں ۔تم لوگ تو بہت کم ایمان لاتے ہو اور نہ کسی کاہن کی خیالی بات ہے تم لوگ تو بہت کم غور کرتے ہو ۔یہ سارے جہاں کے پروردگار کا نازل کیا ہوا کلام ہے ۔"
اور کیا قول رسول (ص) کو ٹھکرانے والوں نے قرآن مجید کی یہ آیت نہیں پڑھی تھی ؟"و النجم اذا ھوی ما ضل صاحبکم وما غوی وما ینطق عن الھوی ان ھو الا وحی یوحی علّمہ شدید القوی "۔قسم ہے ستارے کی جب وہ جھکا ۔تمھارے رفیق( محمدص) نہ گمراہ ہوئے اور نہ بہکے وہ تو اپنی نفسانی خواہش سے کچھ بولتے ہی نہیں یہ تو بس وحی ہے جو بھیجی جاتی ہے ۔ان کو بڑی طاقت والے (فرشتے) نے تعلیم دی ہے " نیز اس طرح دوسری واضح اور روشن آیات قرآن مجید میں بکثرت موجود

١٩
ہیں جن میں صاف تصریح ہے کہ رسول مہمل وبے ہودہ بات کہنے سے پاک و منزہ ہیں ۔ علاوہ ازاین خود تنہا عقل سلیم بھی رسول سے مہمل اور بے ہودہ باتوں کا صادر ہونا محال سمجھتی ہے ۔
اصل حقیقت یہ ہے کہ صحابہ اچھی طرح جانتے تھے کہ حضرت رسول (ص)حضرت علی (ع) کے لئے خلافت کی بات کو مزید پکا کردینا چاہتے ہیں اور آج تک آپ نے حضرت علی (ع)کے جانشینی اور خلافت کے جتنے اعلانات کئے تھے انہیں تحریری صورت دینا چاہتے تھے اسی لئے حضرت عمر اور ان کے حامی افراد نے رسول خدا (ص) کی بات کو کاٹ دیا تھا ۔ یہ صرف ہمارا پیدا کردہ تخیل نہیں ہے بلکہ یہ وہ حقیقت ہے جس کا اعتراف حضرت عمر نے عبد اللہ بن عباس کے سامنے کیا تھا (١)۔
اگر آپ رسول خدا(ص)کے اس قول "میرے پاس کاغذ اور قلم دوات لاؤ تاکہ میں ایسا نوشتہ لکھ جاؤں کہ اس کے بعد تم ہرگز گمراہ نہ ہوگے "۔
اور حدیث ثقلین کے اس فقرہ پر کہ :-
"میں تم میں دو گراں چیزیں چھوڑ کر جارہا ہوں اگر تم ان سے وابستہ رہے تو میرے بعد ہرگز گمراہ نہ ہوگے : ایک اللہ کی کتاب ہے اور دوسری میری عترت " توجہ فرمائیں گے تو آپ پر یہ حقیقت منکشف ہوگی کہ دونوں حدیثوں سے رسول خدا کا مقصود ایک ہی تھا ۔

پیغمبر نے زبر دستی نوشتہ کیوں نہ لکھا ؟:-
رسول خدا (ص) نے حالت مرض میں کاغذ اور قلم دوات اس لئے طلب کیا تھا کہ حدیث ثقلین کے مفہوم کو تحریری صورت لکھ کردے دیا جائے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(١):-ابن ابی الحدید ،شرح نہج البلاغہ جلد سوم ص ١٤٠ طبع مصر

٢٠
اس مقام پر ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ رسول خدا (ص) نے لوگوں کے اختلاف کی پرواہ نہ کرتے ہوئے نوشتہ کیوں نہ لکھا ۔اور جمعرات کے دن سے اپنے روز وفات یعنی سوموار تک کیوں نہ لکھا اور لکھنے کا ارادہ آخر انہوں نے کیوں ملتوی کردیا ؟
درج بالا سوال کا صحیح جواب یہ ہے کہ نوشتہ نہ لکھنے کا سبب حضرت عمر اور ان کے ہوا خواہوں کا وہ فقرہ تھا جسے بو ل کر ان لوگوں نے رسول خدا (ص) کو دکھ دیا تھا اور یہی سن کر رسول خدا نے نوشتہ نہ لکھا کیوں اتنا سخت جملہ سننے کے بعد نوشتہ لکھنے کا کوئی فائدہ ہی نہیں تھا ۔اگر بالفرض لکھ بھی دیا جاتا تو فتنہ وفساد اور بڑھ جاتا اور اختلافات کی خلیج مزید وسیع ہوجاتی ۔
اگر رسول (ص) لکھ بھی جاتے تو یہی لوگ کہتے کہ "اس نوشتہ کی کوئی اہمیت نہیں یہ حالت ہذیان لکھا گیا ہے "
جن لوگوں نے حضور کریم کے روبروان کی حدیث کو ہذیان قراردیا تھا تو کیا وہ بعد میں لکھے جانے والے نوشتہ کو تسلیم کر سکتے تھے ؟
اور اگر رسول اپنی بات پر مصر رہتے اور نوشتہ لکھ بھی دیتے تو وہ اور ان کے جواری نوشتہ رسول (ص) کو ہذیان ثابت کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور دگادیتے اور اثبات ہذیان کے لئے کئی کتابیں تصنیف ہوتیں ۔مباحثے کیے جاتے اور اس نوشتہ کو بے اثر بنا نے کےلئے ہر ممکنہ ترکیب استعمال کی جاتی ۔
اسی وجہ سے حکیم اسلام کی حکمت بالغہ کا تقاضا یہ ہوا کہ اب نوشتہ کا ارادہ ہی ترک کردیا جائے تاکہ رسول کے منہ آنے والے اور ان کے حاشیہ بردار آپ کی نبوت میں طعن کا دروازہ نہ کھول دیں ۔
اور اس کے ساتھ ساتھ رسول خدا (ص) یہ جانتے تھے کہ علی علیہ السلام اوران کے دوستدار اس نوشتہ کے مفہوم پر عمل کریں گے خواہ لکھا جائے یا نہ لکھا جائے اور اگر مخالفین کیلئے لکھ بھی دیا جائے تو وہ نہ تو اس کو مانیں گے اور نہ ہی اس پر عمل کریں گے ۔



۲
واقعہ قرطاس اور علمائے اہل سنت کی تاویلات المیہ جمعرات

٢١
واقعہ قرطاس اور علمائے اہل سنت کی تاویلات:
جب علامہ سید عبدالحسین شرف الدین عاملی نے حدیث قرطاس کی تفصیلات جامعہ ازہر مصر کے اس وقت کے وائس چانسلر علامہ شیخ سلیم البشری کو لکھ کر روانہ فرمائیں تو انہوں نے اس کے متعلق علمائے اہل سنت کی تاویلات لکھ کر بھیجیں اور اس کے ساتھ اپنا ناطق فیصلہ بھی تحریر فرمایا ۔
قارئین کرام کے لئے ہم موصوف کا جواب اور اس جواب پر خود ان کا عدم اطمینان انہی کے الفاظ میں پیش کرتے ہیں :-
"شایدآنحضرت (ص) نے جس وقت کاغذ اور قلم دوات لانے کا حکم دیا تھا اس وقت آپ کچھ لکھنا نہیں چاہتے تھے ۔دراصل آپ صرف آزمانا چاہتے تھے ۔عام صحابہ کی سمجھ میں یہ بات نہ آئی مگر حضرت عمر سمجھ گئے تھے کہ آپ ہمیں صرف آزمانا چاہتے تھے ۔ اسی لئے انہوں نے صحابہ کو کاغذ اور قلم دوات لانے سے روک دیا ۔ لہذا حضرت عمر کی ممانعت کو توفیق ایزدی سمجھنا چاہئے اور اسے ان ک ایک کرامت جاننا چاہئے ۔
لیکن انصاف یہ کہ رسول خدا(ص)کا فرمان "لن تضلوا بعدی"(تم میرے بعد ہرگز گمراہ نہ ہوگے )اس کا جواب کو بننے نہیں دیتا ۔
کیونکہ یہ پیغمبر اکرم(ص) کا دوسرا جواب ہے ۔مطلب یہ ہے کہ اگر تم کاغذ اور قلم دوات لاؤ گے اور میں تمھارے لئے وہ نوشتہ دوں گا تو اس کے بعد تم گمراہ نہ ہوسکوگے ۔
اور یہ امر مخفی نہیں ہے کہ محض امتحان اور آزمائش کے لئے اس طرح کی خبر بیان کرنا کھلا ہو اجھوٹ ہے ۔جس سے انبیاء علیہم السلام کے کلام کا پاک ہونا لازم و لابد ہے اور اس موقع پر کاغذ اور قلم دوات لانا ،نہ لانے کی نسبت بہتر تھا۔

٢٢
علاوہ ازیں یہ جواب اور بھی کئی لحاظ سے محل تامل ہے ۔لہذا یہ جواب صحیح نہیں ہے ۔ اس کے لئے کوئی اور عذر پیش کرنا چاہئے ۔اس مقام پر صفائی کے لئے زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ رسول خدا (ص) نے کاغذ اور قلم دوات لانے کا جو حکم دیا تو یہ حکم انتہائی لازمی وضروری نہ تھا کہ اسکے متعلق مزید وضاحت چاہی نہ جا سکتی ۔
یہ حکم مشورہ کے طور پر تھا اورکئی مرتبہ ایسا ہوا کہ صحابہ رسول خدا کے بعض احکام دوبارہ پوچھ لیا کرتے تھے ۔مزید استصواب کیا کرتے تھے ۔خصوصا حضرت عمر تو بہت زیادہ ۔
انہیں اپنے متعلق یقین تھا کہ وہ مصالح کوبہتر سمجھتے ہیں اور وہ توفیق ایزدی کے حامل ہیں اور انہیں یہ بھی یقین تھا کہ ان کا ظن وتخمین غلظ نہیں ہوتا ۔
اسی لئے حضرت عمر نے چاہا کہ رسول کو زحمت نہ اٹھانی پڑے ۔کیونکہ رسول پہلے ہی سخت تکلیف میں تھے ۔اندریں حالات اگر لکھنے بیٹھ جاتے تو تکلیف اور بڑھ سکتی تھی۔
اسی لئے حضرت عمر نے مذکورہ فقرہ کہا ار ان کی رائے تھی کہ کاغذ اور قلم دوات نہ لانا بہتر ہے ۔
علاوہ ازایں حضرت عمر کو خوف تھا کہ رسول کہیں ایسی باتیں نہ لکھ ڈالیں،جن کے بجا لانے سے لوگ عاجز آجائیں اور نوشتہ رسول پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے سزا کے مستحق ٹھہریں ۔کیونکہ جو کچھ رسول لکھ جاتے وہ تو بہر حال مخصوص اور قطعی ہوتا ۔ اس میں اجتہاد کی گنجائش باقی نہ رہتی ۔
یا حضرت عمر کو شاید منافقین کی طرف سے یہ خوف محسوس ہو ا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ منافقین نوشتہ رسول پر معترض ہوں ۔کیونکہ وہ نوشتہ رسول پر معترض ہوں ۔کیونکہ وہ نوشتہ حالت مرض میں لکھا ہوا ہوتا اور اس وجہ سے بڑے فتنے وفساد کا اندیشہ تھا اسی لئے حضرت عمر نے کہاتھا " حسبنا کتاب اللہ " ہمیں اللہ کی کتاب کافی ہے اور حسبنا کتاب اللہ" کے

٢٣
جملہ کی تائید قرآن مجید کی ان آیات سے بھی ہوتی ہے :" ما فرطنا فی الکتاب من شیء"ہم نے کتاب میں کوئی چیز چھوڑ ی جو بیان نہ کردی ہو۔
نیز یہ بھی ارشاد خداوندی ہے :- " الیوم اکملت لکم دینکم " آج کے دن دین میں نے تمہارے دین کو مکمل کردیا ہے ۔
اسی وجہ سے حضرت عمر مطمئن تھے کہ امت گمراہ نہ ہوسکے گی ۔کیونکہ خداوند عالم دین کو کامل اور امت پر اپنی نعمت کا اتمام کرچکا ہے ۔
ان آیات کی وجہ سے امت کی گمراہی کا اندیشہ نہیں تھا ۔ اسی لئے مزید کسی نوشتہ کی ضرورت ہی باقی نہیں رہی تھی ۔
یہ ان لوگوں کے جوابات ہیں اور یہ جوابات جتنے کمزور اور رکیک ہیں وہ آپ سے پوشیدہ نہیں ہے ۔کیونکہ رسول خدا کا فقرہ" لن تضلو بعدی "(تاکہ تم ہرگز گمراہ نہ ہوسکو) بتا تا ہے کہ آپ کا حکم ایک قطعی اور لازمی حکم تھا ۔
ایسے امر میں جو گمراہی سے محفوظ رہنے کا ذریعہ ہو ،قدرت رکھتے ہوئے ہر ممکن جدو جہد کرنا بلا شک وشبہ واجب اور لازم ہے ۔
نیز آنحضرت پر اس فقرہ کا ناگوار گزرنا اور بالخصوص حضرت عمر کے اس جملہ کا برا منانا اور ان لوگوں کے تعمیل حکم نہ کرنے پر آپ کا ارشاد فرمانا کہ "میرے پاس سے اٹھ چلے جاؤ " یہ اس بات کی قظعی دلیل ہے کہ آپ نے کاغذ اور قلم دولت لانے کا جو حکم دیا تھا ۔ وہ لازم اور واجب تھا ۔آپ نے مذکورہ حکم بغرض مشورہ نہیں دیا تھا ۔
اگر کوئی کہے کہ نوشتہ لکھنا ایسا ہی واجب ولازم تھا تو محض چند لوگوں کی مخالفت سے آپ نے لکھنے کا ارادہ ملتوی کیوں کردیا تھا۔
کفار آپ کی تبلیغ اسلام کےمخالف تھے مگر آپ نے ان کی مخالفت کی پروا

٢٤
نہ کرتے ہوئے تبلیغ فرمائی تو اسی طرح سے اگر کچھ لوگ کاغذ اور قلم دوات لانے کے مخالف تھے تو آپ ان کی مخالفت سے بے نیاز ہو کر نوشتہ لکھ سکتے تھے ۔ مگر آپ نے ایسا کیوں نہ کیا ؟
تو اس کے جواب میں معترضین کی خدمت میں یہ عرض کروں گا کہ اگر آپ کا یہ اعتراض صحیح بھی ہو تو اس کا نتیجہ زیادہ سے زیادہ یہی نکلتا ہے کہ نوشتہ کا لکھنا رسول پر واجب نہ تھا ممکن ہے کہ نوشتہ کا لکھنا رسول پر واجب نہ ہو مگر حاضرین پر کاغذ اور قلم دوات لانا واجب تھا کیونکہ اطاعت رسول کا تقاضا کتھا کہ کہ کاغذ اور قلم دوات لائی جائے اور رسول خدا نے اس کا فائدہ بھی بتا دیا تھا کہ اس ذریعہ سے گمراہی سے محفوظ ہوجاؤ گے اور ہمیشہ راہ ہدایت پر باقی رہوگے اور فقہ کا مسلمہ اصول یہی ہے کہ امر کا وجوب فی الواقع مامور سے متعلق ہوتا ہے امر سے متعلق نہیں ہوتا اور خصوصا جب کہ امر کا فائدہ مامور کو پہنچتا ہے ۔
لہذا اس قاعدہ کے تحت بحث یہ ہے کہ حاضرین پر امر کا بجا لانا واجب تھا یا نہیں ؟ محل بحث یہ نہیں ہے کہ رسول پر لکھنا واجب تھا یا نہیں ؟
علاوہ بریں یہ بھی ممکن ہے کہ رسول پر لکھنا تو واجب تھا لیکن لوگوں کی مخالفت اور یہ کہنے سے کہ " رسول ہذیان کہہ رہے ہیں " رسول سے وجوب ساقط ہوگیا ہو ۔
اگر ان حالات میں رسول لکھ بھی دیتے تو فتنہ وفساد میں ہی اضافہ ہوتا اور جو چیز فتنہ کا سبب ہو وہ رسول پر کیسے واجب ہوسکتی ہے ؟
بعض حضرات نے یہ عذر بیان کیا ہے کہ حضرت عمر حدیث کا مطلب نہیں سکے تھے ۔ان کی سمجھ میں یہ بات نہ آتی کہ وہ نوشتہ است کے ہر فرد کے لئے گمراہی سے بچنے کا ایسا ذریعہ کیونکر ہوگا کہ قطعی طور پر کوئی گمراہ ہی نہ ہوسکے ۔
حضرت عمر نے " لن تضلوا بعدی" (تم میرے بعد ہرگز گمراہ نہ ہوگے)

٢٥
کے جملہ کا یہ مطلب اخذ کیا کہ تم سب کے سب اور کل کے کل گمراہی پر مجتمع نہ ہوسکو گے ۔حضرت عمریہ پہلے ہی جانتے تھے کہ امت کا گمراہی پر اجتماع نہیں ہوگا اسی وجہ سے انہوں نے نوشتہ رسول کو " تحصیل حاصل " قرار دیا اور یہ تصور کرلیا کہ حضور اپنی شفقت کی وجہ سے ایک نوشتہ لکھنا چاہتے ہیں ۔ یہی سوچ کر حضرت عمر نے آپ کو مذکورہ جواب دیا ۔
حضرت عمر کی تندی طبع اورجلد بازی کی معذرت میں یہی باتیں بیان کی گئی ہیں ۔
مگر واقعہ یہ ہے کہ اگر نظر عائر سے دیکھا جائے تو یہ تمام جوابات انتہائی رکیک ومہمل ہیں ۔ کیونکہ رسول خدا کا "لن تضلوا بعدی" فرمانا اس امر کی قطعی اور محکم دلیل ہے کہ یہ امر وجوب کے علاوہ کسی اور مقصدکے تحت نہیں تھا۔
رسول خدا (ص) کا ان لوگوں پر غضب ناک ہونا بھی دلیل ہے کہ صحابہ نے ایک امر واجب کو تر ک کیا تھا ۔لہذا سب سے بہتر جواب یہ ہے کہ یہ واقعہ صحابہ کی سیرت کے منافی تھا اور ان کی شان بعید تھا ۔ اس واقعہ میں صحابہ سے واقعی غلطی سرزد ہوئی تھی ۔
شیخ الازہر کا خط آپ نے پڑھا ۔ علامہ موصوف نے واضح الفاظ میں حضرت کے موقف کی نفی کی۔
مذکورہ خط کے جواب میں علامہ عبد الحسین شرف الدین عاملی نے مزید اتمام حجت اور اثبات حق وابطال باطل کی خاطر درج ذیل مکتوب تحریر فرمایا ۔جسے ہم اپنے قارئین کی نذر کرتے ہیں :-
آپ کے جیسے اہل علم کے لئے یہی زیبا ہے کہ حق بات کہیں اور درست بات زبان سے نکالیں ۔
واقعہ قرطاس کے متعلق آپ نے اپنے ہم مسلک علماء کی تاویلات کی تردید

٢٦
فرمائی ہے ۔ان تاویلات کی تردید میں اور بہت سےگوشے رہ گئے ہیں ۔جی چاہتا ہے کہ انہیں بھی عرض کردوں تاکہ اس مسئلہ میں آپ خود ہی فیصلہ فرمائیں ۔پہلا جواب یہ دیا گیا ہے رسول خدا نے صرف آزمائش کی خاطر کاغذ اور قلم دوات طلب فرمایا تھا آپ در اصل کچھ لکھنا نہیں چاہتے تھے ۔
آپ نے درج بالا مفروضہ کی خوبصورت تردید فرمائی ۔اس کے لئے میں یہ کہتا ہوں کہ یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب آپ کا دم آخر تھا اور وقت اختیار وامتحان کا نہ تھا ۔ بلکہ یہ وقت اعذار وانذار کا تھا اور ہر ضروری امر کے لئے وصیت کر جانے کا تھا اور امت کے ساتھ پوری بھلائی کرنے کا موقع تھا ۔
ذرا سوچیں جو شخص دم توڑ رہا ہو بھلا دل لگی اور مذاق سے اس کا کیا واسطہ ہوسکتا ہے ؟ اسے تو اپنی فکر پڑی ہوتی ہے ۔اہم امور پر اس کی توجہ ہوتی ہے ۔اپنے متعلقین کی مہمات میں اس کا دھیان ہوتا ہے اور خصوصا جب دم توڑنے والا نبی ہو اور اس نے اپنے پورے عرصہ حیات میں کبھی اختیار و امتحان بھی نہ لیا ہو تو وقت احتضار کیسا اختبار اور کیسا امتحان؟
علاوہ ازایں شور غل کرنے والوں کو رسول خدا نے "قوموا عنی" (میرے پاس سے اٹھ کر چلے جاؤ ) کہہ کر نکال دیا تھا ۔
حضور کریم کا ان لوگوں کو "راندہ بارگاہ کرنا"اس حقیقت کی بین دلیل ہے کہ رسول کریم کو ان لوگوں سے صدمہ پہنچا اور آپ رنجیدہ ہوئے اور اگر معترضین کا موقف صحیح ہوتا تو رسول خدا (ص) ان کے اس فعل کو پسند کرتے اور مسرت کا اظہار کرتے ۔
اگر آپ حدیث کے گرد وپیش پر نظر ڈالیں اور خصوصا ان لوگوں کے اس فقرے پر غور فرمائیں :- " ھجر رسول اللہ (ص)"
(رسول ہذیان کہہ رہے ہیں ) تو آپ کو معلوم ہوگا کہ حضرت عمر اور ان کے ہوا خواہ جانتے تھے کہ رسول مقبول ایسی بات لکھنا چاہتے تھے جو انہیں پسند نہیں تھی ۔

٢٧
اسی وجہ سے مذکورہ فقرہ کہہ کر رسول مقبول کو اذیت پہنچائی گئی ۔ خوب اختلاف اچھالے گئے ۔
حضرت ابن عباس کا اس واقعہ کو یاد کرنا ،شدت سے گریہ کرنا اور اس واقعہ کو مصیبت شمار کرنا بھی اس جواب کے باطل ہونے کی بڑی قوی دلیل ہے ۔
معذرت کرنے والے کہتے ہیں کہ حضرت عمر مصلحتوں کے پہچاننے میں "موفق للصواب " تھے اور خدا کی جانب سے آپ پر الہام ہوا کرتا تھا ۔
یہ ایسی معذرت ہے جسے کسی طور بھی قبول نہیں کیا جا سکتا ۔ اس معذرت سے تو معلوم ہو تا ہے کہ اس واقعہ میں حضرت عمر کا موقف صحیح اور حق پر مبنی تھا اور نعوذ باللہ رسول خدا (ص) کا موقف درست نہ تھا ۔ نیز حضرت عمر کا اس دن کا الہام اس وحی سے بھی زیادہ سچا تھا جسے روح الامین لے کر آئے تھے ۔ بعض حضرات نے حضرت عمر کی صفائی میں یہ معذرت پیش کی ہے کہ حضرت عمر جناب رسول خدا(ص) کی تکلیف کم کرنا چاہتے تھے ۔ بیماری کی حالت میں اگر رسول (ص) لکھتے تو انہیں زحمت ہوتی ،اور حضرت عمر رسول خدا(ص) کی زحمت برداشت نہ کرسکتے تھے ۔
مگر آپ اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ نوشتہ لکھنے میں قلب رسول (ص) کو راحت ہوتی ۔ آپ کی آنکھیں زیادہ ٹھنڈی ہوتیں اور امت کی گمراہی سے آپ زیادہ بے خوف ہوجاتے ۔رسول خدا(ص) کی فرمائش کا غذ اور قلم دوات کے متعلق تھی ۔کسی کاآپ کی تجویز کے خلاف قدم اٹھانا صحیح نہیں تھا ۔
ارشاد رب العزت ہے :" وما کان لمومن ولا مومنۃ اذا قضی اللہ و رسولہ امرا ان یکون لھم الخیرۃ من امرھم ومن یعص اللہ ورسولہ فقد ضل ضلالا مبینا " جب خدا اور رسول کسی بات کا فیصلہ کریں تو پھر کسی مومن مرد اور مومنہ عورت کو اس بات کی پسند اور ناپسند کا اختیار حاصل نہیں ہے اور جو کوئی اللہ اور رسول کی نافرمانی کرے گا وہ واضح گمراہی میں پڑجائے گا ۔

٢٨
حضرت عمر اور ان کے حامیوں کی طرف سے نوشتہ رسول کی مخالفت کرنا ، اس اہم ترین مقصد میں رکاوٹ ڈالنا اور رسول خدا کے سامنے شو روغل مچانا ،جھگڑا فساد کرنا یہ سب امور نوشتہ کی بہ نسبت حضور اکرم کی زحمت کا موجب تھے ۔
سوچنے کی بات ہے کہ حضرت عمر سے رسول خدا(ص) کی اتنی سی زحمت تو دیکھی نہ گئی آپ بیماری کی حالت میں نوشتہ تحریر فرمائیں ،مگر ایسا کرنے میں انہیں کوئی تامل نہ ہوا کہ رسول کاغذ اور قلم دوات مانگیں اور وہ تکرار کرنے لگیں اور قول رسول کو ہذیان ثابت کرنے پر تل جائیں ۔
اگر نوشتہ لکھنے سے حضور کو زحمت ہوتی تھی تو اپنے متعلق ہذیان کا جملہ سن کرکیا انہیں راحت پہنچی تھی ؟
حضرت عمر کے وکلاء دور کی ایک کوڑی یہ بھی لاتے ہیں کہ حضرت عمر نے سمجھا کہ کاغذ اور قلم دوات نہ لانا ہی بہتر ہے ۔
کیا کہنا اس معذرت کا غور فرمائیے کہ رسول خود حکم دیں کہ کاغذ اور قلم دوات لاؤ تو کاغذ اور قلم دوات نہ لانا کیسے بہتر قراردیا جاسکتا ہے ؟
تو کیا حضرت عمر یہ اعتقاد رکھتے تھے کہ رسول ایسی چیز کا حکم دیا کرتے ہیں جس چیز کا ترک کرنا زیادہ بہتر ہوتا ہے ۔
حضرت عمر کی صفائی میں بعض حضرات نے یہ عذر تراشا ہے کہ حضرت عمر کو خوف ہوا کہ رسول مقبول (ص) کہیں ایسی بات نہ لکھ دیں جس پر لوگ عمل نہ کرسکیں اور نہ کرنے پر سزا کے حق دار ٹھہرے ۔
غور فرمائیے!رسول (ص)کہہ رہے ہیں کہ "تم گمراہ نہ ہوگے "تو اس قول کی موجودگی میں حضرت عمر کا ڈرنا کہاں تک درست تھا ؟
تو کیا حضرت عمر جناب رسول مقبول کی نسبت انجام سے زیادہ باخبر تھے اور حبیب خدا(ص) سے زیادہ محتاط تھے ؟

٢٩
بعض حضرات نے یہ عذر پیش کیا ہے کہ حضرت عمر کو منافقین کی طرف سے اندیشہ تھا کہ وہ حالت مرض میں لکھے ہوئے نوشتہ کی صحت میں قدح کریں گے ۔مگر آپ سمجھ سکتے ہیں کہ رسول مقبول نے نوشتہ کے متعلق وضاحت کرتے ہوئے فرمایا تھا "لن تضلوا بعدی" (میرے بعد تم ہرگز گمراہ نہ ہوگے ) تو اس فرمان کے بعد اس اندیشہ کی ضرورت ہی باقی نہ رہی تھی ۔
اور اگر بالفرض حضرت عمر کو منافقین کی طرف سے اندیشہ تھا کہ وہ نوشتہ کی صحت میں قدح کریں گے تو حضرت عمر نے خود ہی ان کے لئے زمین کیوں ہموار کی ؟
رسول مقبول(ص) کی بات کا جواب دے کر ،لکھنے سے روک کر ،ہذیان کی تہمت لگا کر انہوں نے اسلام اور رسول اسلام کی کون سی خدمت کی؟ حضرت عمر کے ہواخواہ ان کے فقرہ " حسبنا کتاب اللہ "(ہمیں اللہ کی کتاب کافی ہے )کی تائید کے لئے عموما کہا کرتے ہیں کہ اس فقرہ کی تائید قرآن مجید کی اس آیت سے ہوتی ہے "ما فرطنا فی الکتاب من شیء۔۔۔۔" (ہم نے کتاب میں کوئی چیز اٹھا نیں رکھی ) نیز اللہ تعالی کا فرمان ہے ۔"الیوم اکملت لکم دینکم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"(آج میں نے تمھارے دین کو مکمل کردیا )۔
اب اگر ان آیات کو مد نظر رکھ کر حضرت عمر نے مذکورہ فقرہ کہا تو اس میں کونسی قباحت تھی ؟
حضرت عمر کے حامیوں کی درج بالا دلیل درست نہیں ہے اور نہ ہی درج بالا آیات سے حضرت عمر کے مذکورہ فقرہ کی تائید ہوتی ہے ۔
درج بالا آیات کا ہرگز مفہوم یہ نہیں ہے کہ امت ہمیشہ کے لیے گمراہی سے محفوظ ہوگئی ہے ۔یہ آیات ہدایت خلق کی ضمانت فراہم نہیں کرتیں ۔ پھر ان آیات کا سہارا لے کر نوشتہ رسول(ص) سے اعراض کرنے کی کون سی تک تھی ؟
اگر قرآن کی موجودگی امت کی گمراہی دور کرنے کا موجب ہے تو آج بحمداللہ

٣٠
قرآن مجید امت کے پاس موجود ہے مگر اس کے باجود افراد امت میں گمراہی کیوں پائی جاتی ہے ؟
اورقرآن کی موجودگی میں امت کے اتنے فرقے کیوں ہیں اور باہمی انتشار وتفریق کیوں ہے ؟
حضرت عمر کی صفائی میں آخری جواب یہی دیا جاسکتا ہے وہ ارشاد رسول کا مطلب نہیں سمجھے ۔ان کی سمجھ میں یہ بات نہ آئی کہ نوشتہ امت کے ہر فرد کے لئے گمراہی سے بچنے کا سبب ہوگا ۔
حضرت عمر جناب رسول خدا (ص) کے اس فقرہ "لن تضلوا بعدی " کایہ مفہوم سمجھے کہ رسول کا نوشتہ گمراہی پر مجتمع نہ ہونے کا سبب بنے گا ۔اس نوشتہ کا فائدہ یہ ہوگا کہ امت والے گمراہی پر مجتمع اور متحد نہ ہوں گے ۔
حضرت عمر کو یہ بات پہلے سے ہی معلوم تھی کہ امت کبھی گمراہی پر مجتمع نہ ہوگی لہذا لکھنا "تحصیل حاصل" کے مترادف ہوگا ۔
اسی وجہ سے انہوں نے یہ جواب دیا اور نوشتہ لکھنے سے مانع ہوئے ۔
میں عرض کرتا ہوں کہ حضرت عمر اس قدر نادان ہرگز نہ تھے کہ ایسی روز روشن حدیث ،جس کا مفہوم ہر چھوٹے بڑے ،شہری دیہاتی کے ذہن میں آسکتا ہے وہ اس حدیث کے مفہوم کو سمجھنے سے قاصر رہے ہوں ۔
حضرت عمر یقینی طور پر جانتے تھے کہ رسول مقبول کو امت سے اجتماعی گمراہی کا اندیشہ نہیں ہے ۔کیونکہ حضرت عمر رسول خدا(ص) کا یہ فرمان بار ہا سن چکے تھے کہ "میری امت گمراہی پر مجتمع نہ ہوگی ،خطا پر مجتمع نہ ہوگی ۔"
"میری امت میں سے ہمیشہ ایک جماعت حق کی حمایتی ہوگی " نیز انہوں نے اللہ تعالی کا یہ ارشاد بھی سنا تھا ۔
وعد اللہ الذین امنوا منکم وعملوا الصالحات یستخلفنھم فی

٣١
الارض۔۔۔۔"تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور نیک کا م کئے ان سے خداوند عالم نے وعدہ کررکھا ہے کہ وہ انہیں روئے زمین پر خلیفہ بنائے گا ۔جیسا کہ ان کے قبل کے لوگوں بنایا تھا ۔۔۔۔۔"اس طرح کی دوسری آیات بھی قرآن مجید میں موجود ہیں ۔ اور اس کے ساتھ پیغمبر اکرم کی صریح احادیث بھی سن چکے تھے کہ " امت کبھی گمراہی پر مجتمع نہ ہوگی " اسی لئے حضرت عمر نے بھی حدیث رسول سے وہی کچھ سمجھا جو کہ تمام دنیا نے سمجھا تھا مگر اس کے باوجود بھی وہ نوشتہ رسول میں مانع ہوئے ۔
رسول خدا کا اظہار ناگواری کرنا اور اپنے دربار سے نکال دینا یہ سب اس حقیقت کی بین دلیل ہے کہ جس بات کو ان لوگوں نے ترک کردیا تھا واجب تھی ۔ کاغذ اور قلم ودوات جو رسول (ص) نے مانگا تھا وہ لانا ضروری تھا ۔
اسے نہ لاکر انہوں نے حکم رسول(ص) کی مخالفت کی اور واجب کو ترک کیا ۔
اور اگر بالفرض میں یہ جان بھی لوں کہ یہ سب کچھ سمجھی اور غلط فہمی کی وجہ سے رونما ہوا ۔توایسی حالت میں جناب رسول کا یہ حق بنتا تھا کہ آپ ان کے شکوک وشبہات زائل کرتے یا جس بات کا حکم دیا تھا اس پر مجبور کرتے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ رسول (ص) نے یہ سب کچھ نہیں کیا بلکہ اپنے پاس سے "قوموا عنی " کہہ کر اٹھا دیا ۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول خدا (ص)جانتے تھے کہ حضرت عمر کی مخالفت غلط فہمی کی وجہ سے نہیں بلکہ کسی اور جذبہ کے تحت وہ ایسا کہہ رہے تھے ۔ اسی لیے آپ نے انہیں اپنے گھر سے نکال دیا ۔
جناب ابن عباس کا گریہ فرمانا ،نالہ وفریاد کرنا یہ بھی ہمارے بیان کا موئد ہے انصاف تو یہ ہے کہ یہ حضرت عمر کی لائی ہوئی وہ زبردست مصیبت ہے جس میں کسی عذر کی گنجائش ہی نہیں ۔
حق بات تو یہ ہے کہ ان بزرگواروں نے نص کو اہمیت نہ دی اور اس کےمقابلہ میں اپنے اجتہاد سے کام لیا ۔

٣٢
اگر نص کے مقابلہ میں کیا جانے والا عمل اجتہاد کہلا سکتا ہے تو واقعی وہ لوگ مجتہد تھے ۔
مگر اس مقام پر اللہ اور رسول کی نص جدا ہے اور بزرگوں کی اجتہادی رائے جداہے ۔"
درج بالا تفصیلی مکتوب کے بعد شيخ الازہر نے درج ذیل مکتوب تحریر فرمایا :-
"آپ نے معذرت کرنے والوں کی تمام راہیں کاٹ دیں اور ان پر تمام راستے بند کردئیے آپ نے جو کچھ فرمایا اس میں شک وشبہ کی گنجائش باقی نہیں رہی ۔۔۔۔۔"
ہم اس اجتہاد کے قائل ہیں جو کہ نصوص کے دائرہ میں رہ کر کیا جائے اور ہم ایسی کسی فکر ورائے کو اجتہاد تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں ہیں جو کہ نصوص صریحہ کی مخالفت پر مبنی ہو ۔
اس کتاب کی تالیف کامقصد تاریخ کے درست مطالعہ کو پیش کرنا ہے تاکہ تاریخ کے غیر جانبدارانہ سے انسان حقیقت کے سر چشموں تک پہنچ سکے اور مقام ہدایت تک رسائی حاصل کرسکے ۔ہم مشرق ومغرب میں رہنے والے تمام مسلمانوں کو دعوت دیتے ہیں کہ آئیے دین کی صحیح تعلیمات کو تلاش کریں اور اس حقیقت عظمی کی جستجو کریں جس کی پیغمبر اکرم منادی کیا کرتے تھے ۔
اور اگر ہم نے رسول اعظم (ص) کی سیرت وتعلیمات کو اپنے لیے مشعل راہ بنا لیا تو ہم کبھی گمراہ نہ ہوسکیں گے ۔
ہمیں اتباع مصطفی کی ضرورت ہے ۔اس کے علاوہ ہمیں کسی زید وبکر کے

٣٣
اجتہاد کی قطعاد احتیاج نہیں ہے ۔ اس لئے کہ مجتہدین سے خطا ممکن ہے اور رسول اعظم کی ذات والا صفات سے خطا کا صدور ممکن نہیں ہے ۔
اور اس مقام پر یہ کہنا بھی صحیح نہ ہوگا کہ ہم کیا کریں ہم تو تاریخی طور پر بہت بعد میں پیدا ہوئے اور اس کی وجہ سے ہم روح اسلامی سے بہت دور ہوگئے تو اس میں ہمارا کیا دوش ہے ۔
اس کے لئے ہم اپنے قارئین کی خدمت میں دوبارہ یہ عرض کریں گے کہ ان حالات کے باوجود ہمیں اپنی مساعی کو ترک نہیں کرنا چاہئیے ۔کیونکہ آج مغرب ہمیں ہر سطح پر تباہ کرنے پر تلا ہوا ہے اور ہم روز بروز اس کے لئے تر لقمہ بنتے جارہے ہیں ۔ توکیا آپ نے کبھی اس پر توجہ فرمائی ہے کہ ہماری کمزوری کی بنیادی وجہ کیا ہے ؟
میں سمجھتا ہوں کہ ہماری کمزوری کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم نے آج تک اسلام کو صحیح طور پر سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی ۔ ہم نے ان نظریات کو اسلام سمجھ کر اپنایا ہوا ہے جو ہماری مصلحتوں اور اغراض وافکار کے مطابق ہیں ۔اگر اس کی بجائے ہم نے صحیح اسلامی روح کا ادراک کیا ہوتا تو آج استعماری بھیڑئیے ہم پر یوں مسلط نہ ہوتے ۔

قارئین محترم!
میں نے یہ کتاب کسی قسم کی شہرت یا کثرت لقب کی غرض سے تالیف نہیں کی ۔اس کی تالیف کا اول وآخر مقصد انسانوں کے اذہان تک صحیح تاریخی حقائق کا پہنچانا ہے ۔ کیونکہ انسانوں کی اکثریت صحیح تاریخی حقائق سے واقف نہیں ہے ۔ اور اس عدم واقفیت کا اہم سبب یہ ہے کہ ہر دور میں حقائق کو چھپایا گیا اور حقیقت کے رخ زیبا پر دبیز پردے ڈالے گئے اور ہر زمانے میں سراب کو آب بنانے کی سعی نا مشکور کی گئی اور حقائق کا منہ چڑایا جاتا رہا اور ملمع کاری سے نا خوب کو خوب بنانے

٣٤
کی جد وجہد کی گئی ۔
اسی لئے اکثریت کو آج تک حق وباطل کی تمیز نہ ہوسکی اور یوں رہنما اور رہزن کی تفریق نہ ہوسکی ۔
اندریں حالات میں نے اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے تاریخی حقائق پیش کرنے کی جسارت کی ہے اور امید وار ہوں کہ اللہ تعالی اس کتاب کو متلاشیان حق کے لئے منارہ نور بنائے گا اور شب تار میں اسے شمع فروزاں قرار دے گا ۔
اللہ تعالی سے درخواست ہے کہ وہ ہمیں معرفت کی نعمت عطا فرمائے اور ہمیں اہل معرفت میں شامل فرمائے اور جہل وتقلید کے مرض سے محفوظ رکھے اور ہماری لغزشوں سے در گزر فرمائے کیونکہ وہ سننے والا اور قبول کرنے والا ہے ۔
ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم و تب علینا انک انت التواب الرحیم
بجاہ النبی و اھل بیتہ الطاھرین
اللھم صلّ علی محمدوآل محمد
٭٭٭٭٭



۳
فصل اول المیہ جمعرات

٣٥

فصل اول
مسئلہ وصیت
خلافت کے متعلق امت اسلامیہ میں دونظریئے پائے جاتے ہیں ۔مسلمانوں کا ایک گروہ خلافت کو بیک وقت دینی اور دنیاوی مسئلہ قراردیتا ہے ۔
خلافت کا تعلق دین سے تو یہ ہے کہ خلیفہ کو تمام امور میں احکام دین کی پیروی کرنی پڑتی ہے ۔اور خلیفہ کو بھی اپنے منیب کی طرح معصوم عن الخطا ہونا چاہئیے اور اسے تمام امور دین کا عالم ہونا چاہئے اور خلافت کا تعلق دنیا سے یہ ہے کہ خلیفہ بھی انسان ہی ہوتا ہے اور اس پر وحی تشریعی کا نزول نہیں ہوتا اور وہ بھی احکام دین کا اسی طرح سے مکلف ہوتا ہے جیسا کہ امت کے باقی افراد ہوتے ہیں ۔اور خلیفہ کا انتخاب خدا کی طرف سے ہوتا ہے اور اس کا اظہار نبی کے ذریعہ سے ہوتا ہے اور نبی کے بعد خلیفہ ہی دین اسلام کی تعلیمات کا محافظ ہوتا ہے اور زندگی کے تمام شعبوں میں اسلامی تعلیمات کا نفاذ بھی اسی کی ذمہ داری ہے اس نظریہ کے تحت نبوت کے بعد خلافت کا درجہ ہے اور خلافت کو بھی اتنا ہی پاک وپاکیزہ ہونا چاہئیے جتنی کہ نبوت پاک وپاکیزہ ہے ۔
اس نظریہ کے حامل گروہ کی رائے یہ ہے کہ اللہ نے اپنے نبی (ص) کو جانشین مقرر کرنے کا حکم دیا ہے اور نبی اکرم نے حکم خداوندی کے تحت حضرت علی (ع) کی امامت وخلافت کا اعلان کیا ہے ۔ لیکن حضور اکرم کی وفات کے بعد چند لوگوں نے انہیں ان کے اس حق سے محروم رکھا اور انہوں نے اپنی خود ساختہ خلافت قائم کی ۔
مگر اس کے باوجود رسول خدا کے حقیقی اور پہلے جانشین حضرت علی (ص)ہی تھے اگر چہ وہ ایک طویل عرصہ تک اپنے فرائض کی کما حقہ ادائیگی سے قاصر رہے لیکن اس میں ان کی ذات کا کوئی دوش نہیں تھا ۔ ساری غلطی ان کے حریفوں کی تھی ۔

٣٦
یہ گروہ مسئلہ امامت و خلافت کو دینی منصب ثابت کرنے کے لئے یہ استدلال کرتا ہے :
رسول خدا (ص) نے دین و دنیا کی تعلیم دی ہے اور حضور کے لئے یہ بھی ضروری تھا کہ وہ مسلمانوں کے لئے کوئی رہبر و رہنما مقرر کرکے جائیں ۔تاکہ آپ کے بعد امت افتراق و انتشار کا شکار نہ ہو اور امت کی رہبری کے لئے کسی ایسے شخص کی ضرورت ہے جو ہر لحاظ سے موزوں ہو اور دین ودنیا کے معاملات سے بخوبی آگاہ ہو اور وہ مکارم اخلاق کا بلند ترین نمونہ ہو ۔ دین اسلام صرف قبیلہ قریش یا صرف سرزمین حجاز کے لوگوں کے لئے نہیں آیا تھا بلکہ یہ دین پوری انسانیت کے لئے آیاتھا ۔تو اسی لئے ضروری ہے کہ کسی ایسے شخص کو نامزد کیا جائے جو ہر لحاظ سے لائق و فائق ہو ۔
١:- اور مسئلہ خلافت کو امت کے سپرد کرکے چلے جانا کوئی معقول بات نہیں ہے اور اتنے اہم ترین مسئلہ کو لوگوں کی صوابدید پر چھوڑنا مناسب نہیں ہے کیونکہ اگر اس حساس مسئلہ کو بھی عوام الناس کی پسند وناپسند پر چھوڑدیا جائے تو اس سے بہت زیادہ پیچیدگیاں جنم لیں گی ۔اور اگر بالفرض عوام کو ہی حق انتخاب حاصل ہے تو پھر یہ حق تمام مسلمانوں کو حاصل ہے یا ایک مخصوص گروہ کو حاصل ہے ؟
٢:- اور اگر یہ مخصوص گروہ کا حق ہے تو اس گروہ کی وجہ استحقاق کیا ہے ؟
اور اس گروہ کی آخر وہ کون سی خصوصیت ہے جس کی وجہ سے انہیں یہ امتیاز حاصل ہوا ہے ؟
٣:-اور کیا انتخاب خلیفہ کا حق صرف حضرت ابو بکر وحضرت عمر اور حضرت ابو عبیدہ اور ان دو چار انصار کو ہی حاصل ہے جو کہ سقیفہ میں موجود تھے ؟
٤:- اور کیا حضرت علی (ع)اور جملہ بنی ہاشم اور سعد بن عبادہ اور ان کے فرزند ،حضرت سلمان فارسی ،حضرت ابو ذر غفاری ،حضرت مقداد بن اسود ،حضر ت عمار

٣٧
بن یاسر، حضرت زبیر بن عوام ،حضرت خالد بن سعید اور حضرت حذیفہ بن یمان اور حضرت بریرہ جیسے بلند صحابہ کی مخالفت کے باوجود بھی سقیفائی خلافت کو درست سمجھا جاسکتا ہے ؟۔
٥:-اور کیا جب اتنے عظیم المرتبت افراد بھی مخالف ہوں تو اس کے باوجود بھی خلافت کو کامل الشروط سمجھنا درست ہوسکتا ہے ؟
٦:- اور اگر مسلمانوں کو ایک افضل فرد کے انتخاب کا حق بھی دے دیا جائے تو کیا وہ فی الحقیقت ایک افضل ترین فرد کا ہی انتخاب کریں گے جب کہ ان میں قبائلی عصبیت بھی موجود ہو؟۔
٧:-اور کیا جناب رسول خدا(ص) ان قبائلی عصبیتوں کو جانتے ہوئے بھی خلیفہ کا انتخاب اس لئے ان کے حوالے کرکے گئے تھے کہ آپ ان عصبیتوں کو مزید برانگیختہ کرنا چاہتے تھے ؟
٨:-اور اگر لکھنا ضروری ہے تو یہ بتایا جائے کہ اس دور میں کتنے افراد خواندہ تھے جب کہ ان لوگوں کو ان پڑھ ہونے کی وجہ سے "امیّین" کہا جاتا تھا؟ اور یہ بیان کیا جائے کہ یہ انتخاب کہاں عمل میں لایا جائے گا ۔
١٠:- اور کیا تمام شہروں اور قصبوں میں اس کے لئے "پولنگ بوتھ" قائم کئے جائیں یا کوئی اور طریقہ اختیار کیا جائے گا ؟
١١:- اور امید وار کو اپنی پبلسٹی کا حق بھی دیا جائے گا یا نہیں ؟
١٢:- اور یہ انتخاب کس طرح سے رو بہ عمل لایا جائے گا ؟
١٣:- اور اس انتخاب کے لئے کتنے وقت کی ضرورت ہوگی ؟

٣٨
١٤:- اور وفات رسول (ص) اور خلیفہ کے انتخاب کے درمیانی عرصہ میں مسلمانوں کے امور کس کے سپرد ہوں گے ؟
درج بالا سوالات کے جواب انتہائی ضروری ہیں ۔

خلافت علی (ع) کے دلائل
مسلمانوں کا وہ گروہ جو خلافت و امامت کو مخصوص من اللہ قرار دیتا ہے ۔ اس سلسلہ میں انکا موقف بڑا ٹھوس اور واضح ہے ۔وہ گروہ یہ کہتا ہے کہ رسول خدا(ص) نے ہجرت کے دسویں سال حج بیت اللہ کا ارادہ کیا اور تمام عرب میں اس کی منادی کرائی گئی ۔مسلمان پورے جزیرہ عرب سے سمٹ کر حج کے لئے آئے اور اس حج کو حجۃ الوداع کہا جاتا ہے ۔
جناب رسول خدا(ص) مناسک حج سے فراغت حاصل کرنے کے بعد مدینہ واپس آرہے تھے اور جب غدیر خم پر پہنچے اور یہ مقام جحقہ کے قریب ہے اور یہاں سے ہی مصر اور عراق کی راہیں جداہوتی ہیں ۔
اس مقام پر اللہ تعالی نے اپنے حبیب پر یہ آیت نازل فرمائی :- "یا ایھا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک وان لم تفعل فما بلغت رسالتہ واللہ یعصمک من الناس ان اللہ لایھدی القوم الکافرین "(المائدہ نمبر ٦٧)"
اے رسول ! اس حکم کو پہنچائیں جو آپ کے رب کی طرف سے آپ پر نازل کیا گیا اور اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو آپ نے اس کا کوئی پیغام ہی نہیں پہنچایا اور اللہ آپ کو لوگوں سے بچائے گا ۔ بے شک اللہ منکر قوم کو ہدایت نہیں کرتا ۔
اس آیت مجیدہ کے نزول کے بعد آپ نے اونٹوں کے پالانوں کا منبر بنوایا اور تمام لوگ جمع ہوگئے تو اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ دیا اور حضرت علی کے بازو کو بلند کرکے

٣٩
اعلان کیا :-" ان اللہ مولای و انا مولی المومنین " اللہ میرا مولا ہے اور میں اہل ایمان کا مولا ہوں پھر فرمایا :- "من کنت مولاہ فعلی مولاہ "(١) جس کا میں مولا ہوں اس کا علی مولا ہے ۔
اس کے بعد اللہ تعالی نے تکمیل دین کا اعلان کرتے ہوئے یہ آیت نازل فرمائی :- " الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا " (المائدہ)
آج میں نے تمھارے لئے تمھارے دین کو کامل کردیا اور تم پر اپنی نعمت تمام کردی اور تمھارے لئے اسلام کو بطور دین پسند کیا ۔
جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول خدا(ص) نے شکر کرتے ہوئے کہا
"الحمد اللہ علی اکمال الدین واتمام النعمۃ ۔۔۔۔۔۔۔و الولایۃ لعلی " تکمیل دین اور تمام نعمت اور ولایت علی پر اللہ کی حمد ہے ۔
اس مقام پر یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس وقعہ کی یاد گار کے طور پر شیعہ عید غدیر کا جشن منانے لگے ۔مقریزی نے اس جشن کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ
"جاننا چا ہئیے کہ اسلام کے ابتدائی ایام میں عید غدیر کے نام سے کوئی عید نہیں منائی جاتی تھی اور سلف صالحین سے بھی اس کا کوئی تذکرہ نہیں ملتا ۔یہ عید سب سے پہلے سن ٣٥٢ ھ میں معز الدولہ علی بن بابویہ کے دور میں عراق میں منائی گئی اور اس کی بنیاد اس حدیث پر تھی ۔جس کی روایت امام احمد نے اپنی مسند کبیر میں براء بن عازب کی زبانی کی ہے وہ کہتے ہیں :-
ہم رسول اللہ کے ساتھ ایک سفر میں تھے اور مقام غدیر خم پر پہنچے تو "الصلواۃ جامعۃ " کی منادی ہوئی اور دو درختوں کے درمیان جھاڑو دی گئی اور
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(١):- تفصیلی حوالے کے لئے عبقات الانوار جلد حدیث ولایت کے مطالعہ فرمائیں

٤٠
حضور اکرم نے نماز ظہر آدا کی اور خطبہ دیا ۔ خطبہ کے دوران لوگوں کو مخاطب کرکے فرمایا :- الستم تعلمون انی اولی بالمو منین من انفسھم " کیا تمہیں اس بات کا علم نہیں ہے کہ میں مومنوں کی جان سے بھی زیادہ ان پر حق حکومت رکھتا ہوں ؟
سامعین نے کہا جی ہاں ! پھر آپ نے علی (ع) کا بازو پکڑ کر بلند فرمایا اور اعلان کیا :- من کنت مولاہ فعلی مولاہ ،اللھم وال من والاہ وعادمن عاداہ " جس کا میں ہوں اس کا علی مولا ہے ۔اے اللہ! جو اس سے دوستی رکھے تو اس سے دوستی رکھ اور جو اس سے دشمنی رکھے تو اس سے دشمنی رکھ ۔اس کے بعد حضرت عمر ،حضرت علی (ع) کو ملے اور کہا :- ھنیا لک یا بن ابی طالب اصبحت مولی کل مومن ومومنۃ " ابو طالب کے فرزند ! تمہیں مبارک ہو تم ہر مومن مرد وعورت کے مولا بن گئے ہو ۔
غدیر خم کا مقام جحفہ سے بائیں طرف تین میل کے فاصلے پر ہے وہاں پر ایک چشمہ پھوٹتا ہے اور اس کے ارد گرد بہت سے درخت ہیں ۔
اس واقعہ کی یاد کے طور پر شیعہ اٹھارہ ذی الحجہ کو عید مناتے تھے ۔ ساری رات نمازیں پڑھتے تھے اور دن کو زوال سے قبل دورکعت نماز شکر انہ ادا کرتے تھے ۔ساری رات نمازیں پڑھتے تھے اور دن کو زوال سے قبل دو رکعت نماز شکرانہ ادا کرتے تھے اور اس دن نیا لباس پہنتے تھے اور غلام آزاد کرتے تھے اور زیادہ سے زیادہ خیرات بانٹتے اور جانور ذبح کرکے اپنی خوشی کا اظہار کیا کرتے تھے جب ۔شیعوں نے یہ عید منانی شروع کی تو اہل سنت نے ان کے مقابلہ میں پورے آٹھ دن بعد ایک عید منافی شروع کردی اور وہ بھی اپنی عید پر خوب جشن مناتے تھے اور کہتے تھے کہ اس دن رسول خدا (ص) اور حضرت ابو بکر غار میں داخل ہوئے تے (١)۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(١):-کتاب المواعظ والاعتبار۔



۴
سواد اعظم کا نظریہ خلافت المیہ جمعرات

٤١

سواد اعظم کا نظریہ خلافت
مسلمانوں کے دوسرے فریق کے نظریہ کے مطابق خلافت کے لئے اگر چہ دینی تعلیمات کی پابندی ضروری ہے لیکن بایں ہمہ وہ اول وآخر دنیاوی معاملہ ہے ۔ اسی لئے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خلافت کے لئے نص نہیں فرمائی ۔کیونکہ یہ مسئلہ ضروریات دین میں سے نہیں تھا ۔
اسی وجہ سے ہم دیکھتے ہیں کہ رسول خدا کے فورا بعد کچھ مسلمان سقیفہ بنی ساعدہ (١) میں خلیفہ کے لئےجمع ہوئے ۔انہوں نے یہ عظیم منصب حضرت ابو بکر کے حوالہ کیا ۔ انہوں نے حضرت عمر کو نامزد کیا ۔انہوں نے شوری قائم کی ،شوری نے حضرت عثمان کا انتخاب کیا اور ان کی وفات کے بعد لوگوں نے حضرت علی کا انتخاب کیا ۔ یہ چاروں بزرگواروں خلفائے راشدین کہلاتے ہیں اور دینی اعتبار سے بھی ان کی فضیلت کی ترتیب یہی ہے ۔ اس نظریہ کے حامل افراد یہ کہتے ہیں کہ وفات رسول تک یہ دینی احکام کی تکمیل ہوچکی تھی اور زندگی کے تمام شعبوں کے متعلق ضروری ہدایت بھی مل چکی تھیں اسی لئے کسی آسمانی خلافت کی امت کو ضرورت نہیں رہی تھیں اسی نظریہ کی ترجمانی کرتے ہوئے استاد عبد الفتاح عبد المقصود اپنی کتاب "الامام علی بن ابی طالب " میں لکھتے ہیں :-
"اسلامی خلافت کا تعلق دنیاوی نظام زندگی سے ہے اور دنیا کے دیگر رائج نظریات حکومت کی طرح خلافت بھی ایک نظریہ ہے ۔خلافت رائے اور فکر کی پیداوار ہے اس کا نص سے کوئی واسطہ نہیں ہے ۔ کیونکہ رسول خدا(ص) نے اپنی زندگی کے آخری لمحات میں کسی کو اپنی خلافت کیلئۓ صریح الفاظ میں نامزد نہیں فرمایا تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(١):-سقیفہ ایک جگہ تھی جہاں دور جاہلیت میں لوگ امور باطل کو سرانجام دینے کے لئے جمع ہوتے تھے اور مجازا بے ہودہ گفتگو کو بھی سقیفہ کہا جاتا ہے ۔غیاث اللغات طبع ہند مادہ "سقف"

٤٢
ہاں یہ درست ہے کہ آپ (ص) نے وقتا فوقتا ایسے اشارات ضرورکئے تھے لیکن صحابہ اس کی تاویل سے قاصر رہے اس کے ساتھ چند احادیث ایسی بھی ہین جن میں خلافت کے لئے صریح الفاظ کے ساتھ وضاحت کی گئی ہے ۔مثلا حدیث غدیر اور حدیث خاصف النعل ،تو ان جیسی احادیث کو صراحت استخلاف کے لئے پیش کیا جاسکتا ہے (١)

معتزلہ کا نظریہ خلافت
اسی مسئلہ کے متعلق ایک تیسرا نظریہ بھی ہے جو کہ ان دونوں فریقوں کے نظریات کے "بین بین " ہے ۔
اس نظریہ کے حامل افراد اہل سنت کے اس نظریہ سے اتفاق کرتے ہیں کہ خلافت ہر لحاظ سے ایک دنیاوی معاملہ ہے اور رسول خدا (ص) نے اس کے لئے کوئی نص صریح نہیں فرمائی ۔لیکن اس کے باوجود علی علیہ السلام ،حضرت ابو بکر کی بہ نسبت خلافت کے زیادہ حقدار ہیں ۔کیونکہ علی علیہ السلام ہر لحاظ سے پوری امت مسلمہ کے افضل فرد ہیں ۔
اسی نظریہ کے حامل افراد میں سے ابن ابی الحدید کی رائے کو ہم ان کی کتاب شرح نہج البلاغہ سے نقل کرتے ہیں :-
"ہمارے تمام شیوخ کا اتفاق ہے کہ حضرت ابو بکر کی بیعت صحیح اور شرعی تھی اور ان کی خلافت نص پر قائم نہیں ہوئی تھی ۔
ان کی خلافت اجماع اور اجماع کے علاوہ دوسرے طریقوں کے تحت قائم ہوئی تھی ۔ ہمارے شیوخ کا تفصیل میں اختلاف ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(١):-خلافت کی نصوص صریحہ کے لئے علامہ امینی کی مشہور کتاب "الغدیر کا مطالعہ فرمائیں یہ کتب گیارہ جلدوں پر مشتمل ہے ۔

٤٣
ابو عثمان اور عمرو بن عبید جیسے متقدمین کہتے ہیں کہ ابو بکر ،علی سے افضل ہیں ۔اور خلفا ئے راشدین کی فضلیت کی ترتیب وہی ہے جو کہ ان کی خلافت کی ترتیب ہے ۔ہمارے بغداد ی شیوخ خواہ متقدمین ہوں یا متاخرین ان سب کی متفقہ رائے یہ ہے کہ :-
علی علیہ السلام حضرت ابو بکر سے افضل ہیں ۔ اور بصرہ کے مندرجہ ذیل علما بھی اس مسئلہ میں ان کے موید ہیں ۔ابو علی محمد بن عبد الوہاب الجبائی ،شیخ ابو عبداللہ الحسین بن علی البصیری اور قاضی القضاۃ عبد الجبار بن احمد اور ابو محمد حس بن متویہ وغیرہ ۔
علاوہ ازیں ابو حذیفہ واصل بن عطاء اور ابی الھذیل محمد بن الہذیل العلاف کا نظریہ یہ ہے کہ حضرت علی (ع) اور حضرت ابوبکر کی تفصیل کے متعلق ہمیں خاموش رہنا چاہیئے البتہ علی علیہ السلام حضرت عثمان سے ہر لحاظ سے افضل تھے ۔
اور جہاں تک ہقا اپنا تعلق ہے تو ہم اپنے بغدادی شیوخ کے نظریہ کو تسلیم کرتے ہوئے حضرت علی کو باقی تمام لوگوں سے افضل وبہتر سمجھتے ہیں "۔
فرقہ معتزلہ کے یہ فاضل شخص شرح نہج البلاغہ میں ایک دوسرے مقام پر لکھتے ہیں کہ کافی بحث وتمحیص کے بعد فرقہ معتزلہ نے تفضیل کے متعلق یہ رائے قائم کی ہے :
"حضرت علی (ع) پوری امت اسلامیہ میں سے افضل ترین فرد تھے ۔ لوگوں نے چند مصلحتوں کی وجہ سے انہیں خلافت سے محروم رکھا ۔حضرت علی (ع) کی خلافت کے متعلق نصوص قطعیہ موجود نہ تھیں ہاں اگر نصوص موجود بھی تھیں تو بھی ان کے مفہوم میں اشتباہ موجود تھا ۔ حضرت علی علیہ السلام نے پہلے پہل حضرت ابوبکر کی حکومت سے اختلاف کیا لیکن پھر مصالحت کرلی ۔اگر علی (ع) سابقہ مخالفت پر ڈٹے رہتے تو ہم حضرت ابوبکر کی خلافت کو غلط قرار دیتے الغرض ہمارا نظریہ یہی

٤٤
ہے کہ : حضرت علی (ع)ہی خلافت کے اصل مالک ووارث تھے ۔خواہ خلافت پر فائز ہوتے تو بھی ان کا حق تھا اور اگر انہوں نے کسی اور کو خلافت پر فائز ہونے دیا تو بھی یہ ان کا استحقاق تھا ۔البتہ اس مقام پر ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ انہوں نے اور لوگوں کی خلافت کو تسلیم کر لیا تھا اسی لیے ہم بھی ان کی اتباع کرتے ہوئے بزرگوں کی خلافت کو تسلیم کرتے ہیں اور جس پر علی (ع)راضی تھے ہم بھی اس پر راضی ہیں (١)"۔
تو اس فریق کے نظریہ کی تلخیص ان الفاظ میں کی جاسکتی ہے کہ یہ فریق حضرت علی علیہ السلام کو حضرت ابو بکر سے افضل مانتا ہے اور انہیں خلافت کا صحیح حقدار قرار دیتا ہے ۔البتہ ان کے لئے رسول اکرم (ص) کی طرف سے کسی نص کا قائل نہیں ہے ۔اس لحاظ سے صورت حال یہ ہوگی کہ شرعی تقاضوں کے تحت حضرت علی (ع) خلیفہ تھے اور حضرت ابو بکر چونکہ مخصوص حالات کی وجہ سے خلیفہ بن چکے تھے اور حضرت علی (ع) نے بھی مزاحمت نہیں کی تھی ۔ اسی لئے ان کی خلافت بھی درست ہے ۔
الغرض مسئلہ خلافت ہر دور میں اختلاف کا محور رہا ہے ۔اسی سے دوسرے اختلاف نے ہمیشہ جنم لیا ہے ۔وفات رسول (ص) سے لے کر آج تک یہ مسئلہ ہر دور میں نزاعی رہا ہے ۔مسئلہ خلافت کیلئے ہر فریق نے اپنی رائۓ کو درست قرار دیا اور دوسرے فریق کی رائے کو ہمیشہ جھوٹ اور بہتان کہہ کر ٹھکرایا ہے ۔
تاریخ کوئی شخص نص ووصیت کا انکار کرتا ہے تو پھر وہ اس بات کا قائل
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(١):- شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید معتزلی ٢/٧٢ طبع اول مطبوعہ مصر ۔

٤٥
ہے کہ پیغمبر خدا کو امت اسلامیہ کے مستقبل کی کوئی فکر ہی نہیں تھی ۔اور آپ کو اس بات سے کوئی غرض نہ تھی کہ امت کے کتنے ٹکڑے ہوجائیں گے اور امت کتنی زبوں حالی کا شکار ہوجائے گی ۔
جب کہ تاریخی حقائق اس نظریہ کو لغو اور باطل قرار دیتے ہیں ۔آپ حدیث قرطاس کو ہی لے لیں ۔جس پر ہم سابقہ اوراق میں کافی بحث کرچکے ہیں لیکن اس مقام پر بھی ہم مذکورہ حدیث کو پیش کرنا چاہتے ہیں ۔

حدیث قرطاس
ابن اثیر اپنی کتاب الکامل فی التاریخ جلد دوم صفحہ نمبر ٢١٧ پر تحریر کرتے ہیں :- اشتد برسول اللہ مرضہ وجعہ فقال ایتونی بدواۃ وبیضاء اکتب لکم کتابا لاتضلون بعدی ابدا ،فتنازعوا ،ولا ینبغی عند نبی تنازع ،فقالوا ان رسول اللہ یھجر ،فجعلوا یعیدون علیہ ،فقال دعونی فما انا فیہ خیر مما تدعوننی الیہ ،فاوصی بثلاث ،ان یخرج المشرکون من جزیرۃ العرب وان یجازی الوفد بنحو ما کان یجیزھم ،وسکت عن الثالثۃ عمدا وقال نسیتھا ۔"
جناب رسول خدا (ص) کی بیماری اور درد میں اضافہ ہوا تو انہوں نے فرمایا کہ :-میرے پاس کاغذ اور قلم دوات لاؤ تاکہ میں تمہیں تحریر لکھ دوں جس کے بعد تم گمراہ نہ ہو گے ۔ یہ سن کر لوگوں نے جھگڑنا شروع کردیا جبکہ نبی کے پاس جھگڑا کرنا نامناسب تھا ۔ لوگوں نے کہنا شروع کیا کہ رسول خدا ہذیان کہہ رہے ہیں اور بار بار یہی کہنے لگے ۔اس پر رسول خدا(ص)نے فرمایا : میں جس تکلیف میں ہوں وہ اس سے کہیں بہتر ہے جس کی طرف تم مجھے بلانا چاہتے ہو ۔آپ نے تین امور کی وصیت کی ۔
١:- مشرکین کو جزیرہ عرب سے نکال دیا جائے ۔

٤٦
٢:- وفد بھیجنے کا سلسلہ اسی طرح جاری رہنا چاہیئے جیسا کہ میں بھیجا کرتا تھا اور تیسری وصیت کو جان بوجھ کر چھپایا گیا اور کہا کہ وہ مجھے بھول گئی ہے ۔امام بخاری نے اپنی صحیح میں اس روایت کو یوں نقل کیا ہے ۔
"حدّثنا سفیان عن سلیمان الاحول عن سعید بن جبیر قال قال ابن عباس ،اشتد برسول اللہ وجعہ فقال ایتونی اکتب لکم کتابا لن تضلوا بعدہ ابدا ۔فتنازعوا ولا ینبغی عند نبی تنازع ،فقالوا ماشانہ اھجر ؟ استفھموہ ۔فذھبوا یرددون علیہ فقال ۔دعونی فالذی انا فیہ خیر مما تدعوننی الیہ ،واوصاھم بثلاث قال اخرجوا المشرکین من جزیرۃ العرب ،واجیزوا الوفد بنحو ما کنت اجیزھم ،وسکت عن الثالثۃ او قال نسیتھا ۔"
رسول خدا (ص) کی تکلیف میں اضافہ ہوا تو انہوں نے فرمایا کہ میرے پاس کاغذ اور قلم دوات لاؤ تاکہ میں تمھارے لیئے ایسی تحریر لکھ دوں جس کے بعد تم کبھی گمراہ نہ ہوگے اس کے بعد لوگوں میں تنازعہ پیدا ہوگیا جب کہ نبی کے پاس تنازعہ نامناسب تھا ۔ پھر وہ لوگ کہنے لگے کہ کیا نبی ہذیان کہہ رہے ہیں اور بار بار اسی جملہ کا تکرار کرنے لگے ۔اس پر حضور اکرم (ص) نے فرمایا :" میں جس تکلیف میں ہوں وہ تمہاری دعوت سے کئی گنا بہتر ہے اور آپ نے تین چیزوں کی وصیت فرمائی :
١:- جزیرہ عرب سے مشرکین کو نکال دو
٢:- وفد بھیجنے کا سلسلہ اس طرح جاری رہنا چاہئیے جیسا کہ میں بھیجا کرتا تھا ۔روای نے تیسری وصیت کے متعلق خاموشی اختیار کرلی یا اس نے کہا :مجھے تیسری بات بھول گئی ہے ۔
امام بخاری نے ایک اور سند سے اسی حدیث کو یوں بیان کیا ہے "لمّا حضر رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم وفی البیت رجال ،فقال النبی ھلموا اکتب لکم کتابا لاتضلوا بعدہ ،فقال بعضھم ان رسول اللہ قد غلب علیہ الوجع وعندکم القرآن ،وحسبنا کتاب اللہ ،فاختلف اھل البیت واختصموا

٤٧
فلمّا اکثروا اللغو والاختلاف قال رسول اللہ قومو۔۔" ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ حضور کریم (ص) کا وقت آخر گھر میں بہت سے افراد موجود تھے ۔رسول خدا(ص) نے فرمایا : میں تمہیں ایسی تحریر لکھ کر دینا چاہتا ہوں کہ تم اس کے بعد گمراہ نہ ہوگے ۔تو ان میں سے بعض نے کہا رسول خدا(ص) پر درد کا غلبہ ہے اور تمھارے پاس قرآن موجود ہے ہمیں اللہ کی کتاب کافی ہے ۔گھر میں موجود افراد کا اس بات پر اختلاف ہوگیا اور وہ جھگڑنے لگے ۔جب حضور کریم کے پاس اختلاف اور بے ہودہ گوئی زیادہ بڑھی تو آپ نے فرمایا اٹھ کر چلے جاؤ ۔
اسی حدیث کو ابن سعد نے اپنی کتاب طبقات کبری جلد ٤ ص ٦٠-٦١ پر اس طرح نقل کیا ہے ۔
"ان رسول اللہ عند ما حضر تہ الوفاۃ و کان معہ فی البیت رجال فیھم عمر بن الخطاب قال ، ھلموا اکتب لکم کتابا لن تضلوا بعدہ ، فقال عمر ان رسول اللہ قد غلبہ الوجع وعندکم القرآن حسبنا کتاب اللہ ،فاختلف اھل البیت واختصموا ،فلما کثر اللغط و الآختلاف قال النبی قوموا عنی "۔
حضور کریم (ص) کی وفات کے وقت گھر میں بہت سے افراد تھے ان میں عمر بن خطاب بھی موجود تھے ،حضور نے فرمایا تم کاغذ اور قلم دوات لاؤ ،میں تمہارے لئے تحریر لکھدوں جس کے بعد تم ہرگز گمراہ نہ ہوگے ۔حضرت عمر نے کہا اس وقت رسول خدا(ص) پر درد کا غلبہ ہے اور تمہارے پاس قرآن موجود ہے ۔ہمیں اللہ کی کتاب کافی ہے ۔گھر میں بیٹھے ہوئے افراد کا آپس میں اختلاف ہوگیا اور جھگڑنے لگے ۔جب حضور اکرم (ص) کے پاس شوروغوغا بڑھ گیا تو آپ نے فرمایا :میرے پاس سے اٹھ کر چلے جاؤ ۔
اس حدیث کے پڑھنے کے بعد آپ خد اپنے ضمیر اور وجدان کی عدالت میں فیصلہ کریں رسول کریم (ص) کے فرمان کو سن کر حضرت عمر نے جو جواب دیا

٤٨
کیا وہ حضور اکرم (ص) کی شخصیت کے مطابق تھا؟ اور کیا آداب صحبت ایسے جواب کی اجازت دیتے ہیں ؟ اور کیا دین اسلام اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ حضور اکرم (ص) کے فرمان کو ہذیان کہہ کر ان کی توہین کی جائے ؟
آپ حضرت عمر کے جواب کو ملحوظ خاطر رکھیں اور قرآن مجید کی اس آیت کو بھی پڑھیں "وما ینطق عن الھوی ان ھو الا وحی یوحی "(النجم ٣-٤)
رسول اپنی خواہش سے نہیں بولتے وہ تو وہی کہتے ہیں جو وحی کہتی ہے اس آیت کی موجود گی میں حضرت عمر کے جواب کی شرعی حیثیت کیا قراردپائی ہے ۔اس کا فیصلہ ہم اپنے منصف مزاج قارئین کے حوالہ کرتے ہیں ۔عجیب بات تو یہ ہے کہ صحابہ نے حضور اکرم (ص) سے بہت سے ایسے سوال بھی دریافت کیے تھے جو کہ مسئلہ خلافت سے بہت ہی کم اہمیت کے حامل تھے ۔ ابن خلدون نے اپنی تاریخ میں لکھا ہے کہ :- صحابہ نے آپ سے دریافت کیا کہ آپ کو غسل کون دے ؟ تو آپ نے فرمایا میرے خاندان کے قریبی افراد مجھے غسل دیں ۔ اور صحابہ نے آپ سے دریافت کیا آپ کا کفن کیسا ہونا چاہیے تو فرمایا مجھے میرے اپنے کپڑوں کا ہی کفن پہنایا جائے یا مصری کپڑے کا کفن دیا جائے یا یمنی پارچہ کا کفن بنایا جائے ۔صحابہ نے آپ سے پوچھا تھا کہ آپ کو قبر میں کون اتارے ؟ تو فرمایا کہ میرے خاندان کے افراد مجھے قبر میں اتاریں ۔
اس روایت کو پڑھنے کے بعد لگتی کہیئے کہ صحابہ کفن ،دفن اور قبر میں اتارنے والے کے متعلق پوچھتے رہے ،کیا انہوں نے آپ سے یہ نہیں پو چھا ہوگا کہ آپ کا جانشین کون ہوگا ؟ یا خود حضور کریم نے صحابہ کو نہیں بتایا ہوگا کہ میرا جانشین کون ہے ؟
ابن خلدون اسی صفحہ پر لکھتے ہیں کہ اس کے بعد رسول خدا نے فرمایا میرے پاس کاغذ اور قلم دوات لاؤ میں تمہیں ایسی تحریر لکھ دوں جس کے بعد تم

٤٩
کبھی گمراہ نہ ہوگے ۔یہ سن کر لوگوں نے جھگڑنا شروع کردیا کچھ لوگوں نے کہا کہ حضور ہذیان کہہ رہے ہیں اور مسلسل فرمان پیغمبر کو ہذیان کہتے رہے آپ نے فرمایا : میں جس حالت میں ہوں وہ اس سے کہیں بہتر ہے جس کی تم مجھے دعوت دے رہے ہو ۔(١)

قارئین کرام !
اب آپ فیصلہ کریں کہ رسول کو تحریر کیوں نہ لکھنے دی اور یہ مزاحمت کیوں کی گئی اور اس ہنگامہ دار و گیر کی آخر ضرورت کیوں پیش آئی ؟
کیا ایسا تو نہ تھا کہ حضور اکرم اپنی زندگی کے مختلف اوقات میں جس شخصیت کی جانشینی کا ذکر کرتے رہتے تھے ،آخری وقت میں اسے تحریری شکل میں لکھ دینا چاہتے تھے ؟
تاکہ کسی کو ان کی جانشینی کے متعلق کوئی شک وشبہہ نہ رہ سکے اور حضرت عمر بھی اس حقیقت سے بخوبی واقف تھے ۔حضور اکرم کا ارادہ بھانپ کر انہوں نے اس کی بھر پور مخالفت کی اور عجیب و غریب بات یہ ہے کہ محدثین کہتے ہیں کہ حضور نے تین چیزوں
کے متعلق وصیت فرمائی تھی ۔ دو وصیتیں تو بیان بھی کی گئی ہیں اور حضرت ابو بکر نے ان دونوں پر عمل بھی کیا تھا ۔لیکن تیسری وصیت راوی کو بھول جاتی ہے ۔یا وہ اسے جان بوجھ کر بیان نہیں کرتا ۔
اسی تیسری وصیت کو رسول خدا (ص) تحریری صورت میں لانا چاہتے تھے اور اس پر ہذیان کہہ کر حضور کریم کی شان میں گستاخی کی گئی ۔تعجب تو یہ ہے کہ کل وصیتیں تین تھیں دو وصیتیں کے وقت حضور اپنے ہوش وحواس میں تھے لیکن تیسری وصیت کے وقت ان پر ہذیان طاری ہوگا تھا ۔(نعوذ باللہ)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(١):- تاریخ ابن خلدون ج ٢ ص ٢٩٧

٥٠

رسول خدا (ص) کیا لکھنا چاہتے تھے ؟
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخری وقت میں رسول خدا (ص) کیالکھنا چاہتے تھے ؟ اس سوال کا جواب خود حضرت عمر نے اپنی زبان سے دیا ہے ۔جسے احمد بن ابی طاہر نے تاریخ بغداد میں اپنی اسناد سے لکھا ہے ۔اور ابن ابی الحدید نے بھی شرح نہج البلاغہ جلد ٣ ص ٩٧ پر نقل کیا ہے ۔جس کا خلاصہ یہ ہے :" حضرت عبداللہ بن عباس ،حضرت عمر کے ساتھ چل رہے تھے تو حضرت عمر نے ان سے کہا کہ ابن عباس !اگر تم نے اس بات کو چھپایا تو تم پر ایک اونٹ کی قربانی لازمی ہوگی ۔۔۔۔۔کیا اب بھی علی کے دل میں امر خلافت کے متعلق کوئی خلش باقی ہے ؟
ابن عباس نے کہا جی ہاں ! حضرت عمر نے کہا :کیا علی یہ سمجھتے ہیں کہ رسول خدا نے ان کی خلافت پر نص فرمائی تھی ؟
ابن عباس نے کہا جی ہاں ! تو حضرت عمر نے کہا کہ رسول خدا(ص) نے اپنی زندگی میں متعدد مرتبہ ایسے اشارے ضرور کئے تھے لیکن ان میں بات کی وضاحت موجود نہ تھی ۔ رسول خدا نے اپنے مرض الموت میں اس خواہش کو لکھنا چاہا تھا اور ان کا پورا ارادہ ہوگیا تھا کہ علی کانام تحریری طور پر رکھ دیں ۔ میں نے اسلام ومسلمین کے مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے ایسا نہ کرنے دیا ۔
میری مخالفت کی وجہ سے رسول خدا(ص) بھی سمجھ گئے کہ میں ان کے مافی الضمیر کو تاڑ چکا ہوں اسی وجہ سے رسول خدا(ص) رک گئے ۔"
اگر یہ روایت درست ہے تو اس کامقصد یہ ہے کہ حضرت عمر کو جناب رسول خدا سے بھی زیادہ اسلام کا مفاد عزیز تھا ۔ اگر امر واقعہ یہی ہے تو پھر اللہ تعالی کو (نعوذ باللہ) چاہئیے تھا کہ وہ حضور اکرم کی بجائے حضرت عمر کو ہی نبوت عطا فرماتا ۔
٥١
اگر ہم بحث وتحقیق کی سہولت کے مد نظر خلافت کے دنیاوی پہلو کو نظر انداز کردیں اور ان تاریخی حقائق سے بھی صرف نظر کرلیں جسے فریق اول پیش کرتا ہے اور ہم اپنے آپ کو صرف ان تاریخی حوالہ جات کا پابند بنالیں جسے فریق ثانی نے اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے تو بھی ہم کسی بہتر نتیجہ کو اخذ کرنے کے قابل رہیں گے ۔
اس مقام پر سوال یہ ہے کہ رسول خدا کی وفات کے بعد حضرت علی بر سر خلافت پر کیوں فائز نہ ہوسکے ؟
اس سوال کا اہل سنت کی کتابوں سے جواب دینے سے پہلے ہم یہ ضروری گزارش کریں گے کہ ہمارے یہ جوابات ،"اقناعی " ہوں گے ۔ کیونکہ اس موضوع کے متعلق اکثر تاریخی حقائق کو تلف کیا جاتا رہا ہے اور اموی اور عباسی دواقتدار میں ہر ممکن تحریف کی گئی ہے ۔
تاریخ میں ہم اس حقیقت کا مشاہدہ کرتے ہیں کہ وفات رسول (ص) کے بعد نسل ابو طالب کو ظلم وستم کا نشانہ بنایا گیا اور اس دور کی حکومتیں اہل بیت طاہرین سے بد ترین عناد رکھتی تھیں ۔ اور "الناس علی دین ملوکھم " کے تحت اس زمانہ کے اہل علم ،راوۃ و قضاۃ نے بھی آل محمد (ع) کی تنقیص کو طلب دنیا کا وسیلہ بنایا اور آل محمد (ص) کی عداوت کو سلاطین وحکام کیلئے ذریعہ تقرب قرار دیا اور آل محد(ع) کی جو فضیلت چھپانے کے باوجود نہ چھپ سکی تو اس جیسی روایت اغیار کیلئے وضع کی گئی ۔
اس کے باوجود آل محمد(ع) کی صداقت کا یہ معجزہ ہے کہ ان کے فضائل ومناقب آج بھی کتابوں میں موجود ہیں اور ان کی مظلومیت کی داستان بھی سیر وتواریخ میں وموجود ہے ۔
اس کتاب میں ہم بھی حتی المقدور مستند کتب تاریخ و سیر کے حوالے جات پیش کریں گے ۔



۵
دور معاویہ میں وضع حدیث المیہ جمعرات

٥٢

دور معاویہ میں وضع حدیث
آل محمد(ع) اور بالخصوص حضرت علی علیہ السلام کی مظلومیت کیلئے درج ذیل واقعہ کو ملاحظہ فرمائیں :-
ابو الحسن علی بن محمد بن ابی سیف المدائنی اپنی کتاب "الاحداث" میں رقم طراز ہیں :- کتب معاویۃ الی عمّالہ بعد عام الجماعۃ ان برئت الذمۃ ممّن روی شیا من فضل ابی تراب واھل بیتہ ،فقامت الخطباء فی کل کورۃ وعلی کل منبر یلعنون علیا و یبروؤن منہ ویقعون فیہ وفی اھل بیتہ و کتب معاویۃ الی عمّالہ فی جمیع الافاق ،ان لایجیزوا لاحد من شیعۃ علی واھل بیتہ شھادۃ وکتب الیھم ان انظروا من قبلکم من شیعۃ عثمان و محبیہ و اھل ولا یتہ و الذین یروون مناقبہ وفضائلہ فادنوا مجالسھم وقربوھم واکرموھم واکتبوا لی بکل ما یروی کال رجل و اسمہ و ابیہ و عشریتہ ،ففعلوا ذالک حتی اکثروا فی فضائل عثمان ومناقبہ لما کان یبعثہ الیھم من الصّلات ثم کتب لی عمّالہ ،ان الحدیث عن عثمان قد کثر فاذا جاء کم کتابی ھذا فادعو االناس الی الروایۃ فی فضائل الصحابۃ والخلفاء الاولین ولا تترکوا خبرا یرویہ احد من المسلمین فی ابی تراب الا واتو بمناقص لہ فی الصحابۃ فقرات کتابہ علی الناس فرویت اخبار کثیرۃ فی مناقب الصحابۃ مفتعلۃ لاحقیقۃ لھا ومضی علی ذالک الفقھاء والقضاۃ والولاۃ ۔"
امام حسن علیہ السلام کی صلح کے بعد معاویہ نے اپنے حکام کو لکھا کہ :جو شخص ابوتراب اور ان کے اہل بیت کی فضیلت کے متعلق کوئی روایت بیان کرے گا میں اس سے بری الذمہ ہوں ۔
اس خط کے بعد ہر مقام اور ہر منبر پر لوگ حضرت علی علیہ السلام پر لعنت کرنے

٥٣
لگے اور ان سے برائت کرتے اور ان کے اور ان کے خاندان کے عیوب بیان کرتے ۔
اس کے بعد معاویہ نے اپنے جملہ حکام کو لکھا کہ : علی اور ان کے اہل بیت کے ماننے والوں کی گواہی قبول نہ کی جائے ۔
اور پھر اپنے حکام کو مزید تحریر کیا کہ عثمان سے محبت رکھنے والے افراد اور ان کے فضائل ومناقب بیان کنے والے لوگوں کو اپنا مقرب بناؤ اور ان کا احترام کرو اور جو شخص عثمان کی فضیلت میں کوئی روایت بیان کرے تو اس شخص کانام ونسب اور بیان کردہ روایت میرے پاس بھیجو۔
حکام نے معاویہ کے ان احکام پر حرف بحرف عمل کیا اور فضائل عثمان بیان کرنے والوں کو گراں بہا انعامات سے نوازا گیا ۔اس کا نتیجہ نکلا کہ عثمان کے فضائل ومناقب بہت زیادہ ہوگئے ۔
پھر مستقبل کے خطرہ کو بھانپتے ہوئے معاویہ نے اپنے حکام کو تحریر کا کہ :فضائل عثمان کی حدیثیں بہت زیادہ ہوچکی ہیں اور جب تمھیں میرا یہ خط ملے لوگوں سے کہو کہ وہ اب صحابہ اور پہلے دوخلفاء کے فضائل کی احادیث تیار کریں اور ہاں اس امر کو ہمیشہ ملخوظ خاطر رکھنا کہ ابو تراب کی شان میں کوئی حدیث موجود ہو تو اس جیسی حدیث صحابہ کے لئے ضرور تیار کی جانی چاہیئے ۔
معاویہ کے یہ خطوط لوگوں کر پڑھ کر سنائے گئے ۔اس کے بعد صحابہ اور پہلے دونوں خلفاء کی شان میں دھڑا دھڑ حدیثیں تیار ہونے لگیں جن کا حقیقت س ے کوئی واسطہ نہ تھا ۔اس دور کے فقہاء ،قاضی اور حکام ان وضعی احادیث کو پھیلاتے رہے
اب مذکورہ سوال یعنی علی علیہ السلام سریر آرائے مسند خلافت کیوں نہ ہو سکے ؟
اس سوال کو حل کرنے کےلئے ہمیں حضرت علی کی سیرت اور زندگانی رسول میں ان کی فدا کاری اور ان کے صلح وجنگ کے فلسفہ کو مدنظر رکھنا ہوگا اور

٥٤
جب ان کی دور رسالت کی زندگی اور ان کا فلسفہ وصلح وجنگ ہمارے پیش نظر ہوگا تو ہم اس گتھی کو سلجھا سکیں گے ۔
ہم سمجھتے ہیں کہ اس سوال کو سمجھنے کے لئے اسے دو بنیادی سوالوں میں تقسیم کردینا چاہیئے :-
١:- کیا علی علیہ السلام کی اہلیت رکھتے تھے ؟
٢:- اگر رکھتے تھے تو انہیں خلافت سے محروم کیوں رکھا گیا ؟
پہلے سوال کے جواب کو سمجھنے کے لئے ہمیں علی کی زندگی کا مطالعہ کرنا ہوگا اور اس کے ساتھ علی کے والدین کی فدا کاری وایثار کو بھی اپنے سامنے رکھنا ہوگا ۔

ابو طالب(ع) کی اسلامی خدمات
تاریخ اسلام کے معمولی طالب علم کو بھی اس حقیقت کا علم ہے کہ علی کے والد حضرت ابو طالب نے رسول خدا(ص) کی حفاظت کا فریضہ کس طرح سرانجام دیا ہے ۔اگر ہم حضرت ابو طالب کے ایثار کی داستان سنانا چاہیں تو اس کے لئے علیحدہ کتاب کی ضرورت ہوگی ۔
ذیل میں ہم سیرت ابن ہشام سے ابو طالب کی جان نثاری کا ہلکا سا نمونہ پیش کرتے ہیں :
جب رسول خدا(ص) نے تبلیغ دین شروع کی اور اہل مکہ توحید کی دعوت دی اور ان کے خود ساختہ معبودوں کی برائیاں بیان کیں تو قریش کو اس پر سخت غصہ آیا اور انہوں نے اس کے ساتھ یہ بھی دیکھا کہ ابو طالب رسول خدا(ص) کے محافظ ونگران بنے ہوئے ہیں تو انہوں نے اشراف قریش اور ابو سفیان سرفہرست تھے ۔
قریش کا یہ وفد ابو طالب کے پاس گیا اور ان سے کہا : ابو طالب ! تمھار

٥٥
بھتیجا ہمارے معبودوں کو برا کہتا ہے اور ہمارے دین کے عیوب بیان کرتا ہے ۔آپ اسے بات سے روکیں یا آپ علیحدہ ہوجائیں ہم خود ہی نمٹ لیں گے ۔
ابو طالب نے ان لوگوں کو نرمی سے سمجھایا اور انہیں واپس بھیج دیا ۔چند دنوں کے بعد قریش دوبارہ ابو طالب کے پاس گئے ۔اس دفعہ بھی ابو طالب نے انہیں واپس بھیج دیا ۔ قریش کو جب یقین ہوگیا کہ ابو طالب محمد مصطفی کو ان کے حوالہ کرنے پر آمادہ نہیں ہیں تو وہ ایک خوبصورت نوجوان جس کانام عمارہ بن ولید تھا کو لے کر ابو طالب کے پاسے گئے ۔اور ان سے کہا ۔یہ عمارہ بن ولید ہے آپ اسے اپنے پاس ٹھہرا لیں اور اپنا بھتیجا ہمارے حوالے کردیں ۔
یہ سن کر ابو طالب نے کہا تم نے کتنا غلط فیصلہ کیا ہے ۔میں تو تمھارے بیٹے کو پالوں او راپنا تمہارے حوالے کردوں اور تم اسے قتل کردو۔ ابن سعد اپنی کتاب طبقات کبری جلد اول ص ١٠١ پر لکھتے ہیں : جب عبد المطلب کی وفات ہوئی تو ابو طالب نے رسول خدا کو اپنی گود میں لے لیا ۔ وہ رسول خدا(ص) سے اتنی محبت کرتے تھے جس کی نظیر نہیں ملتی ۔حد یہ ہے کہ انہیں اپنی اولاد سے بھی اتنی محبت نہیں تھی جتنی کہ وہ حضور اکرم (ص) سے کیا کرتے تھے ۔وہ رسول خدا(ص) کو اپنے پہلو میں سلایا کرتے تھے اور جہاں بھی جاتے رسول خدا (ص) کو اپنے ساتھ لے کر جاتے ۔
ابو طالب کو محمد مصطفی سے ایسا عشق تھا کہ انہیں کسی چیز سے ایسا عشق نہیں تھا ۔

شعب ابی طالب
اسی جان نثاری ک داستان کو ابن اثیر نے الکامل فی التاریخ کی جلد دوم ص ٥٩-٦٢ پر یوں بیان کیا ہے :
"جب قریش نے محسوس کیا کہ دین اسلام روز بروز ترقی کر رہا ہے اور ان

٥٦
کا قاصد عمرو بن العاص بھی نجاشی کے دربار سے ناکام ہوکر واپس آگیا ہے ۔تو انہوں نے اپنے سربراہوں کا اجلاس طلب کیا ۔ جس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ وہ بنی ہاشم کے ساتھ کسی قسم کا لین دین نہیں کریں گے اور ان کے ساتھ کوئی رشتہ ناتا نہیں کیا جائے گا ۔
انہوں نے اپنے اس فیصلہ کو لکھ کر کعبہ میں نصب کردیا ۔حضرت ابو طالب بنی ہاشم اور بنی عبد المطلب کو لے کر پہاڑ کی ایک گھاٹی میں چلے آئے ۔اس گھاٹی کو شعب ابی طالب کہا جاتا ہے ۔اس گھاٹی میں ابو طالب نے قریبا تین برس کا عرصہ گزارا ۔اس کے بعد اللہ تعالی نے رسول خدا (ص) کو وحی کے ذریعہ بتایا کہ صحیفہ کی عبارت کو دیمک چاٹ چکی ہے ۔اس میں صرف اللہ کانام باقی بچا ہے ۔آنحضرت (ص) نے اپنے چچا ابو طالب کو اس امر کی خبر دی ۔ابو طالب حضور اکرم کی کسی بات میں شک نہیں کرتے تھے ۔ جیسے ہی انہوں نے یہ خبر سنی تو فورا حرم میں آئے اور قریش سے کہا کہ تمہارے معاہدہ کو دیمک چاٹ چکی ہے ۔اس میں صرف اللہ کا نام باقی وہ گیا ہے ۔۔۔۔۔۔پھر انہوں نے فی البدیہہ یہ شعر پڑھے ۔

وقد کان فی امر الصحیفۃ عبرۃ ۔۔۔۔۔متی ما یخبر غائب القوم یعجب
محااللہ عنھم کفرھم وعقوقھم۔۔۔۔۔وما نقموا من ناطق الحق معرب
فاصبح ما قالوا من الامر باطلا ۔۔۔۔۔ومن یختلق مالیس بالحق یکذب

"صحیفہ کےمعاملہ سے عبرت حاصل کرو ۔جب ایک غیر موجود شخص خبر دے تو تعجب ہوتا ہے ۔اللہ نے ان کے کفر ونافرمانی کی عبارتوں کو مٹاڈالا ۔ان لوگوں کو حق کے داعی سے ناحق ضد تھی انہوں نے جو کچھ بھی کہا تھا باطل ہوگیا اور جو شخص جھوٹی بات بنائے گا وہ لازمی طور پر جھٹلایا جائے گا ۔"
جب تک ابو طالب زندہ رہے کسی کافر کی جراءت نہ تھی کہ وہ حضور(ص) کو اذیت دے سکتا ۔لیکن جب ان کی وفات ہوگئی تو کافروں کے لئے میدان صاف

٥٧
ہوگیا اور انہوں نے دل کھول کر نبی کریم (ص) کو تکلیفیں پہنچائیں ۔نبی کریم(ص) نے اس حقیقت کو ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے :-
"ما نالت قریش شیا منی اکرھہ حتی مات ابو طالب " جب تک ابو طالب زندہ رہے قریش مجھے اذیت نہ دیتے تھے :(١)۔
ابو طالب کی فدا کاری اور جاں نثاری کو ہم مورخ ابن خلدون کے ان الفاظ سے ختم کرتے ہیں ۔
رسول خدا(ص)آٹھ برس کے تھے کہ ان کے دادا عبد المطلب کی وفات ہوئی ۔عبد المطلب نے اپنی وفات سے پہلے محمد مصطفی (ص) کو ابو طالب کے حوالہ کیا تھا ۔ ابو طالب نے احسن انداز میں نبی کریم (ص) کی پرورش فرمائی ۔ابو طالب رسول خدا کی زندگی کے تمام لمحات کو بغور دیکھا کرتے تھے ۔انہوں نے آپ کے لڑکپن اور جوانی کا بہت اچھا مشاہدہ کیا اور انہوں نے یہ بھی دیکھا کہ رسول خدا دورجاہلیت کی تمام رسومات سے دور رہاکرتے تھے ۔ہجرت سے تین بر س قبل ابو طالب اور حضرت خدیجہ کی وفات ہوئی ۔شفیق چچا اور فدا کار زوجہ کی وفات رسول خدا(ص) کے لئے بہت بڑا صدمہ تھا ۔ابو طالب کے خوف سے سہمے ہوئے قریش نے حضور اکرم (ص) کو ستانا شروع کیا اور اپ کی جائے نماز پر غلاظت ڈالی گئی ۔(٢)
حضرت علی علیہ السلام کے والد ماجد کی فدا کاری کی یہ مختصر سی تاریخ تی اور حضرت علی علیہ السلام کی والدہ ماجدہ نے رسول اسلام (ص) کی کیا خدمت سرانجام دی اوراق کتاب کی تنگ دامنی کی وجہ سے ہم اس کی تفصیل بتانے سے قاصر ہیں ۔ان کی عظمت کے لئے یہی بات ہی کافی ہے کہ جب ان کی وفات ہوئی تو رسول خدا(ص) نے ان کے کفن کے لئے اپنی قمیص اتار کردی اور جب قبر تیار ہوئی تو رسول خدا(ص) چچی کے جنازے سے پہلے خود لحد میں اترے ۔لحد کی مٹی کو اپنے ہاتھوں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(١):- الکامل فی التاریخ جلد دوم ص ٥٩-٦٢
(٢):- تاریخ ابن خلدون جلد دوم ص ١٧١



۶
علی (ع) کی اسلامی خدمات المیہ جمعرات

٥٨
سے درست فرمایا اور کچھ دیر تک اپنی چچی اماں کے جنازہ کے ساتھ لحد میں لیٹے رہے (١)۔
ابو طالب جیسے عاشق رسول اور فاطمہ بنت اسد جیسی فداکار شخصیت کی گود میں حضرت علی (ع) پلے بڑھے اور جب ذرا بڑے ہوئے تو رسول خدا (ص) اور حضرت خدیجہ نے ان کی پرورش کی ۔

علی (ع) کی اسلامی خدمات
یہ علی علیہ السلام کا خاندانی پس منظر تھا اب آئیے دیکھیں کہ علی علیہ السلام کا ذاتی کردار کیا تھا ۔اور انہوں نے رسول اسلام(ص) کی کیا خدمات کی اور خود اسلام کی کس قدر انہوں نے خدمت کی ؟
جہاں تک علی او راسلام کے باہمی ارتباط کاتعلق ہے تو ہم اس مقام پر مصر کے اسکالر "عقاد"کے ساتھ ہم نوا ہوکر کہیں گے :
"انّ علیا کا المسلم الخالص علی سجیّتہ المثلی و انّ الدین الجدید لم یعرف قظّ اصدق اسلاما منہ ولا اعمق نفاذا فیہ ۔(٢)
علی (علیہ السلام) اپنی آئیڈیل فطرت کی وجہ سے مسلم خالص تھے اور نئے دین نے علی (ع) سے بڑھ کر کسی کے سچے اورگہرے اسلام کا مشاہدہ نہیں کیا تھا ۔
ڈاکٹر طہ حسین اپنی کتاب الفتنتہ الکبری ،عثمان بن عفان صفحہ ١٠١پر لکھتے ہیں :- جب رسول خدا(ص) نے اعلان نبوت فرمایا تو علی (ع) اس وقت بچے تھے ۔انہوں نے فورا اسلام قبول کیا اور اسلام کےبعد وہ رسول خدا (ص) اور حضرت خدیجۃ الکبری کی آغوش میں پرورش پاتے رہے ۔انہوں نے پوری زندگی میں کبھی بھی بتوں کے سامنے سر نہیں جھکایا تھا ۔
سابقین اولین اور علی علیہ السلام میں سب سے واضح فرق یہ ہے کہ انہوں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(١):-تاریخ ابن خلدون جلد دوم ص ١٧٩-١٨٠
(٢):-عبقریۃ الامام ۔ازاستاد عقاد ص ١٣

٥٩
نے منزل وحی میں پرورش پائی اور یہ شرف ان کے علاوہ کسی اور کو نصیب نہیں ہوا ۔
اسی تربیت وکفالت کا اثر تھا کہ علی ایک عدیم المثال شخصیت بن کر ابھرے ۔بہر نوع علی علیہ السلام کی ذات کا مطالعہ علم النفس یا علم الاجتماع جس بھی حوالے سے کیاجائے علی ہر لحاظ سے لاجواب ،بینظیر اور لا شریک ہو کر سامنے آتے ہیں ۔
علی علیہ السلام کی ذات کو سمجھنے کے لئے درج ذیل مثالوں کو مدنظر رکھیں ۔علی علیہ السلام کی جانثاری اور فداکاری کیلئے شب ہجرت کے واقعات کا تصور کریں ۔

١:- شب ہجرت
ابن ہشام لکھتے ہیں :- جب قریش نے دیکھا کہ اسلام روزبروز ترقی کر رہا ہے اور اسلام کے پیرو اب مکہ کے علاوہ دیگر شہروں بالخصوص یثرب میں بھی ہیں اور حضور کے کافی پیروکار ہجرت کرکے یثرب روانہ ہوچکے ہیں ۔اس کے ساتھ انہیں یہ یقین ہوگیا کہ رسول خدا (ص) بھی مکہ چھوڑ کر کسی وقت یثرب چلے جائیں گے ۔ اس مسئلہ کو حل کرنے کیلئے انہوں نے اپنے بزرگوں کو دارالندوہ میں دعوت دی ۔
کفار مکہ کے سربراہوں میں عتبہ ،شیبہ اور ابو سفیان بھی تھے ۔دوران بحث یہ مشورہ دیا گیا کہ حضور اکرم (ص)کو قید کیا جائے یا انہیں یہاں سے نکال دیا جائے ۔لیکن ان کے دونوں باتوں کو کثرت رائے سے مسترد کردیا گیا ۔
چنانچہ رائے یہ قرار پائی کہ مکہ کے ہر قبیلہ کا ایک ایک فرد لیا جائے اور ایک مخصوص شب میں حضور (ص) کو قتل کردیا جائے ۔قتل میں زیادہ قبائل کی موجود گی کا یہ فائدہ ہوگا کہ عبد مناف کی اولاد بدلہ نہیں لے سکے گی ۔اور یوں ان کا خوف رائگاں ہوجائیگا ۔جب حضور نے متفرق قبائل کے افراد کو اپنے دروازے پہ دیکھا تو علی ابن ابی طالب کو حکم دیا کہ وہ ان کے بستر پر انہی کی چادر تان کر سوجائیں (١)۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(١):- سیرت ابن ہشام جلد دوم ص ٩٥

٦٠
ابو طالب کے فرزند کے لئے قتل گاہ قریش گل تھی ۔جب رسولخدا(ص) نے فرمایا کہ میری جان کو خطرہ ہے تم میرے بستر پر سوجاؤ تو اس وقت علی (ع) نے بڑے جذباتی انداز میں پوچھا : یا رسول اللہ کیا میرے سونے سے آپ کی جان بچ جائیگی ؟ آپ نے فرمایا ہاں ! پھر حضور اکرم (ص) نے علی(ع) کو حکم دیا کہ وہ اہل مکہ کی تمام امانتیں ان تک پہنچائیں ۔
حضرت علی (ع) رسول خدا (ص) کی ہجرت کے بعد تین دن تک مکہ میں رہے اور کفار ومشرکین کی امانتیں واپس کیں ۔جب اس فریضہ سے فارغ ہوگئے تو پیادہ پا چلتے ہوئے مدینہ آئے اور پیدل چلنے کی وجہ سے انکے پاؤں متورم ہوچکے تھے (١)۔

٢:-موخات
ہجرت کے بعد رسول خدا (ص) نے مہاجرین وانصار کو ایک دوسرے کا بھائی بنایا ۔
جب علی علیہ السلام نے موخات کا یہ منظر دیکھا تو آبدیدہ ہوگئے ۔رسول خدا (ص) نے ان سے رونے کاسبب دریافت کیا تو انہوں نے عرض کیا آپ نے اپنے اصحاب کو ایک دوسرے کا بھائی بنایا ۔لیکن مجھے کسی کا بھائی نہیں بنایا ۔ تو رسول خدا(ص) نے فرمایا "انت اخی فی الدنیا و الآخرۃ " تو دنیا اور آخرت میں میر ا بھائی ہے (٢)۔

٣:- جنگ احد اور علی (علیہ السلام)
جنگ احد میں جب اسلامی لشکر کو پسپائی ہوئی اور صحابہ کرام پہاڑوں پر چڑھ رہے تھے تو اس وقت حضرت علی (ع) پوری جانفشانی سے لڑتے رہے اور کوہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(١):- تاریخ ابن خلدون جلد دوم ص ١٨٧ و ابن اثیر الکامل فی التاریخ جلد دوم ص ٧٥
(٢):-سیرت ابن ہشام جلد دوم ص ٩٥-١١١

٦١
استقامت بن کر دشمنوں سے نبرد آزمائی کرتے رہے ۔ الغرض ابو طالب کا بیٹا پورے میدان پر چھا گیا اسی مقام پر ہاتف غیبی نے ندا دی تھی "لا سیف الّا ذولفقار ولا فتی الاّ علی " اگر تلوار ہے تو ذولفقار ہے اور اگر جواں مرد ہے تو حیدر کرار ہے ۔
الغرض اسلام اور رسول اسلام کی حفاظت کے بعد جب واپس گھر آئے تو اپنی زوجہ حضرت فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا کو اپنی تلوار پکڑاتے ہوئے یہ شعر کہے :-

افاطم ھاک السیف غیر ذمیم ۔۔۔۔۔فلست برعدیر ولا بملیم
لعمری لقد قاتلت فی حب احمد۔۔۔۔۔وطاعۃ رب بالعباد رحیم
فاطمہ ! یہ تلوار لو ،یہ تلوار تعریف کے قابل ہے ۔میدان جنگ میں میں ڈرنے اور کانپنے والا نہیں ہوں ۔
مجھے اپنی زندگی کی قسم میں نے محمد مصطفی کی محبت اور مہربان اللہ کی اطاعت میں جہاد کیا ہے (١)۔

٤:- علی(ع) اور تبلیغ براءت
محمد بن حسین روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ احمد بن مفضل نے بیان کیا وہ کہتے ہیں یہ روایت اسباط نے سدی سے کی ہے سعدی کہتے ہیں :-
جب سورہ براءۃ کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں تو رسول خدا نے حضرت ابو بکر کو امیر حج بنایا اور وہ آیات بھی ان کے حوالے فرمائیں اور ارشاد فرمایا کہ تم حج کے اجتماع میں یہ آیات پڑھ کرسناؤ ۔
ابو بکر آیات لے کر روانہ ہوئے ،جب وہ مقام ذی الحلیفہ کے درختوں کے قریب پہنچے تو پیچھے سے علی (ع) ناقہ رسول پر سوار ہو کر آئے اور آیات ابو بکر سے لے لیں ۔حضرت ابو بکر رسول خدا(ص) کی خدمت میں واپس آئے اور عرض کیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(١):- تاریخ طبری جلد سوم ص ١٥٤ ومروج الذہب مسعودی جلد دوم ص ٢٨٤۔

٦٢
یارسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں کیا میرے متعلق کوئی آیت نازل ہوئی ؟ آپ نے فرمایا نہیں ۔میری طرف سے پیغام کو یا میں خود پہنچاسکتا ہوں یا علی (ع) پہنچاسکتے ہیں ۔(١)

٥:- علی (ع) تبلیغ اسلام کے لیے یمن جاتے ہیں
رسول خدا نے یمن میں تبلیغ اسلام کے لئے خالد بن ولید کوروانہ فرمایا لیکن اس کی دعوت پر کوئی بھی شخص مشرف بہ اسلام نہ ہوا ۔تو اس کے بعد حضور اکرم(ص) نے حضرت علی (ع) کو اسلام کو مبلغ بنا کر یمن روانہ کیا اور انہیں حکم دیا کہ وہ خالد اور اس کے ساتھیوں کو واپس بھیج دیں ۔
حضرت علی نے جاتے ہی خالد کو اس کے دوستوں سمیت واپس روانہ کردیا اور اہل یمن کے سامنے رسول خدا(ص) کا خط پڑھ کرسنایا ۔جس کے نتیجہ میں قبیلہ ہمدان ایک ہی دن میں مسلمان ہوگیا (٢)۔

٦:- ہارون محمدی
حضرت علی (ص) غزوہ تبوک کے علاوہ باقی تمام جنگوں میں شریک ہوئے اور غزوہ تبوک کے موقع پر بھی جناب رسولخدا(ص) نے انہیں مدینہ میں اپنا جانشین بنا کر ٹھہرایا ۔
امام مسلم بن حجاج نے اس واقعہ کو یوں نقل کیا ہے :
حدثنا یحیی التمیمی وابو جعفر محمد بن الصباح وعبد اللہ القواریری وسریح بن یونس عن سعید بن المسیب عن عامر بن سعد بن ابی وقاص عن ابیہ قال قال رسول اللہ (ص) لعلی (ع) انت منی بمنزلۃ ھارون من
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(١):- تاریخ طبری جلد سوم ص ١٥٤
(٢):- ابن اثیر الکامل فی التاریخ جلد دوم ص ٣٥

٦٣
موسی غیر انہ لانبی بعدی ۔
وحدثنا ابوبکر بن شبیہ عن سعد بن ابی وقاص قال ۔خلف رسول اللہ (ص) علیا ،فی غزوہ تبوک فقال یارسول اللہ (ص)تخلفنی فی النساء والصبیان ؟ قال اما ترضی ان تکون منی بمنزلۃ ھارون من موسی غیر انہ لانبی بعدی ۔
سعد بن ابی وقاص بیان کرتے ہیں کہ رسول خدا(ص) نے علی (ع) سے فرمایا تم کو مجھ سے وہی نسبت ہے جو ہارون کو موسی سے تھی ۔ فرق یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے ۔
سعد بن ابی وقاص بیان کرتے ہیں کہ رسول خدا نے غزوہ تبوک کے موقع پر علی (ع) کو مدینہ میں ٹھہرنے کا حکم دیا تو انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ مجھے عورتوں اور بچوں میں ٹھہرکر جارہے ہیں ؟
رسول خدا(ص) نے فرمایا : کیا تم اس اس بات پر راضی نہیں کہ تم کہ مجھ سے وہی نسبت ہے جو ہارون کو موسی سے تھی مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے ۔

٧:- فاتح خیبر
جب صحابہ کرام خیبر فتح کرنے میں ناکام ہوئے اور لشکر یہود کے سامنے کئی دفعہ پشت دکھائی رسولخدا(ص) نے اعلان فرمایا :- لاعطین ھذہ الرّایۃ رجلا یحب اللہ ورسولہ ویحبہ اللہ ورسولہ یفتح اللہ علی یدیہ ۔"
"کل میں اسے علم دونگا جو مرد ہوگا ۔اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوگا اور اللہ اور رسول بھی اس سے محبت کرتے ہوں گے ۔اللہ اس کے ہاتھ سے خیبر فتح کرائے گا "۔
حضرت عمر کہتے ہیں کہ میں نے پوری زندگی میں بس اس دن امارت کی

٦٤
تمنا کی تھی اور ساری رات نوافل میں گزاری کہ شاید صبح علم اسلامی مجھے مل جائے ۔
جب صبح ہوئی تو رسول خدا(ص) نے علی (ع) کو بلایا اور انہیں علم عطا فرمایا (١)۔
ان سب حقائق کے علاوہ منصب خلافت بلافصل کے لئے علی (ع)کی اہلیت کے لیے درج ذیل امور بھی مد نظر رکھنے چاہییں:-
الف :- حضرت علی (ع) دین اسلام کے جوہر کو خوب سمجھنے والے تھے ۔وہ ایمان کے جملہ اطراف وآفاق کا احاطہ رکھتے تھے ۔علی اکثر رسول خدا (ص) کے ساتھ خلوت میں بیٹھ کر گفتگو کیا کرتے تھے اور لوگوں کو اس گفتگو کوئی علم نہیں ہوتا تھا ۔
آپ قرآن مجید کے معانی ومفاہیم کے لئے رسول خدا(ص) سے زیادہ سے زیادہ استفسار کرتے تھے ۔
اور اگر علی سوال میں ابتدا نہ کرتے تو رسول خدا خود ہی ابتدا کردیتے ،جب کہ علی کے علاوہ باقی لوگ چند قسموں میں تقسیم تھے ۔
١:- کچھ ایسے تھے کہ حضور اکرم سے سوال کرتے ہوئے گھبراتے تھے اور ان کی تمنا ہوتی تھی کہ کوئی اعرابی یا مسافر آکر حضور سے کچھ پوچھے اور وہ سن لیں ۔
٢:- کچھ ایسے تھے کہ حضور اکرم سے سوال کرتے ہوئے گھبراتے تھے اور ان کی تمنا ہوتی تھی کہ کوئی اعرابی یا مسافر آکر حضور سے کچھ پوچھے اور وہ سن لیں ۔
٣:- کچھ لوگ عبادت یا دنیاوی کاروبار کی وجہ سے فہم وادراک کی نعمت سنے خالی تھے ۔
٤:- کچھ اسلام سے عداوت وبغض کو چھپائے تھے اور وہ دینی مسائل کے یاد رکھنے کو وقت کا ضیاع تصور کرتے تھے ۔(٢)۔
ب:- رسول خدا (ص) آپ کو جانشین بنانے کے لئے اور خود اعتمادی پیدا کرنے کی غرض سے آپ کو اہم مقامات پر روانہ کیا کرتے تھے ۔ جہاں سے آپ ہمیشہ مظفر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(١):- صحیح مسلم جلد دوم ص ٣٢٤
(٢):- ابن ابی الحدید شرح نہج البلاغہ جلد سوم ص ١٧

٦٥
منصور ہوکر لوٹا کرتے تھے ۔
رسول خدا (ص) نے جب بھی کوئی مہم روانہ فرمائی تو اگر اس مہم میں علی (ع) شامل ہوتے تھے تو علی اس مہم کے امیر اور انچارج ہوا کرتے تھے ۔
رسول خدا (ص) کی پوری زندگی میں علی (ع) کسی کی ماتحتی میں کبھی روانہ نہیں ہوئے اور اس کے برعکس حضرت ابو بکر وحضرت عمر کو متعدد مرتبہ لوگوں کی ماتحتی میں روانہ کیا گیا ۔
تاریخ کی ستم ظریفی دیکھیے کہ حضرت ابو بکر نے اپنے دور خلافت میں حضرت عمر کی ذہنی وعملی تربیت کی تھی ۔چنانچہ جس شخص کی انہوں نے خود تربیت کی تھی ۔اس کی خلافت کے لئے نامزدگی کا انہوں نے اعلان کردیا اور لوگوں نے بھی ان کی خلافت کو تسلیم کرلیا ۔ لیکن جس شخصیت کی تربیت معلم اعظم جناب رسول خدا نے کی انہیں لوگوں نے خلافت سے محروم کردیا ۔

ج:- جیش اسامہ :-
جناب رسول خدا(ص) اپنی وفات سے پہلے علی (ع٩ کی خلافت کے لئے میدان صاف کرنا چاہتے تھے اور جن لوگوں کے متعلق آپ کو مخالفت کا گمان تھا انہیں مدینہ سے باہر روانہ کرنا چاہتے تھے ۔ اس کے لئے جیش اسامہ کا حال ابن سعد کی زبانی سنیئے ۔:-
ماہ صفر کے اختتام میں چار راتیں باقی تھیں سوموار کادن ١١ھ کو جناب رسول خدا(ص) نے رومیوں پر حملہ کرنے کا حکم صادر فرمایا ۔
جب صبح ہوئی تو آپ نے اسامہ بن زید کو بلا کرفرمایا ۔تم لشکر لے کر وہاں چلے جاؤ جہاں تمہارے والد کو شہید کیا گیا تھا ۔اس علاقہ کو اپنے گھوڑوں س پامال کر دو ۔اہل ابنی پر صبح کے وقت یلغار کرنا اور اس بات کا خصوصی خیال رکھنا کہ وہ تمھارے آنے سے بے خبر رہنے چاہئیں اور اگر خدا تمہیں کا میابی عطا

٦٦
فرمائے تو وہاں زیادہ دیر نہ رکنا ۔اپنے ساتھ راہ دکھانے والے افراد اور جاسوسوں کو لے کر روانہ ہوجاؤ ۔
جب بدھ کا دن ہوا تو حضور اکرم (ص) سخت بیمار ہوگئے اور پھر جمعرات کے دن آپ نے اپنے ہاتھوں سے پر چم تیار کیا اور فرمایا :
اسامہ! اللہ کا نام لے کر چلے جاؤ اور خدا کے لئے جہاد کرو اور منکرین توحید سے جنگ کرو ۔
آپ نے وہ پر چم بریدہ بن حصیب اسلمی کے حوالہ فرمایا ۔اسامہ کا لشکر "جرف" کے مقام پر فروکش ہوا ۔اس لشکر میں مہاجرین وانصار کے سرکردہ افراد بھی شریک تھے ۔ جن میں ابو بکر ،عمر اور ابو عبیدہ بن جراح سرفہرست تھے لوگوں نے اسامہ کی سربراہی پر اعتراض کیا اور کہنے لگے کہ مہاجرین وسابقین پر بچہ کو سربراہ بنادیا گیا ۔
جب رسول خدا(ص) کو لوگوں کے اعتراضات کا پتہ چلا تو آپ سخت ناراض ہوئے ۔آپ سرپر پٹی باندھ کر گھر سے باہر آئے اور منبر بیٹھے اور فرمایا :
لوگو! میں یہ کیسی گفتگو سن رہا ہوں کہ تم لوگوں نے اسامہ کے امیر لشکر ہونے پر اعتراض کئے ہیں اور سن لو اعتراض کی یہ عادت تمہیں آج سے نہیں ہے ۔اس سے پہلے بھی تم نے اسامہ کے والد زید کی امارت پر اعتراض کیاتھا ۔
خدا کی قسم ! وہ امارت کے لائق تھا اور اس کے بعد اس کا بیٹا بھی امارت کے قابل ہے ۔اسامہ اوراس کے والد کا تعلق میرے محبوب ترین افراد سے ہے دونوں باپ بیٹے اچھے ہیں ۔تم لوگوں کو بھی ان سے اچھائی کرنے کی تلقین کرتا ہوں یہ تمہارے بہترین لوگوں میں سے ہے ۔
خدا کی قسم! وہ امارت کے لائق تھا اور اس کےبعد اس کا بیٹا بھی امارت کے قابل ہے ۔اسامہ اور اس کے والد کا تعلق میرے محبوب ترین افراد سے ہے دونوں باپ بیٹے اچھے ہیں ۔تم لوگوں کو بھی ان سے اچھائی کرنے کی تلقین کرتا ہوں یہ تمہارے بہترین لوگوں میں سے ہے ۔
اس کے بعد آپ نے خطبہ دیا اور اپنے بیت الشرف تشریف لے گئے آپ نے یہ خطبہ دس ربیع الاول بروز ہفتہ دیا تھا ۔

٦٧
اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طبیعت زیادہ ناساز ہوگئی آپ بار بار فرماتے رہے ۔اسامہ کے لشکر کو روانہ کرو ۔
جب اتوار کا دن ہواتو رسول خدا(ص) کی تکلیف بڑھ گئی ۔اسامہ آپ سے الوداع کرنے کے لئے آئے تو اس وقت آپ کی طبیعت انتہائی ناساز ہوچکی تھی ۔ اسامہ سے زیادہ گفتگو نہ کرسکے ،اپنے ہاتھوں کو آسمان کی جانب بلند فرمایا اور اسامہ کے سرپر ہاتھ رکھا ۔
اسامہ کہتے ہیں کہ میں سمجھ گیا کہ آپ میرے لئے دعا فرمارہے ہیں ۔بعد ازاں اسامہ اپنے لشکر کے پاس آئے اور حکم دیا کہ خدا کا نام لے کرچل پڑوابھی یہ لشکر روانہ نہیں ہوا تھا کہ حضور اکرم کی وفات ہوگئی (١)۔
ابن سعد کے بیان کردہ واقعہ کا خلاصہ یہ ہے کہ :
١:-حضور اکرم(ص) نے اپنی وفات سے چند ایام قبل شام وروم کی طرف ایک لشکر تیار فرمایا ۔
٢:- اسامہ بن زید جو کہ صغیر السن تھے ،انہیں اس لشکر کا امیر مقرر کیا گیا ۔
٣:-اسامہ کے لشکر میں سابقین اولین اور بالخصوص حضرات شیخین اور ابو عبیدہ بن جراح بھی شامل تھے ۔
٤:- جب لشکر نے تاخیری حربے شروع کئے تو رسول خدا ناسازی طبع کے باوجود سرپر پٹی باندھ کر مسجد میں تشریف لائے۔
٥:- امارت اسامہ پر اعتراض کرنے والوں پر کڑی تنقید فرمائی اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی فرمایا کہ یہ ان کی پرانی عادت ہے ۔یہی معترضین اسامہ کے والد زید کی امارت پر بھی اعتراض کیا کرتے تھے ۔ مگر زید امارت کے حق دار تھے ۔ اسی طرح اعتراض کے باوجود بھی اسامہ امارت کے حقدار ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(١):-طبقات ابن سعد جلد چہارم ص ٣-٤

٦٨
٦:-رسول خدا(ص) کی جانب سے باربار لشکر اسامہ کو روانہ کرنے کے حکم کے باوجود اہل لشکر نے تعمیل حکم نہ کی اور "جرف" میں ٹھہرے رہے ۔
٧:- اپنی زندگی کے آخری ایام میں رسول خدا بار بار اسامہ کے لشکر کو بھیجنے کے خواہش مند کیوں تھے ؟
٨:- حضرات شیخین اور بزرگ مہاجرین کو کمسن اسامہ کی ماتحتی میں بھیجنے کا آخر کیا مقصد تھا ؟
٩:- تاکیدی احکام سننے کے باوجود بھی لوگوں نے جانے میں تاخیر کی ؟
کہیں حقیقت یہ تو نہیں ہے کہ رسول خدا (ص) اپنی وفات سے پہلے ہر ممکنہ مزاحمت کو ختم کرنا چاہتے تھے اور مدینہ کی سرزمین کو علی (ع) کی خلافت کے لئے سازگار بنانا چاہتے تھے ؟
اور کیا جیش اسامہ کو روانہ کرنے اور کاغذ اور قلم دوات طلب کرنے میں کوئی باہمی ارتباط تو نہیں تھا ؟
اے کاش ! اگر شیخین تاخیری حربوں سے اسامہ متاثر نہ ہوتے اور لشکر کو لے کر روانہ ہوجاتے تو آج اسلامی تاریخ کسی اور طرح سے لکھی جاتی اور آج مسلمان قوم یوں زبوں حالی کا شکار نہ ہوتی ۔



۷
فصل دوم المیہ جمعرات

٦٩

فصل دوم
سقیفہ کی کاروائی

١:حضرت ابو بکر صدیق
سابقہ گفتگو کا حاصل مطالعہ یہ ہے کہ : حضرت علی (ع) پوری طرح سے خلافت بلافصل کی اہلیت وقابلیت رکھتے تھے ۔ کیونکہ علی (ع) کا رسول اسلام اور خود اسلام سے گہرا ارتباط تھا اور اسلام اور رسول اسلام بھی انہیں خلافت وامامت کے لائق سمجھتے تھے ۔
اگر بالفرض سقیفہ بنی ساعدہ میں مسلمان علی علیہ السلام کے حق کے لئے یوں دلیل دیتے کہ
(١):-علی رسالت مآب کے سب سے قریبی ترین فرد ہیں ۔
(٢):-علی رسول خدا کی آغوش کے پروردہ ہیں ۔
(٣):- ہجرت کی شب امانتوں کے امین وہی تھے ۔
(٤):- رسول خدا نے انہیں اپنا بھائی مقرر کیا تھا ۔
(٥):- رسول خدا کے داماد ہیں ۔
(٦):-رسول خدا کی نسل ان کے صلب سے جاری ہوئی ۔
(٧):-رسول خدا کی تمام غزوات میں امیر لشکر اور علمدار تھے ۔
(٨):- وہ ہارون محمدی ہیں ۔
(٩) :- وہ شہر علی کا دروازہ ہیں ۔
(١٠):-وہ بیت حکمت کا دروازہ ہے ۔
(١١):- وہ صفات انبیاء کے آینہ دار ہیں ۔
(١٢):- نور نبوی کے وہ شریک ہیں ۔
(١٣):-وہ نبوت کے مربّی کے فرزند ہیں ۔
(١٤):-انکی ولادت کعبہ میں ہوئی ۔
(١٥) :-ان کی پیشانی کبھی بتوں کے سامنے نہیں جھکی ۔
(١٦) :- ان کی مودت اجر رسالت ہے ۔
(١٧) :- وہ مباہلہ میں صداقت اسلام کے گواہ ہیں ۔
(١٨) :- وہ چادر تطہیر کے طاہر فرد ہیں ۔
(١٩) :- وہ صاحب علم الکتاب ہیں ۔
(٢٠) :- وہ اپنی جان کے بد لے مرضات خداوندی کے خریدار ہیں ۔

٧٠
الغرض اگر ایسا ہوتا اور مسلمان علی علیہ السلام کو ہی اپنی حکومت وزعامت کے لئے منتخب کرلیتے تو وہ انحراف ک شکار نہ ہوتے اور آج کے دور میں اسلامی تاریخ کو سنہری حروف سے لکھا جاتا ڈاکٹر طہ حسین نے اپنے موضوع سے انصاف کرتے ہوئے بالکل صحیح لکھا ہے :-
"علی اپنی قربت ،سبقت الی الاسلام ،اپنی فداکاریوں ،اپنی غیر منحرف سیرت ،دین سے تمسک ،کتاب وسنت کے علم اور استقامت رائے کے سبب بلاشبہ خلافت بلافصل کی صلاحیت رکھتے تھے (١)"۔
ابن حجر عقلانی امام علی علیہ السلام کے اہم خصائص بیان کرتے رقم طراز ہیں :-
"علی ابن ابی طالب اکثر اہل علم کے قول کے مطابق مسلم اول ہیں نبی اکرم کی آغوش میں تربیت پائی ۔کسی مرحلہ میں نبی سے جدا نہیں ہوئے ۔غزوہ تبوک کے علاوہ تمام غزوات میں شریک رہے ۔اور غزوہ تبوک میں بھی وہ رسول خدا کے حکم کے تحت مدینہ میں ٹھہرے اور رسول خدا نے فرمایا تھا "اما ترضی یا علی ان تکون منی بمنزلۃ ھارون من موسی الا انہ لانبی بعدی " علی کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ تمہاری مجھ سے وہی نسبت ہو جو ہارون کی موسی سے تھی ۔مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا ۔
اکثر غزوات میں حضرت علی ہی اسلامی لشکر کے علم بردار تھے ۔جب رسول خدا نے صحابہ میں مواخات قائم کی تو علی کو اپنا بھائی قرار دیا ۔آپ کے بے شمار مناقب ہیں ۔امام احمد بن حنبل کہتے ہیں کہ :کسی صحابی کے لئے اتنی فضائل کی احادیث منقول نہیں ہیں ۔جتنی کہ علی کے لئے منقول ہیں (٢)۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(١):- الفتنتہ الکبری بن عفان ص ١٠٢ -١٠٣
(٢):- ابن حجر عسقلانی ۔الاصابہ فی تمیز الصحابہ ص ٥٠١-٥٠٢

٧١
بعض اہل علم کہتے ہیں کہ حضرت علی علیہ السلام کی فضائل کی احادیث کی نشر واشاعت کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ بنی امیہ کے سلاطین نے حضرت علی علیہ السلام کے فضائل ومناقب کو چھپانے کے لیے تمام حربے استعمال کئے ۔اسی لئے حفاظ حدیث نے اپنی دینی ذمہ داری سمجھتے ہوئے فضائل علی (ع) کی احادیث کی نشر واشاعت کی ۔چشم فلک نے آج تک علی علیہ السلام جیسا عالم اور مفتی نہیں دیکھا ۔غزوہ خیبر میں رسول خدا(ص) نے اعلان کیاتھا ۔ :- "کل میں اسے علم دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول (ص) سے محبت کرتا ہوگا اور اللہ اور رسول (ص) کا محبوب ہوگا ۔ اللہ اس کے ہاتھ پر خیبر فتح کرے گا ۔ " دوسرے روز آپ نے علم علی علیہ السلام کے حوالہ فرمایا ۔حضرت عمر کہا کرتے تھے کہ : مجھے صرف اسی دن ہی امارت کا شوق ہوا تھا ۔ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سورہ براءت کی آیات دے کر علی علیہ السلام کو بھیجا اور فرمایا کہ قرآنی آیات کی تبلیغ یا تو میں خود کرسکتا ہوں یا وہ کرسکتا ہے جو مجھ سے ہو ۔
علاوہ ازیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا "علی ولی فی الدنیا والآخرۃ " دنیا اور آخرت میں علی میرا جانشین ہے ۔
آپ نے علی وفاطمہ اور حسن وحسین علیھم السلام کو اپنی چادر میں داخل کرکے فرمایا : انما یرید اللہ لیذھب عنکم الرجس اھل البیت ویطھرکم تطھیرا " اے اہل بیت ! اللہ کا بس یہی ارادہ ہے کہ تم سے رجس کو دور رکھے اور تم کو اس طرح پاک رکھے جیسا کہ پاکیزگی کا حق ہے ۔
علی علیہ السلام شب ہجرت رسول خدا کی چادر پہن کر ان کے بستر پر سوئے تھے اور رسول خدا کی جان بچائی تھی ۔
رسول خدا نے علی علیہ السلام سے فرمایا تھا : انت ولی کل مومن من بعدی" تم میرے بعد ہر مومن کے سردار ہو ۔

٧٢
رسول خدا (ص) نے مسجد میں کھلنے والے تمام دروازے بند کرادئیے لیکن علی علیہ السلام کا دروازہ کھلا رہنے دیا ۔علی (ع) حالت جنابت میں بھی مسجد سے گزرا کرتے تھے ، مسجد کے علاوہ علی (ع) کے گزرنے کا کوئی راستہ ہی نہیں تھا رسول کریم نے پالانوں ک منبر بنا کر لاکھوں افراد کے سامنے علی (ع) کا بازو بلند کرکے اعلان فرمایا :- "من کنت مولاہ فعلی مولاہ" جس کا میں مولا ہوں اس کا علی مولا ہے ۔
اور جب "فقل تعالوا ندع ابناءنا و ابناءکم ونساءنا ونسآءکم وانفسنا وانفسکم ثم نبتھل فنجعل لعنۃ اللہ علی الکاذبین "۔ علم آجانے کے بعد جو تم سے جھگڑا کرے تو کہہ دو کہ آؤ ہم اپنے بیٹے بلائیں اور تم اپنے بیٹے اور ہم اپنی عورتوں کو بلائیں اور تم اپنی عورتوں کو اور ہم اپنی جانوں کو لے آئیں اور تم اپنی جانوں کو لے آؤ پھر ایک دوسرے کو بد دعا کریں اور جھوٹوں پر اللہ کی لعنت کریں " کی آیت مجیدہ نازل ہوئی تو رسول اکرم (ص) نے علی وفاطمہ وحسن وحسین علیھم السلام کو بلایا اور فرمایا :-خداوندا ! یہ ہیں میرے اہلبیت ۔ امام ترمذی عمران بن حصین سے روایت کرتے ہیں رسول خدا (ص) نے فرمایا :-" ماتریدون من علی ؟ ان علیا منی وانا من علی وھو ولی کل مومن بعدی " آخر تم علی (ع) سے کیا چاہتے ہو ۔بلاشبہ علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں ۔میرے بعد ہر وہ مومن کا سردار ہے ۔
اب پھر وہی سوال پیدا ہوتا ہے کہ اتنے مناقب وفضائل کے باوجود علی خلافت سے محروم کیوں رہے ؟۔
اس سوال کے جواب کے لئے ہمیں وفات رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حالات کومد نظر رکھنا چاہیئے اور اس کے ساتھ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ حضرت علی (ع) رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تجہز وتکفین ونماز جنازہ میں مصروف رہے ۔جب ان کے سیاسی حریف رسول خدا (ص) کے جنازہ کو چھوڑ کر سقیفہ

٧٣
بنی ساعدہ میں چلے گئے اور وہاں اپنی خلافت قائم کی (١)۔
حضرت علی کو خلافت سے محروم رکھنے کی ایک وجہ حضرت عمر نے یہ بیان کی تھی کہ عرب ایک ہی خاندان میں نبوت اور خلافت کا اجتماع برداشت نہیں کرسکتے ۔ اس واقعہ کا خلاصہ یہ ہے کہ ١١ھ میں رسولخدا (ص) نے وفات پائی اور حضرت علی رسول خدا(ص) کی تجہیز وتکفین اور نماز جنازہ میں مشغول ہوگئے ۔
رسول خدا (ص) کے گھر سے باہر سیاسی فضا بڑی دھماکہ خیز تھی ۔جس میں سر فہرست خلیفۃ الرسول کا مسئلہ تھا ۔
سعد بن ابو عبادہ اوس وخزرج کے سرکردہ افراد کو لے کر سقیفہ بن ساعدہ میں آگئے ۔اور حضرت عمر اور ابو عبیدہ مسجد میں مسئلہ خلافت پر بحث کر رہے تھے ۔ اور اس کے علاوہ کئی اور گروہ دوسرے مقامات پر مصروف مشورہ تھے ۔
حضرت ابو بکر نے جب وفات رسول(ص) کی خبر سنی تو محلہ سخ سے رسول خدا (ص) کے گھر آئے اور حضرت عمر کو دیکھا کہ وہ دروازے پر تلوار ننگی کرکے کھڑے ہوئے تھے اور لوگوں کو دھمکیاں دے رہے تھے کہ جس نے رسول خدا (ص) کی وفات کی بات کی میں اسے قتل کردونگا ۔حضور کی وفات نہیں ہوئی ،وہ بھی حضرت عیسی علیہ السلام کی طرح آسمان پر چلے گئے ۔کچھ دنوں بعد واپس آئیں گے اورمنافقوں کے ناک اور کان کاٹیں گے ۔
اس سانحہ دلخراش کی وجہ سے حضرت عمر بظاہر اپنے ہوش وحواس کھو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(١):- اس واقعہ کو مد نظر رکھتے ہوئے عارف رومی نے فرمایا تھا :-
"چوں صحابہ دنیا داشتند
مصطفی رابے کفن بگزاشتند "
حضرت بو علی قلندر پانی پتی نے حضرت علی(ع) کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا تھا ۔"امامی کہ روز وفات پیمبر خلافت گزارد بہ ماتم نشیند "

٧٤
بیٹھے تھے ۔عین سی وقت کسی آدمی نے انہیں سقیفہ کی کاروائی کی اطلاع دی ۔غم رسول میں "حواس باختہ " شخصیت فورا ہوش وحواس میں آگئی اور حضرت ابو بکر کے پاس ایک شخص کو بھیجا اور اس شخص نے حضرت ابو بکر سے کہا کہ عمر آپ سے ایک عظیم کام کے متعلق مشورہ کرنا چاہتے ہیں ۔
یہ اطلاع ملتے ہی حضرت ابو بکر گھر سے باہر نکل آئے اور پھر یہ دونوں بزرگوار سقیفہ بنی ساعدہ چلے گئے ۔جہاں اوس وخزرج کے سرکردہ افراد سعد بن عبادہ کو خلیفہ بنانے پر تلے ہوئے تھے ۔
مگر ان حالات میں حضرت علی (ع) نے وہی کیا جو انہیں کرنا چاہئیے تھا ۔ حضرت علی رسول خدا(ص) کی تجہیز وتکفین کے معاملات میں مصروف رہے ۔رسول خدا (ص) کے چچا حضرت عباس وفات رسو(ص) کی وجہ سے بہت غمگین تھے مگر ان دردناک لمحات میں انہوں نے حضرت علی (ع) کی بیعت کرنے کاقصد کیا تھا جسے حضرت علی (ع) نے یہ کہ کہر ٹھکرادیا کہ :"ابھی تورسول کریم کا جسد مبارک بھی دفن نہیں ہوا میں خلافت کو کیسے قبول کرسکتا ہوں ؟"
ابو سفیان بن حرب تین دفعہ حضرت علی (ع) کے پاس آئے اور ان کو خلافت سنبھالنے کی ترغیب دی اور کہا کہ اگر آپ چاہیں تو اس ناپسندیدہ حکومت کو ختم کرنے کے لئے میں مدینہ کی گلیوں کو اونٹوں اور پیادہ لوگوں سے بھر دوں ۔مگر حضرت علی علیہ السلام نے اسے سختی سے ڈانٹ دیا اور کہا : تم اسلام کے خیر خواہ کب تھے ؟
اب تم خلیفہ گر کا کردار ادا کرنا چاہتے ہو؟۔
سقیفہ کا اجتماع اگر چہ انصار نے ہی منعقد کیا تھا لیکن اس اجتماع سے فائدہ حاصل کرنے میں ناکام رہے ۔اس کاروائی کی مختصرا روئیداد یہ ہے ۔:-
قبیلہ اوس وخزرج کے افراد سقیفہ بنی ساعدہ میں جمع ہوئے ۔ ان میں سعد بن عبادہ بھی موجود تھے ۔

٧٥
سعد بیمار تھے اور بلند آواز سے گفتگو کرنے سے قاصر تھے ۔انہوں نے اپنے ایک فرزند سے کہا کہ تم میری گفتگو سن کر سامعین کو اس سے آگاہ کرتے رہو چنانچہ بیٹا ان کی مدہم گفتگو کو سن کر بلند آواز سے لوگوں کوسناتا ۔سعد نے کہا :-
"اے گروہ انصار ! تمہارا دین میں بڑا مقام ہے اور تمہیں اسلام میں فضیلت حاصل ہے اور ایسی فضیلت پورے عرب میں کسی قبیلہ کو حاصل نہیں ہے ۔جناب رسولخدا(ص) کئی سال تک مکہ میں اپنی قوم کو اللہ کی عبادت کرنے اور بت پرستی چھوڑنے کی دعوت دیتے رہے ۔چند افراد کے سوا باقی قوم نے ان کی شدید مخالفت کی ۔اللہ تعالی نے تمہیں اس عزت سے سرفراز کیا ۔اللہ نے اپنے نبی کو تمہارے پاس بھیج دیا اور اللہ نے تمہیں دین کی مدد کیلئے منتخب فرمایا ۔
تم دین کے دشمنوں پر سخت ثابت ہوئے اور دوسرے مسلمان کی بہ نسبت اسلام میں تمہاری قربانیوں زیادہ ہیں اللہ نے اپنے حبیب کو اس حال میں وفات دی کہ وہ تم سے راضی تھے ۔اپنے آپ کو مضبوط بناؤ ۔تمام لوگوں کی بہ نسبت تم حکومت کے زیادہ حقدار ہو"۔
یہی اطلاع غم رسول میں "حواس باختہ "شخصیت حضرت عمر کو ملی ۔اطلاع ملتے ہی وہ رسول خدا کے دروازے پر آئے اور حضرت ابو بکر کو بلایا اور یہ دونوں دوست سقیفہ کی طرف چلے گئے ۔وہاں حضرت ابو بکر نے خطاب کرتے ہوئے کہا :-
"ہم مہاجرین سب سے پہلے اسلام لائے اور ہم رسول خدا(ص) کا خاندان ہیں ۔اور تم لوگ اللہ کے مدد گار ہو اور کتاب خدا میں ہمارے بھائی ہو اور دین میں ہمارے شریک ہو۔تم ہمیں تمام لوگوں سے محبوب ہو اور تم ہمیں بڑے عزیز ہو اور تم لوگوں نے ہمیشہ ایثار سے کام لیا ہے اور میں اب بھی تم سے اسی ایثار کی توقع رکھتا ہوئن اس وقت تمہارے درمیان ابو عبیدہ اور عمربن خطاب موجود ہیں ۔ان دونوں میں سے تم جس کی بھی چاہو بیعت کر سکتے ہو میں ان دونوں کو اس کا م کے اہل سمجھتا ہوں "۔

٧٦
حضرت عمر اور ابو عبادہ نے کہا کہ آپ کے ہوتے ہوئے کوئی اور شخص مسند خلافت کو نہیں سنبھال سکتا ۔آپ ہی مستحق خلافت ہیں ۔اس وقت انصار میں سے حباب بن منذر نے کھڑے ہوکر کہا ۔
گروہ انصار ! اپنے اتفاق واتحاد کو قائم رکھو ۔تمہاری ہی سرزمین پہ کھل کر اللہ کی عبادت ہوئی ہے ۔تم نے ہی رسول کو پناہ دی تھی تم نے ہی ان کی نصرت کی تھی اور رسول خدا ہجرت کرکے تمہارے ہی پاس آئے تھے ۔۔۔۔۔اگر اس کے باوجود یہ لوگ تمہاری حکومت پر راضی نہیں تو پھر ایک امیر ہم میں سے ہو اور ایک ان میں سے ہو ۔
حضرت عمر نے کہا : ایسا ناممکن ہے ۔
بشیر بن سعد خزرجی نے دیکھا کہ انصار سعد بن سعادہ کو خلیفہ بنانا چاہتے ہیں تو اس کے ذہن میں اوس وخزرج کی سابقہ خانہ جنگیاں عود کر آئیں اور وہ سعد کو اس لئے ناپسند کرتا تھا کہ سعد کا تعلق اوس قبیلہ سے تھا اور بشیر نے سوچا کہ اگر حکومت اوس قبیلہ میں چلی گئی تو یہ ان کی نسلوں کے لئے اعزاز ثابت ہوگی ۔جب کہ خزرج کی کمزوری کا پیش خیمہ بنے گی ۔اسی لئے اس کے ذہن نے فیصلہ کیا کہ خلافت میرے قبیلہ میں تو ویسے ہی نہیں آسکتی تو اوس میں بھی نہیں جانی چاہئے ۔کیوں نہ کسی مہاجر کی حکومت کو تسلیم کرلیا جائے ۔
یہ سوچ کر وہ کھڑا ہوا اور حاضرین سے کہا :
گروہ انصار! یہ سچ ہے کہ ہم نے اسلام کی خدمت کی ۔لیکن یہ حقیقت بھی ہمیں پیش نظر رکھنی چاہیے کہ ہمارے جہاد اور اسلام کا مقصود صرف اپنے اللہ کی رضا اور نبی کی اطاعت تھی ۔
محمد کا تعلق قریش سے تھا اور ان کی قوم ہی ان کی میراث کی حقدار ہے اللہ سے ڈرو اور ان سے مت جھگڑو۔

٧٧
حضرت ابو بکر نے کھڑے ہوکر کہا ! یہ عمر اور ابو عبادہ ہیں ۔ان میں سے تم جس کی بیعت کرنا چاہتے ہوکرلو ۔
ان دونوں نے کہا ! خدا کی قسم ہم آپ پر حکومت نہیں کریں گے ۔ آپ ہاتھ بڑھائیں ۔ہم بیعت کرتے ہیں ۔
حضرت ابو بکر نے ہاتھ بڑھایا ،حضرت عمر اور ابوعبادہ سے پہلے بشیر بن سعد نے ان کی بیعت کی ۔
حباب بن منذر نے اسے آوازدی "اے نافرمان اور قوم کے دشمن بشیر ! تو نے یہ سب کچھ اپنے چچا زاد کے حسد کی وجہ سے کیا ہے ۔خزرج کے سردار بشیر بن سعد کی بیعت کے بعد اوس قبیلہ نے سوچا کہ اگر ہم بیعت میں پیچھے رہ گئے تو خزرج قبیلہ حکومت کا مقرّب بن جائے گا ۔اسی لئے اوس میں اسے اسید بن حضیر نے خزرج ک ضد اور سعد بن عبادہ کی مخالفت کی وجہ س بیعت کی ،اس کے بعد اس کے قبیلہ نے بھی بیعت کرلی ۔
بیمار سعد بن عبادہ کو چار پائی پر لٹا کر گھر لے گئے اور انہوں نے مرتے دم تک بیعت نہیں کی تھی ۔
پھر حضرت سعد شام چلے گئے اور حضرت ابوبکر کی خلافت کے آخری ایام میں انہیں قتل کردیا گیا اور مشہور کیاگیا کہ رات کی تاریکی میں جنات نے انہیں تیر مار کر ہلاک کردیا ۔ جب کہ باخبر حلقے اس کو خالد بن ولید کی کارستانی قراردیتے ہیں ۔
اس بیعت کے کچھ دیر بعد براء بن عازب نبی اکرم کے گھر آئے ۔ابھی تک رسول خدا کا جسم بھی دفن نہیں ہوا تھا ۔ انہوں نے آتے ہی اطلاع دی کہ میں نے اپنی آنکھوں سے عمر اور ابو عبادہ کو دیکھا ہے کہ وہ ہر گزرنے والے کا ہاتھ پکڑ کر ابو بکر کے ہاتھ پر رکھ کر بیعت لے رہے ہیں (١)۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(١):-عبد الفتاح عبد المقصود ۔الامام علی بن ابیطالب جلد اول ص ١٤٩



۸
واقعات سقیفہ کا تجزیہ المیہ جمعرات

٧٨

واقعات سقیفہ کا تجزیہ
ہم سقیفہ کی کاروائی بلا کم وکاست اپنے قارئین کے حضور پیش کرچکے ہیں ۔
ان واقعات میں حضرت عمر کا جو کردار رہا ہے اس سے کوئی بھی صاحب نظر چشم پوشی نہیں کرسکتا ۔
١:- خدارا ہمیں بتایا جائے کہ حضرت رسول خدا(ص) کے گھر میں تعزیت تسلی کے لئے کیوں نہیں گئے ۔اگر بالفرض انہیں علی (ع) اور اولاد علی (علیھم السلام) سے کوئی دلچسپی نہیں تھی تو اس دلخراش صدمہ کے وقت کم از کم اپنی بیوہ بیٹی کے سرپر ہی ہاتھ رکھنے کیلئے چلے جاتے اور یوں رسو لخدا(ص) کی تجہیز وتکفین میں شرکت کا اعزاز حاصل کرلیتے ۔
٢:-موصوف اگر غم زدہ خاندان کو تسلی دینا نہیں چاہتے تھے ۔تو جس وقت انہیں اوس وخزرج کے اجتماع کا علم ہوا تو اس وقت حضرت ابو بکر کو بلانے کے لئے خود اندر تشریف کیوں نہ لےگئے ؟
٣:- خود جانے کے بجائے انہوں نے کسی اور فرد کو حضرت ابو بکر کو بلانے کے لئے کیوں بھیجا اور خود دروازے پر کھڑے رہنے کو کیوں پسند فرمایا ؟
٤:- غم زدہ خاندان کے پاس اس وقت اور بھی اصحاب موجود ہوں گے اس کے باوجود حضرت عمر نے صرف حضرت ابوبکر کو ہی مشہورہ کیلئے طلب کیوں فرمایا ؟
٥:- ہمیں بتایا جائے کہ حضرت ابو بکر کا گھر کے اندرہونا اور حضرت عمر کا باہر دروازے پر کھڑا ہونا یہ محض ایک اتفاق تھا یا پہلے سے طے شدہ منصوبے کا حصہ تھا ؟
٦:- حضرت ابوبکر کے آنے سے پہلے حضرت عمر اور ابو عبیدہ کی جو باہمی گفتگو ہوئی تھی ۔اس میں کن نکات پر اتفاق ہواتھا ؟
٧:- حضرت ابوبکر نے مہاجرین کی جو فضیلت بیان فرمائی تھی ۔اس فضیلت

٧٩
میں تمام مہاجر برابر کے شریک تھے یا صرف حضرت عمر اور ابو عبیدہ ہی تمام فضیلت کے مالک تھے ؟
٨:-حضرت ابو بکر نےمہاجرین کے استحقاق خلافت کے لئے دو وجوہات بیان فرمائیں ۔
(الف):- انہیں اسلام میں سبقت کا شرف حاصل ہے ۔
(ب):- وہ حضور کریم کا خاندان ہیں
اگر مذکورہ بالا دو وجوہات ہی خلافت کا معیار ہیں تو اس معیار پر حضرت علی علیہ السلام زیادہ اترتے ہیں کیونکہ
(١):- ان کی اسلام میں سبقت مسلم ہے ۔
(٢):- وہ حضرت ابو بکر کی بہ نسبت رسول خدا(ص) کے زیادہ قریب ہیں ۔
پھر کیا وجہ ہے کہ حضرت ابو بکر کے بیان کردہ معیار کے مطابق علی علیہ السلام کو خلافت کا حق دار نہیں سمجھا گیا ؟
٩:- خلافت اگر مہاجرین کاہی حق ہے تو پھر حضرت ابو بکر نے مہاجرین میں صرف دو افراد یعنی حضرت عمر اور ابو عبیدہ کے نام ہی کیوں پیش کیے ؟
مذکورہ ناموں کی تخصیص کی کوئی وجہ بیان کی جاسکتی ہے ؟ اور کیا یہ "ترجیح بلا مرجح " تو نہیں تھی ؟
١٠:-خلافت کو مہاجرین میں ہی محدود کرنا ضروری تھا تو کیا حضرت ابو بکر انصار کو یہ مشہورہ نہیں دے سکتے تھے کہ وہ جس مہاجر کو امیر بنانا چاہیں بنا لیں آخر ایسا کیوں نہیں کیا گیا ؟
١١:- بزم مہاجرین میں سے صرف دو افراد کے نام پیش کرنے میں کونسی حکمت تھی ؟طالبان تحقیق کے لئے اس حکمت کو آشکار کیا جائے ۔
١٢:-حضرت عمر اور ابوعبیدہ نے اس پیش کش کو کیوں مسترد کردیا اور انہوں نے حضرت ابو بکر کی امارت کو کیوں ترجیح دی ؟ اس کی کوئی معقول وجہ بیان فرمائی جائے ۔

٨٠
١٣:- سقیفہ کی کاروائی کی تمام کڑیاں اتفاقیہ انداز میں ملتی گئیں یا پہلے سے کسی طے شدہ منصوبہ کے تحت انہیں جوڑا گیا تھا ؟ علم تاریخ کے طلباء کے لئے اس سوال کا جاننا انتہائی ضروری ہے ۔
علمائے اہل سنت سے گزارش ہے کہ وہ اس سلسلہ میں تسلی بخش جواب دیں ۔
١٤:- کیا سقیفہ کی کاروائی اور لشکر اسامہ کا بھی آپس میں کوئی تعلق ہے ؟ اور حضرت عمر اور ابو عبیدہ نے مسجد میں بیٹھ کر جو مشورہ کیا تھا ۔سقیفہ کا اس مشورہ سے بھی کوئی واسطہ تھا ؟۔
حضرت ابو بکر کی رفاقت میں دونوں شخصیات جب سقیفہ کی طرف روانہ ہوئیں ،تو کیا تینوں بزرگوں کی رفاقت تو سقیفہ میں کامیابی کا ذریعہ نہیں بنی ؟
١٥:- جب چند افراد خلافت کے لئے سقیفہ میں جمع ہوئے تھے تو اس وقت دوسرے مہاجرین کہاں تھے ؟
١٦:- اوس وخزرج کی پرانی دشمنیاں سقیفہ میں عود کرآئی تھیں ۔کیا ایسا اتفاقی طور پر ہوا تھا یا کوئی خفیہ ہاتھ اس دشمنی کو بھڑکانے پر تلے ہوئے تھے ؟
١٧:- اور اگر اس آتش عداوت کو بھڑکانے میں خفیہ ہاتھ کارفرما تھے تو ان خفیہ ہاتھوں کی نشاندہی کرنا آپ پسند فرمائیں گے ؟
١٨:- کیا خلیفہ کا انتخاف تدفین رسول سے بھی زیادہ ضروری تھا ؟۔
١٩:- کیا حضرت ابو بکر رسول خدا (ص) کی تدفین تک مسلمانوں کو انتظار کرنے کا مشورہ نہيں دے سکتے تھے ؟
آخر ایسی جلدی بازی کی بھی کیا ضرورت تھی کہ اللہ تعالی کے آخری پیغمبر جو کہ رشتہ میں ان کے داماد بھی تھے ،دفن نہیں ہوئے تھے کم از کم ان کے دفن ہونے کا تو انتظار ہی کرلیتے اور کیا اتنی جلدی بازی کرکے انہوں نے اپنے داماد

٨١
سے حق محبت ادا کرنے میں کوئی کوتاہی تو نہیں کی ؟
٢٠:- کیا سقیفہ کی اس پیچیدہ کاروائی اور کاغذ اور قلم دوات مانگنے کی حدیث اور جیش اسامہ کے واقعات کا کوئی باہمی ارتباط تو نہیں ہے ؟ تاریخ کے طلاب کے لئے درج بالا سوالات کے جواب انتہائی لازمی ہیں ۔میرا اپنا ذاتی خیال یہ ہے کہ اس پوری کاروائی میں حضرت عمر نے مرکزی کردار ادا کیا ۔انہوں نے ہی ابو عبیدہ سے اس معاملہ میں پہلے مشہورہ کرلیا تھا ۔اور ایک منصوبہ تیار کرلیا تھا ۔جس کی تکمیل کے لئے حضرت ابوبکرکو بلایا گیا بعد ازاں اسلام کے ان "چاند تاروں" نے اثنائے راہ اپنے منصوبے کی باقی جزئیات طے کرلیں ۔
یہی وجہ ہے کہ حضرت ابو بکر فقط ان دو حضرات (عمر اور ابو عبیدہ)کو ہی پیش کرتے تھے اور یہ دونوں بزرگ حضرت ابو بکر کو پیش کرتے تھے ۔
تو کیا پوری ملت اسلامیہ نے انہیں اپنا نمائندہ بنا کر سقیفہ میں بھیجا تھا ؟۔جب کہ حقیقت تو یہ ہے کہ سقیفہ کے اجلاس میں امت کے افراد کا ایک عشر عشیر تک نہ تھا ۔
تو اتنی اقل القلیل تعداد کو امت اسلامیہ کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کی اجازت کس نے دی تھی ؟
یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ حضرت ابو بکر کو جب بلا یا گیا تو نہ تو اس سے پہلے اور نہ ہی بعد میں کسی مسلمان سے مشورہ کیا گیا تھا کہ اسلام کی قیادت کے لئے کون سی شخصیت سب سے زیادہ موزوں ہے ۔سقیفہ کی پوری کاروائی کو اتفاقی حادثہ سمجھ کر نظر انداز کرنا ممکن ہے یہ ایک طویل منصوبہ بندی اور حکمت عملی کا نتیجہ ہے ۔جس میں حضرت عمر کا کردار سب سے نمایاں ہے ۔
اے باد صبا ایں ہمہ آوردہ تست




۹
حضرت علی خلافت سے محرومی کی ایک اور وجہ المیہ جمعرات

٨٢

حضرت علی خلافت سے محرومی کی ایک اور وجہ
وفات رسول اور حضرت ابو بکر کی خلافت کا حال تو آپ پڑھ چکے ہیں حضرت علی کو خلافت کیوں محروم کیا گیا‏‏؟
اس کا ایک اہم سبب حافظ نے بیان کیا ہے ۔ہم اسے اپنے منصف مزاج قارئین کی نذر کرتے ہیں :-
علی علیہ السلام کے قریش سے تعلقات انتہائی پیچیدہ تھے ۔قریش علی (ع) سے سخت کینہ رکھتے تھے ۔کیونکہ علی علیہ السلام نے ان کے بزرگوں کو غزوات میں قتل کیا تھا اور ان کی قوت کو ضعف میں تبدیل کردیا تھا ۔ان کی تمام ترشان وشوکت کو خاک میں ملادیا تھا اسلام قبول کرنے سے دلوں کے کینے اور نفرتیں ختم نہیں ہوا کرتیں ۔
اس کے لئے آپ یہ فرض کریں کہ آپ خدا نخواستہ سال دو سال پہلے مشرک ہوتے اور ایک مسلمان نے اسلامی جنگ میں آپ کے بیٹے یا بھائی کو قتل کردیا ہوتا اور پھر چند دنوں کے بعد آپ کے دل کی تمام رنجشیں اور کینہ ختم ہوجائے گا؟ اور کیا آپ اپنے بیٹے یا بھائی کے قاتل کو گلے لگالیں گے ؟ایسا کرنا انتہائی دشوار ہے ۔ایسا کرنا صرف اس صورت میں ممکن ہے جب آپ دل کی گہرائیوں سے مسلمان ہوجائیں ۔
لیکن اس کے برعکس اکثر عربوں نے یا تقلیدی طور پر اسلام قبول کیا یا کسی منفعت ومفاد کی خاطر انہوں نے ایسا کیا ۔
بہت سے لوگوں نے تو اپنے خون کے تحفظ کے لئے کلمہ پڑھا تھا اور بعض لوگوں نے اپنے مخالف قبیلہ کو مزید زچ کرنے کے لئے اسلام قبول کیا تھا ۔آپ کو یہ حقیقت ہمیشہ ذہن نشین کرنی چاہئیے کہ رسالت مآب کے زمانہ میں جتنے

٨٣
غزوات ہوئے اور وہ تمام کفار جو علی کی تلوار سے قتل ہوئے یا کسی اور مسلمان کی تلوار سے قتل ہوئے ان کے ورثاء نے اپنے تمام تر قتل کی ذمہ داری علی (ع)پر ڈال دی تھی اور وہ علی کو اپنا دشمن اور قاتل سمجھتے تھے ۔ اور اتفاق یہ ہوا کہ مقتول کفار کے ورثا نے بوجوہ اسلام قبول کرلیا ۔اسلام قبول کرنے کے بعد بھی ان کے سینے صاف نہیں ہوئے تھے ۔علی کی دشمنی اور بغض کی آگ ان کے سینوں میں بھڑک رہی تھی اور وہ ہمیشہ علی (ع) سے اپنے انتقام کی پہلی قسط وصول کی تھی اور یہی جذبہ انتقام کربلا میں مکمل پروان چڑھ چکا تھا ۔ حضرت علی (ع) کے خاندان کو جس بے دردی سے کربلا میں بھوکا پیاسا رکھ کر مارا گیا تھا وہ سب اسی انتقام کا شاخسانہ تھا (١)۔
اگر امت اسلامیہ کے سرکردہ افراد میں انصاف کی رمق ہوتی تو خلافت اور بیعت کے مسئلہ کو رسول خدا(ص) کی تجہیز وتکفین تک موخر کردیتے ۔آج درد دل رکھنے والا ہر انسان یہ سوچ کر غم زدہ ہوجاتا ہے کہ جس عظیم شخصیت کی جانشینی کی خاطر ساری تگ و دو کی گئی ۔اس سے حق محبت کو یوں ادا کیا گیا کہ اس کے جنازہ میں شرکت نہیں کی گئی اور اس کے غم زدہ پسماندگان کے سر پر کسی نے شفقت سے ہاتھ تک نہ پھیرا ۔حضور اکرم (ص) کی آنکھ بند ہوتے ہی وہ محبت ودوستی کیوں عنقا ہوگئی ؟۔
علی علیہ السلام کو جو حضور اکرم سے الفت ومحبت تھی ،انہوں نے اس محبت کا حق ادا کیا انہوں نے اس لمحہ میں حکومت کے حصول کی بجائے جنازہ رسول (ص) کو ترجیح دی ۔اس سے علی علیہ السلام کے سیاسی حریفوں نے فائدہ اٹھایا ۔علی صلح وآشتی کو پسند کرنے والے تھے ۔علی کی عظمت کا اس سے اندازہ لگائیں کہ انہوں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(١):- ابن ابی الحدید ۔شرح نہج البلاغہ ۔جلد سوم ۔ص ٢٨٣ مطبوعہ مصر ۔

٨٤
نے سقیفہ میں تشکیل پانے والی حکومت سے پنجہ آزمائی نہیں کی ۔علی اسلام اور قرآن کے تحفظ کی خاطر خاموش ہوگئے ۔بلکہ جہاں اسلام اور امت اسلامیہ کی مصلحت کو دیکھتے تھے تو وہاں اپنے صائب مشوروں سے بھی نوازا کرتے تھے ۔
علی نے اسی صلح وآشتی کی پالیسی کو نہج البلاغہ کے ایک خطبہ میں یوں بیان فرمایا :-
"اما بعد ۔اللہ تعالی نے حضرت محمد مصطفی (ص) کو تمام جہانوں کے لیے نذیر بنا کر بھیجا اور جب ان کی وفات ہوئی تو مسلمانوں نے امر خلافت میں جھگڑا کیا ۔
خدا کی قسم! میرے وہم وگمان میں بھی یہ خیال نہیں آتا تھا کہ عرب امر خلافت کو خاندان نبوت سے علیحدہ کریں گے اور میں نے کبھی یہ سوچا تک نہیں تھا ۔لوگ مجھے چھوڑ کر کسی اور کو حاکم بنا لیں گے ۔جب میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ ایک شخص کی بیعت کررہے ہیں ،تو میں نے بھی ان سے کوئی جھگڑا کرنا پسند نہیں کیا ۔کیوں کہ میں جانتا تھا کہ اگر میں نے ایسا کیا تو لوگوں کی اکثریت اسلام کو ہی چھوڑ جائے گی ۔۔۔۔۔۔
ان حالات میں میں نے یہ محسوس کیا کہ میرا ذاتی نقصان ہوتا ہے تو ہوتا رہے مگر اسلام کا تحفظ کرنا چاہئیے ۔میں چند روزہ دنیا کی حکومت لے کر اسلام کو صدمات سے دوچار کرنا نہیں چاہتا تھا ۔کیونکہ حکومت حاصل نہ ہونے کے صدمہ کی بہ نسبت مجھے اسلام کا نقصان زیادہ ضرررساں نظر آتا تھا (١)۔" حضرت علی (ع) کی صلح پسندی کا اس سے بڑھ کر اورثبوت کیا ہوسکتا ہے کہ انہوں نے خلفائے ثلاثہ کے ادوار میں اگر اختلاف کیا تو فقط دینی امور کے متعلق ہی کیا تھا ۔
تاریخ عالم علی (ع) صلح پسند افراد کی نظیر پیش کرنے قاصر ہے کیونکہ علی نے اپنے حقوق کی پامالی اور اپنی زوجہ کے حق سے محرومی کے باوجود بھی اسلام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(١):-ابن ابی الحدید ۔شرح نہج البلاغہ ٤٤ ص ١٦٤-١٦٥

٧٥
کے عظیم تر مفادات کو مد نظر رکھتے ہوئے جن سے اجتناب کیا ۔حضرت فاطمہ زہرا(س) کو حق میراث اور حق ہبہ فدک سے محروم کیا گیا ۔اس کے باوجود بھی علی (ع) نے امن وصلح کے دامن کو ہاتھ سے نہیں جانے دیا ۔علاوہ ازیں حضرت ابوبکر کی خلافت کے ابتدائی ایام میں چشم فلک نے یہ منظر بھی دیکھا کہ حضرت عمربن خطاب اپنے ہم نواز افراد کو لے کر علی (ع) کے دروازے پر آئے اور لکڑیاں بھی اپنے ساتھ لائے اور گھر جلانے کی باتیں کیں ۔کیا لوگوں کی زبان کو ان تاریخی واقعات کے بیان کرنے سے روکا جاسکتا ہے (١)۔

واقعہ فدک
واقعہ فدک کاخلاصہ یہ ہے کہ فدک حجاز کا ایک قریہ ہے اور مدینہ کے قریب ہے ۔مدتوں وہاں یہودی آباد تھے اور وہاں کی زمین بڑی زرخیزتھی ۔وہاں یہود کھیتی باڑی کیا کرتے تھے ۔
٧ھ میں اہل فدک نے حضور اکرم (ص) کے رعب ودبدبہ سے مرعوب ہوکر فدک کی زمین ان کے حوالہ کردی تھی اور فدک خالص رسول خدا(ص) کی جاگیر تھی ۔کیوں کہ سورہ حشر میں اللہ تعالی کا فرمان ہے ۔"ومآ آفاء اللہ علی رسولہ منھم فما اوجفتم علیہ من خیل ولارکاب ۔۔۔۔۔۔۔" ان میں سے اللہ جو رسول کو عطا کردے جس پر تم نے گھوڑے اور اونٹ نہیں دوڑائے ۔لیکن اللہ اپنے رسولوں کو جس پر چاہے مسلط کردے اور اللہ ہرچیز پر قدرت رکھتا ہے ۔"
رسول خدا(ص) نے سر زمین فدک میں اپنے ہاتھ سے گیارہ کھجوریں بھی کاشت فرمائی تھیں ۔اس کے بعد آپ نے فدک کی ممکل کی مکمل جاگیر اپنی اکلوتی دختر حضرت فاطمہ زہرا کوہبہ فرمادی ۔فدک ہبہ ہونے کے بعد مکمل طورپر حضرت سیدہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(١):-عبدالفتاح بعد المقصود ۔الامام علی بن ابی طالب ۔جلد اول ص٢١٦

٨٦
کے تصرف میں رہتا تھا ۔جب حضور اکرم کی وفات ہوئی تو حضرت ابوبکر نے علی و فاطمہ کو اپنا سیاسی حریف سمجھتے ہوئے فدک پر قبضہ کرلیا ۔فدک خاندان محمد(ص) کے تصرف میں تھا ۔اس قبضہ اور تصرف کا ثبوت حضرت علی کے اس خط سے بھی ملتا ہے جو انہوں نے والی بصرہ عثمان بن حنیف کو تحریر کیا تھا ۔س خط کے ضمن میں آپ نے یہ الفاظ تحریر کیئے :
"بلی قد کانت فی ایدینا فدک من کل ما اظلتہ السمآء فشحت بھا نفوس قوم وسخت عنھا نفوس آخرین ۔۔۔۔۔۔"اس آسمان کے سایہ تلے لے دے کے ایک فدک ہمارے ہاتھوں تلے تھا ۔اس پر بھی لوگوں کے منہ سے رال ٹپکی اور دوسرے فریق نے اس کے جانے کی پروانہ کی ۔اور بہترین فیصلہ کرنے والا اللہ ہے ۔(١)۔
حضرت سیدہ فاطمہ زہرا (س) ہی شرعی لحاظ سے اس جاگیر کی بلاشرکت غیر ے مالک تھیں ۔
خلیفہ کافرض تھا کہ ہبہ رسول (ص) کو اصلی حالت پر رہنے دیتے اور اس میں کسی قسم کا تصرف نہ کرتے اور اگر بالفرض خلیفہ صاحب کو اس ہبہ پر کوئی قانونی اعتراض تھا تو بھی قانون کا تقاضہ یہ تھا کہ مقدمہ کے تصفیہ تک فدک کو حضرت سیدہ (س) کے تصرف میں رہنے دیا جاتا ۔
اور اس مقدمہ کا عجیب ترین پہلو یہ ہے کہ حضرت ابو بکر کا یہ موقف تھاکہ فدک کی جاگیر حضرت سیدہ کی نہیں ہے بلکہ عامۃ المسلمین کی ہے اور یہ قومی ملکیت ہے اسی لئے اس جاگیر پر انہوں نے بزور حکومت قبضہ کرلیا ۔تو حضرت سیدہ نے اپنا قبضہ واپس لینے کا مطالبہ حضرت ابو بکر سے کیا ۔تو اب صورت حال یہ ہے کہ حضرت سیدہ(س) مدعیہ تھیں اور اس مقدمہ میں حضرت ابوبکر مدعی علیہ تھے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(١):-ابن ابی الحدید ۔شرح نہج البلاغہ جلد چہارم ۔ص ٢٨ مکتوب ٤٥

٨٧
اس مقدمہ میں ستم ظریفی یہ ہوئی کہ جو فریق ثانی تھا وہی منصف بھی تھا ۔حالانکہ سیدھی سی بات تھی کہ مقدمہ حضرت ابوبکر کرے خلاف تھا یا کم ازکم عوام الناس کے خلاف تھا جن کے سربراہ حضرت ابو بکر تھے تو ان دونوں صورتوں میں مقدمہ حضرت ابو بکر کے ہی خلاف تھا اب انہیں قانونی سطح پر اس مقدمہ کی سماعت کرنے کا کوئی جواز نہیں تھا ۔اور نہ ہی انہیں اس مقدمہ میں منصفی کا حق حاصل تھا ۔

فدک مختلف ہاتھوں میں
مقدمہ فدک کی تفصیل سے پہلے ہم یہ بتانا چاہتے ہیں کہ حضرات شیخین کے دور اقتدار میں فدک قومی ملکیت میں رہا۔
خلیفہ ثالث کے دور میں فدک کی پوری جاگیر مروان بن حکم کو عطا کی گئی خدا را یہ بتایا جائے کہ حضرت ابو بکر وحضرت عمر کا طرز عمل صحیح تھا یا حضرت عثمان کا طرز عمل صحیح تھا ؟
علمائے اہل سنت اس مقام پر حضرت ابو بکر کے کردار کو مثالی بنا کر پیش کرتے ہیں "ان سے درخواست ہے کہ حضرت عثمان نے تو اس مسئلہ میں ان کے طرز عمل سے انحراف کیاتھا ۔اب ان دونوں خلفاء میں سے کون صحیح تھا اور کون غلط تھا ؟
فدک اگر بنت رسول (س) کے ہاتھ میں تو لوگوں کو اچھا نہ لگا اب جو مروان جیسے افراد کے ہاتھوں میں چلا گیا تو اس وقت امت اسلامیہ کیوں خاموش ہوگئی ؟جب کہ حضرت ابو بکر کہہ چکے تھے کہ فدک کسی فرد واحد کی نہیں پوری امت اسلامیہ کی ملکیت ہے ؟
اور جب معاویہ بن ابو سفیان کی حکومت قائم ہوئی تو اس نے فدک کی جاگیر کو تین حصوں میں تقسیم کیا ۔ایک تہائی مروان بن حکم طرید رسول کے پاس

٨٨
رہنے دی ۔ایک تہائی حضرت عثمان کے فرزند عمروبن عثمان بن عفان کو عطا کی گئی ۔ایک تہائی اپن بیٹے یزید بن معاویہ بن ابو سفیان کے حوالے کی گئی ۔
اور جب یزید کے بعد مروان کو حکومت ملی تو اس نے خلیفہ ثالث کے عمل کو حجت قراردیتے ہوئے اپنے دونوں شریکوں کو بے دخل کردیا اور خود سارے فدک پر قابض ہوگیا ۔
بعد ازاں یہی فدک اس کے بیٹے عبد العزیز کی ملکیت بنا اور جب عبدا لعزیز کا بیٹا حضرت عمر بن عبد العزیز بر سر اقتدار آیا تو اس نے فدک سےاپنے خاندان کو بے دخل کرکے اولاد فاطمہ کے حوالہ کردیا اورجب حضرت عمربن عبدالعزیز کی وفات ہوئی تو بنو امیہ میں سے یزید بر سر اقتدار آیا ۔اس نے اولاد فاطمہ سے فد ک چھین کر اولاد مروان کے حوالے کردیا ۔بنی امیہ کی حکومت کے خاتمہ تک فدک اولاد مروان کے پاس رہا ۔
اور جب بنی امیہ کی حکومت ختم ہوئی اور بنی عباس کا اقتدار شروع ہوا تو ابو العباس سفاح نے فدک اولاد فاطمہ کے حوالہ کیا ۔
منصور دوانیقی نے بنی فاطمہ سے چھین لیا ۔بعد از اں اس کے بیٹے مہدی نے فدک بنی فاطمہ کے حوالہ کیا ۔جسے ہادی اور رشید نے پھر واپس لے لیا ۔مامون الرشید عباسی نے فدک واپس کیا تھا جسے بعد میں معتصم نے واپس چھین لیا ۔ اس کے بعد کیا ہوا اس کے متعلق مورخین خاموش ہیں ۔
اس سے معلوم ہوتاہے کہ حکام کے ہاتھ میں فدک ایک ایسا کھلونا تھا ۔ جسے جب چاہتے وارثان بازگشت کو دے دیتے تھے اور جب چاہتے اپنے قبضہ میں لے لیا کرتے تھے ۔مامون الرشید عباسی نے فدک کی واپسی کے لئے جو تحریری احکام روانہ کیے تھے وہ انتہائی علمی قدروقیمت کے حامل ہیں ۔جس میں اس نے پوری تفصیل ووضاحت کے ساتھ وارثان فدک کی نشاندہی کی تھی ۔

٨٩

مامون کی واپسی فدک
مامون الرشید عباسی کے خط کو مورخ بلاذری نے نقل کیا ہے ۔
سن ٢١٠ ہجری میں مامون الرشید نے فدک کی واپسی کے احکام جاری کیے اور اس نے مدینہ کے عامل قثم بن جعفر کو خط تحریر کیا
اما بعد ، فانّ امیرالمومنین بمکانۃ من دین اللہ وخلافۃ رسولہ والقرابۃ بہ اولی من ستنّ سنتہ ونفذ امرہ و سلّم لمن منحہ منحۃ وتصدّق علیہ بصدقۃ منحتہ و صدقتہ ۔وقد کان رسول اللہ اعطی فاطمۃ بنت رسول اللہ فدک وتصدّق بھا علیھا وکان امرا ظاھرا معروفا لا اختلاف فیہ فرای امیرالمومنین ان یردھا الی ورثتھا و یسلمھا الیھم تقرّبا الی اللہ باقامۃ حقہ وعدلہ والی رسول اللہ بتنقیذ امرہ وصدقتہ ۔۔۔۔الخ"
"امیر المومنین کو اللہ کے دین میں جو مقام حاصل ہے اور انہیں رسالت مآب کی جانشینی اور جو قرابت حاصل ہے ، ان تمام چیزوں کا تقاضا یہ ہے کہ وہ رسول خدا(ص) کی سنت پر عمل پیرا ہوں اور نبی اکرم کے فرامین کو نفاذ میں لائیں اور رسول خدا نے جسے جو کچھ عطا کیا تھا اس عطا کو اس تک پہنچائیں ۔
جناب رسول خدا نے اپنی دختر حضرت فاطمہ زہرا (س) کو فدک عطا کیا تھا ۔یہ امر روز روشن کی طرح واضح ہے اور اس میں کسی شک وشبہ کی گنجائش نہیں ہے ۔
اسی لئے امیر االمومنین کی یہ رائے ہے کہ فدک اس کے وارثوں کو واپس کردیا جائے اور اس عمل کے ذریعہ سے امیر المومنین اللہ کی قربت کے خواہش مند ہیں اور عدل وانصاف کی وجہ سے رسول خدا کی سنت پر عمل پیرا ہونا چاہتے ہیں ۔" بعداز اں مامون الرشید نے اپنے ملازمین کو حکم دیا کہ سرکاری ریکارڈ میں اس بات کو لکھا جائے ۔

٩٠
رسول خدا کی وفات کے بعد سے ہمیشہ ایام حج میں ی اعلان کیا جارہا ہے کہ رسول خدا (ص) نے جس کسی کو کوئی صدقہ یاجاگیر عطا کی ہو تو وہ آکر وصول کرے اس کی بات کو قبول کیا جائیگا ۔اس کے باوجود آخر خدا کی دختر کو ان کے حق سے محروم رکھنے کا کیا جواز ہے ؟
مامون الرشید نے اپنے غلام خاص مبارک طبری کو خط لکھا کہ فدک کی مکمل جاگیر کو جملہ حدود کے ساتھ اولاد فاطمہ کو واپس کیاجائے اور اس کام کی تکمیل کے لئے محمد بن یحیی بن زیدبن علی بن الحسین بن علی بن ابی طالب اور محمد بن یحیی اور محمد بن عبد اللہ سے مدد حاصل کی جائے اور فدک کے لئے ایسے انتظامات کیے جائیں جس کی وجہ سے وہاں زیادہ پیدا وار ہوسکے ۔
درج بالا خط ذی الحجہ ٢١٠ ھ میں لکھا گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔(١)۔

محاکمہ فدک
صبّت علیّ مصائب لوانھا
صبّت علی الایام صرن لیالیا
مجھ پر اتنے مصائب آئے اگر وہ دنوں پر پڑتے تو وہ راتوں میں تبدیل ہوجاتے (ماخوذ از مرثیہ فاطمہ زہرا علیہا السلام )۔
جناب رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ تعالی نے فدک کی جاگیر عطا فرمائی پھر آپ نے وہ جاگیر حکم خداوندی کے تحت اپنی اکلوتی دختر حضرت فاطمہ زہرا علیہا السلام کو ہبہ فرمائی ۔ رسول خدا کی حیات مبارکہ جناب فاطمہ اس جاگیر پر تصرف مالکانہ رکھتی تھیں اورجب جناب رسول خدا کی وفات ہوئی تو حضرت ابو بکر نے حضرت فاطمہ کے ملازمین کو فدک سے بے دخل کردیا اور اسے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(١):- البلاذری ۔فتوح البلدان ص ٤٦ -٤٧

٩١
بحق سرکار ضبط کرلیا ۔جناب زہرا سلام اللہ علیہا کو اس واقعہ کی خبر ملی تو وہ اپنے حق کی بازیابی کے لئے حضرت ابو بکر کے دربار میں تشریف لے گئیں اور اپنے حق کا مطالبہ کیا ۔
جس کے جواب میں حضرت ابو بکر نے ایک نرالی حدیث پڑھی کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :- نحن معاشر الانبیاء لل نرث ولا نورث ما ترکناہ صدقۃ " ہم گروہ انبیاء نہ تو کسی کے وارث ہوتے ہیں اور نہ ہی کوئی ہمارا وارث ہوتا ہے ۔ہمارا ترکہ صدقہ ہوتا ہے ۔

"لاوارثی "حدیث اور قرآن
اس حدیث کے متعلق عرض ہے کہ اس حدیث کے واحد راوی حضرت ابو بکر ہیں اسی حدیث کی طرح حضرت ابو بکر سے ایک اور حدیث بھی مروی ہے ۔
جس وقت رسول خدا کی وفات ہوئی اور مسلمانوں میں اختلاف ہوا کہ حضور اکرم کو کہاں دفن کیا جائے تو حضرت ابو بکر نے فرمایا کہ جناب رسول خدا کا فرمان ہے :-
"ما قبض نبی الا ودفن حیث قبض " جہاں کسی نبی کی وفات ہوئی وہ اسی جگہ ہی دفن ہوا ۔جب کہ مورخ طبری ہمیں بتاتے ہیں کہ بہت سے انبیاء کرام اپنی جائے وفات کے علاوہ دوسرے مقامات پر دفن ہوئے ہیں ۔
حضرت زہرا سلام اللہ علیہا نے اس حدیث کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا ۔کیونکہ عقل کا تقاضا یہ ہے کہ اگر انبیاء کی میراث ان کی اولاد کو نہیں ملتی تھی تو حق تویہ بنتا تھا کہ رسول خدا خود اپنی بیٹی سے کہہ دیتے کہ میری میراث تمہیں نہیں ملے گی ۔طرفہ یہ ہے کہ جس شخصیت کو میراث ملتی تھی اسے نہیں کہا اور چپکے سے یہ بات ایک غیر متعلقہ شخص کے کان میں کہہ دی گئی اور یہ "لاوارثی حدیث" حضرت علی نے بھی نہیں سنی تھی کیوں کہ اگر انہوں نے سنی ہوتی تو اپنی

٩٢
زوجہ کو حق میراث کے مطالبہ کی کبھی اجازت نہ دیتے ۔علاوہ ازایں اتنی اہم بات حضور اکرم نے صرف حضرت ابو بکر کو ہی کیوں بتائی دوسرے مسلمانوں کو اس سے بے خبر کیوں رکھا ؟

"لا وارثی حدیث"قرآن کے منافی ہے
مذکورہ حدیث لاوارثی حدیث کے متعلق حضرت فاطمہ (س) کا موقف بڑا واضح اور ٹھوس تھا ۔ انہوں نے اس حدیث کو یہ کہہ کر ٹھکرادیا کہ یہ حدیث قرآن کے منافی ہے ۔
١:- قرآن مجید میں اللہ تعالی کا فرمان ہے : یوصیکم اللہ فی اولادکم للذکر مثل حظ الانثیین " اللہ تمہیں تمہاری اولاد کے متعلق وصیت کرتا ہے ۔بیٹےر کو بیٹی کی بہ نسبت دوحصے ملیں گے (١)۔
اس آیت میں کسی قسم کا استثناء نہیں ہے ۔
٢:-اللہ تعالی نے ہر شخص کی میراث کےمتعلق واضح ترین الفاظ میں ارشاد فرمایا ہے : "ولکلّ جعلنا موالی ممّا ترک الوالدان و الاقربون" اور ہر کسی کے ہم نے وارث ٹھہرا دئیے اس مال میں جو ماں باپ اور قرابت چھوڑ جائیں (٢)۔
قارئین کرام سے التماس ہے کہ وہ لفظ "ولکلّ" پر اچھی طرح سے غور فرمائیں اس آیت مجیدہ میں بڑی وضاحت سے "ہر کسی " کی میراث کا اعلان کیا گیا ۔
میراث سے تعلق رکھنے والی جملہ آیات کی تلاوت کریں ۔ آپ کو کسی بھی جگہ یہ نظر نہیں آئے گا کہ اللہ نے فرمایا ہو: کہ ہر کسی کے وارث ہوتے ہیں لیکن انبیاء کے نہیں ہوتے ۔میراث انبیاء کی اگر قرآن مجید میں کسی جگہ نفی وارد ہوئی ہے تو اس آیت مجیدہ کوبحوالہ سورت بیان کیا جائے اور قیامت تک تمام دنیا کو ہمارا یہ چیلنج ہے کہ اگر قرآن میں ایسی آیت ہے تو پیش کریں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(١):-النساء ١١۔ (٢):- النساء ٣٣۔

٩٣

لاوارثی حدیث کے تین اجزاء ہیں :-
١:-انبیاء کسی کے وارث نہیں ہوتے ۔
٢:- انبیاء کی اولاد وارث نہیں ہوتی ۔
٣:- انبیاء کا ترکہ صدقہ ہوتا ہے ۔
قرآن مجید مذکورہ بالا تینوں اجزا کی نفی کرتا ہے ۔
اللہ تعالی نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا :-" وورث سلیمان داؤد " سلیمان علیہ السلام ،داؤد علیہ السلام کے وارث بنے (١)۔
اگر نبی کسی کا وارث نہیں ہوتا تو سلیمان علیہ السلام اپنے والد حضرت داؤد کے وارث کیوں بنے ؟
معلوم ہوتا ہے کہ "لاوارثی " حدیث کا پہلا جز صحیح نہیں ہے ۔
علاوہ ازیں مذکورہ آیت میں اللہ تعالی نے فرمایا ہے کہ سلیمان "داؤد کے وارث بنے ۔
اب جس کے سلیمان وارث بنے وہ بھی تو نبی تھے ۔ اگر "لاوارثی" حدیث کا دوسرا جز صحیح ہوتا یعنی نبی کا کوئی وارث نہیں ہوتا تو داؤد کی میراث کا اجراء کیوں ہوا ۔ ان کی میراث کو صدقہ کیوں قراردیا گیا ۔تو گویا یہ ایک آیت "لاوارثی " حدیث کے تینوں اجزا کو غلط ثابت کرتی ہے ۔
حضرت زکریا علیہ السلام کی دعا قرآن مجید میں مذکور ہے :-
"قَالَ رَبِّ إِنِّي وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّي وَاشْتَعَلَ الرَّأْسُ شَيْباً وَلَمْ أَكُن بِدُعَائِكَ رَبِّ شَقِيّاً (٤) وَإِنِّي خِفْتُ الْمَوَالِيَ مِن وَرَائِي وَكَانَتِ امْرَأَتِي عَاقِراً فَهَبْ لِي مِن لَّدُنكَ وَلِيّاً (٥) يَرِثُنِي وَيَرِثُ مِنْ آلِ يَعْقُوبَ وَاجْعَلْهُ رَبِّ رَضِيّاً (٦) يَا زَكَرِيَّا إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلَامٍ اسْمُهُ يَحْيَى لَمْ نَجْعَل لَّهُ مِن قَبْلُ سَمِيّاً " زکریا نے کہا میرے رب میری

٩٤
ہڈیاں کمزورہوگئیں اور سربڑھاپے کی وجہ سے سفید ہوچکا اور اے رب میں تجھ سے دعا کرکے محروم نہیں ہوا اور میں اپنے پیچھے بھائی بندوں سے ڈرتا ہوں اور میری عورت بانجھ ہے مجھے اپنی طرف سے ایک وارث عطا کر جو میرا وارث ہو اور آل یعقوب کی جو میراث مجھے ملی ہے اس کا بھی وارث ہو اے میرے رب اسے نیک بنانا ۔اللہ تعالی نے کہا : اے زکریا ! ہم تجھے ایک لڑکے کی خوش خبری دیتے ہیں جس کا نام یحیی ہے اس پہلے ہم نے کسی کا یہ نام نہیں رکھا (١)
درج بالا آیت کو مکرر پڑھیں ،حضرت زکریا نے اللہ سے اپنا وارث مانگا اور اللہ نے انہیں وارث بھی دیا اور اس وارث کا نام بھی خود ہی تجویز فرمایا ۔
اگر انبیاء کی میراث ہی نہیں ہوتی تو حضرت زکریا علیہ السلام نے وارث کی درخواست کیوں کی ؟
اور اگر بالفرض انہوں نے وارث کے لئے دعا مانگ بھی لی تھی تو اللہ نے انہیں یہ کہہ کر خاموشی کیوں نہ کرا دیا کہ تم تونبی ہو ۔تم یہ کیا کہہ رہ ہو؟
نبی کی میراث ہی نہیں ہوتی ۔لہذا تمہیں وارث کی دعا ہی سرے سے نہیں مانگنی چاہیے ؟
اگر انبیاء کی میراث ہی نہیں ہوتی تو اللہ تعالی نے انہیں وارث کیوں عطا فرمایا اور اس وارث کا نام بھی خود ہی تجویز کیوں کیا؟
حضرت سیدہ سلام اللہ علیھا نے مذکورہ بالا آیات کی اور ان آیات سے "لا وارثی " حدیث کی تردید فرمائی ۔
لیکن حضرت ابوبکر نے تمام آیات سن کربھی حضرت سیدہ کو حق دینے سے انکار کردیا ۔
پھر حضرت سیدہ نے آخر میں فرمایا :-
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(١):- مریم :٤-٧

٩٥
فدونکھا مخطومۃ مرحومۃ نلقاک یو حشرک ۔۔۔۔۔۔۔فنعم الحکم اللہ ۔۔۔۔۔والموعد القیامۃ وعند الساعۃ یخسر المبطلون ۔
"اب تم اپنی خلافت کو نکیل ڈال کر اس پر سوار رہو ۔اب قیامت کے دن تجھ سے ملاقات ہوگی ۔اس وقت فیصلہ کرنے والا اللہ ہوگا اور وعدہ کا مقام قیامت ہے اور قیامت کے روز باطل پرست خسارہ اٹھائیں گے "
یابن ابی قحافۃ افی کتاب اللہ ان ترث اباک ولا ارث ابی لقد جیت شیا فریا افعلی عمد ترکتم کتاب اللہ ونبذتموہ ورآء اظھرکم ؟
الم تسمع قولہ تعالی واولوالارحام بعضھم اولی ببعض فی کتاب اللہ اخصّکم اللہ بایۃ اخرج ابی منھا ؟ ام تقولون اھلی ملّتین لایتوارثان ؟
اولست انا وابی من ملّۃ واحدۃ ؟ اانتم اعلم بخصوص القرآن وعمومہ من ابی وابن عمّی ؟
"ابو قحافہ کے فرزند ! کیا اللہ کی کتاب کا یہی فیصلہ ہے کہ تم تو اپنے باپ کے وارث بنو اور میں اپنے والد کی میراث سے محروم رہوں ؟ تم ایک عجیب چیز لائے ہو ۔
تو کیا تم نے جان بوجھ کر اللہ کی کتاب کو چھوڑ دیا اور اسے پس پشت ڈال دیا ؟اور کیا تم نے اللہ تعالی کا یہ فرمان نہیں سنا کہ :رشتہ دار ہی ایک دوسرے کے اللہ کی کتاب میں وارث ہیں ؟ اور کیا اللہ نے تمہیں میراث کے لئے مخصوص کرنے کے لئے کوئی آیت نازل فرمائی ہے جس سے میرے والد کو مستثنی قرار دیا ہے ؟ یا تم یہ کہتے ہو کہ دو ملت والے افراد ایک دوسرے کے وارث نہیں بنتے ؟تو کیا میں اور میرے والد ایک ہی ملت سے تعلق نہیں رکھتے ؟ اور کیا تم میرے والد اور میرے چچا زاد کی بہ نسبت قرآن کے عموم وخصوص کو زیادہ جانتے ہو؟

٩٦
ان دلائل قاہرہ اور آیات قرآنیہ پڑھنے کے بعد حضرت سیدہ نے ملاحظہ کیا کہ ان باتوں کا خلیفہ پر کوئی اثر مرتب نہین ہوا تو ناراض ہو کرروتی ہوئی واپس آئیں ۔
حضرت سیدہ کو پہلے سے ہی علم تھا کہ خلیفہ انہیں فدک کبھی بھی واپس نہیں کرے گا ۔آپ فقط اتمام حجت کے لئے تشریف لے گئی تھیں اور عملی طور پر دنیا کو دکھایا کہ جب چند روز پہلے میرے والد حدیث لکھانا چاہتے تھے تو اسی گروہ نے کہا تھا : ہمیں حدیث کی ضرورت نہیں ہمیں قرآن کافی ہے ۔اور جب حضرت سیدہ نے اپنی میراث کے لیے قرآن پڑھا تو مقابلہ میں "لاوارثی "حدیث پڑھ کر سیدہ کو محروم کردیا گیا ۔
تو گویا حضرت سیدہ نے دربار میں جاکر کا ئنات کو اس دوغلے پن سے آگاہ کیاکہ کل جو حدیث کا انکار کررہے تھے آج وہ قرآنی آیات کے تسلیم کرنے سے بھی انکار کررہے ہیں ۔ جناب سیدہ کو پہلے سے علم تھا کہ مجھے میرا حق فدک نہیں دیا جائے گا ۔کیونکہ جن لوگوں نے چند روز پہلے ان کے شوہر کی خلافت چھین لی تھی ،وہ ان سے فدک بھی چھین سکتے ہیں ۔



۱۰
لاوارثی حدیث کے تین اجزاء ہیں المیہ جمعرات

"لاوارثی " حدیث اور عقل ونقل کے تقاضے
آئیے !حضرت ابوبکر کی بیان کردہ حدیث کو سیرت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روشنی میں دیکھیں ۔
رسول خدا(ص) نے اپنے آپ کو شریعت طاہرہ کے احکام سے کبھی بھی مستثنی نہیں فرمایا ۔
١:- جس طرح سے یہ کہنا غلط ہوگا کہ : ہم گروہ انبیاء نہ تو نماز پڑھیں گے اور نہ ہی روزہ رکھیں گے (نعوذ باللہ )

٩٧
مذکورہ فقرہ اس لئے غلط ہے کہ نبی احکام شریعت سے مستثنی نہیں ہوتا ۔
تو جس طرح نبی نماز روزہ اور اسلام کے دیگر احکام سے مستثنی نہیں ہوتا ۔اسی طرح سے وہ اسلام کے احکام میراث سے بھی مستثنی نہیں ہوتا ۔
٢:- کیا فدک کا مسئلہ جو کہ خالص شرعی مسئلہ تھا ، اس کے نہ دینے میں کوئی سیاسی اغراض تو کار فرما نہیں تھیں ؟
٣:- کیا حضرت سیدہ کو محروم ورارث رکھ کر خلیفہ صاحب اپنے سیاسی حریف علی اور اس کے خاندان کو اپنے سرنگوں تو نہیں کرنا چاہتے تھے ؟
٤:- اور کیا اس مسئلہ کا تعلق اقتصادیات سے تو نیں تھا ؟
یعنی اس ذریعہ سے علی (ع) اور ان کے خاندان کو نان شبینہ سے محروم رکھنا تو مقصود نہ تھا ؟
٥:- اور کیا کہیں ایسا تو نہیں کہ علی (ع) کی مالی حالت کمزور کرکے انہیں خلافت کا امیدوار بننے سے روکنا مقصود ہو؟
٦:- اور کیا فدک چھین لینے میں یہ حکمت عملی تو مد نظر نہ تھی کہ جن لوگوں نے حضرت ابو بکر کی خلافت کا انکار کیا تھا ۔انہیں مرتد اور مانعین زکواۃ کہہ کر ان پر لشکر کشی کی گئی تھی ۔ تو کیا فدک کے چھین لینے میں یہ تصور تو کار فرما نہ تھا کہ اگر فدک علی کے پاس ہوگا تو ممکن ہے کہ وہ ہمارے مخالفین کی مالی امداد کریں ؟
٧:- کیا فدک چھیننے میں یہ فلسفہ تو مضمر نہ تھا کہ آل محمد کے وقار کو لوگوں کی نگاہوں میں گرادیا جائے لوگوں کو یہ باور کرایا جائے کہ :خود رسول خدا(ص) ان لوگوں کو اپنی میراث سے محروم کرگئے ہیں ؟
تو جن لوگوں کو رسول خدا کی میراث کا حق نہیں ہے انہیں ان کی خلافت کا حقدار کیسے سمجھاجائے ؟
٨:- کیا سلب فدک میں بہت سے عوامل کا فرما تھے ؟

٩٨
٩:- اور اگر حضرت ابو بکر کی بیان کردہ حدیث کو درست بھی مان لیا جائے تو اس حدیث کا اطلاق صرف پیغمبر اکرم کے لئے ہوگا یا دوسرے انبیاء پر بھی اس کا انطباق ہوگا ؟
١٠:-آخر رسول خدا اپنی پیاری دختر کو محروم ارث کیوں رکھنا چاہتے تھے ؟
١١:- کیا خدانخواستہ حضور کریم کو یہ اندیشہ تھا کہ ان کے بعد ان کی بیٹی اور داماد فدک کی کمائی کو غلط مصرف میں لائیں گے ؟
١٢:- اگر حضور کریم کو یہی اندیشہ تھا تو انہوں نے اپنی حیات مبارکہ میں اپنی دختر کی تحویل میں کیوں دے دیا تھا ؟
١٣:- اور کیا یہ "خدشہ اس لیے پیدا ہوا تھا کہ حضرت سیدہ نے اپنے والد کی حیات طیبہ میں اس جاگیر سے سو استفادہ کیا تھا ؟
١٤:- اگر خدا نخواستہ ایسا ہوا تو کب اور کیسے ؟
علامہ ابن ابی الحدید معتزلی نے اسی مسئلہ کے متعلق قاضی القضاۃ اور علم الہدی سید مرتضی کا ایک خوبصورت مباحثہ نقل کیا ہے ۔قاضی القضاۃ وراثت انبیاء کی نفی کرتے تھے ۔جبکہ سید مرتضی میراث انبیاء کا اثبات کرتے تھے ۔
قاضی القضاۃ کا موقف یہ تھا کہ قرآن مجید میں انبیاء کی میراث کا جو تذکرہ کیا گیا ہے اس سے علم وفضل کی میراث مراد ہے ۔مالی مراد نہیں ہے ۔
علم الہدی سید مرتضی کا موقف تھا کہ میراث کا اطلاق پہلے مال ودولت اور زمین پر ہوتا ہے ۔اور یہ اطلاق حقیقی ہوتا ہے ۔علم وفضل کے لئے مجازی طور پر اس کا اطلاق ہوسکتا ہے اور اصول قرآن یہ ہے کہ مجازی معنی صرف اس وقت درست قرار پاتا ہے جب کہ حقیقی معنی متعذر ومحال ہو ۔ انبیاء اگر مالی میراث حاصل کریں تو اس سے کونسی شرعی اور عقلی قباحت لازم آتی ہے کہ ہم حقیقی معنی کو چھوڑ کر مجازی معنی قبول کرنے پر مجبور ہوجائیں ۔اور اگر قاضی

٩٩
القضاۃ کی بات کو تسلیم بھی کرلیاجائے کہ انبیاء کی میراث مالی کی بجائے معنوی یعنی علم وفضل پر مشتمل ہوتی ہے تو اس کا مقصد یہ بھی ہوگا کہ آل نبی پیغمبر کے علم وفضل کے وارث ہیں ۔
اور اگر آل نبی پیغمبر کے علم وفضل کے وارث ہیں تو ان وارثان علم وفضل کی موجودگی میں حضرت ابو بکر کی خلافت کا جواز کیاتھا (١)۔

فدک بعنوان ہبہ
جناب سیدہ نے فدک کا مطالبہ بطور ہبہ بھی کیا تھا جس پر خلیفہ صاحب نے گواہوں کا مطالبہ کیا ۔حضرت سیدہ کی طرف سے حضرت علی ، حضرت حسن اورحضرت حسین (علیھم السلام) اور حضرت ام ایمن نے گواہی دی ۔
مگر خلیفہ صاحب نے اس گواہی کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا اور کہا کہ نصاب شہادت مکمل نہیں ہے ۔کیونکہ علی سیدہ کے شوہر ہیں ۔اور امام حسن اور امام حسین (علیھما السلام ) سیدہ کے فرزند اور ام ایمن ایک کنیز ہے ۔
حالانکہ شہادت ہر لحاظ سے کامل و اکمل تھی ۔
حضرت علی علیہ السلام کی گواہی کس قدر مستند ہے ۔اس کے لیے سورہ آل عمران کی اس آیت مجیدہ کی تلاوت کریں :-
شہد اللہ انہ لا الہ الا ھو و الملائکۃ و اولو العلم قآئما بالقسط لا الہ الا ھو العزیز الحکیم ۔
"اللہ خود اس بات کا گواہ ہے کہ اس کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں اور ملائکہ اوروہ اہل علم جو عدل پر قائم ہیں کہ اس غالب اور صاحب حکمت اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے ۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(١):- شرح نہج البلاغہ جلد چہارم ۔ص ٧٨-١٠٣

١٠٠
اس آیت میں توحید کے گواہوں میں خود اللہ تعالی اور ملائکہ اور عدل پر قائم رہنے والے اہل علم کا تذکرہ کیا گیا ہے ۔
وہ اہل علم جو عدل پر قائم ہیں وہ توحید کے گواہ ہیں ۔اورعدل پر قائم رہنے والے علماء میں علی (ع) سر فہرست ہیں کیونکہ علی (ع) کے علم کے متعلق رسول خدا کی مشہور حدیث ہے ۔"انا مدینۃ العلم وعلی بابھا " میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں ۔
اور جہاں تک عادل ہونے کاتعلق ہے تو علی جیسا عادل چشم فلک نے نہیں دیکھا ۔جب علی توحید کے گواہ ہیں تو پھر فدک گواہ کیوں نہیں ہوسکتے ؟عجیب بات ہے ہے کہ توحید کی شہادت کے لئے تو علی کی گواہی مستند مانی جائے اور تھوڑی سی جائیداد کے لئے ان کی گواہی کو ٹھکرا دیا جائے ؟ علی صرف توحید کے گواہ نہیں ہیں وہ رسالت محمدیہ کے بھی گواہ ہیں ۔جیسا کہ سورہ رعد کی آخری آیت میں ارشاد خداوندی ہے :- "ویقول الذین کفروا لست مرسلا قل کفی باللہ شھیدا بینی وبینکم ومن عندہ علم الکتاب ۔"
اور کافر کہتے ہیں کہ تو رسول نہیں ہے ۔کہ دیں کہ میرے اور تمہارے درمیان گواہی کے لئے اللہ کافی ہے اور وہ جس کے پاس کتاب کا مکمل علم موجود ہے ۔قول اصح کے مطابق "من عندہ علم الکتاب "سے مراد حضرت علی (ع) ہیں۔
اس آیت مجیدہ میں حضرت علی علیہ السلام کو رسالت کا گواہ قرار دیا گیا ۔
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ جو علی (ع) رسالت محمدیہ کے گواہ ہیں ۔ان کی گواہی کو فدک کے لیے معتبر کیوں نہیں تسلیم کیا گیا ؟

١٠١

فرع کی اصل کے لئے گواہی
حسنین کریمین کی گواہی یہ کہہ کر رد کر دی گئی کہ یہ گواہی "فرع" کی "اصل" کے لیے ہے ۔ یعنی امام حسن اورامام حسین (علیھما السلام) چونکہ حضرت سیدہ کے فرزند ہیں اور اولاد کی گواہی والدین کے لئے قابل قبول نہیں ہے ۔
جب کہ قرآن مجید کی سورہ مریم میں میں حضرت عیسی کی پیدائش اور حضرت مریم کی پریشانی کا ذکر موجود ہے اورجب حضرت مریم کے نو مولود فرزند حضرت عیسی نے ہی اپنی نبوت اور اپنی ماں کی پاکدامنی کی گواہی دی تھی ۔
اب اگر اولاد کی گواہی والدین کے حق میں قابل نہیں ہے تو اللہ نے حضرت عیسی کی زبانی ان کی ماں کی پاکدامنی کی گواہی کیوں دلائی ؟ اگر اس فارمولے کو تسلیم کرلیا جائے کہ ماں باپ کے حق میں اولاد کی گواہی قابل قبول نہیں ہے تو آپ ان روایات کے متعلق کیا کہیں گے جو حضرت عائشہ کی زبانی ان کے والد کے حق میں مروی ہیں ؟ خلیفہ صاحب کے دربار میں چار عظیم شخصیات موجود تھیں جن میں سے ایک مدعیہ تھیں کہ اور تین شحصیات گواہ تھیں ۔
اب ان چاروں شخصیات کی گواہی کتنی معتبر ہے ؟ اس کیلئے واقعہ مباہلہ کو مد نظر رکھیں ۔

مباہلہ کی گواہی
جب عیسائی علماء دلائل نبوی سن کر مطئمن نہ ہوئے تو اللہ تعالی نے آیت مباہلہ نازل کی اور ارشاد فرمایا :- "فمن حاجّک فیہ من بعد ما جآ ء ک من العلم فقل تعالوا ندع ابنا ءنا وابناءکم و نساءنا ونساءکم وانفسنا وانفسکم ثم نبتھل

١٠٢
فنجعل لعنۃ اللہ علی الکاذبین "(١)۔
"جو علم آنے کے بعد تم سے جھگڑا کرے تو کہ دو کہ آؤ ہم اپنے بیٹے بلائیں اور تم اپنے بیٹوں کو بلاؤ او ر ہم اپنی عورتوں کو بلائیں اور تم اپنی عورتوں کو بلاؤ اور ہم اپنی جانوں کو لائیں اور تو اپنی جانوں کو لاؤ پھر دعا کریں اور جھوٹوں پر اللہ کی لعنت کریں ۔"
جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی تو رسول خدا (ص) علی (ع) کے گھر تشریف لائے اور علی و فاطمہ اور حسن وحسین (علیھم السلام ) کو اپنی چادر پہنائی اور کہا پروردگار یہ میرے اہل بیت ہیں ۔
رسول خدا نہی عظیم شخصیات کو لے کر مباہلہ کے لئے روانہ ہوئے جب عیسائی علماء نے ان نورانی چہروں کو دیکھا تو جزیہ دینا قبول اور مباہلہ سے معذرت کرلی ۔
اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ چار شخصیات پورے اسلام کی گواہ ہیں اور ان کی گواہی کا عیسائیوں نے بھی احترام کیا تھا ۔
مباہلہ کے چند ہی دن بعد یہی چاروں شخصیات خلیفہ صاحب کے دربار میں گئیں ۔ان میں ایک مدعیہ تھیں اور تین گواہ تھے ۔
انسانی ذہن کو انتہائی تعجب ہوتا ہے کہ جن شخصیات کو اللہ نے پوری امت اسلامیہ میں سے بطور نمونہ جماعت صادقین بنا کر غیر مسلموں کے مقابلہ میں بھیجا تھا ، ان شخصیات کی گواہی کو خلیفۃ المسلمین نے رد کردیا ؟
علاوہ ازیں ان ذوات طاہرہ کی عظمت کے لئے یہی کافی ہے کہ اللہ نے ان کی طہارت کا قرآن مجید میں ان الفاظ سے ذکر فرمایا :-انما یرید اللہ لیذھب عنکم الرجس اھل البیت و یطھرکم تطھیرا : اے اہل بیت ! اللہ کا تو بس
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(١):- آل عمران ۔

١٠٣
یہی ارادہ ہے کہ وہ تم سے ہر طرح کی ناپاکی کو دور رکھے اور تمہیں اس طرح سے پاک بنائے جیسا کہ پاکیزگی کا حق ہے (١)"۔
حضرت ابو بکر کا حق تھا کہ حضرت سیدہ کے دعوی کے بےچون وچرا تسلیم کرلیے ۔کیونکہ تاریخ وحدیث کا مشہور واقعہ ہے کہ کہ حضور کے ساتھ ایک اعرابی نے ناقہ کے متعلق تنازعہ کیا ۔ ہردو فریق ناقہ کی ملکیت کے دعویدار تھے ۔اعرابی نے رسول خدا (ع) سے گواہ طلب کیا تو حضرت خزیمہ بن ثابت نے حضور کے حق کے متعلق گواہی دی ۔ اور جب حضرت خزیمہ سے پوچھا گیا کہ تم نے یہ گواہی بغیر علم کے کیوں دے دی ہے ؟
تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم محمد کی نبوت اور وحی کی بھی تو گواہی دیتے ہیں جب کہ ہم نے جبریل امین کو اپنی آنکھوں سے اترتے نہیں دیکھا ۔جب ہم نبوت ورسالت جیسے عظیم منصب کی ان دیکھے گواہی دے دیتے ہیں تو کیا ہم اپنے نبی کے لئے ایک اونٹنی نہیں دیں گے ؟ رسول خدا (ص) نے حضرت خزیمہ کی شہادت کو صحیح قراردیا اور انہیں "ذو الشہادتین " یعنی دو گواہیوں والا قراردیا ۔
حضرت خزیمہ کی طرح اگر حضرت ابو بکر بھی حضرت سیدہ کی روایت ہبہ کو بدون شہود تسلیم کر لیتے تو یہ ان کے لئے زیادہ مناسب تھا ۔اس کے برعکس حضرت ابو بکر کی "لاوارثی" حدیث کے متعلق جناب زہرا (س) نے ان سے گواہ نہیں مانگے تھے ۔جب کہ حضرت سیدہ اس روایت کی صحت سے بھی منکر تھیں ۔
اور علی (ع) جیسے صدیق اکبر کی گواہی رد کرنے کا بھی حضرت ابو بکر کے پاس کوئی جواز نہیں تھا ۔اور ام ایمن جو کہ رسولخدا (ص) کی دایہ تھیں جن کی پوری زندگی اسلام اور رسول اسلام کی خدمت میں گزری تھی ، ان کی گواہی کو رد کرنے کی آخر ضرورت کیوں پیش آئی تھی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(١):- الاحزاب

١٠٤

خلیفۃ المسلمین کا عملی تضاد
حضرت ابو بکر کا موقف میراث انتہائی عجیب وغریب ہے ۔
١:- انہوں نے رسول خدا کی تلوار ان کی نعلین اور دستانے مبارک علی (ع) کے پاس رہنے دی تھی اور اس کے متعلق نہ تو انہوں نے علی (ع) سے کوئی تنازعہ کیا اور نہ ہی علی سے گواہ طلب کیے ۔
٢:-علاوہ ازیں رسول خدا (ص) نے مرض الموت میں حضرت علی (ع) کو اپنی تلوار اور انگشتری عطا فرمائی تھی ۔ حضرت ابو بکر نے علی (ع) سے ان دونوں چیزوں کی واپسی کا کوئی تقاضا نہیں کیا ۔
اگر تلوار اور انگشتری ہبہ ہوسکتی ہے اور خلیفہ اسے واپس نہیں لیتے اسی طرح سے فدک بھی تو ہبہ ہوچکا تھا ۔ اس کی واپسی کے لئے یہ ساری تگ و دو کیوں کی گئی ؟
٣:- جس لباس میں حضور اکرم نے وفات پائی تھی ،لباس حضرت فاطمہ (س) نے اپنے پاس رکھ لیا تھا ۔حضرت ابوبکر نے لباس رسول (س) کی واپسی کا مطالبہ بھی نہیں کیا تھا ۔
٤:- ازواج رسول (ص) سے بھی رسولخدا (ص) کے مکان خالی کرنے کامطالبہ نہیں کیا گیا۔
٥:-عامل بحرین علاء بن حضرمی سے خلیفہ صاحب کے پاس مال بھیجا ۔حضرت جابر نے خلیفہ صاحب سے کہا کہ رسول خدا(ص) نے وعدہ کیا تھا کہ جب بھی میرے پاس مال آیا تو میں تمہیں اتنا مال دون گا ۔اب جب کہ رسول خدا کی وفات ہوچکی ہے اورآپ اس وقت خلیفۃ المسلمین ہیں ۔لہذا مجھے اتنا مال دیں ۔ حضرت ابو بکر نے ان سے کسی گواہ کا مطالبہ نہیں کیا ان کی زبان پر اعتماد کرتے

١٠٥
ہوئے انہیں مطلوبہ مال فراہم کیا (١)۔
تو کیا حضرت خاتو ن جنت (س) جابر جتنی بھی صادق اللہجہ نہ تھیں ؟
٦:- جب خلیفہ صاحب کے پاس مال بحرین آیا تو ابو بشیر المازنی ان کے پاس گئے اور کہا کہ حضور اکرم (ص) نے فرمایا تھا جب بحرین سے مال آیا تو میں تجھے دوں گا ۔حضرت ابو بکر نے اس کی بات سن کر تین تھیلیاں بھر کر انہیں مال دیا ۔
تاریخ کا طالب علم اس وقت انتہائی پریشان ہوجاتا ہے کہ جب کہ جب وہ یہ دیکھتا ہے کہے ایک گم نام صحابی اگر مطالبہ کرے تو اس کی بات کو سچ سمجھا جا تا ہے اور اگر بنت رسول (س) اپنا حق مانگیں تو ان سے گواہ طلب کیئے جاتے ہیں اور ستم یہ ہے کہ گواہوں کی گواہی کو بھی ٹھکرا دیا جاتا ہے اور رسول خدا (ص) کی خاتون جنت بیٹی کو خالی ہاتھ لوٹا دیا جاتا ہے ۔
اگر "لاوارثی"حدیث کو صحیح مان لیا جائے تو اس سے بڑی قباحتیں لازم آئیں گی ۔اس حدیث کے تحت رسول خدا (ص) کو ان کے مکان میں دفن نہیں کیا جاسکتا ۔کیونکہ رسول خدا(ص) کی وفات کی وجہ سے ان کا تمام ترکہ صدقہ بن جاتا ہے اور وہ عوامی ملکیت میں بد جاتا ہے ۔اب جب کہ آپ کی وفات ہوئی تو مکان بھی تو صدقہ میں شامل ہوگیا ۔رسول خدا (ص) کا اس مکان سے کوئی واسطہ نہیں رہا اور جس مکان سے ان کا کوئی واسطہ ہی نہ وہ تو اس میں دفن کیسے ہوں گے ؟
اور عجیب بات یہ ہے کہ خود حضرت ابو بکر ہی دوسری حدیث کے راوی ہیں کہ "انبیاء کی جہاں وفات ہوتی ہے وہ وہاں ہی دفن ہوتے ہیں " اگر انبیاء اپنی جائے وفات پر دفن ہوتے ہیں تو وہ جگہ ان کی ہوتی ہے یا صدقہ کا مال ہوتا ہے ۔؟
اب اگر وہ مال وترکہ صدقہ ہوتا ہے تو انبیائے کرام کی وہاں تدفین صحیح نہیں ہے اور اگر تدفین صحیح اور درست ہے تو پھر ماننا پڑے گا کہ ان کا ترکہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(١):- صحیح بخاری سوم –ص ١٨٠

١٠٦
صدقہ میں تبدیل نہیں ہوتا ۔
تعجب ہے کہ ان دونوں حدیثوں میں جو واضح تناقض و تضاد ہے کیا حضرت ابو بکر کو اپنی ہی بیان کردہ دونوں حدیثوں کے تضاد کا ادراک نہیں ہوا تھا ؟
اگر مزید وضاحت کرنا چاہیں تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ حضرت ابو بکر نے حدیث پڑھی کہ " نبی جہاں وفات پاتے ہیں ۔اسی جگہ ہی دفن ہوتے ہیں "
تو نبی کی جائے وفات دو میں سے ایک جگہ تو ضرور ہوگی ۔
١:- یا تونبی اپنی ملکیت میں وفات پائے گا ۔
٢:- یا کسی غیر کی ملکیت میں وفات پائے گا ۔
اگر اپنی ملکیت میں نبی وفات پاتا ہے تو اس کی وفات پر وہ جگہ تو صدقہ بن گئی اور جو چیز مرنے والے سے متعلق ہی نہ ہو اس میں دفن ہونا ہی غلط ہے ۔
اگر بالفرض نبی کسی غیر کی زمین پر وفات پاتا ہے تو وہ زمین تو پہلے سے ہی غیر کی ہے اس میں تو دفن ہونے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔
لہذا اگر لاوارثی حدیث کو صحیح مان لیا جائے تو پھر ہمیں بتایا جائے کہ آخر انبیاء کو کہاں دفن ہونا چاہئیے ؟
علاوہ ازیں حضرت ابو بکر کو یہ حق کس نے تفویض کیا تھا کہ وہ رسول خدا (ص) کے پہلو میں دفن ہونے کی وصیت کریں ۔ جب کہ وہ زمین خود رسول خدا (ص) کی ملکیت سے نکل کر صدقہ میں تبدیل ہوچکی تھی ؟ اور اس مقام پر یہ تسلیم کیاجائے کہ وہ حجرہ حضور اکرم (ص) کی ملکیت ہی تھا اور وہ وفات کے بعد بھی "بیت النبی " ہی تھا تو بیت النبی کے داخلہ کے لئے اللہ نے پہلی شرط یہ عائد کی ہے کہ پہلے نبی سے اجازت لی جائے بعد ازاں ان کے گھر میں قدم رکھا جائے تو کیا حضرت ابو بکر رسول خدا کی زندگی میں ان سے دفن ہونے کی اجازت حاصل کرچکے تھے ؟
یا رسول خدا(ص) اپنی زندگی میں یہ کہہ کر گئے تھے کہ خلیفہ اول کو میرے پہلو

١٠٧
میں دفن کیا جائے ؟
الغرض "لاوارثی " حدیث کو صحیح تسلیم کرنے سے یہ تمام قباحتیں جنم لیتی ہیں اور اس سے بھی زیادہ عجیب وغریب بات یہ ہے کہ اہل سنت مفسرین نے انبیاء کی میراث حاصل کرنے کی آیات کے متعلق ایڑی چوٹی کا زور صرف کیا کہ ان آیات سے میرا ث علمی مراد ہے ۔اور ہماری سمجھ میں آج تک یہ بات نہیں آسکی کہ علم وفضل کب سے میراث بنا ہے اگر علم وفضل میراث ہوتا تو ہر عالم باپ کا بیٹا عالم ہوتا ہے اور ہر جاہل باپ کا بیٹا جاہل ہوتا ہے ۔علم نفس اور علم اجتماع اس مفروضہ کی تردید کرتے ہیں اور طرفہ یہ کہ حضرت ابو بکر نے جناب سیدہ (س) کو محروم الارث کرکے بزعم خویش اس حدیث پر عمل کیا جس کے وہ واحد راوی تھے ۔
اور اپنی منفرد حدیث پر عمل کرتے وقت عالم اسلام کی اس مستند و موثق حدیث کو بھول گئے جس کی صحت کا انہیں خود بھی اقرار تھا ۔
رسول اکرم (ص) کی مشہور ترین حدیث ہے :-" فاطمۃ بضعۃ منّی من اذاھا فقد آذانی ،ومن آذانی فقد آذی اللہ "(١)۔
"فاطمہ میرا ٹکڑا ہے جس سے اسے اذیت دی اس نے مجھے اذیت دی اور جس نے مجھے اذیت دی اس نے اللہ کو اذیت دی "۔
اور حضرت سیدہ کو محروم رکھتے وقت حضرت ابو بکر کو ابو العاص بن ربیع کا واقعہ بھی مد نظر رکھنا چاہیۓ تھا ۔
اس واقعہ کی تفصیل مورخ ابن اثیر نے یوں بیان کی ہے :-
"جنگ بدر کے قیدیوں میں ابو العاص بن ربیع بن عبدالعزی بن عبد الشمس بھی تھا ۔یہ شخص زینب بنت خدیجہ (رض) کا شوہر تھا ۔
مکہ کے تمام جنگی قیدیوں نے فدیہ دے کر رہائی حاصل کی ۔زینب بنت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(١):- درج بالا حدیث کا مفہوم صحیح بخاری میں موجود ہے ۔

١٠٨
خدیجہ نے اپنے شوہر کی رہائی کے لئے اپنا وہ ہار بھیجا جو ان کی ماں حضرت خدیجہ الکبری نے انہیں دیا تھا ۔
جب جناب رسول خدا (ص) نے اس بار کو دیکھا تو انہیں حضرت خدیجہ کی یاد آئی اور خدیجہ کی یاد سے بڑے متاثر ہوئے اور مسلمانوں سے فرمایا :-" اگر تم زینب کے قیدی کو رہا کرسکو اور اس کا بھیجا ہوا فدیہ بھی واپس کر سکتے ہوتو کرو ۔مسلمانوں نے ابو العاص کو حضرت زینب بنت خدیجہ کی وجہ سے رہا کردیا اور ان کا فدیہ بھی واپس کردیا ۔
فتح مکہ سے پہلے ایک دفعہ ابو العاص بن ربیع اپنا اور باقی قریش کے چند افراد کا مال لے کر شام جارہا تھا ۔راستہ میں مسلمانوں کے ایک سریہ سے مڈبھیڑ ہوگئی ۔مسلمانوں نے اس کا سامان لوٹ لیا اور جب رات ہوئی تو وہ اپنی بیوی زینب بنت خدیجہ کے پاس آگیا ۔اور جب رسول خدا نماز صبح کے لئے مسجد جارہے تھے تو زینب نے آواز دی لوگو!" میں ابو العاص بن ربیع کو پناہ دے چکی ہوں ۔"
رسول خدا نے لوگوں سے فرمایا کہ اگر تم مناسب سمجھو تو اس کا مال اسے واپس کر دو یہ میری خواہش ہے اور تم مال واپس نہ کرو پھر بھی تم پر کوئی گناہ نہ ہوگا ۔
لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ کی خواہش کے سامنے ہم اپنی گردن جھکائے دیتے ہیں اور ہم اس کا مال واپس کردیتے ہیں ۔ مسلمانوں نے اس کا تمام سامان حتی کہ اس کے ہاتھ کی لکڑی بھی اسے واپس کردی (١)۔"
درج بالا واقعہ میں آپ نے ملاحظہ کیا کہ مسلمانوں نے وہ مال غنیمت جو کہ ان کا شرعی حق تھا ۔وہ بھی رسول خدا (ص) کی پروردہ جناب زینب کی وجہ سے ابو العاص بن ربیع کو واپس کردیا ۔اگر خدا نخواستہ بالفرض حضرت ابو بکر یہ سمجھتے تھے کہ حضرت سیدہ (س) کی میراث نہیں ہے تو بھی انہیں ابو العاص کے واقعہ کو مد نظر رکھتے ہوئے حضرت سیدہ کی رضامندی کو مقدم رکھنا چاہئیے تھا ۔
یا حضرت ابو بکر کا یہ کردار سنت رسول کے مطابق تھا ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(١):- ابن اثیر ۔الکامل فی التاریخ ۔جلد دوم ۔ص ٩٣-٩٤



۱۱
سقیفائی حکومت کا دوسرا چہرہ المیہ جمعرات

١٠٩

سقیفائی حکومت کا دوسرا چہرہ

ب :- حضرت عمر بن الخطاب
اما واللہ لقد تقمّصھا ابن ابی قحافۃ و انّہ لیعلم انّ محلّی منھا محلّ القطب من الرحی ینحدر عنی السیل ولا یرقی الی الطیر فسدلت درنھا ثوبا وطویت عنھا کشحا وطفقت ارتای بین ان اصول بید جذآء او اصبر علی طخیہ عمیاء یھرم فیھا الکبیر و یشب فیھا الصغیر ویکدح فیھا مومن حتی یلقی ربّہ فرایت انّ الصبر علی ھاتا اجحی فصبرت وفی العین قذی وفی الحلق شجا اری تراثی نھیا حتی مضی الاول لسبیلہ فادلی بھا الی ابن الخطاب بعدہ ثم تمثل بقول الاعشی "
شتّان ما یومی علی کورھا ۔۔۔۔۔ویوم حیّان اخی جابر
فیا عجبا بینا ھو یستقیلھا فی حیاتہ اذ عقدھا لاخر بعد وفاتہ لشد ماتشطرّا ضرعیھا "(١)۔
خدا کی قسم ؛ فرزند ابو قحافہ نے پیراہن خلافت پہن لیا ۔حالانکہ وہ میرے بارے میں اچھی طرح جانتا تھا کہ میرا خلافت میں وہی مقام ہے جوچکی کے اندر اس کی کیلی کا ہوتا ہے ۔میں وہ (کوہ بلند) ہوں جس پر سے سیلاب کا پانی گزر کر نیچے گراجاتا ہے اور مجھ تک پرندہ پر نہیں مارسکتا ۔(اس کے باجود ) میں نے خلافت کے آگے پردہ لٹکا دیا اور اس سے پہلو تہی کر لی اور سوچنا شروع کیا کہ اپنے کٹے ہوئے ہاتھوں سے حملہ کروں یا اس سے بھیانک تیرگی پر صبر کرلوں جس میں سن رسیدہ بالکل ضعیف اور بچہ بوڑھا ہوجاتا ہے اور مومن اس میں جد وجہد کرتاہوا اپنے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(١):-نہیج البلاغہ ۔خطبہ شقشقیہ ۔

١١٠
پروردگار کے پاس پہنچ جاتا ہے ۔مجھے اس اندھیر پر صبر ہی قرین عقل نظر آیا ۔ لہذا میں کیا ۔حالانکہ آنکھوں میں غبار اندوہ کی خلش تھی اور حلق میں غم ورنج کے پھندے لگے ہوئے تھے ۔ میں اپنی میراث کو لٹتے دیکھ رہا تھا یہاں تک کہ پہلے نے اپنی راہ لی اور اپنے بعد خلافت ابن خطاب کو دے گیا ۔پھر حضرت نے بطور تمثیل اعشی کا یہ شعر پڑھا :
"کہاں یہ دن جو ناقہ ی پالا ن پہ کٹتا ہے اور کہا وہ دن جو حیان برادر جابر کی صحبت میں گزرتا تھا ۔"
تعجب ہے کہ وہ زندگی میں تو خلافت سے سبکدوش ہونا چاہتا تھا لیکن اپنے مرنے کے بعد اس کی بنیاد دوسرے کے لئے استوار کرتا گیا ۔ بے شک ان دونوں نے سختی کے ساتھ خلافت کے تھنوں کو آپس میں بانٹ لیا "۔
تعجب ہے کہ وہ زندگی میں تو خلافت سے سبکدوش ہونا چاہتا تھا لیکن اپنے مرنے کے بعد اس کی بنیاد دوسرے کے لیے استوار کرتا گیا ۔بے شک ان دو نوں نے سختی کے ساتھ خلافت کے تھنوں کو آپس میں بانٹ لیا "۔
بے شک ایسا ہی ہوا ۔حضرت عمر کی محنت سے جو خلافت ابوبکر کو ملی تھی ۔انہوں نے وہ خلافت حضرت عمر کے حوالے کی ۔
حضرت عمر کی نا مزدگی سے پہلے انہوں نے حضرت عثمان بن عفان اور عبد الرحمان بن عوف کو بلایا اور ان سے حضرت عمر کی باقاعدہ نامزدگی کے لیے مشورہ طلب کیا ۔تو عبدالرحمان بن عوف نے کہا " آپ اس کے متعلق جو سوچتے ہیں وہ اس سے بہتر ہیں "عبدالرحمان یہ جانتے تھے کہ خلیفہ اول کے دور میں بھی مرکزی کردار عمر ہی ادا کرتے رہے ۔جب کہ وہ حضرت ابو بکر کے تصورات سے بھی زیادہ بہتر تھے یعنی چہ معنی دارد؟ اور حضرت عثمان بن عفان کا جواب یہ تھا کہ "ان کا باطن ان کے ظاہر سے بہتر ہے اور ہماری بزم میں ان جیسا کوئی اور نہیں ہے ۔"
اور ہم یہ سمجھتے ہیں کہ حضرت عثمان نے بالکل بجا فرمایا ہے کیوں کہ سقیفائی حکومت کے کرداروں میں خلیفہ ثانی لاجواب شخصیت کے حامل تھے ۔

١١١
ہمیں یہ علم نہیں ہے کہ ان دونوں مشیروں نے یہ مشورہ اپنے ضمیر کی آواز پر دیا تھا یا خلیفہ صاحب کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے انہوں نے یہ مشورہ دیا تھا ؟

خلیفہ اول کی حضرت عمر کے لئے وصیت
بہر نوع حضرت ابو بکر نے حضرت عثمان کو حکم دیا کہ وہ حضرت عمر کی نامزدگی کی وصیت تحریر کریں ۔
مورخین رقم طراز ہیں کہ حضرت ابو بکر اپنی وصیت تحریر کراتے گئے اور حضرت عثمان لکھتے گئے ۔ابھی حضرت عمر کا نام تحریر نہیں ہوا تھا کہ وہ بے ہوش ہوگئے اور حضرت عثمان نے اپنی فہم و فراست سے حضرت عمر کا نام تحریر کردیا اور جب حضرت ابو بکر کو ہوش آیا تو حضرت عثمان نے انہیں حضرت عمر کا نام پڑھ کر سنایا جسے حضرت ابوبکر نے درست قراردیا اور مذکورہ نام لکھنے پر حضرت عثمان کو آفرین وتحسین کہی ۔
١:- آج تک ہم سے یہ فیصلہ نہیں ہوسکا کہ حضرت عثمان نے متوفی کی وصیت میں از خود حضرت عمر کا نام داخل کیوں کیا ؟
٢:- اور کیا یہ کارنامہ ان کی اولیات میں شمار کیا جائے گا ؟
٣:- اور کیا اگر ہم فرض کرلیں کہ حضرت ابو بکر اسی بے ہوشی کے دورہ سے ہی جانبرد نہیں ہوئے تھے تو اس وصیت نامہ کی شرعی حیثیت کیا قرار پائے گی ؟
٤:- حضرت عمر کی نامزدگی کے لئے پوری جماعت صحابہ میں سے صرف دوافراد وکو ہی مشہورہ کے قابل کیوں سمجھا گیا ؟
٥:- ان دونوں بزرگواروں میں آخر وہ کون سی خاصیت تھی جس سے دوسرے صحابہ محروم تھے ؟
٦:- حضرت ابو بکر کے اس اقدام کے متعلق یہ کہہ کر امت اسلامیہ کو مطمئن

١١٢
کردیا جاتا ہے کہ انہوں نے امت اسلامیہ کی ہمدردی کے لئے ایسا کیا ۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا رسول خدا کو اپنی امت س اتنی ہمدردی بھی نہ تھی جتنی حضرت ابو بکر کو تھی ؟
٧:-حضرت ابو بکر عالم نزع میں حضرت عمر کی نامزدگی تحریر کرائیں وہ تو درست ہے اور اگر جناب رسول خدا(ص) اپنے مرض موت میں کوئی وصیت تحریر کرانا چاہیں تو اسے ہذیان کہا جائے ؟
٨:- اگر سینکڑوں بر س بعد کوئی شخص یہ کہنے کی جسارت کرے کہ وہ وصیت نامہ حضرت ابو بکر کی بے ہوشی اور ہذیان کی حالت میں تحریر کیا گیا تھا ۔ تو کیا ایسا کہنے والے شخص کو دین اسلام کا دوست کہا جائے گا یا دشمن ؟ اور اس کے ساتھ امت اسلامیہ یہ فیصلہ بھی کرے کہ اگر کوئی شخص یہی الفاظ رسول خدا (ص) کے متعلق کہے تو اس کے لئے کیا کہاجائے ؟
٩:- حضرت ابو بکر و عمر کا نظریہ یہ تھا کہ رسول خدا نے کسی کو خلافت کے لئے نامزد نہیں کیا تھا اور اگر حضرت ابو بکر بھی رسول خدا کی پیروی کرتے ہوئے کسی کو اپنا جانشین نامزد نہ کرتے تو کیا یہ عمل سنت رسول کی اتباع نہ کہلاتا ؟
١٠:-اگر حضرت علی کے لئے مشورہ کرلیا جاتا اور اس کے لئے مہاجرین و انصار سے رائے طلب کی جاتی تو اس میں آخر کیا قباحت تھی ؟
ان تمام سوالات کا سادہ سا اور حقیقت پسندانہ جواب یہی ہے کہ حضرت ابوبکر کو خلیفہ بنانے میں حضرت عمر نے مرکزی کردار ادا کیا تھا ۔
حضرت ابو بکر اس طرح سے حضرت عمر کے مقروض احسان تھے ۔چنانچہ انہوں نے یہ قرض اپنی وفات کے وقت ادا کردیا ۔



۱۲
شوری المیہ جمعرات

١١٣

شوری
حتیّ اذا مضی الثانی لسبیلہ جعلھا فی جماعۃ زعم انی احدھم فیا للہ و للشوری حتی اعترض الریب فی مع الاول منھم حتی صرت اقرن الی ھذہ النظائر لکنی اسغفت اذا اسفوا وطرت اذا طارو فصغی رجل منھم لضغنہ ومال الاخر لصھر مع ھن وھن (الامام علی بن ابی طالب )
اور دوسرا جب جانے لگا تو خلافت کو ایک جماعت میں محدود کرگیا اور مجھے بھی اسی جماعت کا ایک فرد خیال کیا ۔اے اللہ مجھے اس شوری سے کیا لگاؤ ؟استحقاق وفضیلت میں کب شک تھا جو اب ان لوگوں میں بھی شامل کرلیا ہوں ۔مگر میں نے یہ طریقہ اختیار کیا تھا کہ جب وہ زمین کے نزدیک پرواز کرنے لگیں تو میں بھی ویسا ہی کرنے لگوں اور جب وہ اونچے ہو کر اڑنے لگیں تو میں بھی اسی طرح پرواز کروں ۔یعنی الامکان کسی نہ کسی صورت سے نباہ کرتا رہوں ۔ان میں سے ایک شخص تو کینہ وعناد کی وجہ سے مجھ سے منحرف ہوگیا اور دوسرا دامادی اور بعض ناگفتہ بہ باتوں کی وجہ سے ادھر جھک گیا "(١)۔
ابن اثیر عمربن میمون کی زبانی شوری کی داستان یوں بیان کرتے ہیں :-
جب حضرت عمر قاتلانہ حملہ کی وجہ سے زخمی ہوئے تو انہیں کہا گیا کہ آپ کسی کو اپنا جانشین بنائیں ۔ تو انہوں نے کہا کسے اپنا جانشین بناؤں ؟
اگر آج ابو عبیدہ زندہ ہوتا تو میں اسے جانشین بنا تا اور اپنے رب کے حضور عرض کرتا کہ پروردگار میں اسے جانشین بنا کر آیاہوں جس کے متعلق میں نے تیرے حبیب سے سنا تھا کہ ابو عبیدہ میر ی امت کا امین ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(١):- نہج البلاغہ ۔خطبہ شقشقیہ سے اقتباس ۔

١١٤
اگر آج سالم مولی حذیفہ زندہ ہوتا تو میں اسے اپنا جانشین بناتا اور اگر میرا رب مجھ سے پوچھتا تو میں عرض کرتا کہ خداوند ا! میں نے اسے جانشین بنا کر آیا جس کے متعلق میں نے تیرے رسول (ص) سے سنا تھا کہ سالم اللہ سے بڑی محبت کرنے والا ہے "(١)۔
ہاں ہمیں بھی یقین ہے کہ اگر ابو عبیدہ زندہ ہوتے تو حضرت عمر انہیں ہی خلیفہ بناتے ۔شاید امین امت کی وجہ سے تو نہ بناتے البتہ اس لئے انہیں خلیفہ ضرور بناتے کہ وہ ان کے ساتھ سقیفہ میں شامل تھے اور اگر ایسا ہوتا تو خلفائے راشدین کی تعداد بھی اج چار کی بجائے پانچ ہوتی ۔بشرطیکہ خلافت اگر حضرت علی (علیہ السلام )کو ملتی۔
تاریخ کا طالب علم اس روایت کو دیکھ کر انتہائی متعجب ہوتا ہے کہ حضرت عمر کی زندگی کے آخری لمحات میں تو مسلمانوں نے ان ے اس خواہش کا اظہار کیا کہ آپ ہمیں بے وارث چھوڑ کرم ت جائیں لیکن رسول خدا (ص) کی خدمت میں کسی نے یہ درخواست نہیں کی کہ آپ بھی اپنا جانشین بناکر جائیں ۔
اور اہل سنت کے نظریہ کے مطابق جناب رسول خدا (ص) کو امت کے مستقبل کی کوئی فکر ہی نہیں تھی ۔اسی لئے انہوں نے خلیفہ کا انتخاب امت کے افراد کے کاندھوں پہ ڈال دیا تھا اور انہیں اس بات سے قطعا سروکار نہ تھی کہ اس حساس مسئلہ کی وجہ سے امت میں کتنی خون ریز لڑائیاں ہوں گی اور امت کتنے فرقوں میں بٹ جائے گی ۔
ہاں اللہ بھلا کرے شیخین حضرات کا کہ انہوں نے اس مسئلہ کا بروقت ادراک کرلیا تھا اور امت کوممکنہ تباہی سے بچالیا ۔اگر ابو عبیدہ بن جراح یا سالم مولی حذیفہ اتنے ہی لائق وفائق تھے تو حضرت عمر نے سقیفہ مین انہیں خلیفہ کیوں نہ بنالیا تھا ؟ اور ان کا حق تھا کہ انصار سے کہتے کہ تم ابو عبیدہ کی بیعت کرو اور سب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(١):- ابن اثیر۔الکامل فی التاریخ ۔جلد سوم ۔ص ٣٤۔

١١٥
سے پہلے میں بھی اس کی بیعت کرتاہوں کیونکہ رسول خدا (ص) نے انہیں اس امت کا امین قرار فرمایا تھا ؟
یا ان کی بجائے سالم مولی حذیفہ کی بیعت کر لیتے اور فرماتے کہ یہ اللہ سے شدید محبت رکھنے والے بزرگ ہیں؟
آخر اس کی کیا وجہ ہے کہ رسول خدا(ص) نے ابو عبیدہ کو "امین الامت " قرار دیا تھا جب کہ حضرت ابو بکر کے لئے اس قسم کا کوئی لقب موجود نہ تھا تو پھر افضل کو چھوڑ کر مفضول کی بیعت کیوں کی گئی ؟اور اگر سقیفہ میں یہ کار خیر نہ ہوسکا تھا تو حضرت ابو بکر جب حضرت عمر کو نامزد کر رہے تھے تو حضرت عمر کا حق تھا کہ وہ خلیفہ اول کی خدمت میں عرض کردیتے کہ آپ میری بجائے ابو عبیدہ کو اپنا جانشین مقرر فرمائیں کیونکہ وہ " امین الامت "ہیں ۔
علاوہ ازیں حضرت عمر نے اس خواہش کا اظہار فرمایا کہ اگر سالم زندہ ہوتے تو میں آج انہیں اپنا جانشین بناتا ۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حضرت ابو بکر نے سقیفہ میں ایک حدیث پڑھی تھی اور اسی کی وجہ سے انصار کے لئے خلافت کو شجرہ ممنوعہ قرار دیا تھا ، اس حدیث کے الفاظ یہ تھے :- الائمۃ من قریش" امام قریش سے ہوں گے ۔
تو کیا حضرت سالم کا تعلق بھی قریش سے تھا ؟
اگر نہیں تھا تو حضرت عمر نے ان کی خلافت کیلئے اپنی حسرت کا اظہار کیوں فرمایا تھا ؟
اگر سالم کا تعلق قریش سے نہ تھا تو حضرت عمر کی اس حسرت سے معلوم ہوتا ہے کہ خلافت کے لئے قریشی ہونا غیر ضروری ہے تو کیا اس صورت دونوں خلفاء کا موقف جداگانہ نہ تھا ؟ اور اگر دونوں کا موقف الگ الگ تھا تو ان میں سے کس کا موقف صحیح تھا اور کس کا موقف غلط تھا ؟۔

١١٥
حضرت سالم کے خلیفہ بنانے کی حسرت اس لئے تھی کہ وہ اللہ سے شدید محبت رکھتے تھے ۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ استحقاق خلافت صرف اسے حاصل ہے جو اللہ سے شدید محبت رکھتا ہو ۔
آیا حضرت عمر کے ذہن سے اس وقت یہ حدیث محو ہوچکی تھی جسے امام مسلم نے اپنی صحیح میں نقل کیا ۔
"لااعطین ھذہ الرّایۃ غدا رجلا یحب اللہ ورسولہ ویحبہ اللہ ورسولہ یفتح اللہ علی یدیہ "
کل میں علم اسے عطا کروں گا جو مرد ہوگا ۔اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرنے والا ہوگا اور اللہ اور رسول کا محبوب ہوگا ۔اللہ اس کے ہاتھ پر خیبر فتح کرے گا (١)۔
اس حدیث میں رسول خدا (ص) نے حضرت علی (ع) کا یہ وصف بیان کیا ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے محب ہیں اور اللہ اور رسول (ص) کے محبوب ہیں ۔حضرت سالم کے متعلق تو صرف یہی حدیث تھی کہ وہ محب خدا ہیں لیکن ان کے محبوب خدا ہونے کی گواہی کسی حدیث میں نہیں ملتی ۔جب سالم صرف محب خدا ہونے کی وجہ سے مستحق خلافت قرار پائے تو علی (ع) جو کہ محب خدا بھی تھے اور محبوب خدا بھی تھے انہیں حضرت عمر نے اپنا خلیفہ نامزد کیوں نہ کیا ؟ بہر نوع حضرت عمر نے ایک شوری تشکیل دی جس میں حضرت علی (ع) ،حضرت عثمان ،سعد ابن اب وقاص اور عبدالرحمان بن عوف اور زبیر بن عوام کے ساتھ طلحہ بن عبیداللہ کو شامل کیا گیا ۔اور ان سے فرمایا میری وفات کے بعد تم تین دن مشورہ کرنا اور اسی دوران صہیب لوگوں کو نماز پڑھا ئیں گے ۔چوتھے دن تمہارا امیر ضرور ہونا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(١):-صحیح مسلم ۔جلد دوم ۔ص ٢٢٤

١١٧
چاہئیے۔میرا بیٹا عبداللہ بن عمر تمہارے اجلاس میں بطور مشیر شریک ہوگا لیکن اس کا خلافت میں کوئی حصہ نہ ہوگا ۔بعد ازاں حضرت عمر نے ابوطلحہ انصاری کو بلا کر فرمایا کہ :- "تم پچاس افراد کا گروہ لے کر افراد شوری کی نگہبانی کرتے رہنا ۔یہاں تک کہ یہ لوگ کسی کو اپنا میر بنالیں ۔"
اس کے بعد مقداد بن اسود کو بلا کر فرمایا کہ :-
"میری تدفین کے بعد تم ان لوگوں کو اکٹھا کرنا یہاں تک کہ وہ اپنا حاکم مقرر کرلیں ۔اگر پانچ افراد ایک رائے پر جمع ہوں اور ایک انکار کررہا ہو تم تم تلوار سے اس کا سر قلم کردینا اور اگرچار ایک رائے ہوں اور دو مخالف ہوں تو دو کے سر قلم کردینا اور اگر ایک طرف بھی تین افراد ہوں اور دوسری طرف بھی تین ہوں تو میرے فرزند عبداللہ بن عمر کو حکم بنالینا ، اور اگر وہ لوگ میرے فرزند کے فیصلے کو قبول نہ کریں تو جس طرف عبدالرحمن بن عوف ہوں ،تم اسی کی حمایت کرنا اور دوسرے تین افراد کو قتل کردینا ۔
قارئین کرام سے درخواست ہے کہ اس مقام پر تھوڑی دیر کے لئے ٹھہر جائیں اور سوچیں کہ حضرت عمر نے اپنی وصیت میں فرمایا کہ خلیفہ کا انتخاب میری تدفین کے بعد کیا جائے ۔تو کیا حضرت عمر نے رسول خدا کی وفات کے وقت بھی ایسا ہی کیا تھا ؟
جب کہ اسلامی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ رسول خدا(ص) کا جسد اطہر ابھی گھر میں ہی موجود تھا کہ سقیفہ کی کاروائی شروع ہوگئی ۔
تو جو شخصیت خلیفہ کے انتخاب کو اتنا اہم تصور کرتی تھی کہ رسول خدا کی تدفین پر بھی اسے فوقیت حاصل ہے ۔اپنی باری آنے پر انہیں سقیفائی تعجیل کا حکم کیوں نہ دیا ؟
یہ ایک جملہ معترضہ تھا ۔اب واقعات تاریخ کی جانب آئیں ۔اسکے بعد

١١٨
حضرت عمر کی وفات ہوگئی اور صہیب نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی ۔جب حضرت عمر دفن ہوگئے تو مقداد نے اصحاب شوری کو جمع کیا جن میں طلحہ غیر حاضر تھے ۔

شوری کی کاروائی
شوری کی کاروائی شروع ہوئی ۔عبدالرحمن بن عوف نے کہا :- تم میں سے کوئی جو اپنے آپ کو خلافت سے علیحدہ کرلے اور اپنے سے بہتر شخص کا انتخاب کرے " عبدالرحمن کی تجویز پر کسی نے بھی لبیک نہ کی ۔انہوں نے خود کہا کہ میں اپنے آپ کو خلافت سے علیحدہ کررہا ہوں ۔ حضرت عثمان نے کہا :- "میں تمہارے اس اقدام کو بنظر استحسان دیکھتا ہوں " باقی لوگوں نے کہا کہ ہم بھی عبدالرحمن کے اس کام پر راضی ہیں ۔ اس دوران علی( علیہ السلام )خاموش بیٹھے یہ سب دیکھتے اور سنتے رہے ۔ عبدالرحمن نے حضرت علی (علیہ السلام) سے کہا :- ابو الحسن ! آپ کیا کہتے ہیں ؟ حضرت علی نے فرمایا " پہلے تم مجھ سے وعدہ کرو کہ تم حق کو ترجیح دوگے اور خواہشات کی اتباع نہ کروگے اور امت اسلامیہ کی پوری خیر خواہی کروگے ۔"
"عبد الرحمن بن عوف نے ان باتوں کا حضرت علی (علیہ السلام ) سے وعدہ کر لیا ۔"(١)
اس طویل بحث ومباحثہ کے بعد ابن عوف نے حضرت علی (علیہ السلام ) کی طرف دیکھ کر کہا کہ :- " میں آپ کی بیعت کرتاہوں اس کے لئے آپ کو اللہ کی کتاب ، رسول خدا (ص) کی سنت اور سیرت شیخین پر عمل کرنا ہوگا ۔
حضرت علی (علیہ السلام ) نے فرمایا :- " میں اللہ کی کتاب اور سنت رسول (ص) اور اپنے ذاتی اجتہاد پر عمل کروں گا "-
اس کے بعد عبدالرحمن بن عوف نے حضرت عثمان سے کہا کہ میں آپ کی بیعت کرتاہوں مگر آپ کو اللہ کی کتاب ،سنت رسول (ص) اور سیرت شیخین
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(١):- ابن اثیر ۔الکامل فی التاریخ ۔جلد سوم ۔ص ٣٥-٣٦

١١٩
پر عمل کرنا ہوگا ۔انہوں نے کہا مجھے یہ تینوں شرائط منظور ہیں ۔
عبدالرحمن بن عوف نے تین مرتبہ حضرت علی کے سامنے اپنی شرائط پیش کیں لیکن حضرت علی (علیہ السلام) نے ہر مرتبہ سیرت شیخین ماننے سے انکار کردیا ۔
جب عبدالرحمن کو یقین ہوگیا کہ علی سیرت شیخین کو قبول کرنے پر آمادہ نہیں تو اس نے حضرت عثمان کی بیعت کرلی اورکہا :- السلام علیک یا امیر المومنین "۔
یہ دیکھ کر حضرت علی (علیہ السلام) نے فرمایا مجھے علم تھا کہ تجھے خلیفہ گر کا کردار اسی لئے سونپا گیا تھا اور تو نے پہلے سے طے شدہ منصوبہ پر حرف بحرف عمل کیا (١)۔

چند سوال
اس مقام پر چند سوالات پیدا ہوتے ہیں کہ
١:- کیا عبدالرحمن نے اتفاقی طورپر حضرت عثمان کی بیعت کی تھی یا پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت انہوں نے ایسا کیا تھا ؟
٢:-کیا سیرت شیخین کا لاحقہ شامل کرنے کا مقصد حضرت علی کو خلافت سے علیحدہ کرنا تھا یا اس کا کوئی اور مقصد بھی تھا ؟
اس مقام پر ہم شوری پر وارد ہونے والے سوالات سے قبل دو امور کی وضاحت کرنا ضروری سمجھتے ہیں :
١:-مورخ طبری رقم طراز ہیں کہ "جب حضرت عمر زخمی تھے تو انہیں ابو عبیدہ اور سالم کی بے وقت موت کا شدید احساس تھا اور بار بار اس حسرت کا انہوں نے ذکر بھی کیا کہ کاش اگر وہ زندہ ہوتے تو ان میں سے کسی ایک کو خلافت کی مسند پر متمکن کردیتے ۔صحابہ کی ایک جماعت ان کی عیادت کیلئے آئی ،ان میں حضرت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(١):- ابن ابی الحدید ۔شرح نہج البلاغہ ۔جلد اول ۔ص ٥٠-٦٧

١٢٠
علی (علیہ السلام ) بھی موجود تھے ۔ حضرت عمر نے عیادت کرنے والوں سے کہا :میں چاہتاتھا کہ میں کسی ایسے شخص کو حاکم بنا کر جاؤں جو تم لوگوں کو حق کی راہ پر چلاسکے ۔یہ کہہ کر انہوں نے علی کی طرف اشارہ کیا ۔
پھر مجھے نیند آئی تو میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص باغ میں داخل ہوا اور اس مین پودے لگائے اورپودوں پر لگنے والے پھولوں کو اس نے چن چن کر اپنے رکھنا شروع کیا ۔ اس خواب کی تعبیر میں نے یہ لی کہ اللہ عنقریب عمر کو موت دینے والا ہے ۔
اب میں زندہ اور مردہ تمہارا بوجھ کیسے اٹھا سکتا ہوں ؟لہذا اب تم میرے میں اسے خلافت کے امیداواروں میں داخل نہیں کرنا چاہتا ۔ویسے میرا خیال یہ ہے کہ حکومت عثمان یا علی (ع) میں سے کسی ایک کو ملے گی ۔
اگر عثمان حاکم بن گئے تو ان میں نرمی بہت ہے ۔
اور اگر علی (ع) حاکم بن گئے تو ان میں مزاح ہے لیکن وہ لوگوں کو حق پر چلانے کی اہلیت رکھتے ہیں (١)"۔

ارکان شوری کے متعلق حضرت عمر کی رائے
٢:- ایک اور مورخ لکھتے ہیں کہ حضرت عمر نے ایک دفعہ طلحہ ۔زبیر۔ سعد،عبدالرحمن ،عثمان ،اور علی (علیہ السلام) کو بلایا اور کہا :
زبیر!تو کیا چیز ہے؟ایک دن انسان ہے اور دوسرے دن شیطان ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(١):-مورخ طبری ۔تاریخ الامم والملوک ۔جلد دوم ۔ص ٣٤-٣٥

١٢١
طلحہ ! تو کیا ہے ؟رسول خدا (ص) تیری اس گفتگو کی وجہ سے تجھ سے وقت وفات تک ناراض تھے اور تیری گفتگو کی وجہ سے ہی ازواج محمد(ص)کے ساتھ نکاح کی حرمت والی آیت نازل ہوئی ۔
ایک اور دوسری روایت کے لفظ یہ ہیں۔
طلحہ! کیا تو وہی شخص نہیں ہے جس نے یہ کہا تھا کہ اگر محمد کی وفات ہوگئی تو میں ان کی بیویوں سے شادی کروں گا ۔اللہ نے محمد(ص) کو ہماری چچا زاد لڑکیوں کا ہم سے زیادہ وارث نہین بنایا ۔اور تیری اسی گستاخی کی وجہ سے اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی تھی :- ما کان لکم ان توذوا رسول اللہ ولا ان تنکحوا ازواجہ من بعدہ ابدا" تمہیں رسول خدا کو اذیت نہیں دینی چاہیے اورنہ ہی ان کی بیویوں سے تم کبھی نکاح کرسکتے ہو(١)
"ہمارے شیخ ابو عثمان جاحظ کہاکرتے تھے کہ کہ کاش اس وقت کوئی شخص حضرت عمر سے کہہ دیتا کہ جب ان ہستیوں کی حقیقت یہ تھی تو پھر آپ نے ان کے متعلق یہ کیوں فرمایا تھا کہ رسول خدا (ص) بوقت وفات ان سے راضی تھے ؟ اور اگر ایسا ہوتا تویقینا حضرت عمر لاجواب ہوجاتے ۔
بعد ازاں سعد ابن ابی وقاص کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا ۔تو تو لوٹنے والی جماعت کا امیر ہے ،تو ایک شکاری شخص کے تیر کمان سے کھیلنے والل انسان ہے ۔قبیلہ زہرہ کا خلافت اور عوام کے امور سے کیا تعلق ہے ؟
پھر عبد الرحمن بن عوف کی جانب متوجہ ہوکر کہا :" جس شخص میں تمہاری جتنی کمزوری پائی جائے وہ خلافت کے لئے ناموزوں ہوتا ہے اور پھر "زہرہ" کا خلافت سے تعلق ہی کیا ہے ؟"
پھر علی علیہ السلام کی طرف متوجہ ہو کر کہا :اگر تمہارے اندر مزاح نہ ہوتی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(١):- الاحزاب ۔٥٣

١٢٢
تو خدا کی قسم ! تم ہی خلافت کے حق دار تھے ۔ خدا کی قسم ! اگر حاکم بن گئے تو لوگوں کو واضح اور روشن راہ پر چلاؤگے ۔
پھر حضرت عثمان کی طرف متوجہ ہوئے اور ان سے کہا : میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ قریش تمہیں حاکم بنالیں گے اور تم کنبہ پرور انسان ہو ۔ تم بنی امیہ اور ابی معیط کی اولاد کو لوگوں کی گردنوں پر سوار کروگے اور مسلمانوں کا بیت المال ان کے ہی حوالہ کردوگے (١)۔"

بزم شوری میں حضرت علی (علیہ السلام)کا احتجاج
اس موقعہ پر حضرت علی(ع) نے ارکان شوری کے سامنے اپنے حق کے اثبات کے لئے طویل احتجاج فرمایا اور ان سے مخاطب ہوکر ارشاد فرمایا :- "میں تمہیں اس خدا کا واسطہ دیتا ہوں جو تمہارے صدق وکذب سے باخبر ہے ۔مجھے بتاؤ کہ
١:- تمہارے اندر میرے علاوہ کوئی ایسا ہے جس کے بھائی کو اللہ نے جنت میں دو پر دئیے ہیں ؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

٢:- کیا میرے علاوہ تم میں کوئی ایسا ہے جس کا چچا سیدالشہدا ہو ؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

٣:- کیا میرے علاوہ کسی کی زوجہ سیدہ نساء العالمین ہے ؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

٤:- کیا میرے علاوہ کسی کے بیٹوں کو رسول اللہ کا بیٹا اللہ نے قرار دیا ہے ؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(١):-ابن ابی الحدید ۔شرح نہیج البلاغہ ۔جلد سوم ص ١٧٠

١٢٣
٥:-کیا تم میں سے کسی کے بیٹے جوانان جنت کے سردار ہیں ؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

٦:- کیا تم میں مجھ سے زیادہ کوئی قرآن کے ناسخ وومنسوخ کا عالم ہے ؟

ارکان شوری نے کہا نہیں ۔

٧:- کیا تم میں سے کسی کے لئے آیت تطہیر نازل ہوئی ؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

٨:- کیا میرے علاوہ کبھی تم نے بھی جبریل امین کو دحیہ کلبی کی صورت میں دیکھا ہے ؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

٩:- کیا میرے علاوہ کسی کے لئے "من کنت مولاہ " کا اعلان کیا گیا ہے ؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

١٠:- کیا میرے علاوہ تم میں سے کسی کو رسولخدا (ص) ن ےاپنا بھائی بنایا ہے ؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

١١:- کیا میرے علاوہ تم میں کوئی خندق کا فاتح ہے ؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

١٢:-کیا میرے علاوہ تم میں سے کسی کو ہارون محمدی کا اعزاز نصیب ہوا ہے ؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

١٣:- کیا میرے علاوہ تم میں کوئی ایسا ہے جسے اللہ نے قرآن کی دس آیات میں "مومن "کہا ہے ؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

١٤:- کیا میرے علاوہ شب ہجرت رسول خدا(ص) کے بستر پر تم میں سے کوئی سویا تھا ؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

١٢٤
١٥:- کیا میرے علاوہ تم میں کوئی ایسا ہے کہ جنگ احد کے دن اس کے ساتھ فرشتے کھڑے ہوں ؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

١٦:- کیا میرے علاوہ تم میں کوئی ایسا ہے کہ جس کی گود میں رسول خدا(ص) کی وفات ہوئی ہو؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

١٧:- کیا میرے علاوہ تم میں کوئی ایسا ہے جس نے رسول خدا (ص) کو غسل دیا ہو اور ان کی تجہیز وتکفین کی ہو؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

١٨:- کیا میرے علاوہ تم میں کوئی ایسا ہے جس کے پاس رسول خدا (ص) کا اسلحہ ،علم ،اور انگشتری ہو؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

١٩:- کیا میرے علاوہ تم میں کوئی ایسا ہے جسے رسولخدا(ص) نے اپنے کندھوں پر سوار کیا ہو اور اس نے بت توڑے ہوں ؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

٢٠:- کیا میرے علاوہ ہاتف غیبی نے کسی کے لئے " لافتی الا علی لا سیف الا ذولفقار " کی ندا کی ہے ؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

٢١:- کیا میرے علاوہ تم میں کوئی ایسا ہے جس نے حضور (ص) کے ساتھ بھنے ہوئے پرندے کا گوشت کھایا ہو؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

٢٢:- کیا میرے علاوہ کسی اور کے لئے رسول خدا نے کہا تھا کہ تو دنیا اور

١٢٥
آخرت میں میرا علمدار ہوگا ؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

٢٣:- کیا میرے علاوہ تم میں سے کسی نے آیت نجوی پر عمل کیا تھا ؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

٢٤:-کیا میرے علاوہ تم میں سے کسی کو رسول خدا کا "خاصف النعل" ہونے کا شرف حاصل ہے ؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

٢٥:- کیا میرے رسول خدا نے کسی اور کے لئے کہا تھا کہ تو مجھے ساری مخلوق سے زیادہ محبوب ہے اور میرے بعد سب سے زیادہ سچ بولنے والا ہے ؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

٢٦:- کیا میرے علاوہ تم میں کوئی ایسا ہے جس نے سو کجھوروں کے عوض پانی کے سو ڈول نکال کر وہ کجھوریں رسول خدا (ص) کو کھلائی ہوں ؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

٢٧:- کیا میرے علاوہ تم میں کوئی ایسا ہے جسے بدر کے دن تین ہزار ملائکہ نے سلام کیا ہو؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

٢٨:- کیا میرے علاوہ تم کوئی مسلم اول بھی ہے ؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

٢٩:- کیا میرے علاوہ تمہارے اندرکوئی ایسا ہے کہ رسول خدا(ص) جس کے گھر سے سب سے آخر میں نکلتے اور سب سے پہلے اس کے گھر جاتے ہوں ؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

٣٠:- کیا میرے علاوہ تم میں کوئی ہے جس کے متعلق نبی اکرم نے فرمایا ہو "تو ہی میرا پہلا مصدّق ہے اور حوض کوثر پر تو ہی میرے پاس سب سے پہلے آئے گا ؟

١٢٦
ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

٣١:- کیا میرے علاوہ تم میں کوئی ایسا ہے کہ جس کے افراد خاندان کو رسول خدا مباہلہ میں لے گئے ہوں ؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

٣٢:-کیا تم میں میرے علاوہ کوئی ایسا ہے جس نے حالت رکوع میں زکوۃ دی ہو اور اللہ نے اس کے حق میں "انّما ولیکم اللہ ورسولہ " کی آیت نازل فرمائی ہو؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

٣٣:- کیا میرے علاوہ کوئی ایسا ہے جسکے متعلق سورۃ دہر نازل ہوئی ہو؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

٣٤:- کیا میرے علاوہ تمہارے اندر کوئی ایسا ہے جس کے متعلق اللہ نے "اجعلتم سقایۃ الحاج وعمارۃ المسجد الحرام کمن آمن باللہ والیوم الآخر و جاھد فی سبیل اللہ لا یستوؤن عند اللہ " کی آیت نازل کی ہو؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

٣٥:- کیا میرے علاوہ تم میں کوئی ایسا ہے جسے رسول خدا(ص) نے ایسے ایک ہزار کلمات تعلیم کئے ہوں کہ ان میں سے ہر کلمہ ایک ہزار کلمات کی چابی ہو؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

٣٦:- کیا میرے علاوہ تم میں کوئی ایسا ہے جس کے ساتھ رسولخدا (ص) نے سرگوشی کی ہو اور معترضین کویہ کہہ کر خاموش کیا ہو کہ "میں نے اس سے سرگوشی نہیں بلکہ اللہ نے کی ہے "؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

٣٧:- کیا میرے علاوہ تم میں کوئی ایسا ہے جس کے لئے پیغمبر نے فرمایا وہ"انت و شیعتک الفائزون یوم القیامۃ "؟

١٢٧
ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

٣٨:-کیا میرے علاوہ تم میں کوئی ایسا ہے جس کے متعلق پیغمبر نے فرمایا ہو۔"وہ جھوٹا ہے جو گمان کرے کہ مجھ سے محبت کرتا ہے اور علی سے بغض رکھتا ہے ؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

٣٩:- کیا میرے علاوہ تم میں کوئی ایسا ہے؟ جس کے متعلق پیغمبر نے فرمایا ہو " جو میرے ٹکڑوں سے محبت کرے اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی اس نے اللہ سے محبت کی ۔ آپ سے دریافت کیا کہ آپ کے ٹکڑے کون ہیں ؟تو فرمایا :- وہ علی ،فاطمہ ،حسن اور حسین (علیھم السلام) ہیں ۔

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

٤٠:- کیا میرے تم میں کوئی ایسا ہے جسے نبی اکرم نے فرمایا ہو "انت خیر البشر بعد النبیّین؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

٤١:- کیا میرے علاوہ تم میں کو‏ئی ایسا ہے جسے رسول خدا(ص) نے حق وباطل کا میزان قرار دیا ہو؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

٤٢:- کیا میرے علاوہ تم میں کوئی ایسا ہے جسے رسول خدا (ص) نے چادر تطہیر میں داخل کیا ہو ؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

٤٣:- کیا میرے علاوہ تم میں کوئی ایسا ہے جو غار ثور مین رسالت مآب کے لئے کھانا لے کر جاتا ہو؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

٤٤:- کیا تم میں میرے علاوہ کوئی ایسا ہے جس کے متعلق پیغمبر نے فرمایا ہو

١٢٨
" انت اخی و وزیری وصاحبی من اھلی "؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

٤٥:-کیا تم میرے علاوہ کوئی ایسا ہے جس کے متعلق پیغمبر نے فرمایا ہو "انت اقدمھم سلما و افضلھم علما واکثرھم حلما "؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

٤٦:- کیا تم میں سے میرے علاوہ کسی نے مرحب یہودی کو قتل کیا تھا ؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

٤٧:- کیا میرے علاوہ تم میں کوئی ہے جس نے خیبر کے ایسے وزنی دروازے کو جسے چالیس انسان مل کر حرکت دیتے تھے ۔اکھاڑا ہو ؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

٤٨:-کیا میرے علاوہ کسی کے سب وشتم کو سول خدا نے اپنی ذات پر سب وشتم قرار دیا ہے ؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

٤٩:- کیا میرے علاوہ کوئی ایسا ہے جس کی منزل جنت کے متعلق رسول خدا(ص) نے کہا ہو کہ تمہاری منزل میری منزل کے متصل ہوگی ؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

٥٠:- کیا میرے علاوہ تم میں کوئی ایسا ہے جس کے متعلق رسول کریم (ص) کا فرمان ہو کہ تو بروز قیامت عرش کے داہنی جانب ہوگا اور اللہ تجھے دو کپڑے پہنائے گا ایک سبز ہوگا اور دوسرا گلابی ہوگا ؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

٥١:-کیا میرے علاوہ تم میں کوئی ایسا ہے جس نے تمام لوگوں سے سات برس قبل نماز پڑھی ہو‏؟

١٢٩
ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

٥٢:- کیا میرے علاوہ تم میں کوئی ایسا ہے جس کی محبت کو رسول خدا نے اپنی محبت اور جس کی عداوت کو اپنی عداوت قرار دیا ہو؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

٥٣:- کیا میرے علاوہ تم میں کوئی ایسا ہے جس کی ولایت کی تبلیغ اللہ نے اپنے رسول پر فرض کی ہو ؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

٥٤:- کیا میرے علاوہ تم میں سے کسی کو رسول خدا (ص) نے "یعسوب المومنین "کہا ہے ؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

٥٥:- کیا میرے علاوہ تم میں سے کسی کے لئے رسول خدا(ص) نے " لابعثنّ الیکم رجلا امتحن اللہ قلبہ للایمان " کہا ہے ؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

٥٦:- کیا میرے علاوہ تم میں سے کسی کو رسول خدا (ص) نے جنت کا انا ر کھلایا تھا ؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

٥٧:- کیا میرے علاوہ تم میں کوئی ایسا ہے جس کے لئے رسول خدا نے فرمایا ہو " میں نے اپنے رب سے جو طلب کیا اس نے مجھے عطا کیا اور میں نے جو کچھ اپنے لئے طلب کیا وہی کچھ تیرے لئے طلب کیا ؟"

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

٥٨:- کیا میرے علاوہ تم میں سے کسی کے لئے رسول خدا(ص) نے فرمایا کہ "تو امر خداوندی پر قائم رہنے والا اور عہد خداوندی کو نبھانے والا اور تقسیم میں مساوات کا خیال رکھنے والا اور اللہ کی نظر میں زیادہ رتبہ والا ہے ؟"

١٣٠
ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

٥٩:- کیا میرے علاوہ تم میں کوئی ہے جس کے متعلق رسول اکرم (ص) نے فرمایا ہو کہ " اس امت میں مجھے وہی برتری حاصل ہےجوسورج کی چاند پر اور چاند کی دوسرے ستاروں پر ہے ؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

٦٠:- کیا تم میں میرے علاوہ کوئی ایسا ہے جس کے دوست کو جنت اور دشمن کو دوزخ کی بشارت دی گئی ہو؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

٦١:-کیا میرے علاوہ تم میں کوئی ایسا ہے جس کے متعلق رسول خدا(ص) نے کہا ہو"لوگ مختلف درختوں سے ہیں اور میں اور تو ایک ہی درخت سے ہیں "؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

٦٢:- کیا تم میں سے کسی کو رسول خدا(ص) نے "سید العرب "فرمایا ہے ؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

٦٣:- کیا تم میں سے کوئی ایسا ہے جس کا جبرئیل مہمان ہو؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

٦٤:- کیا میرے علاوہ تم میں کوئی ہے جس نے سورۃ براءت کی تبلیغ کی ہو؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

٦٥:-کیا میرے علاوہ تم میں کوئی جنت اور دوزخ کے بانٹنے والا ہے ؟

ارکان شوری نے کہا :-نہیں۔

اس کے بعد آپ نے ارکان شوری سے فرمایا جب تم میرے یہ فضائل جانتے ہو تو حق کو چھوڑ کر باطل کی پیروی نہ کرو ۔لیکن عبد الرحمن بن عوف اور اس کے ساتھیوں نے حضرت علی (علیہ السلام) کو خلافت سے محروم کردیا (الاحتجاج ۔من المترجم عفی عنہ )



۱۳
مجلس شوری کا تجزیہ المیہ جمعرات

١٣١

مجلس شوری کا تجزیہ
شوری اور شوری ممبران کے متعلق آپ نے حضرت عمر کے نظریات ملاحظہ فرمائے ۔انہون نےممبران کے متعلق اپنی رائے کا بھی کھل کر اظہار فرمایا ۔حضرت عمر نے محدود شوری تشکیل دی تھی جب کہ اس حساس مسئلہ کے لئے وسیع البنیاد شوری کی ضرورت تھی ۔
١:- حضرت عمر نے شوری کو مشروط بنادیا تھا ، انہیں آزادی فکر کی اجازت نہیں دی گئی ۔
٢:- شوری کے ہاتھ پاؤں اس طرح سے باندھ دئیے گئے کہ محافظ کو یہ حکم صادر کیا گیا کہ ان میں سے جو بھی اکثریتی رائے سے اختلاف کرے ،اسے بلا تامل موت کے گھاٹ اتار دیا جائے ۔
٣:- اگر دونوں طرف سے ممبران کی تعداد برابر ہو تو پھر عبدالرحمن بن عوف کی پارٹی کو ترجیح دی جائے آخر عبدالرحمن ابن عوف کی رائے کو ہی آخری اور حتمی رائے قراردینے کی کیا ضرورت تھی ؟
٤:-کیا عبد الرحمن بن عوف کی رائے کو اس لئے تو فیصلہ کن نہیں قرار دیا گیا کہ انہوں نے دس برس پہلے حضرت ابوبکر کے استفسار پرحضرت عمر کی حمایت کی تھی ؟
٥:- کیا قرآن وسنت میں اس بات کا کوئی ثبوت ملتا ہے کہ جو عبدالرحمن بن عوف کی رائے کی مخالفت کرے وہ واجب القتل ہے ؟
٦:- ایک مومن کے قتل کی سزا تو اللہ تعالی نے یہ بیان کی ہے "ومن یقتل مومنا متعمدا فجزاؤہ جھنم خالدا فیھا وغضب اللہ علیہ ولعنہ واعدلہ عذابا عظیما " جو کوئی جان بوجھ کر مومن قتل کرے ان کی جزا جہنم ہے وہ اس

١٣٢
میں ہمیشہ رہے گا اور اللہ اس پر ناراض ہوگا اور اس پر لعنت کرے گا اور اس کے لئے بہت بڑا عذاب تیار کیا ہے "۔
جب کہ ایک عام مومن کے قتل کی یہ سزا یہے تو اصحاب رسول اور وہ بھی حضرت کے بقول جن سے رسول خدا راضی ہو کر دنیا سے رخصت ہوئے تھے ، ان کے قتل کی سزا کیا ہوگی ؟
٧:- برادران اہل سنت اکثر فرمایا کرتے ہیں کہ رسول خدا نے فرمایا : میرے بعد صحابی ستاروں ک طرح ہیں ۔تم جس کی پیروی کروگے ہدایت پاؤگے ۔
توکیا مذکورہ حدیث حضرت عمر کے پیش نظر نہ تھی کہ ان ستاروں کا اختلاف امت اسلامیہ کے لئے نقصان دہ نہیں ہے ۔ آخر انہوں نے اختلافی ستاروں کو قتل کرنے کا فرمان صادر کیوں فرمایا ؟
٨:-کیا دنیا کے کسی مہذب معاشرے میں حزب اختلاف کو قتل کرنا درست سمجھا جاتا ہے ؟
٩:- کیا عبدالرحمن بن عوف کی شخصیت حق وباطل کا معیار تھی کہ ان کی رائے سے اختلاف کرنے والا گردن زدنی قرار دیا جائے ؟
١٠ :- حضرت عمر اپنی زندگی کے آخری لمحات تک اس نظریہ کے قائل رہے تھے کہ خلیفہ مقرر نہ کرنا سنت رسول ہے اور حضرت ابو بکر کی سنت ہے ۔تو آخر وہ کونسی وجوہات تھیں کہ جن کی وجہ سے حضرت عمر نے رسول خدا(ص) کی سنت کو چھوڑ کر سنت ابو بکر کی پیروی کی؟
١١:-قرآن مجید میں رسول خدا کی اتباع کا حکم دیا گیا ہے اور ان کے راستے سے انحراف کرنے سے منع کیاگیا ہے ۔اس کے باوجود وہ علل واسباب کیا تھے جن کی بنا پر اتباع رسول کو چھوڑنا پڑا ۔؟
١٢:- خلافت کو صرف چھ افراد میں منحصر کرنے کی کیا ضرورت تھی اور ان

١٣٣
کے علاوہ پوری امت اسلامیہ میں کوئی جوہر قابل نہیں تھا ؟
١٣:- اگر جواب میں یہ کہا جائے کہ ان سے رسول خدا (ص) راضی ہوکر دنیا سے رخصت ہوئے تھے ،تو ہمیں اس جواب کے تسلیم کرنے میں تامل ہوگا کیونکہ شوری ممبران میں سے طلحہ بن عبیداللہ کے متعلق خود حضرت عمر نے فرمایا تھا کہ :
تمہاری اس غلط گفتگو کی وجہ سے رسول خدا (ص) مرتے دم تک تجھ سے ناراض تھے ۔ جب ایسے فرد بھی شوری میں شامل تھے تو یہ کیسے تسلیم کرلیا جائے کہ ان افراد کی تعیین رضائے رسول کی وجہ سے عمل میں آئی تھی ؟
١٤:- اگر بالفرض یہ تسلیم بھی کرلیا جائے کہ ان افراد سے رسول خدا (ص) راضی تھے تو کیا اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان چھ افراد کے علاوہ حضور کریم باقی تمام صحابہ اور امت اسلامیہ سے ناراض تھے ؟
١٥:- اگر کہا جائے کہ ایسا نہیں ہے تو پھر ان کی وجہ کیا قرارپائے گی کہ رسول خدا تو ہزاروں افراد سے راضی ہوکر دنیا سے رخصت ہوں اور خلافت کو صرف چھ افراد میں محدود کیا جائے ؟
١٦:-سعید بن عمرو بن نفیل کے متعلق حضرت عمر نے خود اعتراف کیا کہ ان میں شوری کی شمولیت کی جملہ صفات موجود نہیں ہیں ۔اس کے باوجود انہیں شوری کا ممبر کیوں نہ بننے دیا گیا ؟
١٧:- حضرت علی کے متعلق خلیفہ ثانی نے جو تبصرہ کیا کہ ان میں مزاح زیادہ ہے ۔تو کیا حضرت عمر کے علاوہ بھی کسی نے حضر ت علی کے متعلق یہ رائے دی تھی ؟
١٨:- کیا حضرت علی کی زندگی کا مطالعہ صرف حضرت عمر کو ہی نصیب ہوا تھا ۔ان کے علاوہ حضرت علی کی زندگی باقی لوگوں سے اوجھل تھی ؟
اگر ان کی زندگی باقی لوگوں سے اوجھل نہ تھی تو باقی دنیا کو علی میں مزاح

١٣٤
کا عیب آخر کیوں نظر نہ آیا ؟
اس کے لئے ابن عباس کا یہ قول بھی ہمیشہ مدنظر چاہئیے کہ حضرت علی (ع) اتنے بارعب تھے کہ ہم ان کے رعب ودبدبہ کی وجہ سے گفتگو کا آغاز کرنے سے گھبرایا کرتے تھے ۔
١٩:-شوری کے لئے جن افراد کو چنا گیا ، کیا ان سب کی اسلامی خدمات یکساں تھیں یا ان میں کچھ فرق بھی تھا؟اوراگر فرق اور یقینا تھا تو پھر حضرت عمر نے ان سب کو ایک ہی صف میں کیوں لا کھڑا کیا ؟۔
٢٠:- کیا شوری ممبران کے ایک دوسرے سے خاندانی اور عائلی روابط تو نہ تھے ؟
٢١:- اگر ان کے درمیان عائلی روابط موجود تھے تو کیا وہ قرابت داری کی وجہ سے کسی کی ناجائز حمایت بھی کرسکتے تھے یا نہیں ؟
٢٢:-کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ طلحہ کا تعلق حضرت ابو بکر کے خاندان بنی تمیم سے تھا اور اس خاندان کی علی سے تعلقات کی نوعیت پیچ پیچ تھی ؟
٢٣:- سعد بن ابی وقاص اور عبدالرحمن بن عوف کا تعلق بنی زہرہ سے تھا اور بنی زہرہ کے یہ دونوں چشم وچراغ بنی امیہ سے قریبی رشتہ داری رکھتے تھے ۔سعد بن ابی وقاص کی ماں حمنہ بنت سفیان تھی اور وہ حضرت عثمان کی بہن تھیں اور کیا اس نازک مرحلہ پر یہ امید کی جاسکتی تھی کہ عبدالرحمن اپنی بیوی کے بھائی کو چھوڑ کر کسی اور کی حمایت کریں گے؟
٢٤:- حضرت علی کے متعلق حضرت عمر کے ریمارکس کو اگر درست بھی

١٣٥
تسلیم کرلیا جائے تو کیا حس مزاح کی وجہ سے کسی کو حق سے محروم ٹھہرانا درست ہے ؟
٢٥:- مورخ طبری کی روایت آپ صفحات میں پڑھ چکے ہیں کہ حضرت عمر نے خود کہا تھا کہ علی لوگوں کو حق پرچلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ اگر یہ بات درست تھی اور یقینا درست بھی ہے تو پھر وہ کونسے عوامل تھے جس کی بنیاد پر علی (ع) کے انتخاب کو مشکوک بنایا گیا؟ علاوہ ازیں شوری کے اجلاس میں جو "پھرتیاں " دکھائی گئیں وہ بھی قابل توجہ ہیں ۔
٢٦:-عبد الرحمن بن عوف نے بڑی چالاکی دکھائی اور اپنے آپ کو خلافت کی امیدواری سے دستبراری کرلیا تا کہ لوگ ان کی غیر جانبداری پر کوئی تنقید نہ کرسکیں ۔
تو اس سلسلہ میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان کی دست برادری ایک اتفاقیہ امر تھی یا پہلے سے طے شدہ منصوبے کی ایک کڑی تھی ؟
٢٧:- عبدالرحمن نے اپنی دست برداری کے بعد اپنے قریبی عزیز کو منتخب نہیں کیا تھا ؟
٢٨:-کیا حضرت عثمان کے انتخاب میں اقرباء پروری کا جذبہ تو کار فرما نہ تھا ؟
٢٩:- عبد الرحمن بن عوف نے خلافت کیلئے تین شرائط عائد کی تھیں (١)اللہ کی کتاب(٢)سنت رسول (٣)سیرت شیخین ۔ان شرائط میں کتاب اللہ اور سنت رسول (ص) کی موجودگی کے باوجود"سیرت شیخین" کا اضافہ کیوں کیا گیا ؟
٣٠:- سیرت شیخین اگر قرآن وسنت کی تعبیر وتفسیر ہے تو شرائط میں کتاب وسنت کی شرط تو پہلے سے موجود تھی ۔ اس کے باوجود اس شرط کو الگ کیوں رکھا گیا ؟
٣١:- اور اگر سیرت شیخین قرآن وسنت کے علاوہ کوئی اور چیز تھی تو خلافت کے لئے اسے ایک شرط کے طور پر کیوں پیش کیا گیا ؟
٣٢:- کتب تاریخ میں ہمیں بہت سے ایسے مواقع نظر آتے ہیں جہاں حضرت

١٣٦
ابو بکر کا موقف کچھ تھا اور حضرت عمر کا موقف کچھ اور تھا تو اب ان کے بعد میں آنے والا خلیفہ اگر سیرت شيخین کو قبول بھی کرلیتا تو جس مسئلہ میں خود شیخین کا باہمی اختلاف تھا۔ اس مسئلہ میں وہ کسی کی سیرت کو ترجیح دیتا اور کس کی سیرت سے انحراف کرتا؟ تاریخ وحدیث میں بہت سے ایسے مواقع ہیں جہاں حضرت عمر کا طرز عمل سیرت نبوی سے مختلف تھا۔

حضرت عمر کے بعض اجتہادات
١:- جناب رسول خدا (ص) اور حضرت ابو بکر اپنے اپنے دور میں تمام مسلمانوں کو یکساں طورپر عطیات وروزینے دیا کرتے تھے اور حضرت ابو بکر نے سابقین اولین کو بھی زیادہ روزینہ انکار کردیا تھا۔ لیکن حضرت عمر نے اس مسئلہ میں ان دونوں کی مخالفت کی اور اپنے زمانہ خلافت میں یکساں وظیفہ دینے کے طریقے کو ختم کردیا اور کسی کا وظیفہ کم اور کسی کا زیادہ مقررکیا (١)
حضرت عمر ایک عجیب نفسیات رکھتے تھے" کبھی سلام پہ ناراض اور کبھی دشنام پہ خوش " تو ان کے کردار کو خلافت کے لئے شرط قرار دینا کسی طرح سے بھی قرین دانش نہیں تھا ۔حضرت عمر کی اس سیمانی فطرت کے واقعات سے تاریخ کے اوراق بھرے پڑے ہیں ۔
١:- ایک شخص ان کے پاس آیا اور فریاد کی ہے کہ : فلاں شخص نے مجھ پر ظلم کیا ہے آپ مجھے انصاف فراہم کریں ۔
حضرت عمر نے اپنا درہ فضا میں بلند کیا اور فریادی کے سر پر دے مارا اور کہا جب عمر نکما ہوتا ہے تو تم اس وقت نہیں آتے اور جب عمر امور مسلمین میں مصروف ہوتا ہے تو تم فریاد یں لے کر اس کے پاس آجاتے ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(١):- عبدالفتاح عبدالمقصود۔الامام علی بن ابی طالب جلد دوم ۔ص ٩-١٠

١٣٧
فریادی بے چارہ آہ زاری کرتا ہوا چلا گیا ۔ کچھ دیر بعد انہوں نے کہا کہ اس فریادی کو دوبارہ لایا جائے اور جب وہ آیا تو درہ اٹھا کر اس ہاتھوں میں دیا اور کہا اب تم مجھ سے قصاص لے لو ۔
فریادی نے کہا میں نے اللہ اور تمہاری خاطر تمہیں معاف کیا ہے ۔
حضرت عمر نے کہا کہ : تم یا اللہ کے لئے معاف کردیا صرف مجھے میری خاطر معاف کرو ۔فریادی نے کہا تو پھر میں اللہ کے لئے تمہیں معاف کرتا ہوں ۔
اس کے بعد فریادی سے کہا کہ اب تم واپس چلے جاؤ (١)
"عدل فاروقی " سیمابی کیفیت کا حامل تھا جہاں فریادی کو انصاف کی جگہ بعض اوقات کوڑے کھانا پڑتے تھے ۔
٢:- حضرت عمر نے نعمان بن عدی بن نفیلہ کو علاقہ "میسان" کا عامل مقرر کیا کچھ دنوں بعد حضرت عمر کو کسی نے نعمان کی ایک نظم سنائی ۔ جس میں رنگ تغزل وتشبیب نمایاں تھا۔ حضرت عمر نے انہیں لکھا کہ میں نے تجھے تیرے عہدہ سے معزول کردیا ہے ۔لہذا تم واپس آجاؤ ۔
جب وہ واپس آیا تو اس نے کہا کہ خدا کی قسم میں نے کبھی نہ تو شراب پی ہے اور نہ ہی کبھی عورتوں سے عشق لڑایا ہے ۔ یہ تو صرف شاعر انہ رنگ تھا جس کا اظہار میرے اشعار سے ہوا ہے ۔
حضرت عمر نے کہا درست ہے لیکن تم آج سے میری حکومت کے لئے کوئی کا م سرانجام نہیں دوگے ۔
٣:- ایک قریشی کو حضرت عمر نے عامل بنایا ۔اسکا ایک شعر حضرت عمر کو سنا یا گیا
اسقنی شربۃ تروی عظامی ۔۔۔۔۔۔۔۔واسق باللہ مثلھا ابن ھشام
مجھے ایک گھونٹ پلا جس سے میری ہڈیاں سیراب ہوں اور اس جیسا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(١):- عبدالفتاح عبدالمقصود ۔الامام علی بن ابی طالب ۔جلد اول ۔ص ٢٠٠۔

١٣٨
ایک پیالہ ابن ہشام کو بھی پلا ۔
شعر سن کر حضرت عمر نے بلا یا ۔شاعر صاحب بڑے کایاں تھے جب آئے تو حضرت عمر پوچھا ۔مذکورہ شعرتم نے کہاتھا؟
اس نے کہا جی ہاں !کیا اس کے ساتھ والا دوسرا شعر آپ نے نہیں سنا ؟
کہا نہیں ۔ شاعر نے کہاکہ اس کا دوسرا شعر یہ ہے ۔
عسلا باردا بمآء غمام ۔۔۔۔۔۔اننی لااحب شرب المدام
بارش کے ٹھنڈے پانی میں شہد ملا کر مجھے پلا ۔میں شراب پینے کو پسند نہیں کرتا ۔
اس کی اس حاضر جوابی کو سن کر حضرت عمر بڑے محفوظ ہوئے اور کہا تم اپنے فرائض بدستور سرانجام دیتے رہو۔
٤:- حضرت عمر نے ایک عامل سے قرآن واحکام کے متعلق سوالات کئے تو اس نے تسلی بخش جواب دئیے تو اسے کہا تم اپنا کام سرانجام دیتے رہو ۔جاتے ہوئے وہ واپس آیا اور رات میں نے ایک خواب دیکھاہے کہ آپ اس کی تعبیر بتائیں ۔حضرت عمر نے کہا خواب بیان کرو ۔اس نے کہا ۔رات میں نے سورج اور چاند کو ایک دوسرے سے لڑتے دیکھا اور ہر ایک کے پاس لشکر بھی تھا ۔ حضرت عمر نے پوچھا تم کس لشکرمیں تھے ؟ اس نے کہا کہ میں چاند کے لشکر میں شامل تھا ۔
حضرت عمر نے کہا۔ میں نے تجھے معزول کردیا کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے "وجعلنا اللیل والنھار ایتین فمحونا آیۃ اللیل وجعلنا آیۃ النھا ر مبصرۃ " ہم نے رات اور دن کو دو نشانیاں بنایا ۔ہم نے رات کی نشانی کو مٹایا اور دن کی نشانی کو روشن بنایا (١)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(١):- ابن ابی الحدید ۔شرح نہج البلاغہ ۔جلد سوم ۔ص ٩٨ ۔بنی اسرائیل ١٢

١٣٩
٥:- مقام حدیبیہ پر رسول خدا اور سہیل بن عمرو کے درمیان صلح نامہ لکھا گیا جس میں ایک شرط یہ تھی کہ :مکہ کا جو فردمسلمانوں کے پاس جائے گا مسلمان اسے واپس کریں گے مسلمانوں کا کوئی شخص اگر مکہ والوں کے پاس پناہ لےگا تو واپس نہ کیا جائے گا ۔
اس شرط کو دیکھ کر حضرت عمر بہت ناراض ہوئے اور حضرت ابو بکر کے پاس گئے اور ان کے سامنے احتجاج کیا پھر رسول خدا کے پاس آکر بیٹھے اور کہا ۔آپ ہمیں دین میں کیوں رسوا کرنا چاہتے ہیں ؟
رسول خدا (ص) نے فرمایا میں اللہ کا رسول ہوں اس کی نافرمانی نہیں کرونگا ۔
حضرت عمر ناراض ہوکر اٹھ کھڑے ہوئے اور کہا خدا کی قسم !اگر آج میرے پاس مددگار ہوتے تو میں رسوائی کبھی برداشت نہ کرتا (١)
حضرت عمر ایک رات عبدالرحمن بن عوف کو ساتھ لے کر شہر میں چل رہے تھے انہوں نے چند افراد کو شراب پیتے ہوئے دیکھ لیا ۔ عبدالرحمن سے کہا میں انہیں پہچان چکا ہوں ۔جب صبح ہوئی تو ان لوگوں کو بلا کر کہا ۔رات تم شراب نوشی کیوں کر رہے تھے ؟
ان میں سے ایک شخص نے کہا :- آپ کو کس نے بتایا ؟
حضرت عمر نے کہا:- رات میں نے تمہیں اپنی آنکھوں سے مے نوشی کرتے ہوئے دیکھا تھا ۔ اس شخص نے کہا ۔ کیا اللہ نے آپ کو تجسس سے قرآن میں منع نہیں کیا ؟حضرت عمر نے اسے معاف کردیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(١):- ابن اثیر ۔الکامل فی التاریخ ۔جلد سوم ص ٣٠



۱۴
سیرت رسول اور سیرت عمر میں اختلاف المیہ جمعرات

١٤٠

سیرت رسول اور سیرت عمر میں اختلاف
اس سے قبل ہم تقسیم غنائم اور صلح حدیبیہ کے متن میں حضرت عمر کے اختلاف کا تذکرہ کرچکے ہیں ۔ علاوہ ازیں مزید اختلافات بطور "مشتے از خردارے" نقل کرتے ہیں ۔سیرت کے اختلاف کی یہ چند مثالیں ہیں ورنہ :-

سفینہ چاہیئے اس بحر بے کراں کے لئے

١:- فتح خیبر کے بعد رسول خدا (ص) نے یہود خیبر سے معاہدہ کیا تھا کہ خیبر کے باغات کی نگرانی کریں گے اور بٹائی میں انہیں آدھا حصہ دیاجائے گا ۔رسول خدا (ص) کی زندگی میں یہی ہوتا رہا ۔حضرت ابو بکر کے زمانہ خلافت میں بھی اسی معاہدہ پر عمل ہوتا رہا ۔حضرت عمر نے ان سے زمین وباغات واپس لے لئے اور انہیں جلاوطن کردیا ۔
٢:- رسول خدا نے وادی القری کو فتح کیا اور وہاں کے یہود سے بھی خیبر کے یہودیوں جیسا معاہدہ فرمایا ۔
حضرت عمر نے اپنے دور اقتدار میں انہیں جلاوطن کر کے شام بھیج دیا اور ان سے تمام زمین چھین لی (١)۔

سیرت شیخین کا باہمی تضاد
گزشتہ اوراق میں ہم کچھ اختلا فات کا تذکرہ کرچکے ہیں اور ان صفحات میں بطور نمونہ چند مزید اختلاف نقل کرتے ہیں اور صاحبان علم سے دریافت کرتے ہیں کہ جب ان دونوں بزرگوں کی سیرت ایک دوسرے سے ہی نہیں ملتی تھی تو سیرت شیخین کی اصطلاح وضع کیوں کی گئی اور اسے حصول خلافت کیلئے شرط کیوں قراردیا گیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(١):- البلاذری ۔فتوح البلدان ۔ص ٣٦۔

١٤١
١:- عیینہ بن حصین اور اقرع بن حابس حضرت ابو بکر کے پاس گئے اور ان سے عرض کی ! اے خلیفۃ الرسول ! ہمارے پاس بنجر زمین پڑی ہوئی ہے اس میں کسی قسم کی کوئی زراعت وغیرہ نہیں ہوتی ۔اگر آپ وہ زمین ہمیں عنایت کردیں تو ہم وہاں محنت کریں گے ممکن ہے کسی دن وہ ہمیں فائدہ بھی دے جائے ۔
حضرت ابو بکر نے ان کی درخواست سن کر حاضرین سے مشورہ لیا ۔
حاضرین نے زمین دینے کی حامی بھری ۔پھر حضرت ابوبکر نے انہیں اس زمین کی ملکیت تحریر کردی اور گواہوں نے بھی دستخط کردئیے ۔لیکن اس وقت حضرت عمر موجود نہ تھے ۔ راستے میں حضرت عمر کی ان سے ملاقات ہوگئی اور ان سے پوچھا کہ یہ کیا ہے ؟ انہوں نے بتایا کہ یہ زمین کی ملکیت کا گوشوارہ ہے حضرت عمر نے ان سے مذکورہ تحریر لے کر اسے پھاڑ ڈالا اور انہیں کہا : رسول خدا (ص) جس زمانے میں تمہاری تالیف قلب کیا کرتے تھے وہ اسلام کی ذلت کے دن تھے اور آج الحمدللہ اسلام ترقی کرچکا ہے ۔ہمیں تمہاری تالیف قلب کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔
یہ سن کر وہ حضرت ابوبکر کے پاس آئے اور حضرت عمر کے سلوک کا شکوہ کیا ۔اتنے میں حضرت عمر بھی پہنچ گئے اور بڑے ناراض لہجہ میں حضرت ابو بکر سے پو چھا : آپ نے ان دونوں کو جو زمین دی ہے کیا وہ آپ کی ذاتی جاگیر ہے یا تمام مسلمانوں کی ہے ؟
حضرت ابو بکر نے کہا: یہ تمام مسلمانوں کی جاگیر ہے ۔پھر حضرت عمر نے کہا آپ نے جماعت مسلمین کے مشورہ کے بغیر انہیں زمین کیوں دے دی ؟
حضرت ابو بکر نے کہا میں نے ان حاضرین سے مشورہ کیا تھا اور ان کے مشورہ اور اجازت سے ہی میں نے ان کو زمین دی تھی ۔
حضرت عمر نے کہا: کیا مسلمانوں کا ہر فرد صحیح مشورہ دینے کا اہل ہوتا ہے ؟؟(١)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(١):- ابن ابی الحدید ۔شرح نہج البلاغہ ۔جلد سوم ۔ص ١٠٨ طبع اول

١٤٢
٢:- حضرت ابو بکر اور حضرت عمر کی سیرت کے اختلاف کو مالک بن نویرہ کے واقعہ میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے ۔

مالک بن نویرہ کا واقعہ
یہ تاریخ اسلام کا ایک افسوس ناک واقعہ ہے ۔اس واقعہ میں خالد بن ولید نے اجتماعی اور دینی لحاظ سے بہت غلطیاں کیں ۔
١:- خلیفہ کی اجازت کے بغیر خالد نے مالک بن نویرہ پر لشکر کشی کی۔
٢:- دینی اعتبار سے مالک پر لشکر کشی ناجائز تھی ۔
٣:- خالد نے مالک کے قتل کرنے کا جن الفاظ میں حکم دیا اسے "غدر "سے تعبیر کرنا زیادہ مناسب ہے ۔جس کی اسلام میں گنجائش نہیں ہے ۔
٤:- ابھی مالک کی لاش بھی ٹھنڈی نہیں ہوئی تھی کہ خالد نے مالک کی بیوی سے نکاح کرلیا ۔قانون عفت ،انسانی وجدان اور اسلامی شریعت اس نکاح کی اجازت نہیں دیتے مگر ان تمام جرائم کو حضرت ابو بکر نے معاف کردیا ۔جب کہ حضرت عمر نے خالد کی اس حرکت کوناپسند کیا اور جب خلیفہ مقرر ہوئے تو خالد کو معزول کردیا ۔ اس واقعہ کا خلاصہ یہ ہے :
ابن اثیر رقم طراز ہیں کہ "جب خالد فزارہ ، اسد اور بنی طے کی لڑائی سے فارغ ہوا تو اس نے "بطاح" کا رخ کیا ۔اس وادی میں مالک بن نویرہ اور اس کی قوم رہائش پزیر تھی ۔ خالد کے کچھ ساتھیوں نے اس کا ساتھ دینے سے معذرت کی اور کہا کہ ہمیں خلیفہ نے یہ حکم نہیں دیا ہے ۔خلیفہ نے ہمیں کہا تھا کہ جب ہم "بزاحہ" سے فارغ ہوجائیں تو خلیفہ کے حکم ثانی کا انتظار کریں ۔خالد نےکہا : میں تمھارا سالار ہوں ۔ مالک بن نویرہ میرے پنجے میں پھنس چکا ہے اگر تم میرے ساتھ نہیں چلتے تو مت چلو میں اپنے ساتھ مہاجرین کا دستہ لے کرچلا جاؤں گا ۔"

١٤٣
حضرت ابوبکر نے اپنے لشکر کو نصیحت کی تھی کہ جب تم کسی منزل پر قیام کرو تو وہاں اذان دو ، اگر مخالف بھی اذان دیں تو انہیں کچھ نہ کہو اور اگر وہ اذان نہ دیں تو ان سے جنگ کرو ۔اگر وہ اذان دیں تو ان سے زکواۃ کے متعلق سوال کرو اور اگر وہ زکواۃ کی فرضیت کا اقرار کریں تو ان کی بات قبول کرو اور اگر وہ زکواۃ کا انکار کریں تو ان سے جنگ کرو ۔
جب خالد اپنا لشکرلے کر وہاں پہنچا اور انہوں نے اذان دی تو اس کے جواب میں مالک کے قبیلہ نے بھی اذان دی اور نماز پڑھی اور اس امر کی گواہی خالد کے ایک فوجی ابو قتادہ نے بھی دی ۔
خالد کے لشکر نے اس مسلمان قبیلہ پر شب خون مارا ، دونوں طرف سے تلواریں چلنے لگیں ۔ مالک کے قبیلہ والوں نے حملہ آوروں سے پوچھا کہ تم کون ہو؟
انہوں نے کہا ہم مسلمان ہیں ۔تو مالک کے قبیلہ نے بھی کہا کہ ہم بھی مسلمان ہیں لہذا لڑائی کیسی ؟
خالد کے لشکر نے انہیں ہتھیار ڈالنے کو کہا انہوں نے مسلمانوں پر اعتماد کرتے ہوئے ہتھیارڈال دئیے تو خالد نے حکم دیا کہ انہیں گرفتار کرلو ۔انہیں گرفتار کرکے خالد کے پاس لایا گیا ۔ گرفتار شدہ گان میں مالک بن نویرہ بھی تھا ۔ اس کی بیوی اسے ملنے آئی وہ بڑی خوبصورت عورت تھی ۔خالد نے اسے دیکھا ا س وقت مالک نے بیوی سے کہا کہ "کاش تو نہ آتی تو ہم بچ جاتے ۔ اب خالد نے تجھے دیکھ لیا ہے اور اس کی للچائی ہوئی نظریں دیکھ کر میں سمجھتاہوں کہ یہ تجھے حاصل کرنے کے لئے ہمیں قتل کردے گا ۔"
وہ ایک سرد اور تاریک رات تھی ۔قیدی بے چارے سردی میں ٹھٹھر رہے تھے ۔ خالد نے منادی کو حکم دیا کہ اس نے بلند آواز میں ندا دی "ادفوو سراکم " بنی کنانہ کی لغت کے مطابق اس جملے کا ترجمہ یہ ہے کہ اپنے قیدیوں کو قتل کردو ۔

١٤٤
خالد کے فوجی اٹھے اور اس مسلمان قبیلے کے نمازی افراد کو بے گناہ تہ تیغ کردیا ۔
ابھی مقتولین کی لاشیں تڑپ رہی تھیں کہ خالد نے مالک کی بیوی ام عتیم سے شادی کرلی ۔یہی منظر دیکھ کر ابو قتادہ مدینہ آیا اور حضرت ابو بکر کو واقعہ کی اطلاع دی یہ خبر سن کر حضرت عمر نے کہا کہ خالد کی تلوار میں اسراف آگیا ہے لہذا اسے معزول کرکے سزا دیں ۔
حضرت ابو بکر نے کہا کہ اس نے تاویل کی اور اس سے ایک غلطی سرزد ہوگئی۔ خالد تواللہ کی تلوار ہے ۔تم خالد کے متعلق اپنے منہ سے کچھ نہ کہو ۔چند دنوں بعد خالد بھی مدینہ آیا اور حضرت ابوبکر کے سامنے اپنی غلطی کی معذرت کی ۔حضرت ابوبکر نے اسے معاف کردیا اور اس کی شادی کوبھی جائز قرار دیا ۔
مالک بن نویرہ کا بھائی متمم بن نویرہ حضرت ابوبکر کے پاس آیا اور مطالبہ کیا کہ اس کے بھائی کو خالد نے ناحق قتل کیا ہے اور ہمارے افراد کو ناحق قید کرکے مدینے لایا ہے ۔ لہذا مجھے قانون شریعت کے مطابق خالد سے قصاص دلایا جائےاور ہمارے قبیلہ کے قیدیوں کو رہا کیا جائے ۔ حضرت ابوبکر نے قیدیوں کو فی الفور رہا کردیا اور خالد پر قصاص نافذ کرنے کی بجائے بیت المال سے مالک کا خون بہا ادا کیا
متمم بن نویرہ اپنے بھائی مالک کے ہمیشہ مرثیے کہا کرتا تھا ۔ اس کے مرثیے ادب عربی میں آج بھی شہ پاروں کی حیثیت رکھتے ہیں (١)۔

واقعہ مالک کا تجزیہ
١:- یہ لشکر کشی خلیفہ کے حکم اور اطلاع کے بغیر کی گئی ۔
٢:- خلیفہ کی طرف سے لشکر کو حکم تھا کہ وہ اذان دیں ، اگر جواب میں مخالفین
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(١):-الکامل فی التاریخ جلد دوم ۔ص ٢٤٢-٢٤٣

١٤٥
بھی اذان دیں تو ان سے جنگ نہ کی جائے ۔ان سے زکواۃ کے متعلق دریافت کیا جائے کہ آیا وہ اس کی فرضیت کے قائل ہیں ؟ اگر وہ قائل ہوں تو ان سے کسی قسم کی چھیڑ خانی نہ کی جائے ۔
آخر مالک اور اس کے قبلہ کا جرم کیا تھا ؟ انہوں نے اذان دی اور نماز پڑھی ۔جس کی گواہی صحابی رسول ابو قتادہ نے دی ۔ اس کے باوجود بھی انہیں قتل کردیا گیا ۔آخر کیوں؟
٣:- خالد نے بھی ان کے قتل کا حکم جن الفاظ سے دیا وہ الفاظ ذومعنی تھے ۔ اس حملے کا ایک مطلب یہ بنتا تھا کہ "اپنے قیدیوں کو گرم کرو" اور لغت بنی کنانہ میں اس جملے کا مطلب تھا کہ "اپنے قیدیوں کو قتل کردو ۔"خالد نے دراصل یہ سمجھا کہ میں ان الفاظ کے ذریعے سے قیدیوں کو قتل کرادوں گا۔اور خلیفہ کی طرف سے سختی ہوئی تو میں کہہ کر بری الذمہ ہوجاؤں گا ۔کہ میں نے تو قیدیوں کو گرم کرنے کا حکم دیا تھا ۔ قتل کرنے کا حکم تو میں نے جاری نہیں کیا تھا ۔فوجیوں نے میرے الفاظ کا مطلب غلط سمجھا ۔لہذا اس پورے واقعہ میں میں با لکل بے گناہ سمجھاؤں گا ۔
٤:- اگرخالد کو نماز اور ذان کے باوجود بھی ان کے اسلام میں شک تھا تو انہیں خلیفہ کے پاس مدینہ بھیج دیتے ۔انہیں اس طرح سے قتل کرنے کا اختیار کس نے دیا تھا ؟
٥:-شوہر کی لاش ! ابھی تڑپ رہی تھی اور خالد نے اس کی بیوی کو اپنی بیوی بنالیا ۔خالد کا یہ فعل ہر لحاظ سے قابل مذمت ہے ۔اس کی اجازت نہ تو دین اسلام دیتا ہے اورنہ ہی انسانیت اس کو جائز سمجھتی ہے ۔
٦:- حضرت ابو بکر خالد کے اتنے بڑے کو کیوں معاف فرمایا جبکہ حضرت عمر بھی خالد کو مجرم قرار دے کر حد شرعی کا مطالبہ کررہے تھے ؟

١٤٦
٧:- خالد نے بھی خلیفہ کے سامنے اپنی غلطی کا اعتراف کرکے معذرت طلب کی تھی اور خلیفہ صاحب نے معاف کردیا تھا ۔کیا اسلامی شریعت میں کوئی ایسی شق موجود ہے کہ مجرم اپنے گناہ کا اقرار کرکے معذرت کرے اس پر حد شرعی نافذ نہ کی جائے ۔
٨:-کیا نص کی موجودگی میں اجتہاد کی گنجائش ہے ؟
غالبا یہی وجہ تھی کہ حضرت علی (ع) نے سیرت شیخین کی شرط کو ٹھکراکر کہا تھا میری اپنی ایک بصیرت ہے ۔
٩:- حضرت ابو بکر کا طرز عمل بھی خالد کے غلط کار ہونے کا ثبوت فراہم کرتا ہے ۔کیونکہ انہوں نے قیدیوں کو رہا کردیا تھا اور مالک کا خون بہا مسلمانوں کے بیت المال سے ادا کیا گیا ۔لیکن ہمیں اس بات کی سمجھ نہیں آتی کہ خالد کے گناہ کے لئے مسلمانوں کے بیت المال پر کیوں بوجھ ڈالا گیا ؟ اس واقعہ کے بعد ابو قتادہ نے قسم کھالی تھی کہ آیندہ پوری زندگی خالد کے لشکر میں کبھی شامل نہ ہوں گے اور اس ظلم کو دیکھ کر وہ لشکر میں کبھی شامل نہ ہوں گے اور اس ظلم کو دیکھ کر وہ لشکر کو چھوڑ کر مدینہ آگئے اور حضرت ابوبکر کو تمام ماجرے کی خبر دی اور کہا کہ میں نے خالد کو مالک کے قتل سے منع کیا تھا لیکن اس نے میری بات نہیں مانی ۔اس نے اعراب کے مشورہ پر عمل کیا جن کا مقصد صرف لوٹ مار کرنا تھا۔
ابو قتادہ کی باتیں سن کر حضرت عمر نے کہا کہ اس سے قصاص لینا واجب ہوگیا ہے (١)۔اور جب خالد مدینہ آئے تو حضرت عمر نے کہا : اے اپنی جان کے دشمن ! تو نے ایک مسلمان پر چڑھائی کی اور اسے ناحق قتل کردیا اور تو نے اس کی بیوی کو ہتھیالیا ۔یہ صریحا زنا ہے ۔خدا کی قسم ہم تجھے سنگسار کریں گے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(١):- ابن ابی الحدید ۔شرح نہج البلاغہ ۔جلد چہارم ۔ص ١٨٤

١٤٧
مورخین لکھتے ہیں کہ جب حضرت عمر بر سر اقتدار ہوئے تو انہوں نے مالک کے خاندان کے بقیہ السیف افراد کو جمع کیا اور پھر مسلمانوں کو حکم دیا کہ اس خاندان کا لوٹا ہوا مال و متاع فی الفور واپس کیا جائے ۔ حضرت عمر نے یہاں تک کیا کہ ان کی جن خواتین کو اس وقت کنیزیں بنا کر فروخت کردیا گيا تھا ان سب عورتوں کو لوگوں سے واپس کرایا اور ان میں سے بعض حواتین حاملہ بھی تھیں ان عورتوں کو سابق شوہروں کے حوالے کیا گیا ۔
علاوہ ازیں خالد وہی شخصیت ہیں جنہوں نے حضرت ابو بکر کے اواخر خلافت میں سعد بن عبادہ کو علاقہ شام میں رات کی تاریکی میں قتل کردیا تھا اور بعدمیں یہ مشہور کیا گیا کہ انہیں جنات نے قتل کیا ہے ۔
خالد بن ولید کے یہی کارنامے تھے جن کی وجہ سے حضرت عمر نے انہیں فوج کی سالاری سے معزول کردیا تھا ۔
ابن اثیر لکھتے ہیں کہ حضرت عمر نے حکومت سنبھالتے ہی پہلا کام یہ کیا کہ انہوں نے اپنے سالار ابو عبیدہ کو خط لکھا کہ وہ خالد کا لشکر سنبھال لیں ۔ کیوں کہ میں نے اسے معزول کردیا ہے اور جب تمہیں میرا یہ خط پہنچے تو خالد کے سر سے پگڑی اتار لینا او راس کا مال تقسیم کردینا (١)۔
درج بالا واقعات کی روشنی میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں :- دینی اور دنیاوی لحاظ سے سیرت شیخین کوئی منظم اور مدوّن چیز ہی نہیں تھی یہی وجہ ہے کہ حضرت علی علیہ السلام نے قبول کرنے سے انکار کردیا تھا ۔ کیونکہ حضرت علی یہ سمجھتے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(١):- الکامل فی التاریخ جلد ۔جلد سوم ۔ص ٢٩٣

١٤٧
تھے کہ اسلامی حکومت کی بنیاد کتاب وسنت ہے ۔علاوہ ازیں کسی لاحقہ کی ضرورت نہیں ہے ۔علی موجود دور کے سیاست دان نہیں تھے کہ اقتدار کے لئے کسی ناجائز شرط کو تسلیم کرلیتے ۔
اس کے برعکس حضر ت عثمان نے تینوں شرائط کو قبول کرنے کا وعدہ کیاتھا ۔مگر تاریخ بتاتی ہے کہ وہ نہ تو کتاب وسنت پر کما حقہ عمل کرسکے اور نہی عمل سیرت شیخین پر عمل پیرا ہوئے ۔



۱۵
سقیفہ کا تیسرا چہرہ المیہ جمعرات

١٤٨
سقیفہ کا تیسرا چہرہ

٣:- حضرت عثمان بن عفان:-
فقام ثالث القوم نافجا حفنیہ بین نشیلہ و معتلفہ وقام معہ بنو ابیہ یخصمون مال اللہ خصمۃ الابل نبتۃ الربیع الی ان انتکت قتلہ واجھز علیہ عملہ وکبّت بہ بطنتہ فماراعنی الا والناس کعرف الضبع الی ینثالون علی من کیل جانب حتی لقد وطئی الحسنان وشق عطفای مجتمعین حولی کربیضۃ الغنم ۔۔۔۔۔۔(الامام علی بن ابی طالب علیہ السلام)
"پھر اس قوم کا تیسرا شخص پیٹ پھلائے سرگین اور چارے کے درمیان کھڑاہوا اور اس کے ساتھ اس کے بھائی بند اٹھ کھڑے ہوئے ۔جو مال کو اس طرح نگلتے تھے جس طرح اونٹ فصل ربیع کا چارہ چرتا ہے ۔
یہاں تک کہ وہ وقت آگیا جب اس کی بٹی ہوئی رسی کے بل کھل گئے اور اس کی بد اعمالیوں نے اس کا کام تمام کردیا اور شکم پری نے اسے منہ کے بل کرادیا ۔اس وقت مجھے لوگوں کے ہجوم نے دہشت زدہ کردیا جو میری جانب بجو کے ایال کی طرف سے لگا تار بڑھ رہا تھا ۔یہاں تک کہ عالم یہ ہوا کہ حسن اور

١٤٩
حسین کچلے جارہے تھے اور میری ردا کے دونوں کنارے پھٹ گئے تھے وہ سب میرے گرد بکریوں کے گلے کی طرح گھیرا ڈالے ہوئے تھے ۔مگر اس کے باوجود جب میں امر خلافت کو لے کر اٹھا تو ایک گروہ نے بیعت توڑ ڈالی ،دوسرا دین سے نکل گیا اور تیسرے گروہ نے فسق اختیار کرلیا ۔گویا انہوں نے اللہ کا یہ ارشاد سنا ہی نہ تھا کہ "یہ آخرت کا گھر ہم نے ان لوگوں کے لئے قراردیا ہے جو دنیا میں نہ بے جا بلندی چاہتے ہیں اور نہ فساد پھیلاتے ہیں اور اچھا انجام پرہیزگاروں کیلئے ہے ۔"
ہاں ہاں خدا کی قسم! ان لوگوں نے اس کو سنا تھا اور یاد کیا تھا ۔لیکن ان کی نگاہوں میں دنیا کا جمال کھب گیا اوراس کی سج دھج نے انہیں لبھا دیا ۔ دیکھو اس ذات کی قسم ! جس نے دانے کو شگافتہ کیا اور ذی روح چیزیں پیدا کیں اگر بیعت کرنے والوں کی موجودگی اور مدد کرنے والوں کے وجود سے مجھ پر حجت تمام نہ ہوگئی ہوتی اور وہ عہد نہ ہوتا جو اللہ نے علماء سے لے رکھا ہے ۔کہ وہ ظالم کی شکم پری اور مظلوم کی گرسنگی پر سکون وقرار سے نہ بیٹھی تو میں خلافت کی باگ دوڑ اسی کے کندھے پر ڈال دیتا اور اس کے آخر کو اسی پیالے سےسیراب کرتا جس پیالے سے اس کے اول کو سیراب کیا تھا اور تم اپنی دنیا کومیری نظروں میں بکری کی چھینک سے بھی زیادہ قابل اعتنا نہ پاتے (١)۔"
حضرت عمر کی وفات کے بعد عبدالرحمن بن عوف کی "خصوصی عنایت " کے ذریعے سے حضرت عثمان بر سر اقتدار آئے ۔
اقتدار پر فائز ہوتے ہی انہوں نے پہلا کا یہ کیا کہ انہوں نے اپنے رشتہ داروں بنی امیہ اور آل ابی معیط کو حکومت کے کلیدی عہدوں پر فائز کردیا ۔ان میں ایسے حکام بکثرت تھے جنہوں نے اسلام اور رسول اسلام کے خلاف علم بغاوت بلند کیا تھا ۔ان کے دلوں میں تعلیمات اسلام کی بجائے امیہ بن عبدالشمس اور حرب اور
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(١):-نہج البلاغہ خطبہ شقشقیہ سے اقتباس۔

١٥٠
ابو سفیان اور ہند بنت عتبہ اور معاویہ کی تعلیمات جاگزیں تھیں ۔
حضرت عثمان نے امور مملکت کے لئے اسلام دشمن عناصر اورمردان بن حکم جیسے لوگوں کی خدمات حاصل کیں اور یوں ان لوگوں کے ہاتھوں اسلامی تعلیمات مسخ ہوگئیں ۔
اموی اقتدار نے عالم عرب میں فساد وفسق کی تخم ریزی کی ۔ان کے اقتدار کے نتیجہ میں لوگوں میں ہوس زر پروان چڑھی اور احقاق حق اور ابطال باطل کے اسلامی جذبات کے بجائے قبائلی اور خاندانی عصبیوں نے جنم لیا ۔
اس مقام پر ہم عالم عرب پر اموی اقتدار کے منحوس نتائج پر بحث نہیں کرنا چاہتے بلکہ ہم اپنی اس بحث کو خلیفہ ثالث کے عہد تک محدود رکھنا چاہتے ہیں کہ اس دور میں بنی امیہ پر کیا کیا نوازشات ہوئیں اور ان نوازشات کی وجہ سے گمنام خاندان نے کس طرح اپنی حیثیت تسلیم کرائی ، اور کس طرح سے انہوں نے آئندہ کے لئے اپنی راہ ہموار کی ۔لیکن اس سے پہلے یہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ بنی امیہ کی اسلام دشمنی کا ایک مختصر جائزہ پیش کیا جائے ۔

بنی امیہ کی اسلام دشمنی

جنگ بدر
جنگ بدر کا معرکہ بنی امیہ کی اسلام دشمنی کی بولتی ہوئی تصویر ہے ۔اس میں معاویہ کا بھائی حنظلہ بن ابی سفیان بن حرب بن امیہ بن عبدالشمس قتل ہوا ۔
حضرت عثمان کے قریبی اعزا میں سے عاص بن سعید عاص اور عبیدہ بن سعید بن عاص اور ولید بن عقبہ بن ربیعہ بن عبدالشمس اوریہ معاویہ بن ابی

١٥١
سفیان کا ماموں تھا اور اس کی جگر خوار ماں ہند کا بھائی تھا اور شبیہ بن ربیعہ بن عبدالشمس اور عقبہ بن ابی معیط جو کہ حضرت عثمان کے مادری بھائی ولید کا باپ تھا ، یہ سب اموی قتل ہوئے تھے ۔ علاوہ ازیں بہت سے اموی جنگ بدر میں قیدی بھی ہوئے تھے جن میں ابو العاص بن ربیع بع بعدالعزی بن عبد الشمس اور حرث بن وجزہ بن ابی عمر بن امیہ بن عبد الشمس سرفہرست تھے اور ان کے علاوہ معاویہ کا بھائی عمر و بن ابی سفیان جو کہ عقبہ بن ابی معیط کا داماد تھا "وہ بھی قیدیوں میں شامل تھا ۔
ابو سفیان کے کسی ساتھی نے اسے مشورہ دیا کہ اپنے بیٹے کو چھڑانے کے لئے فدیہ ادا کرو ۔ابو سفیان نے کہا کیا میرے ہی گھرانے قتل ہوا ہے اور فدیہ بھی میں نے ہی دینا ہے ؟ میرے ایک بیٹے حنظلہ کو قتل کیا جاچکا ہے اور اب میں دوسرے بیٹے کا فدیہ دے کر محمد (ص) کو مالی طورپر مضبوط کروں ؟ کوئی بات نہیں مینن اپنے بیٹے کرے لئے فدیہ ادا نہیں کروں گا ۔اسی اثناء میں ایک مسلمان جس کا نام سعد بن نعمان اکال تھا وہ اپنے بیٹے کے بدلے قید کرلیا اور کہا کہ مسلمان اس کی آزادی کے بدلہ میں جو فدیہ مجھے دیں گے میں وہی فدیہ دے کر اپنے بیٹے کو آزاد کراؤں گا اور اس سلسلہ میں ابو سفیان کے شعر بھی مشہور ہیں ۔
معاویہ کا نانا عتبہ جنگ بدر میں قتل ہوا تھا ۔اس کی بیٹی اور معاویہ کی ماں ہند اپنے مقتول باپ پر یہ مرثیہ پڑھا کرتی تھی ۔
یریب علینا دھرنا فیسوؤنا ۔۔۔۔ویا بی فما ناتی بشی نغالمہ
فابلغ اباسفیان عنی مالکا ۔۔۔۔ فان القہ یوما فسوف اعاتیہ

١٥٢
فقد کان حرب یسعر الحرب انہ ۔۔۔۔ لکل امری فی الناس مولی یطالبہ
"آج زمانے ک گردش ہماری مخالف ہوچکی ہے اور ہمارے پاس کوئی ایسا طریقہ نہیں ہے جس کی وجہ سے ہم زمانے کی گردش پہ غالب آسکیں ۔"
ابو سفیان !میری طرف سے مالک تک یہ پیغام پہنچادو اگر میں اس سے کسی دن ملی تو اسے ملامت کروں گی ۔
حرب تو جنگ کی آگ بھڑکا یا کرتا تھا اور یاد رکھ لو ہر شخص کا کوئی نہ کوئی وارث ہوتا ہے جو اس کے قصاص کا مطالبہ کرتا ہے "۔
جنگ بدر میں بنی امیہ کا بے تحاشا جانی اور مالی نقصان ہوا تھا جس کی وجہ سے ان کی عداوت کے شعلے مزید بھڑک اٹھے تھے اور دلی کدورتوں کو مزید جلا مل گئی تھی اور وہ ہمیشہ بدر کا انتقام لینے کی سوچتے رہتے تھے ۔ دشمنان مصطفی میں ابو سفیان سر فہرست تھا ، اس نے کفار قریش کو ایک نئی جنگ کے لئے آمادہ کیا اور باقی عرب کو ہم نوا بنانے کے لئے افراد کو سفیر بنایا گیا ۔ جن میں عمرو بن عاص پیش پیش تھا ۔جنگ احد کے لئے ابو سفیان اپنے ساتھ کفار کا ایک لشکر لے کر روانہ ہو اور کفار کو مزید ترغیب دینے کے لئے عورتوں کو بھی ساتھ لایا گیا تھا ۔
جن میں معاویہ کی ماں ہند اور خالد بن ولید کی بہن فاطمہ بنت ولید اور عمر وعاص کی بیوی ریطہ بنت منبہ شامل تھیں ۔ یہ عورتیں دف بجا کر مردوں کو لڑنے کی ترغیب دیتی تھیں اور اپنے مقتولین پر مرثیہ خوانی کرتی تھیں ۔
دوران سفر ہند کا گزر جب بھی" وحشی " کے پاس سے ہوتات تو کہتی :" ابو دسمہ" میرے جذبات کو ٹھنڈا کر اور تو بھی آزادی حاصل کر "۔
خالد بن ولید سواروں کی ایک جماعت کا سالار تھا اور ابو سفیان لات و

١٥٣
عزی کو اٹھا کر لایا تھااور ان کے پیچھے ہند دل سوز آواز مین دف کی تال پر جنگی گانے گارہی تھی جس کے چند فقرات یہ ہیں ۔"

نحن بنات طارق ۔۔۔نمشی علی النمارق
ان تقبلوا نعائق ۔۔۔ ونفرش النمارق
او تدبروا نفارق۔۔۔فراق غیر وافق
ہم ستاروں کی بیٹیاں ہیں ۔ نرم ونازک قالینوں پر چلنے والیاں ہیں ۔
آج تم اگر جنگ کروگے تم ہم تمہیں گلے لگائیں گی اور تمہارے لئے قالین بچھائیں گی
اور اگر آج تم نے پشت دکھائی تو ہم تم سے جدا ہوجائیں گی اور تم ہم سے ہماری کوئی رسم و راہ نہ ہوگی ۔"
جنگ احد میں عمر بن عاص بھی رجز پڑھ رہا اور شعر وشاعری کے ذریعے کفار کی ہمت افزائی میں پیش پیش تھا ۔
جنگ احد میں مسلمان تیر اندازوں کی غلطی کی وجہ سے جنگ کا پانسہ پلٹ گیا۔ خالد بن ولید مسلمان فوج کے عقب میں حملہ آور ہوا ،مسلمان فوج کے قدم اکھڑگئے ، صفیں منتشر ہوگئیں اور بہت سے جانبازان اسلام شہید ہوئے ۔جن میں رسول خدا کے پیارے چچا حضرت امیر حمزہ بھی شامل تھے۔
جنگ کے اختتام پر امیر معاویہ کی "والدہ ماجدہ" نے شہدا ئے احد کی لاشوں کی بے ادبی کی ۔شہدائے اسلام کے ناک اور کان کاٹے ان سے ہار تیار کیا اور گلے میں پہنا ۔اس پر بھی اس کی آتش انتقام ٹھنڈی نہ ہوئی تو حضرت حمزہ کا سینہ چاک کرکے ان کے جگر کو چبانا شروع کردیا جگر چبانے کے بعد ایک چٹان پر کھڑی ہوکر کہا :

١٥٤
"آج ہم نے بدرکا بدلہ لے لیا ہے ۔آج میں نے اپنے باپ ،بھائی اور چچا کا انتقام لے لیا ہے ۔"
حلیس بن زبان کی روایت ہے کہ میں نے احد میں ابو سفیان کو دیکھا وہ امیر حمزہ کے مردہ جسم کو ٹھوکریں مار کر کہتا تھا میری ٹھوکروں کا مزہ چکھ۔
وہاں سے جاتے وقت پھر ابو سفیان نے اعلان کیا کہ آیندہ سال ہم پھر بدر کے مقام پر تم سے جنگ کریں گے ۔
اس کے بعد ابو سفیان نے اسلام اوررسول اسلام کو مٹانے کی ہر ممکن کوشش کی اور ابو سفیان کی بدولت ہی جنگ خندق پیش آئی۔ابو سفیان نے مسلمانوں کے مرکز مدینہ طیبہ کو تباہ کرنے کے لئے مدینہ کے یہودیوں سے سازباز کی ۔
یہی ابو سفیان ہی تھا جس نے مہاجرین حبشہ کو نجاشی کے ملک سے نکالنے کے لئے عمرو بن عاص اور عبداللہ بن ابی ربیعہ پر مشتمل سفارت روانہ کی ۔
الغرض ہر طرح کی حرکتیں کرنے کے باوجود بھی جب بنی امیہ اسلام کو نہ مٹاسکے تو انہوں نے اسلام کو مٹانے کی ایک او رتدبیر کی اور سوچا کہ ہماری مخالفت کے باوجود اسلام ختم نہیں ہوا تو ہمیں چاہئیے کہ ہم مسلمان ہوجائیں اور اس طرح سے دو فائدے حاصل کرسکیں گے ۔اول اپنی جان بچائیں گے دوم مستقبل میں اسلام کےپیکر پر کاری ضرب لگانے کے بھی قابل ہوجائیں گے یعنی ان کی سوچ صرف یہی تھی کہ اگر بیرونی جارحیت کی وجہ سے ہم اسلام کو نقصان نہیں پہنچاسکے تو اندرونی سازشوں کے ذریعے سے اسلام سے انتقام لیا جاسکتا ہے اور فتح مکہ کے وقت انہوں نے اپنی تدبیر پر حرف بہ حرف عمل کیا ۔



۱۶
بنی امیہ کا اسلام المیہ جمعرات

١٥٥

بنی امیہ کا اسلام
کفار مکہ کا قائد فتح مکہ کے وقت مسلمان ہوگیا اور اس کے اسلام لانے کا واقعہ یہ ہے کہ جب جناب رسول خدا (ص) بھاری جمعیت لے کر مکہ سے باہر پہنچے تو اس وقت قریش کسی قسم کی مزاحمت کے قابل نہ تھے ابو سفیان نے رسولخدا(ص) کے چچا عباس کو مجبور کیا کہ وہ انہیں رسولخدا(ص) کی خدمت میں لے جائے ۔ جب عباس اسے لے کر حضور اکرم کی خدمت میں پہنچے تو رسول خدا (ص) نے فرمایا : " ابو سفیان کیا تمہارے لئے ابھی و ہ وقت نہیں آیا کہ تم اللہ کی وحدانیت کی گواہی دو؟"
ابو سفیان نے کہا ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ۔آپ کتنے شریف اور بردبار اورکریم ہیں ۔ اس چیز کے لئے میرے دل میں کچھ شک ہے ۔
عباس نے کہا : ابو سفیان اگر آج جان بچانی ہے تو مسلمان ہوجاؤ چنانچہ ابو سفیان مسلمان ہوگیا (١)۔
اسلام قبول کرنے کے بعد ابو سفیان نے اپنے کفر پر پروان چڑھنے والے اعصاب پر بظاہر کنٹرول کیا اور لوگوں کو دکھانے کے لئے بت پرستی چھوڑ ا اور نئے دین کا اعتراف کرنے لگا ۔لیکن رگوں میں رچی ہوئی بے دینی اور کفر کا گاہے گاہے اس سے اظہار بھی ہوجاتا تھا ۔
فتح مکہ کے بعد ایک کافر جس کا نام حرث بن ہشام تھا اس نے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(١):- تاریخ ابن خلدون ۔ جلد دوم ۔ص ٢٣٤

١٥٦
ابو سفیان سے کہا:- اگر میں محمد (ص) کو رسول مان لیتا تو اس کی ضرور پیروی کرتا ۔
ابو سفیان نے اس سے کہا :- میں کچھ کہنا نہیں چاہتا کیونکہ دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں اگر آج میں کچھ کہوں گا تو یہ پتھر بھی میرے خلاف گواہی دیں گے (١)۔
عبارت بالا سے معلوم ہوتا ہے کہ ابو سفیان کا اسلام منافقت پر مبنی تھا اگر وہ دل سے مسلمان ہوچکا ہوتا تو کافر کو منہ توڑ جواب دیتا
فتح مکہ کے وقت ابو سفیان کی جگر خوار بیوی ہندہ نے بھی بامر مجبوری اسلام قبول کیا تھا ۔
جب رسول خدا(ص) نے عورتوں سے بیعت لیتے وقت فرمایا کہ تم میری اس بات پر بیعت کرو کہ اپنی اولاد کو قتل نہ کروگی ۔
یہ سن کر ہند نے کہا:- ہم نے تو انہیں پال کر جوان کیا تھا لیکن تم نے بدر میں انہیں قتل کردیا ۔
رسول خدا(ص) نے فرمایا :- تم میری بیعت کرو کہ تم زنا نہیں کروگی ۔
ہند نے کہا:- کیا آزاد عورت بھی زنا کرتی ہے ؟
جب رسول خدا نے اس کا ترکی بہ ترکی جواب سنا تو عباس کی طرف دیکھ کر مسکرانے لگے ۔
اسلام دشمنی میں بنی امیہ کی مثال ڈھونڈ نے پر بھی کہین نہیں ملتی ۔
بنی امیہ جو حضرت عثمان کا خاندان تھا اس کے پیرو جواں غرضیکہ جن پر بھی نظر پڑتی ہے وہ اسلام دشمنی سے بھرا ہوا نظر آتا ہے ۔مروان کا باپ "حکم " رسول خدا (ص) کی نقلیں اتارا کرتا تھا ۔ اسی لئے رسول خدا (ص) نے اسے مدینہ سے جلاوطن کر کے طائف بھیج دیا تھا ۔
بلاذری لکھتے ہیےں :- حکم بن عاص بن امیہ حضرت عثمان کا چچا تھا ۔دور
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(١):- سیرت ابن ہشام ۔جلد چہارم ۔ ص ٣٣

١٥٧
جاہلیت میں رسول خدا کا پڑوسی تھا اور آپ کا بد ترین ہمسایہ تھا اور اسلام قبول کرنے کے بعد بھی رسول خدا کو سخت اذیت پہنچایا کرتا تھا ۔ وہ بدبخت حضور کے پس پشت ان کی نقلیں اتارا کرتا تھا ۔"
ایک دفعہ رسول خدا اپنی کسی گھر والی کے حجرے میں بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ نے اس اپنی نقل کرتے ہوئے دیکھ لیا ۔آپ باہر آئے اور فرمایا کہیہ اور اسکی اولاد میرے ساتھ نہیں رہ سکتی ۔ اس کے بعد آپ نے اسے اولاد سمیت طائف کی طرف جلاوطن کردیا ۔ حضرت ابو بکر اور حضرت عمر کے دور میں بھی وہ جلا وطن ہی رہا ۔جب عثمان بنے تو انہوں نے اپنے چچا کو وہاں سے مدینہ بلالیا (١)۔
حضرت عثمان کا ایک انتہائی معتمد ابن ابی سرح تھا اور یہ وہ شخص ہے جو کتابت وحی کیا کرتا تھا۔ اس نے وحی کی کتابت میں تحریف کی تو رسول خدا نے اسے واجب القتل قرار دیا ۔ حضرت عثمان کے دور حکومت میں ان کے مادری بھائی ولید بن ابی معیط کو بڑا رتبہ حاصل تھا اور یہ وہ شخص ہے جسے رسول خدا (ص) نے بنی مصطلق سے صدقات وصول کرنے کے لئے بھیجا تھا۔ موصوف جب اس خاندان کی آبادی کے قریب گئے تو ان سے ملے بغیر واپس چلے آئے اور رسول خدا کو بتایا کہ وہ لوگ تومیرے قتل کے درپے ہوگئے تھے ۔ مقدر اچھا تھا کہ میں بھاگ نکلا ۔
رسول خدا نے ان لوگوں کے خلاف فوج کشی کا ارادہ فرمایا ۔
اسی اثناء میں اس خاندان کے معزز افراد رسول خدا کے پاس آئے اور آکر بتایا کہ آپ کا عامل آیا تھا ۔ جب ہم نے اس کی آمد کی اطلاع سنی تو اس کے استقبال کے لئے آگے آئے لیکن آپ کا عامل ہم سے ملے بغیر واپس چلا گیا ۔
اللہ تعالی نے اس پر یہ آیت فرمائی "یا ایھا الذین آمنوا ان جاءکم فاسق بنباء فتبینوا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(١):- بلاذری ۔انساب الاشراف جلد ٥ ص ٢٢

١٥٨
"ایمان والو! جب کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو اس کی تحقیق کر لیا کرو۔۔۔۔۔۔۔۔"(١)
اللہ تعالی نے حضرت عثمان کے اس مادری بھائی کو قرآن مجید میں لفظ "فاسق" سے یاد فرمایا ہے ۔
ابو سفیان اور اس کے ہم نوا افراد کو دوسرے مسلمان "طلقاء" کے نام سے یاد کیا کرتے تھے ۔اور جب معاویہ کا ذکر ہوتا تو اس وقت کے مسلمان فرمایا کرتے تھے کہ معاویہ جو قائد المشرکین ابوسفیان کا بیٹا ہے اور وہ معاویہ جو ہند جگر خوار کا نور نظر ہے (٢)۔
زبیر بن بکار نے "موبقات میں مغیرہ بن شعبہ کی زبانی لکھا ہے کہ :- حضرت عمر نے ایک دن مجھ سے پوچھا کہ کیا تم نے کبھی اپنی کانی آنکھ سے بھی کچھ دیکھا ہے ؟ میں نے کہا نہیں۔
حضرت عمر نے کہا :- خدا کی قسم بنو امیہ تیری آنکھ کی طرح اسلام کو بھی کانا بنائیں گے اور پھر اسلام کو مکمل اندھا بنادیں گے کسی کو معلوم نہ ہوسکے گا کہ اسلام کہا ں سے آیا اور کہا ں چلا گیا ۔
امام بخاری اپنی صحیح میں لکھتے ہیں کہ :- ایک شخص نے رسول خدا (ص) سے پوچھا کہ کیا ہمارے ان اعمال کا بھی ہم سے محاسبہ ہوگا جو ہم نے دور جاہلیت میں سرانجام دئیے تھے ؟
آپ (ص) نے فرمایا نہیں ۔جس نے اسلام لاکر اچھے عمل کئے اس کا مواخذہ نہیں ہوگا اور جس نے اسلام لانے کے بعد بھی برےعمل کئے تو اس سے اگلے اور پچھلے اعمال کا محاسبہ ہوگا (٣)۔ حضرت عثمان کی مالی پالیسی خالصتا اقربا ءپروری پر مشتمل تھی ۔ انہوں نے بنی امیہ پر بیت المال کا منہ کھول دیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(١):-الحجرات ۔٦۔
(٢):-ڈاکٹر طہ حسین ۔علی وبنوہ ۔ص ١٥٥
(٣):- صحیح بخاری ۔جلد ہشتم ص ٤٩

١٥٩

بنی امیہ پر نوازشات
حضرت عثمان نے مروان بن حکم کو دولاکھ دینار عطا فرمائے اور مروان کی بیٹی عائشہ کی شادی کے موقع پر اس کی بیٹی کو بھی دو لاکھ دینار عطا فرمائے ۔ علاوہ ازیں مروان کو بھاری جاگیریں بھی عطا فرمائیں ۔
حالت یہ ہوئی کہ بیت المال کے خازن زید بن ارقم نے استعفاء دے دیا ۔ مذکورہ بالا عطا تو حضرت عثمان کی انتہائی قلیل عطاؤں میں سے ہے ۔
انہوں نے خلافت سنبھالتے ہی ابو سفیان کو ایک لاکھ درہم عطا کئے (١)۔
اپنے ایک اور رشتہ دار کو بھاری رقم لکھ کر بیت المال کے خازن کے پاس بھیجا ۔خازن ایمان دار شخص تھا ۔ اس نے اتنی رقم دینے سے انکار کردیا ۔
حضرت عثمان نے خازن سے بار بار مطالبہ کیا کہ اسے مطلوبہ رقم خزانہ سے فراہم کی جائے لیکن خازن اپنی بات پرا ڑارہا ۔
حضرت عثمان نے اسے ملامت کرتے ہوئے کہا کہ تیری کیا حیثیت ہے ؟
تو بس ایک خزانچی ہے ۔لیکن اس نے کہا :- میں مسلمانوں کے بیت المال کا خزانچی ہوں ۔آپ کا ذاتی خزانچی نہیں ہوں ۔پھر اس نے خزانے کی چابیاں لاکر رسول خدا(ص) کے منبر پر رکھ دیں (٢)
بلاذری اس واقعہ کی تفصیل یوں بیان کرتے ہیں :-
عبداللہ بن ارقم بیت المال کے خازن تھے ۔ حضرت عثمان نے ان سے ایک لاکھ درہم کی رقم طلب کی اور ابھی رقم نکلی ہی تھی کہ مکہ سے عبداللہ بن اسید بن ابی العیص اپنے ساتھ افراد کو لے کر حضرت عثمان کے پاس آیا ۔حضرت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(١):-عبداالفتاح عبدالمقصود ۔الامام علی بن ابی طالب جلد دوم ص ٢٠-٢١
(٢):-ڈاکٹر طہ حسین مصری ۔ الفتنۃ الکبری ۔علی وبنوہ ۔ص ٩٤

١٦٠
عثمان نے عبداللہ کے لئے تین لاکھ درہم اور اس کے تمام ساتھیوں کے لئے ایک ایک لاکھ درہم دینے کا حکم صادر فرمایا ۔
خازن ہے تجھے انکار کرنے کا کوئی حق نہیں ہے ۔
خازن نے کہا :- جناب ! میں مسلمانوں کےبیت المال کا خازن ہوں اور آپ کا ذاتی خازن آپ کا غلام ہے ۔میں آپ کے اس رویہ کی وجہ سے استعفاء دے رہا ہوں ۔پھر اس نے چابیاں منبر رسول (ص) پر رکھ دیں اور خود ملازمت سے علیحدہ ہوگیا ۔
حضرت عثمان نے اسے منانے کے لئے اس کے پاس تین لاکھ درہم بھیجے لیکن اس نے لینے سے انکار کردیا ۔
حضرت عثمان کی سخاوت کی داستانیں لوگوں کے گوش گزار ہوئیں اس سے لوگوں میں نفرت کے جذبات پیدا ہونے لگے اور چند دنوں کے بعد لوگوں میں یہ افواہ پھیلی کہ بیت المال میں انتہائی قیمتی جواہر کا ہار موجود تھا جو حضرت عثمان نے اپنے کسی رشتہ دار کے حوالے کردیا ۔ لوگوں نے اس بات کا برا منایا اور حضرت عثمان سے شدید احتجاج کیا ۔اس احتجاج پر حضرت عثمان سخت ناراض ہوئے اور اعلان کیا ہم اپنی ضرورتوں کی تکمیل اس بیت المال سے کریں گے ۔اگر کسی کادل جلتا ہے تو جلتا رہے ۔اگر اس سے کسی کی ناک رگڑتی ہے تو رگڑتی رہے ۔حضرت عمار بن یاسر نے یہ سن کر کہا :- میں اللہ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں اس اس فعل پرراضی نہیں ہوں ۔
حضرت عثمان نے کہا :- اسے گھٹیا شخص !تیری یہ جراءت کہ تو مجھ پر جسارت کرے؟ پھر پولیس کے افراد سے کہا اسے فورا پکڑلو۔
حضرت عمار کو پکڑ لیا گیا اور انہیں اتنا مارا گیا کہ وہ بے ہوش ہوگئے ۔

١٦١
انہیں اٹھا کر حضرت ام سلمہ کے حجرہ میں لایا گیا ۔حضرت عمار سارا دن بے ہوش رہے اور اسی بے ہوشی کی وجہ سے ان کی ظہر ،عصر اور مغرب کی نمازیں قضا ہوگئیں جب انہیں ہوش آیا تو وضو کرکے انہوں نے نماز ادا کی اور کہا :- اللہ کا شکر ہے آج پہلی دفعہ مجھے اللہ کے دین کے لئے نہیں مارا گیا ۔
حضرت ام سلمہ یا حضرت عائشہ میں سے ایک بی بی نے رسول خدا کا لباس اور ان کی نعلین نکال کر اہل مخاطب کرکے کہا لوگو ! یہ رسول خدا کا لباس اور ان کا موئے مبارک اور نعلین ہے ۔ ابھی تک تو رسول خدا کا لباس بھی پرانا نہیں ہوا تم نے ان کی سنت کو تبدیل کردیا ۔
اس موقعہ کی وجہ سے حضرت عثمان کو خاصی شرمندگی اٹھانی پڑی اور ان سے اس کا جواب نہ بن آیا (١)
اگر یہ روایت درست ہے تو اس کا مقصد یہ ہے کہ حضرت عثمان نے بیک دوغلطیاں کیں :
١:- بنو امیہ کو مسلمانوں کا مال ناحق دیا گیا ۔
٢:-رسول خدا(ص) کے ایک جلیل القدر صحابی کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
حضرت عثمان کی "سخاوت "کی مثال نہیں ملتی
آپ نے مروان بن حکم کو افریقہ کا سارا خمس عطا فرمایا اور "حکم" کے دوسرے بیٹے حارث کو تین لاکھ درہم عطا فرمائے۔
عبداللہ بن خالد بن اسید اموی کو تین لاکھ درہم عطا فرمائے ۔
اس کے وفد میں شامل ہر شخص کو ایک ایک لاکھ درہم دیا گیا ۔
زبیر بن عوام کو چھ لاکھ درہم دئیے گئے
طلحہ بن عبیداللہ کو ایک لاکھ درہم دیا گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(١):-ڈاکٹر طہ حسین مصری ۔الفتنتہ الکبری ۔ "عثمان بن عفان" ۔بلاذری ۔انساب الاشراف جلد پنجم ص ٤٨

١٦٢
سعید بن عاص کو ایک لاکھ درہم ملے
سعید بن عاص نے اپنی چار صاحبزادیوں کی شادی کی تو اس کی ایک ایک بیٹی کو بیت المال سے ایک ایک لاکھ درہم دئیے گئے ۔ان واقعات کی تفصیل بیان کرتے ہوئے بلاذری رقم طراز ہیں ۔ سنہ ٢٧ھ میں اسلامی لشکر نے افریقہ فتح کیا اور وہاں سے بہت زیادہ مال غنیمت ہاتھ آیا ۔ اس مال غنمیت کا خمس مروان بن حکم کو دیا گیا ۔علاوہ ازیں سنہ ٢٧ ھ میں عبداللہ بن ابی سرح جو کہ حضرت عثمان کے رضاعی بھائی تھے کی زیر سرکردگی افریقہ پر حملہ کیاگیا ۔مسلمان فوج نے افریقہ فتح کرلیا ۔فوج کے سالار نے ایک لاکھ درہم کے بدلے سارا خمس خرید لیا اور بعداز اں حضرت عثمان س انہوں نے مذکورہ رقم معاف کرنے کی درخواست کی ۔حضرت عثمان نے انہیں رقم معاف کردی۔
زکواۃ کے اونٹ مدینہ لائے گئے ۔حضرت عثمان نے تمام اونٹ حارث بن حکم بن ابی العاص کو عطا کردئیے۔
حضرت عثمان نے حکم بن عاص کو بنی قضاعہ کی زکواۃ کا عامل مقرر کیا اور وہاں سے تین لاکھ درہم کی وصولی ہوئی ۔وہ ساری رقم انہیں دے دی گئ‏۔
حارث بن حکم بن ابی العاص کو تین لاکھ درہم دیئے گئے ۔
اور زید بن ثابت انصاری کو ایک لاکھ درہم دئیے گئے ۔
بیت المال کا یہ استحصال حضرت ابو ذر سے نہ دیکھا گیا اور انہوں نے مدینہ کے بازاروں اور گلیوں میں قرآن مجید کی یہ آیت پڑھنی شروع کی :-والذین یکنزون الذھب والفضۃ ۔۔۔۔۔۔الایۃ "
"جو لو گ سونا چاندی کا ذخیرہ کرتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے آپ انہیں دردناک عذاب کی بشارت دیں ۔یہی سونا اور چاندی دوزخ کی آگ میں گرم کرکے ان کی پیشانیوں اور پہلوؤں میں داغا جائے گا اور ان

١٦٣
سے کہا جائے گا کہ یہ تمہارا وہ خزانہ ہے جسے تم جمع کیا کرتے تھے (١)
"حضرت ابو ذر کے اس طرز عمل کی مروان نے حضرت عثمان کے پاس شکایت کی حضرت عثمان نے انہیں کہلا بھیجا کہ تم اس حرکت سے باز آجاؤ ۔
حضرت ابو ذر نے کہا: عثمان مجھے اللہ کی کتاب کی تلاوت سے باز رکھنا چاہتا ہے ؟ خدا کی قسم میں عثمان کی ناراضگی برداشت کرسکتا ہوں لیکن اللہ کی ناراضگی برادشت نہیں کرسکتا ۔
آپ نے حضرت عثمان کی مالی پالیسی ملاحظہ فرمائی ۔چند لمحات کے لئے اس مقام پر ٹھہر جائیں اور اس کے بر عکس حضرت علی (ع) کی مالی پالیسی کا بھی ایک نمونہ ملاحظہ فرمائیں ۔کیونکہ ۔
بضدھا تتبین الاشیاء

حضرت علی (ع) کی مالی پالیسی
حضرت علی (ع) کے دور خلافت میں حضرت حسین (ع) کا ایک مہمان آیا ۔انہوں نے ایک درہم ادھار لے کر روٹی خریدی ۔سالن کے لئے ان کے پاس رقم موجود نہ تھی ۔انہوں نے اپنے غلام قنبر کو حکم دیا کہ یمن سے جو شہد آیا ہے اس میں سے ایک رطل کی مقداد میں شہد دیں ۔قنبر نے حکم کی تعمیل کی اور ایک رطل شہد انہیں لاکر دی ۔چند دنوں کے بعد حضرت علی نے تقسیم خاطر وہ شہد منگایا اور شہد کی مشک کو دیکھ کر فرمایا ۔میں سمجھتا ہوں کہ اس میں کچھ کمی ہوئی ہے ۔ قنبر نے عرض کی :- جی ہاں ! آپ کے فرزند حسین (ع) نے ایک مہمان کی خاطر ایک رطل شہد مجھ سے لی تھی ۔
یہ سن کر حضرت علی (ع) نا راض ہوئے اور فرمایا کہ حسین (ع) کو بلاؤ۔جب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(١):- التوبہ ٣٤

١٦٤
حسین (ع) آگئے تو حضرت علی نے فرمایا :- حسین بیٹے ! تقسیم سے پہلے تم نے ایک رطل شہد بیت المال سے کیوں لی ہے ؟
حسین (ع) نے عرض کی :-بابا جان ! جب تقسیم ہوجائے گی تو میں اپنے حصہ سے اتنی مقدار واپس کردوں گا ۔
اس پر حضرت علی (ع) نے فرمایا :- یہ درست ہے کہ اس میں تمہارا بھی حصہ ہے لیکن تقسیم سے پہلے تم شہد لینے کے مجاز نہیں تھے ۔ بعد ازآں قنبر کو ایک درہم دے کر فرمایا کہ اس درہم سے بہترین شہد خرید کر دوسرے سہد میں شامل کردو ۔
حضرت علی (ع) کے عدل کے لئے عقیل کا واقعہ ہی کافی ہے ۔
اس واقعہ کو عقیل نے خود معاویہ بن ابی سفیان کے دربار میں اس وقت سنایا جب وہ علی (ع) ک عدل سے بھاگ کر وہاں پہنچے تھے کہ مجھے شدید غربت نے اپنی لپیٹ میں لیا تو میں اپنے بچوں کو اپنے ساتھ لے کر اپنے بھائی علی (ع) کے پاس گیا ۔میرے بچوں کے چہروں پر غربت ویاس چھائی ہوئی تھی اور بھوک کی وجہ سے ان کے چہرے زرد ہوچکے تھے ۔
میرے بھائی علی (ع) نے کہا کہ تم آج شام میرے پاس آنا ۔چنانچہ شام کے وقت میرا ایک بیٹا ہاتھ پکڑے ہوئے ان کے پاس لےگیا ۔انہوں نے میرے بچے کو مجھ سے ہٹا دیا اور مجھے کہا کہ اور قریب آجاؤ ۔میں سمجھا کہ علی مجھے زرد دولت کی تھیلی دیں گے لیکن انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ کر آگ کی طرح گرم لوہے رکھا اور اس کی وجہ سے میں یوں گرا جیسا کہ بیل قصاب کے ہاتھ سے گرتا ہے (١)۔
اس واقعہ کو خود حضرت علی (ع) نے اپنے ایک خطبہ میں ان الفاظ سے بیان فرمایا ہے ۔
"رایت عقیلا وقد املق حتی استما حنی مین برّکم صاعا ۔ورایت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(١):- ابن ابی الحدید۔ شرح نہج البلاغہ

١٦٥
صبیانہ شعث الشعور ، غیر الالوان من فقرھم ،عاودنی موکّدا وکرّرا علیّ القول مرددا ۔۔۔۔۔"(الامام علی بن ابی طالب)
"بخدا میں نے عقیل کو سخت فقر وفاقہ کی حالت میں دیکھا ۔یہاں تک کہ وہ تمہارے حصہ کے گیہوں میں ایک صاع مجھ سے مانگتے تھے اور میں نے ان کے بچوں کو بھی دیکھا جن کے بال بکھر ہوئے تھے اور فقر بے نوائی سے رنگ تیرگی مائل ہوچکے تھے گویا ۔ان کے چہرے نیل چھڑک کرسیاہ کردئیے گئے ہیں وہ اصرار کرتے ہوئے میرے پاس آئے اور اس بات کو باربار دہرایا ۔میں نے ان کی باتوں کو کان دے کر سنا تو انہوں نے یہ خیال کیا کہ میں ان کے ہاتھوں اپنا دین بھیج ڈالوں گا اور اپنی روش چھوڑ کر ان کی کھینچ تان پر ان کے پیچھے ہوجاؤں گا مگر میں نے یہ کیا کہ ایک لوہے کے ٹکڑے کو تپایا پھر ان کے جسم کے قریب لے گیا تاکہ عبرت حاصل کریں ۔چنانچہ وہ اس طرح سے چیخے جس طرح بیمار درد وکرب سے چیختا ہے اور قریب تھا کہ ان کا جسم اس داغ دینے سے جل جائے ۔ پھر میں نے ان سے کہا :- اسے عقیل ! رونے والیاں تم پر روئیں کیا تم لوہے کے اس ٹکڑے سے چیخ اٹھے ہو جسے ایک انسان نے ہنسی مذاق میں بغیر جلانے کی نیت کے تپا یا ہےاور مجھے اس آگ کی طرف کھینچ رہے ہو جسے خدائے قہار نے اپنے غضب س بھڑکایا ہے ۔تم اذیت سے چیخو اور میں جہنم کے شعلوں سے نہ چلاؤں ۔"(١)
ہمیں علی علیہ السلام کی زندگی صداقت اور انسانی عزت نفس کابلند ترین نمونہ نظر آتی ہے ۔
آپ جانتے ہیں کہ خوارج سے حضرت علی علیہ السلام کو کتنی نفرت تھی ۔آپ انہیں باطل پر سمجھتے تھے ۔ اس کے باوجود حضرت علی (ع) کا ان سے طرز عمل کیا تھا ۔اس کے لئے ڈاکٹر طہ حسین مصری کے بیان کردہ واقعہ کو پڑھیں :-
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(١):-نہج البلاغہ کے خطبہ ٢٢١ سے اقتباس ۔

١٦٦
"حضرت علی (ع)کے پاس حریث بن راشد السامی خارجی آیا اور کہا اللہ کی قسم میں نہ تو آپ کا فرمان مانوں گا اور نہ ہی آپ کے پیچھے نماز پڑوں گا ۔اس کے ان جملوں پر حضرت نے ناراضگی کا اظہار نہ کیا اور نہ ہی اسے اس پر کوئی سزا دی ۔آپ نے اسے بحث و مباحثہ کی دعوت دی اور فرمایا تم مجھ سے بحث کر لو تاکہ تمارے سامنے واضح ہوجائے اس نے دوسرے دن آنے کا وعدہ کیا اور آپ نے قبول کرلیا "(١)۔
ایک خارجی کے ساتھ حضرت علی (ع) کا سلوک ملاحظہ فرمائیں اور اس کے ساتھ ساتھ حضرت عمار کے ساتھ حضرت عثمان کا بھی سلوک ملاحظہ فرمائیں ۔ تاکہ آپ خود فیصلہ کر سکیں کہ علی (ع) کیا تھے اور عثمان کیا تھے ؟
حضرت عثمان نے اسلامی خزانہ کو صرف اپنے اقرباء پر ہی نہیں لٹایا بلکہ اس دور کے مشاہیر کو بھی اس سے وافر حصہ دیا ۔حضرت عثمان نے زبیر بن عوام کو چھ لاکھ عطا کئے ۔طلحہ بن عبیداللہ کو ایک لاکھ عطا کئے اور تمام قرضہ بھی معاف کردیا ۔
ایک طرف سے اپنے رشتہ داروں پر یہ نوازشات جاری تھیں ۔جب کہ دوسری طرح عامتہ المسلمین بھوک وافلاس اور شدید ترین غربت کا شکار تھے ۔
کیونکہ بیت المال کا اکثر حصہ تو بنی امیہ اور مقربین کی نذر ہوگیا ۔غریب عوام کو دینے کے لئے خزانہ خالی تھا ۔

چند مشاہیر کی دولت
حضرت عثمان کے دور خلافت میں اشرافیہ طبقہ کی جائیداد کی ایک ہلکی سی جھلک مسعودی نے یوں بیان کی ہے ۔
صحابہ کی ایک جماعت اس زمانہ میں بڑی مالدار بن گئی اور انہوں نے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(١):- الفتنتہ الکبری ۔علی وبنوہ ۔ص ١٢٥

١٦٧
بڑی بڑی جاگیریں خریدلیں اور عظیم الشان محلات تعمیر کرلئے ۔ ان میں سے زبیر بن عوام نے بصرہ میں اپنا محل تعمیر کرایا جو اس وقت ٣٣٢ ہجری میں بھی اپنی اصل حالت میں پورے جاہ وجلال کے ساتھ موجود ہے ۔ اس میں تاجر اور سرمایہ دار آکر ٹھہرا کرتے ہیں ۔
اس کے علاوہ انہوں نے مصر ،کوفہ اور سکندریہ میں بھی عالی شان محل تعمیر کرائے ۔اسکے علاوہ اس کی دوسری جاگیروں کے متعلق بھی اہل علم جانتے ہیں ۔ زبیر کی وفات کے وقت اس کے گھر سے نقد سرمایہ پچاس ہزار دینار برآمد ہوئے ۔علاوہ ازیں انہوں نے اپنے پیچھے ایک ہزار گھوڑے اور ایک ہزار لونڈیاں چھوڑیں ۔
طلحہ بن عبیداللہ التمیمی نے بھی کوفہ میں عظیم الشان محل تعمیر کیا اور عراق سے طلحہ کے غلہ کی یومیہ آمدنی ایک ہزار دینار تھی ۔جب کہ دوسر ے مورخین اس سے بھی زیادہ بیان کرتے ہیں ۔عراق کے علاوہ باقی علاقوں سے اس کی کمائی اس سے بھی زیادہ تھی ۔ اس نے مدینہ میں ایک مثالی محل تعمیر کرایا جس میں جص اور ساج استعمال کیا گیا تھا ۔
عبدالرحمن بن عوف زہری نےبھی فلک بوس محل تعمیر کرایا اور اسے وسعت بھی دی ۔اس کے اصطبل میں ایک ہزار گھوڑے ہر وقت بندھے رہتے تھے ۔ اس کے پاس ہزار اونٹ اور دس ہزار بکریاں تھیں ۔ وفات کے وقت ان کی چار بیویا ں تھیں اور ہر بیوی کو چوارسی ہزار (٨٤٠٠٠) دینار ملے ۔"(١)
"اہل جنت " کے سرمایہ کی آپ نے ہلکی سی جھلک مشاہدہ فرمائی ۔جب حاکم ہی بیت المال کو دونوں ہاتھوں سے لٹا رہا ہو تو آپ رعایا سے صبر وقناعت کی امید کیسے کریں گے ۔ اس دور کے عمّال وحکام سے یہ امید کیسے کی جاسکتی ہے کہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(١):- مسعودی ۔مروج الذہب ومعادن الجوہر ۔جلد ٢ ص ٢٢٢

١٦٨
انہوں نے اسی بہتی گنگا سے ہاتھ نہیں دھوئے ہوں گے ؟
حضرت عثمان نے بنی امیہ کو صرف درہم ودینار دینے پر ہی کتفاء نہیں کی بلکہ انہیں بڑی بڑی جاگیریں بھی عطا فرمائیں ۔ ممکن ہے کہ اس مقام پر حضرت عثمان کے بہی خواہ اہل سنت اور معتزلہ ان کی صفائی میں یہ کہین کہ انہوں نے یہ زمینیں اس لئے دی تھیں تا کہ زمینیں آباد ہوجائیں ۔
اس کے جواب میں شیعہ یہ کہتے ہیں کہ یہ جواب تو حضرت عثمان نے بھی خود نہیں دیا تھا ۔یہ جواب ناقص اور " مدعی سست اور گواہ چست "والا معاملہ ہے ۔ اس کے جواب میں شیعہ یہ بھی تو کہہ سکتے ہیں کہ مذکورہ جاگیریں صرف بنی امیہ کو ہی کیوں دی گئی تھیں ؟ کیا بنی امیہ زمینوں کے اسپیشلسٹ تھے (١)؟
ڈاکٹر صاحب کے اس بیان کے بعد یہ کہنا بالکل درست ہوگا کہ حضرت عثمان کی اس مالیاتی پالیسی کے دو نتیجے نکلے اور دونوں ایک دوسرے سے خراب تر تھے ۔
١:- مسلمانوں کے مال کو ناحق خرچ کیا گیا ۔
٢:- اور اس کی وجہ سے ایک نو دولتیے طبقہ نے جنم لیا جن کا مطمع نظر دوسروں کے حقوق کو غصب کرنا اور اپنی دولت میں بے پناہ اضافہ کرنا تھا ۔ اور یہ نو دولتیہ طبقہ اپنی دولت بچانے کے لئے کسی بھی برے سے برے حاکم کی اطاعت پر بھی کمربستہ ہوسکتا تھا اور مذکورہ طبقہ ایک خاص امتیاز اکا بھی خواہش مند تھا اور اپنی دولت کو تحفظ دینے کے لئے ہر اس حکومت کو خوش آمدید کہنے پر آمادہ تھا جو کہ مسلمانوں کے لئۓ مضر لیکن ان کے لئے مفید ہو ۔
حضرت علی علیہ السلام کے دور خلافت میں یہی سرمایہ دار طبقہ ہی ان کی مخالفت میں پیش پیش تھا ۔ انہوں نے حضرت علی کی مخالفت اپنے سرمایہ اور جاگیروں کے تحفظ کے لئے کی تھی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(١):-ڈاکٹر طہ حسین ۔مصری الفتنتہ الکبری ۔عثمان بن عفان ۔ص ١٩٣۔١٩٤



۱۷
حضرت عثمان کی حکومتی پالیسی المیہ جمعرات

١٦٩
حضرت عثمان کی مالیاتی پالیسی کے بنیادی خدوخال آپ نے مشاہدہ کئے اور آئیے دیکھیں کہ ان کی دیگر حکومتی پالیسیاں کیا تھیں ؟


حضرت عثمان کی حکومتی پالیسی
حضرت عثمان کی دوسری حکومتی پالیسی کے متعلق یہ کہنا درست ہے کہ ان کی کوئی ذاتی پالیسی سرے سے تھی ہی نہیں ۔ انہوں نے ہمیشہ بنی امیہ پر انحصار کیا اور اپنے سسرال اور دیگر رشتہ داروں کی بات کوانہوں نے ہمیشہ اہمیت دی تھی ۔
عثمانی دور میں مروان بن حکم کو خصوصی اہمیت حاصل تھی ۔انہوں نے ہمیشہ مروان کے مشوروں کو درخور اعتنا سمجھا اور بنی امیہ کو مسلمانوں کی گردن پر سوار کیا ۔
بنی امیہ جیسے ہی حاکم بنے انہوں نے امت مسلمہ میں ظلم وستم کو رواج دیا ۔ ان کی وجہ سے ملت اسلامیہ شدید مشکلات کا شکار ہوگئی ۔مگر ظالم وجابر حکام پورے اطمینان سے مسلمانوں کا استحصال کرتے رہے انہیں امت اسلامیہ کے افراد کی کوئی پراہ تک نہ تھی ۔ کیونکہ خلیفۃ المسلمین ان سے خوش تھا اور دوسرے مسلمانوں کی ناراضگی کی انہیں کوئی فکر ہی نہیں تھی۔
حضرت عثمان ک شخصیت کا الم ناک پہلو یہ ہے کہ وہ بنی امیہ پر جس قدر مہربان تھے ، دوسرے صحابہ اور عامۃ المسلمین کے لئے وہ اتنے ہی سخت تھے ۔ انہوں نے عبداللہ بن مسعود اور ابو ذر غفاری اور عما بن یاسر جیسے جلیل القدر صحابہ تک سے ہتک آمیز سلوک کیا ۔ان جلیل القدر صحابہ کو ان کے حکم سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور حضرت ابوذر غفاری پر صرے تشددہی نہیں بلکہ انہیں جلا وطن کرکے ربذہ کے بے آب وگیاہ میدان میں مرنے کے لئے تنہا چھوڑ دیاگیا ۔

١٧٠
ان اجلہ صحابہ کا جر صرف یہی تھا کہ وہ بنی امیہ کی لوٹ کھسوٹ اور بداعمالیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے تیار نہ تھے ۔
بلاذری بیان کرتے ہیں کہ :-
"حضرت عثمان نے بنی امیہ کے ان افراد کو عامل مقرر کیا جنہیں رسول خدا (ص) کی صحبت میسر نہ تھی اور نہ ہی اسلام میں انہیں کوئی مقام حاصل تھا ۔ اور جب لوگ ان کی شکایت کرنے آتے تو حضرت عثمان عوامی شکایات کو کئی اہمیت نہیں دیتے تھے اور انہیں معزول نہیں کرتے تھے ۔اپنی حکومت کے آخری چھ برسوں میں انہوں نے اپنے چچا کی اولاد کو حاکم مقررکیا ۔
اسی دور میں عبداللہ بن سعد بن ابی سرح مصر کا حاکم مقرر ہوا ۔ وہ کئی برس تک مصر میں رہا ۔مصر کے لوگ اس کے ظلم کی شکایت کرنے کے لئے حضرت عثمان کے پاس آئے اور حضرت عثمان نے ان کے کہنے پر اسے ایک خط بھی تحریر کیا جس میں اسے غلط کاریوں سے باز رہنے کی تلقین کی گئی تھی لیکن اس نے حضرت عثمان کے خط پر کوئی عمل نہ کیا اور شکایت کرنے والوں پر بے پناہ تشدد کیا ۔ جس کی وجہ سے ایک شخص موقع پر ہی دم توڑگیا ۔
اس کے بعد اہل مصر کا ایک اور وفد ابن ابی سرح کے مظالم کی شکایت کرنے کے لئے مدینہ آیا اور اوقات نماز میں انہوں نے صحابہ سے ملاقات کی اور اپنے اوپر ہونے والے مظالم کی ان لوگوں کو داستان سنائی ۔چنانچہ طلحہ حضرت عثمان کے پاس گئے اور ان سے سخت لہجہ میں احتجاج کیا ۔ بی بی عائشہ نے بھی عثمان کے پاس پیغام روانہ کیا کہ ان لوگوں کو اپنے عامل سے انصاف دلاؤ۔
کبار صحابہ جن میں حضرت علی (ع) مقداد اور طلحہ وزبیر شامل تھے ۔ انہوں نے حضرت عثمان کے نام ایک خط تیار کیا جس میں اس کے عمال کے مظالم کی تفصیل بیان کی گئی تھی اور خط کے ذریعے سے حضرت عثمان کو تنبیہ کی گئی تھی ۔

١٧١
کہ اگر انہوں نے اپنے رویے کو درست نہ کیا تو پھر انہیں خلافت کرنے کا حق حاصل ہوگا ۔ عمار نے وہ خط لیا اور حضرت عثمان کے سامنے پیش کیا ۔جب حضرت عثمان نے اسکی ایک سطر پڑھی تو انہیں بہت غصہ آیا اور عمار سے کہا :- تیری یہ جراءت کہ تو ان کا خط میرے سامنے لائے ؟
عمار نے کہا :- میں خط اس لئے لایا ہوں کہ میں آپ کا زیادہ خیر خواہ ہوں ۔حضرت عثمان نے کہا :- سمیہ کا فرزند تو جھوٹا ہے ۔
حضرت عمار نے کہا :- خدا کی قسم میں اسلام کی پہلی شہید خاتون سمیہ اور یاسر کا بیٹا ہوں ۔
حضرت عثمان نے اپنے غلاموں کو حکم دیا کہ اسے پکڑ کر لٹائیں ۔ نوکروں نے انہیں پکڑکر لٹادیا ۔حضرت عثمان نے جناب عمار کو اپنے پاؤں سے ٹھوکریں ماریں ۔ضربات اتنی شدید تھیں کہ انہیں "فتق" کا عارضہ لاحق ہوگیا ۔ اور بے ہوش ہوگئے ۔"(١)
جب حضرت عثمان کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تویہ بات روز روشن کی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ ان کی مالیاتی اور حکومتی پالیسیوں کا مقصد امت اسلامیہ کے مقدر سے کھیلنا اور دین اسلام کے بہی خواہوں کو کمزور کرنا اور دشمنان اسلام بالخصوص بنی امیہ کے لئے مستقبل بنی امیہ کے لئے مستقبل کی حکومت کی راہ ہموار کرنا تھا ۔
حضرت عثمان کی پالیسی نہ یہ کہ قرآن وسنت سے علیحدہ تھی بلکہ بلکہ سیرت شیخین سے بھی جدا گانہ تھی ۔
واقدی بیان کرتے ہیں کہ :-
"جب حضرت عثمان نے سعید بن العاص کو ایک لاکھ درہم دئیے تو لوگوں نے اس پر تنقید کی اور اسے غلط قرار دیا ۔حضرت علی (ع) اور ان کے ساتھ دیگر صحابہ نے مل کر حضرت عثمان سے اس سلسلہ میں گفتگو کی تو حضرت عثمان نے کہا وہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(١):- بلاذری ۔انساب الاشراف ۔جلد پنجم ۔ص ٢٥ ۔ ٢٦

١٧٢
میرا قریبی رشتہ دار ہے ۔صحابہ نے کہا تو کیا ابو بکر وعمر کے اس جہان میں کوئی رشتہ دارنہیں تھے ؟
حضرت عثمان نے کہا کہ وہ اپنے رشتہ داروں کو محروم کرکے خوش ہوتے تھے جب کہ میں اپنے رشتہ داروں کو دے کر خوش ہوتا ہوں ۔"(١)
حضرت عثمان کی یہ روش کسی طرح سے بھی سیرت شیخین سے مطابقت نیں رکھتی تھی اور ان کی اس روش کاروح اسلام سے دور کا بھی واسطہ نہیں تھا ۔

عثمانی عمّال کی سیرت
آئیے چند لمحات کے لئے عثمانی عمال پر بھی نظر ڈال لیں ۔ اس حقیقت میں کسی قسم کا شبہ نہیں ہے کہ حضرت عثمان نے امور سلطنت کے لئے اپنے اقرباء پر ہی انحصار کیا تھا ۔اور خدا گواہ ہے کہ ہم اتنے تنگ نظر نہیں ہیں کہ ہم صرف رشتہ داری کی وجہ سے کسی پر اعتراض کریں ۔ہم جانتے ہیں کہ سلاطین کا قدیم الایام س یہی وطیرہ رہا ہے کہ وہ اہم مناصب پر اپنے بااعتماد اور باصلاحیت رشتہ داروں کو فائز کرتے رہے ہیں ۔
اگر رشتہ دار با صلاحیت ہوں تو انحصار کیا تھا کیا وہ باصلاحیت اور صاحب سیرت افراد تھے ؟
حضرت عثمان نے اپنی قرابت کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسے افراد کو بھی اہم عہدوں پر فائز کیا جن کے فسق وفجور اور نفاق وکذب کی اللہ نے قرآن میں گواہی دی تھی ۔
ذیل میں ہم بطور نمونہ اپنے قارئین کے لئے چند افراد کی سیرت کا تذکرہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(١):- بلاذری ۔انساب الاشراف ۔بحوالہ واقدی جلد ص ۔ص ٢٧۔

١٧٣
کرتے ہیں ۔لیکن ان واقعات کو "مشتے ازخردارے" کی حیثیت حاصل ہے ۔اگر ہم عمال عثمانی کی بد کرداریوں کی تفصیل بیان کرنے لگیں تو اس کے لئے علیحدہ کتاب کی ضرورت ہے ۔

ولید بن عقبہ
عثمان عمال کا حقیقی چہرہ دکھانے کے لئے ہم ولید بن عقبہ بن ابی معیط سے ابتدا کرتے ہیں ۔ حضرت عثمان نے انہیں کوفہ کا والی مقرر کیا تھا ۔
اس "اموی ستارہ " کی مختصر تاریخ یہ ہے کہ حضرت رسول کریم (ص) نے اسے بنی مصطلق سے صدقات وصول کرنے کے لئے روانہ کیا ۔ یہ صاحب ان سے ملے بغیر واپس آگئے اور کہا کہ ان لوگوں نے مجھے قتل کرنا چاہا اور صدقات دینے سے انکار کردیا ۔ رسول خدا(ص) نے مذکورہ قبیلہ کے خلاف فوج کشی کا ارادہ کرلیا ۔ اس اثناء میں ان کا ایک وفد رسول خدا کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی یارسول اللہ ! ہم نے آپ کے قاصد کی آمد کا سنا تھا اس کی تعظیم وتکریم کے لئے باہر آئے لیکن آپ کا قاصد ہمیں دیکھ کر دور سے ہی واپس چلاگیا ۔ اللہ تعالی نے قرآن مجید کی یہ آیت نازل فرمائی :- یا ایھا الذین آمنوا ان جاءکم فاسق بنباء فتبینوا ان تصیبوا قوما بجھالۃ فتصبحوا علی ما فعلتم نادمیین "(١)۔
"ایمان والو!اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو اس کی تحقیق کرلیا کرو ۔ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کو تکلیف پہنچاؤ اور بعد میں اپنے کیے پر تمہیں ندامت اٹھانی پڑے ۔"
ولید وہ "شخص "ہیں کہ ایک دفعہ اس کی بیوی رسول خدا (ص) کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اپنے شوہر کی شکایت کی کہ وہ اسے ناحق مارتا پیٹتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(١):- الحجرات ۔٦۔

١٧٤
رسول خدا (ص) نے اسے فرمایا کہ جا کر اپنے شوہر سےکہہ دو کہ مجھے رسول خدا(ص) نے امان دی ہے ۔ وہ بے چاری چلی گئی اور رسولخدا(ص) کا پیغام سنایا ۔
دوسرے دن عورت پھر حاضر ہوئی اور عرض کی :- یا رسول اللہ ! اس نے آپ کا پیغام سن کر مجھے مارا۔
رسول خدا(ص) نے اس کے کپڑے کا ایک حصہ پھاڑا اور کہا جاکر شوہر سے کہو کہ رسول خدا نے بطور نشانی اس کپڑے کو پھاڑا ہے ۔ لہذا مجھے مت مارو۔
وہ عورت چلی گئی ۔تھوڑی دیر کے بعد دوبارہ روتی ہوئی رسول خدا (ص) کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی :- یا رسول اللہ ! میں نے آپ کا فرمان اسے سنا یا اور نشانی بھی دکھائی لیکن اس نے مجھے پہلے سے بھی زیادہ پیٹا (١)۔

کوفہ میں ولید شراب نوشی
حضرت عثمان نے اسی ولید کو کوفہ کا والی مقرر کیا اور یہ "بزرگوار" اپنے ہم پیالہ ساتھیوں کے ساتھ ساری ساری رات شراب پیا کرتا تھا ۔ ایک دفعہ صبح کی آذان ہوئی تو یہ صاحب نشہ میں دھت تھے اور نماز پڑھانے کے لئے مسجد میں چلے گئے اور فجر کی نماز دورکعت کی بجائے چاررکعت پڑھائی ۔اور پھر مقتدیوں کی طرف منہ کرکے کہا :- اگر ارادہ ہوتو اور زیادہ پڑھادوں ؟
بعض راوی بیان کرتے ہیں کہ جب وہ سجدہ میں تھے توکہہ رکہے تھے کہ :- خود بھی پیو اور مجھے بھی جام پلاؤ ۔
پہلی صف میں کھڑے ہوئے ایک نمازی نے کہا:- مجھے تجھ پر کوئی حیرت نہیں ہے ۔مجھے تو اس پر تعجب آتا ہے جس نے تجھ جیسے شخص کو ہمارا والی بنا کر بھیجا ۔ولید نے ایک دفعہ خطبہ دیا تو لوگوں نے اس پر پتھراو کیا ۔صاحب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(١):- ابن ابی الحدید ۔شرح نہج البلاغہ ۔جلد چہارم ۔ص ١٩٥

١٧٥
موصوف پتھراو سے گھبرا کر اپنے محلے میں چلے گئے ۔
ولید زانی تھا ۔ شراب پیا کرتا تھا ۔ ایک دفعہ شراب پی کر مسجد میں نماز پڑھانے آیا تو اس نے محراب میں قے کردی اور قے میں شراب کا رنگ نمایاں تھا قے کرنے کے بعد اس نے یہ شعر پڑھا ۔

علّق القلب الربابا ۔۔۔۔۔بعد ما شابت و شابا
"میرا دل رباب سے اٹک گیا ۔ جب وہ جوان ہوگئی اور میں بھی جوان ہوگیا ۔"
اہل کوفہ نے حضرت عثمان کے پاس اس کی شکایت کی اورحد شرعی کا مطالبہ کیا ۔ناچار حضرت عثمان نے ایک شخص کو حد جاری کرنے کے لئے کہ ۔ جب وہ شخص درہ اٹھا کرولید کے قریب گیا تو ولید نے حضرت عثمان سے کہا :- آپ کو اللہ اور اپنی قرابت کا واسطہ دیتا ہوں کہ کہ مجھے معاف کردیں ۔حضرت عثمان نے اسے چھوڑدیا اور پھر خیال کیا کہ دنیا یہ کہے گی کہ عثمان نے حد شرعی کو چھوڑ دیا ہے اس خیال کے تحت انہوں نے خود ہی اسے اپنے ہاتھ سے دوچار کوڑے مار کر چھوڑ دیا ۔
اہل کوفہ دوبارہ ولید کی شکایت لے کر حضرت عثمان کے پاس آئے تو حضرت عثمان اہل کوفہ پر سخت ناراض ہوئے اور کہا :- تم لوگ جب بھی کسی امیر پر ناراض ہوتے ہو تو اس پر تمہتیں تراشتے ہو ۔
ان لوگوں نے حضرت عائشہ کے پاس جاکر پناہ لی ۔جب حضرت عثمان نے دیکھا کہ ان لوگوں کو ام المومنین نے پناہ دے رکھی ہے تو کہا :- عراق کے فاسق اور بدمعاشوں کو عائشہ کا گھر ہی پناہ دیتا ہے ۔یہ الفاظ بی بی عائشہ نے سنے تو رسول خدا کی نعلین بلند کرکے کہا :- تو نے اس تعلین کے مالک کی سنت کو چھوڑ دیا ہے (١)۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(١):- المسعودی ۔مروج الذہب ۔جلد دوم ۔ص ٢٢٤

١٧٦

ولید کو والی کوفہ کیوں بنایا گیا
ولید کے والی کوفہ بننے کی داستان بھی عجیب ہے ۔
راوی کہتے ہیں کہ حضرت عثمان جس تخت پر بیٹھا کرتے تھے ۔اس پر ایک اور شخص بیٹھنے کی گنجائش بھی موجود تھی ۔
حضرت عثمان کے ساتھ صرف چار افرادہی بیٹھا کرتے تھے اور وہ عباس بن عبدالمطلب ،ابو سفیان بن حرب ،حکم بن ابی العاص اور ولید بن عقبہ تھے ۔
ایک دن ولید حضرت عثمان کے ساتھ تخت پر بیٹھا ہوا تھا کہ حکم بن ابی العاص آگیا تو حضرت عثمان نے ولید کو کھڑا ہونے کا اشارہ کیا تاکہ حکم کو بٹھایا جاسکے ۔جب کچھ دیر بعد حکم چلا گیا تو ولید نے کہا:- آپ نے چچا کو اپنے چچا زاد پر ترجیح دی ہے اور اس کی وجہ سے میں نے دو شعر تخلیق کئے ہیں ۔
واضح رہے کہ مروان کا باپ حکم حضرت عثمان کا چچا تھا اور بنی امیہ کا بزرگ تھا اور ولید حضرت عثمان کا مادری بھائی تھا ۔
حضرت عثمان نے کہا وہ شعر مجھے سناؤ ۔
رایت لعمّ المرء زلفی قرابۃ۔۔۔ دوین اخیہ حادثا لم یکن قدما
فاملت عمرا ان یشبّ وخالدا ۔۔۔ لکی یدعوانی یوم نائبۃ عمّا
"میں نے دیکھا لیا ہے کہ بھائی کی نسبت لوگ چچا کا زیادہ احترام کرتے ہیں ۔ پہلے یہ بات رائج نہ تھی ۔ آپ کے دونوں فرزندوں یعنی عمر اور خالد کی عمر دراز ہو تاکہ وہ بھی ایک دن مجھے چچا کہہ کر مخاطب کریں ۔"
یہ شعر سن کر حضرت عثمان نے کہاکہ تم بھی کیا یاد رکھو گے ۔میں نے تمہیں کوفہ کا گورنر بنایا ۔
جی ہاں ! یہ وہی ولید ہے جسے قرآن میں فاسق کہا گیا ۔یہی وہ ولید ہے

١٧٧
جس نے رسول خدا(ص) کے فرمان کو تسلیم نہیں کیا تھا ۔
گورنری کا پروانہ لے کر ولید کوفہ پہنچا اور والی کوفہ سعد سے ملاقات کی سعد نے پوچھا کہ تم یہاں سیروسیاحت کرنے آئے ہو یا یہاں کے حاکم بن کے آئے ہو؟
ولید نے کہا:- میں یہاں کا حاکم بن کر آیا ہوں ۔یہ سن کر سعد نے کہا خدا کی قسم مجھے علم نہیں ہورہا کہ میں پاگل ہوگیا ہوں یا تو دانا ہوگیا ہے ؟ ولید نے کہا :- نہ تو آپ پاگل ہوئے ہیں اور نہ ہی میں دانا ہوا ہوں ، جن کے ہاتھ میں زمام اقتدار ہے یہ انہی کا فیصلہ ہے ۔(١)
حضرت عثمان کے دیگر عمال کے متعلق بھی کتب تاریخ بھری ہوئی ہیں حضرت عثمان نے عبداللہ بن عامر کو بصرہ کا والی مقررکیا ۔اس وقت اس کی عمرپچیس برس تھی ۔ جب کہ اس وقت کبار صحابہ اور تجربہ کا ر افراد بھی موجود تھے ۔
عبداللہ بن سعد بن ابی سرح کو مصر کا حاکم مقرر کیا گیا ۔یہ وہی شخص ہے جسے اللہ اور رسول خدا نے واجب القتل قرار دیا تھا اور فتح مکہ کے دن اعلان فرمایا تھا کہ ہر شخص کو امان ہے مگر عبداللہ بن ابی سرح کیلئے کوئی امان نہیں ہے ۔یہ شخص اگرغلاف کعبہ سے بھی چمٹا ہوا ہو تو بھی اسے قتل کردیا جائے ۔(٢)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(١):-ڈاکٹر طہ حسین مصری ۔الفتنتہ الکبری ۔عثمان بن عفان ص ١٨٧
(٢):- عبدالفتاح عبد المقصود ۔الامام علی بن ابی طالب جلد دوم ص ٣٣



۱۸
ولید بن عقبہ المیہ جمعرات

١٧٨

حضرت عثمان کا صحابہ سے سلوک
بنی امیہ کے ظالم حکام نے مسلمان سے جو سلوک کیا وہ تاریخ کا ایک حصہ ۔لیکن حضرت عثمان نے بذات خود جو اجلہ صحابہ سے سلوک کیا وہ کسی طرح سے بھی مستحسن نہیں ہے ۔
تاریخ کے قارئین جانتے ہیں کہ عامۃ المسلمین کے ساتھ بنی امیہ نے اتنی بد سلوکی نہیں کی جتنی کہ حضرت عثمان نے جلیل القدر صحابہ کے ساتھ کی ۔
جب صحابہ کرام کی ممتاز جماعت نے حضرت عثمان کے عمال کی ان کے پاس شکایت کی اور یہ مطالبہ کیا کہ ایسے کہ ایسے قماش کے حکمرانوں کو معزول کیا جائے تو حضرت عثمان نے حسن تدبیر کی جگہ اکابر صحابہ کو تشدد کا نشانہ بنایا ۔
حضرت عثمان کے تشدد کا نشانہ بننے والے افرادمیں حضرت عبداللہ بن مسعود شامل ہیں ۔قرآن مجید کی جمع وتدوین کے وقت ان کاآپس میں تنازعہ ہوا تو حضرت عثمان نے انہیں مطمئن کرنے کی بجائے انہیں درے مارنے کا حکم دیا ۔حضرت عثمان کے غلاموں نے ان پر بے تحاشہ تشدد کیا انہیں اٹھا کر زمین پر پٹکا گیا جس کی وجہ سے ان کی پسلیاں ٹوٹ گئیں اور اتنا تشدد کرکے بھی انہیں تسیکن نہ ہوئی تو انہوں نے ان کا وظیفہ بند کردیا ۔حضرت ابوذر غفاری کے ساتھ اس سے بھی زیادہ برا سلوک کیا گیا ۔
حضرت ابو ذر غفاری رسالت مآب کے عظیم المرتبت صحابی ہیں اور رسول خدا (ص) نے ان کے متعلق فرمایا تھا کہ :- جنت ابو ذر کی مشتاق ہے ۔ جناب رسول خدا(ص) نے ابو ذر غفاری کے زہد وتقوی کی تشبہیہ حضرت عیسی بن مریم علیہما السلام ے دی تھی ۔ اور ان کے متعلق رسول خدا(ص) کی مشہور حدیث وارد ہے :- " مااظلّت الخضرآء ولا اقلّت الغبراء اصدق من ذی لھجۃ من ابی ذر " آسمان نے

١٧٩
سایہ نہیں کیا اور زمین نے اپنی پشت پر کسی ایسے انسان کو نہیں بٹھایا جو ابو ذر سے زیادہ سچا ہو ۔"
حضرت عثمان کے دور میں سرمایہ داری نظام کے عروج کو دیکھ کر حضرت ابو ذر اس کی مخالفت پر کمربستہ ہوگئے اور سارا دن مدینہ کے بازاروں میں سرمایہ داری کی مخالفت کیا کرتے تھے ۔ اور سورۃ توبہ کی آیت کی تلاوت فرماتے تھے ۔" والذین یکنزون الذھب والفضۃ ۔۔۔۔۔۔" یعنی جو لوگ سونا چاندی کے ڈھیر اکٹھے کرتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے ،انہیں دردناک عذاب کی بشارت دو ۔جس دن دوزخ کی آگ میں سونا چاندی کو تپایا جائے گا اور ان کی پیشانیوں ،پہلوں اور پشتوں کو داغا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا یہ تمہارا ذخیرہ کردہ مال ہے ان کا مزہ چکھو ۔"
حضرت عثمان نے محسوس کیا کہ ابو ذر کی تعلیمات سے مدینہ کے غریب طبقہ کے لوگ متاثر ہورہے ہیں تو انہیں جلاوطن کرکے شام بھیج دیا گیا اور شام کے والی معاویہ بن ابی سفیان کو ان پر کڑی نظر رکھنے کا حکم دیاگیا ۔
حضرت ابو ذر کا شام میں بھی وہی رویہ وہا جو کہ مدینہ میں تھا ۔آخرالامر معاویہ نے انہیں درشت اونٹ پر سوار کرکے مدینہ روانہ کیا اور حضرت عثمان نے انہین مدینہ میں رہنے کی اجازت نہ دی ۔ان کو عرب کے صحرائے ربذہ میں جلاوطن کیاگیا ۔ جہاں ان کے فرزند ذر کی وفات ہوگئی اور وہ اور ان کی بیٹی صحرا میں اکیلے رہ گئے ۔ چند دنوں کے بعد عالم غربت میں ان کی وفات ہوئی ۔اہل عراق کا ایک قافلہ وہاں سے گزرا تو انہوں نے پیغمبر اکرم(ص) کے اس جلیل القدر صحابی کی تجہیز وتکفین کی ۔
بلاذری بیان کرتے ہیں کہ جب خلیفہ عثمان کو حضرت ابو ذر کی وفات کی خبر ملی تو حضرت عثمان نے کہا : اس پر اللہ کی رحمت ہو ۔

١٨٠
حضرت عمار نے فرمایا :- اس کے جلا وطن کرنے والے کے متعلق کیا خیال ہے ؟ تو حضرت عثمان نے بڑے تیز وتند لہجے میں عمار سے کہا:- کیا تو یہ سمجھتا ہے کہ میں ابو ذر کو جلاوطن کرکے نادم ہوں ۔
اس کے بعد حضرت عثمان نے جناب عمار بن یاسر کی جلاوطنی کے احکام جاری کئے اورکہا کہ تو بھی ربذہ چلا جا ۔
حضرت عمار نے جلاوطنی کے لئے اپنی تیاریاں مکمل کرلی تو ان کے قبیلے بنو مخزوم کے افراد داد رسی کے لئے حضرت علی (ع) کے پاس آئے ۔ حضرت علی (ع) عثمان کے پاس گئے اور فرمایا :- خدا کا خوف کر تو نے پہلے ہی ایک صالح مسلمان کو جلاوطن کیا ہے ۔اور وہ بے چارہ جلاوطنی میں فوت ہوچکا ہے اور پھر تو اس واقعہ کو دہرانے کا خواہش مند ہے ۔ان دونوں کے درمیان کافی تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا ۔ خلیفہ عثمان نے حضرت علی سے کہا :- عمار کے بجائے جلاوطنی کا زیادہ حقدار تو ہے ۔
حضرت علی (ع) ن ےفرمایا اگر تجھ میں جراءت ہے تو ایسا کرکے بھی دیکھ لے ۔بعد از اں مہاجرین جمع ہوکر خلیفہ کے پاس آئے اور کہا:- جب بھی کسی شخص نے تم سے گفتگو کی ہے تم نے اسے جلاوطن کردیا ہے ۔تمہاری یہ روش اچھی نہیں ہے ۔(١)
حضرت عمار کی جلاوطنی کے احکام انہیں مجبورا واپس لینے پڑے ۔حضرت عمار جیسے جلیل القدر صحابی کو جس وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا اس کی مزید تفصیل علامہ عبد الفتاح عبد المقصود کی زبانی سماعت فرمائیں ۔" بہت سے صحابہ نے بنی امیہ کے ظالم عمال کی شکایات کے لئے ایک مشترکہ خط تحریر کیا ۔ حضرت عمار وہ خط لے کر خلیفہ صاحب کے پاس گئے ۔جب عمار خلیفہ عثمان کے دربار میں پہنچے تومروان نے حضرت عثمان سے کہا ۔ یہ کالا حبشی غلام لوگوں کو آپ کے خلاف
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(١):- انساب الاشراف ۔جلد پنجم ص ٥٤-٥٥

١٨١
برانگیختہ کررہا ہے ۔اگر آج آپ اسے قتل کردیں تو آیندہ کے فتنہ سے محفوظ ہوجائیں گے ۔"
حضرت عثمان نے مروان کی رائے کو پسند کیا اور عصا اٹھا کر حضرت عمار کو بے تحاشا مارا ۔خلیفہ کے خاندان کے افراد نے بھی انہین مارنے میں کوئی کسرباقی نہ اٹھا رکھی ۔
ان ظالمانہ ضربات کی وجہ سے انہیں "فتق" کا عارضہ لاحق ہوگیا ۔
حضرت عمار بے ہوش ہوگئے ۔خلیفہ کے نوکروں نے انہیں پکڑ کر برستی ہوئی بارش اور ٹھنڈے موسم میں سڑک کے کنارے ڈال دیا (١)" اسی دور میں عدل اجتماعی ختم ہوچکا تھا اور اسلامیہ پر ظلم وجور کے سائے منڈلارہے تھے ۔
محقق معاصر ڈاکٹر طہ حسین نے بالکل درست لکھا ہے کہ :- دور عثمانی کے لئے اہل سنت اور معتزلہ کو حضرت عثمان کے عمال کی ہی صفائی نہیں دینی پڑے گی بلکہ انہیں حضرت عثمان کے اعمال کی بھی وجہ دینی ہوگی انہوں نے عظیم المرتبت صحابہ حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت عمار بن یا سر کے ساتھ جو سلوک کیا ہے وہ کسی طور پر صحیح نہیں ہے ۔
حضرت عمار کو اتنا مارا گیا کہ انہیں "فتق "لاحق ہوگیا اور حضرت عبداللہ بن مسعود کو بے عزت کرکے مسجد سے نکالا گیا اور تشدد کے ذریعے ان کی پسلیاں توڑ ڈالی گئیں ۔
ان دو عظیم المرتبت انسانوں کے ساتھ حضرت عثمان نے جو سلوک کیا تھا صرف اپنے عمال کی زبان پراعتماد کیاگیا تھا ۔ ان دونوں بزرگواروں پر باقاعدہ کوئی مقدمہ چلایا گیا تھا اور نہ ہی فریقین سے بیان لئے گئے تھے اور کسی واضح اور ٹھوس ثبوت کے بغیر ان کو وحشیانہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(١):- عبدالفتاح عبدالمقصود ۔الامام علی بن ابی طالب ۔جلددوم ۔ص ٣٤

١٨٢
تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا ۔
یقینا حضرت عثمان کو ایسا کرنے کا کوئی قانونی اور شرعی اختیار حاصل نہ تھا ۔ حضرت ابو ذر کی مثال کو ہی لے لیں ۔ ان کا جرم صرف یہی تھا کہ انہوں نے ان کی مالیاتی پالیسی بالخصوص اقرباء پروری یعنی بنی امیہ نوازی کو ہدف تنقید بنایا تو انہیں اس کی پاداش میں مدینہ سے نکال دیاگیا ۔
حضرت عثمان نے صرف اسی پر اکتفا نہ کیا بلکہ اپنے حکام و عمال کو کھلی چھٹی دے دی کہ وہ جس کو چاہیں جلاوطن کریں اس کی اجازت کے ملنے کے بعد ان کے عمال کبھی اپنے مخالفین کو کوفہ سے شام جلاوطن کرنے لگے اور کبھی شام سے بصرہ اور کبھی بصرہ سے مصر جلاوطن کرتے تھے ۔ گویا جلاوطن کرکے معاویہ کے پاس بھیجتا تھا ۔ اور معاویہ لوگوں کو جلاوطن کرکے سعید کے پاس بھیجتا اور سعید عبدالرحمن بن خالد کی طرف جلاوطن کردیتا تھا ۔ مظلوم لوگوں کی فریاد سننے والا کوئی نہ تھا اور نہ ہی انہیں کسی عدالت میں پیش کیا جاتا تھا اور ان کو کسی قسم کی صفائی کا موقع بھی فراہم نہیں کیا جاتا تھا (١)۔

عبداللہ بن مسعود کی داستان مظلومیت
حضرت عبداللہ بن مسعود کی داستان مظلومیت خاصی عبرت انگیز ہے ۔ان کے مصائب کی ابتداء اس وقت ہوئی جب حضرت عثمان کا مادری بھائی ولید بن عقبہ کوفہ کا گورنر بن کے آیا ۔ جناب عبداللہ بن مسعود اس وقت کوفہ کے بیت المال کے خازن تھے ۔
ولید نے ان سے ایک بڑی رقم بطور قرض مانگی انہوں نے دے دی ۔چند دنوں کے بعد ولید نے ایک اور بھاری رقم نکالنے کا حکم دیا ۔ تو انہوں نے انکار
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(١):- ڈاکٹر طہ حسین مصری ۔ الفتنتہ الکبری ۔عثمان بن عفان ۔ص ١٩٨-١٩٩

١٨٣
کردیا ۔ولید نے حضرت عثمان کی طرف ایک خط لکھا جس میں بیت المال کے خازن کے اس طرز عمل کی شکایت کی ۔
حضرت عثمان نے حضرت عبداللہ بن مسعود کو خط لکھا کہ تم ہمارے مال کے خازن ہو ۔لہذا تم ولید کو مال لینے سے منع نہ کرو
حضر ت عبداللہ بن مسعود نے یہ خط پڑھ کر چابیاں پھینک دیں اور کہا کہ :- میں اپنے آپ کو مسلمانوں کا خازن تصور کرتا تھا اور اگر مجھے تمہارا خازن بننا ہے تو مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔
بیت المال کو چھوڑنے کے بعد وہ کوفہ میں مقیم رہے ۔
ولید نے سارا واقعہ خط میں لکھ کر حضرت عثمان کو روانہ کیا ۔حضرت عثمان نے ولید کو لکھا کہ اسے کوفہ سے نکال کر مدینہ بھیج دو ۔حضرت ابن مسعود نے کوفہ چھوڑا اور اہل کوفہ نے ان کی مشایعت کی اور ابن مسعود نے انہیں اللہ کے تقوی اور تمسک بالقرآن کی وصیت کی ۔اہل کوفہ نے ان سے کہا ۔ اللہ آپ کو جزائے خیر دے ۔آپ نے ہمارے جاہلوں کو تعلیم دی اور دین کی سمجھ عطا کی ۔
ابن مسعود مدینہ آئے اس وقت حضرت عثمان منبر رسول پر خطبہ دے رہے تھے ۔جب ان کی نظر ابن مسعود پر پڑی تو کہا:- وہ دیکھو برائی کا کیڑا تمہارے پاس آیا ہے ۔
ابن مسعود نے کہا :- میں ایسا نہیں ہوں میں تو پیغمبر اکرم کا صحابی ہوں ۔حضرت عثمان نے اپنے درباریوں کو حکم دیا کہ اسے مسجد سے ذلت کے ساتھ باہر نکال دیں اور عبداللہ بن زمعہ نے انہیں اٹھا کر پوری قوت کے ساتھ زمین پہ پٹکادیا ۔ جس کی وجہ سے ان کی پسلیاں ٹوٹ گئی ۔
حضرت عبد اللہ بن مسعود مدینہ میں رہے ۔عثمان انہیں مدینہ سے باہر

١٨٤
جانے کی اجازت نہیں دیتے تھے ۔
قتل عثمان سے دو برس قبل ان کی وفات ہوئی وفات سے چند روز قبل حضرت عثمان ان کی عیادت کے لئے آئے تو پوچھا ۔
عثمان :- آپ کو کونسی بیماری کی شکایت ہے ؟
ابن مسعود :- اپنے گناہوں کی ۔
عثمان :- کیا میں طبیب کو بلاؤں ؟
ابن مسعود :- طبیب نے تو بیماری دی ہے
عثمان :- آپ کیا چاہتے ہیں ؟
ابن مسعود :- اپنے رب کی رحمت ۔
عثمان :- کیا میں تمہار وظیفہ جاری کردوں ؟
ابن مسعود:- جب مجھے ضرورت تھی تو تم نے روک لیا تھا ۔ اب جبکہ میں موت کے استقبال کے لئے آمادہ ہوں تو میں وظیفہ لے کر کیا کروں گا؟
عثمان:- وظیفہ سے آپ کی اولاد کی گزر بسر اچھی ہوگی ۔
ابن مسعود :- ان کا رازق اللہ ہے ۔
عثمان :- عبدالرحمان کے ابا! میری بخشش کے لئے اللہ سے دعا مانگیں ۔
ابن مسعود :- میری خدا سے درخواست ہے کہ تجھ سے میرا حق وصول کرے ۔
حضرت ابن مسعود وصیت کرکے گئے تھے کہ ان کی نماز جنازہ میں عثمان شامل نہ ہوں (١)-
حضرت عثمان کے طرز عمل پر لوگوں نے اعتراضات کئے ہیں ۔ کچھ اعتراضات تو ان واقعات کی وجہ سے ہوئے ہیں جو ہر لحاظ سے روح اسلام ،سنت نبوی اور سیرت شیخین کے خلاف تھے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(١):- البلاذری ۔انساب الاشراف ۔جلد چہارم ۔ص ٢٧



۱۹
مخالفین کے حضرت عثمان پر الزامات المیہ جمعرات

١٨٥
صحابہ کرام نے حضرت عثمان کے دوسرے تصرفات پر بھی اعتراض کیا۔ ان میں سے کچھ کا تعلق قرآن وسنت کی مخالفت کی وجہ سے تھا ۔ ان تمام اعتراض کا جامع خلاصہ ڈاکٹر طہ حسین نے یوں بیان کیا ۔

مخالفین کے حضرت عثمان پر الزامات
حضرت عثمان کے مخالفین ان پر الزام عائد کرتے تھے کہ انہوں نے اقتدار سنبھالتے ہی اللہ کی بیان کردہ حد شرعی کو معطل کیا ۔
١:- انہوں نے حضرت عمر کے بیٹے عبیداللہ پر حد جاری نہیں کی تھی ۔جب کہ ان نے اپنے باپ کے قتل کے بدلے ہرمزان ،جفینہ اور ابو لولو کی بیٹی کو قتل کردیا تھا ۔ حالانکہ حق یہ تھا کہ وہ اپنے والد کے قتل کا مقدمہ عدالت میں پیش کرتے اور عدالت اس کے باپ قاتل کو سزادیتی ۔ اس نے عدالت سے رجوع کرنے کی بجائے قانون اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا اور ایک قاتل کے بدلے میں تین بے گناہ افراد کو قتل کردیا تھا۔جب کہ ہرمزان مسلمان تھا اور جفینہ اور ابولولو کی بیٹی اسلامی ریاست کے ذمی تھے ۔اور اسلام مسلمانوں اور ذمیوں کے خون کا تحفظ کرتا ہے ۔صحابہ کی ایک جماعت نے حضرت عثمان سے مطالبہ کیا تھا ۔ کہ حضرت عمر کے بیٹے سے قصاص لینا فرض ہے اور اس اسلامی قانون کو کسی صورت بھی معطل نہیں ہونا چاہیۓ ۔حضرت عثمان نے کوئی قصاص نہ لیا اور کہا کہ "کل اس کا باپ قتل ہوا اور آج اس کے بیٹے کومیں قتل کروں ؟ "چنانچہ انہوں نے حضرت عمر کے بیٹے کو معاف کردیا ۔اس دور کے مسلمانوں نے اس بات پر شدید احتجاج کیا تھا اور کہا تھا کہ قصاص نہ لینا قرآن وسنت کی عملی نفی ہے اور مزید یہ "سیرت شخین" کی بھی کھلم مخالفت ہے ۔
٢:-انہوں نے منی میں نماز پوری پڑھی ۔جب کہ رسول خدا(ص) اور شیخین نے

١٨٦
وہاں نماز قصر تھی اور خود حضرت عثمان بھی کئی برس تک وہاں نماز قصرپڑھتے تھے ۔
صحابہ کرام کو اس مقام پر پوری نماز دیکھ کر دکھ ہوا تھا ۔ کیونکہ وہ اسے سنت نبوی کی مخالفت سمجھتے تھے اور بالخصوص مہاجرین کی نظر میں یہ ایک انتہائی خطرناک چیزتھی ۔کیونکہ رسول خدا(ص) نے جب مکہ سے ہجرت کی تو انہوں نے مدینہ کو ہی اپنے لیئے "دار اقامت " قرار دیا تھا ۔ اور مکہ کو اپنے لئے اجنبی شہر قرار دیا تھا ۔
اسی لئے رسول خدا(ص) اور ان کے اصحاب جب بھی مکہ آتے تو نماز ہمیشہ قصر پڑھا کرتے تھے ۔تاکہ ہرشخص سمجھ لے کہ وہ مکہ کو اپنا وطن نہیں سمجھتے اور نہ ہی وہاں دوبارہ آباد ہونا چاہتے ہیں ۔ حضور اکرم کو یہ بات پسند نہ تھی کہ ہجرت کے بعد کوئی صحابی مکہ میں فوت ہو ۔
٣:- صحابہ کرام نے حضرت عثمان کے دور کی زکاۃ پر بھی اعتراض کیا تھا۔ کیونکہ حضرت عثمان نے گھوڑوں پر بھی زکواۃ وصول کی ،جب کہ رسول خدا(ص) نے گھوڑوں کو زکواۃ سے مستثنی کیا تھا اور حضرات شیخین کے عہد حکومت میں بھی گھوڑوں کی زکواۃ وصول نہیں کی جاتی تھی ۔
٤:- صحابہ کرام نے چراگاہوں پر حضرت عثمان کے قبضہ کی مخالفت کی تھی ۔ کیونکہ اللہ اور رسول نے پانی ،ہوا اور چراگاہوں کو تمام لوگوں کی ملکیت قراردیا ہے ۔
٥:- حضرت عثمان کے دور میں زکواۃ کو جنگ میں بھی خرچ کیا جاتا تھا ۔ اسی لئے بہت سے صحابہ نے اس کی مخالفت کی تھی اور ان کی دلیل یہ تھی کہ اللہ تعالی نے قرآن مجید میں مصارف زکواۃ کی تفصیل بیان کردی ہے اور مذکورہ مصارف کے علاوہ زکواۃ کو کسی اور مصرف میں خرچ نہیں کیا جاسکتا ۔
٦:- قرآن مجید کی جمع وتدوین کے وقت بھی صحابہ کرام کی ایک جماعت نے ان پر سخت اعتراضات کئے تھے اور ان کا موقف یہ تھا کہ تدوین قرآن کے لئے جو

١٨٧
کمیٹی قائم کی گئی ہے وہ چند منظور نظر افراد پر مشتمل ہے ۔جب کہ اس وقت قرآن کے قراء وحفاظ کی معتد بہ ایسی جماعت بھی موجود تھی جو ہر لحاظ سے کمیٹی ممبران سے قرآن مجید کا زیادہ علم رکھتی تھی ۔
حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت علی (ع) جیسی شخصیات کو قرآن کمیٹی میں شامل نہیں کیا گیا تھا ۔ واضح ہو کہ حضرت عبداللہ بن مسعود قرآن مجید کے بہت بڑے قاری تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ میں نے رسول خدا (ص) سے ستر سورتیں اس وقت سنی تھیں جب زید بن ثابت ابھی بالغ بھی نہیں ہوئے تھے اور حضرت علی (ع) وہ عظیم شخصیت ہیں جن کے متعلق اللہ نے خود فرمایا "ومن عندہ علم الکتاب " اور جس کے پاس کتاب کا علم ہے ۔" اتنی بڑی شخصیات کو چھوڑ کر زید بن ثابت اور ان کے دوستوں تدوین قرآن کیلئے مقرر کرنا درست نہیں تھا ۔
٧:- قرآن مجید کے باقی نسخوں کو نذر آتش کرنا بھی صحیح اقدام نہ تھا ۔
٨:- حضرت عثمان کے مخالفین ان پر اعتراض بھی کیا کرتے تھے کہ انہوں نے اپنے طرید رسول چچا حکم اور اس کے بیٹے مروان کو مدینہ واپس آنے کی اجازت دی ۔ جب کہ رسول خدا (ص) نے اسے مدینہ سے جلاوطن کیا تھا ۔
٩:- دور جاہلیت میں حکم بن ابی العاص کا گھر رسول خدا(ص) کے گھر کے قریب تھا اور وہ آپ کا بدترین ہمسایہ تھا ۔ ہمیشہ حضور اکرم (ص) کو اذیتیں دیا کرتا تھا ۔
فتح مکہ کے بعد اس نے اپنی جان بچانے کے لئے اسلام قبول کیا اور مدینہ آکر بھی وہ اپنی حرکات سے باز نہ آیا ۔ یہاں وہ جناب رسول خدا (ص) کی نقلیں اتارا کرتا تھا۔ ایک دفعہ رسول خدا نے اسے آپنی آنکھوں سے یہ حرکت کرتے ہوئے دیکھ لیا تو فرمایا کہ حکم اور اس کی اولاد میرے ساتھ ایک شہر میں نہیں رہ سکتی ۔بعد ازاں اسے طائف جلاوطن کردیا گیا ۔حضرت ابو بکر اور حضرت عمر کے دور میں بھی وہ بدستور جلاوطن رہا ۔ حضرت عثمان نے اقتدار پر آتے ہی اپنے چچا اور اس کی

١٨٨
اولاد کو مدینہ بلالیا صحابہ کرام کہا کرتے تھے کہ جس منحوس صورت کو رسول خدا (ص) اپنی زندگی میں دیکھنا پسند نہیں کرتے تھے ۔عثمان کو بھی چاہئے تھا کہ وہ مدینے بلاکر حضور کی اذیت کا موجب نہ بنتا ۔
١٠:- حضرت عثمان نے طرید رسول چچا کو صرف مدینہ لانے پر ہی بس نہ کی بلکہ مسلمانوں کے بیت المال سے اسے لاکھوں دینا بھی عطا کئے تو کیا یہ انعام رسول خدا کو اذیت دینے کے صلہ میں دیا گیا تھا یا کوئی اور وجہ تھی ؟
١١:- حکم کے بیٹے مروان بن الحکم کو اپنا مشیر مقرر کیا ۔تو کیا اس دور میں مروان کے علاوہ کوئی صالح مسلمان باقی نہیں رہا تھا؟
١٢:- حارث بن حکم کو امور مدینہ کا انچارج مقرر کیا گیا ۔ اس نے وہ طرز عمل اختیار کیاجو کسی طور بھی امانت ودیانت کے تقاضوں کے مطابق نہ تھا ۔ اس سے خیانت کی باز پرس کی بجائے خصوصی نوازشات سے نوازا گیا (١)۔

اپنوں کی طوطا چشمی
جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے
حضرت عثمان کی سیاست اس وقت دم توڑنے لگی جب ان کے اپنوں نے بھی ان سے آنکھیں چرانی شروع کی ۔کثرت زر اور شکم سیری نے انہیں یہ روز بد دکھا یا کہ خود ان کے افراد خانہ اور ان کے مقربین اور جنہوں نے ان کو خلیفہ بنانے میں کردار ادا کیا تھا وہ بھی ان کی مخالفت کرنے لگے ۔
محمد بن ابی حذیفہ کی مثال آپ کے سامنے ہے اسے ان سے یہ شکوہ پیدا ہوا کہ حضرت عثمان ان پر اپنے دیگر افراد خاندان کو ترجیح دیتے ہیں ۔ چنانچہ وہ عزوہ روم سے واپس آنے والوں سے گفتگو کرتا اور کہتا کہ : کیا تم جہاد سے واپس
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(١):- ڈاکٹر طہ حسین مصری ۔الفتنتہ الکبری ۔عثمان بن عفان ۔ص – ١٧٥ ۔ ١٧٦

١٨٩
آرہے ہو؟
وہ کہتے کہ جی ہاں! حجاز کی طرف وہ انگلی کا اشارہ کرکے کہتا تھا ۔ ہمیں اس وقت تو عثمان سے جہاد کرنے کی ضرورت ہے
یہ "حضرت" مزید نفرتیں پھیلانے کے لئے مصر گئے ۔وہاں مخالفین عثمان کو منظم کرنے لگا اور ان سے کہتا تھا :- مصرو الو! اگر جہاد کرنا ہے تو مدینہ چلو اور عثمان سےجہاد کرو ۔
حضرت عثمان نے اس کا منہ بند کرنے کے لئے اس کے پاس تیس ہزار درہم اور شاہی خلعت روانہ کی ۔ اس نے مذکورہ رقم اور خلعت کو مسجد میں لاکے رکھا اور کہا لوگو! رہنا عثمان ان سکوں کے عوض میرے دین اور ضمیر کو خرید نا چاہتا ہے ۔مگر میں بکنے والا شخص نہیں ہوں ۔
اس واقعہ سے مصر میں حضرت عثمان کی مخالفت زیادہ پروان چڑھی ۔

ایک "زود پشیمان " کی پشیمانی
حضرت عثمان کی اقرباء نوازی اور غیر منصفانہ طرز عمل کو دیکھ کر انہیں خلافت دینے والا شخص عبدالرحمن بن عوف بھی ان کا مخالف ہوگیا اور کہتا تھا ۔ اگرمیں بعد والے کو پہلے لاتا تو عثمان کو میری جوتی کا تسمہ بھی خلیفہ نہ بناتا ۔
عبدالرحمن عالم نزع میں کہہ رہے تھے ۔ اسے باز رکھو ، اسے روکنے کی جلدی کرو ۔ایسا رہو کہ اس کی حکومت مزید مستحکم ہوجائے ۔
بلاذری بیان کرتے ہیں :- حضرت ابو ذر کی المناک وفات کے بعد حضرت علی (ع) نے عبدالرحمن بن عوف سے فرمایا :- یہ سب تمہارا کیا دھرا ہے ۔تم نے ہی اس کو حکومت دی تھی اور اس حکومت کی وجہ سے بے گناہ صحابی پر اتنے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(١):- عبدالفتاح عبدالمقصود ۔الامام علی بن ابی طالب ۔جلد دوم ص ٧٢

١٩٠
مظالم ڈھائے گئے ہیں ۔ اس کے اصل مجرم تم ہو۔
عبدالرحمن نے کہا:- اگر آپ چاہیں تو میں اپنی تلوار اٹھا لیتا ہوں اور آپ اپنی تلوار اٹھالیں ۔دونوں مل کر اس سے جنگ کریں ۔اس نے میرے ساتھ کئے ہوئے وعدوں کا لحاظ نہیں رکھا ۔
عبدالرحمن یہ وصیت کرکے مرے تھے کہ :- ان کے جنازے میں عثمان شریک نہ ہوں ۔

عمرو بن العاص اور حضرت عثمان
حضرت عثمان نے عمر بن العاص کو مصر کی گورنری سے معزول کردیا ۔
اس لئے عمرو بن العاص بھی ان کا مخالف بن گیا اور اس نے لوگوں کو خلیفہ کے خلاف بھڑکانا شروع کیا اور ایک مرتبہ حضرت عثمان کے سامنے اس نے جراءت کرکے کہا تھا کہ :- تم نے لوگوں پر ظلم کئے اور ہم بھی ان مظالم میں تمہارے شریک تھے لہذا تم بھی توبہ کرو اور ہم بھی تیرے ساتھ توبہ کریں گے ۔
جب عمرو بن العاص نے دیکھا کہ اب حالات حضرت عثمان کے کنٹرول میں نہیں رہے اور ان کا منطقی نتیجہ ظاہر ہونے ہی والا ہے تو وہ فلسطین میں اپنی جاگیر پر چلا گیا اور مدینہ کی خبروں کا انتظار کرنے بیٹھ گیا ۔
فلسطین کی جاگیر میں عمر بن العاص اپنے دونوں بیٹوں کے ہمراہ رہائش پزیر تھا کہ اسے حضرت عثمان کے قتل کی خبر ملی تو اس نے اپنے بیٹے عبداللہ کو مخاطب کرکے کہا :- عبداللہ ! میں تیرا باپ ہوں ۔میں نے آج تک جس زخم کو کریدا تو اس سے خون ضرور نکالا ۔
اسے جملے سے وہ یہ کہنا چاہتا تھا کہ میں نے عثمان کے قتل کی راہ ہموار کی

١٩١
چنانچہ وہ اب قتل بھی ہوگیا ۔(١)
عمرو بن عاص خود راوی ہیں کہ :-میں نے عثمان کے خلاف لوگوں کو برانگیختہ کیا یہاں تک کہ میں نے چرواہوں کو بھی عثمان کی مخالفت پرآمادہ کیا (٢)۔
باغیوں ک جانب سے حضرت عثمان کا جو پہلا محاصرہ ہوا اس موقع پر عمرو بن العاص حضرت عثمان کے پاس گیا اور کہا :- تم نے لوگوں پر بہت ظلم کئے ہیں ۔ خدا سے ڈرو اور توبہ کرو۔
حضرت عثمان نے کہا :- اے نابغہ کے فرزند ! لوگوں کو میرے خلاف جمع کرنے میں تیرا بڑا حصہ ہے کیوں کہ میں نے تجھے حکومت مصر سے معزول کیا ہے ۔
اس کے بعد عمرو بن العاص فلسطین آیا اور لوگوں کو حضرت عثمان کے خلاف بھڑکاتا رہا اور جب اس نے حضرت عثمان کے قتل کی خبر سنی توکہا :- میں عبداللہ کاباپ ہوں ۔میں نے آج تکاجس بھی زخم کو کریدا تو اس سے خون ضرور جاری وہا (٣)۔

حضرت عثمان اور ام المومنین عائشہ
تمام امہات المومنین میں حضرت عائشہ نے حضرت عثمان کی بہت زیادہ مخالفت کی ۔
جب حضرت عثمان نے جلیل القدر صحابی حضرت عبداللہ بن مسعود کو برابھلا کہا تو اس وقت پردہ کی اوٹ سے ام المومنین نے حضرت عثمان کو خوب کھری باتیں سنائیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(١):-ڈاکٹر طہ حسین مصری ۔الفتنہتہ الکبری ۔علی وبنوہ ۔ص ٦٧۔٦٨
(٢):-عباس محمودا لعقاد ۔عبقریتہ الامام ۔ص ٨٣
(٣):-البلاذری ۔انساب الاشراف ۔جلد پنجم ۔ص ٧٤

١٩٢
حضرت عثمان اور ان کے عمّال پر دل کھول کر تنقید کیا کرتی تھیں اور لوگ مخالفین عثمان میں ام المومنین کو سب سے بڑا مخالف تصور کرتے تھے ۔(١)
ایک دفعہ حضرت عائشہ نے رسول خدا(ص) کی قمیص اٹھا کر مسجد میں دکھائی اور حاضرین مسجد سے فرمایا کہ دیکھ لو رسول خدا (ص) کی تو قمیص پرانی نہیں ہوئی لیکن عثمان نے ان کی سیرت کو پرانا کردیا ہے ۔" نعثل " کو قتل کرڈالو ۔اللہ نعثل کو قتل کرے (٢)۔
حضرت عائشہ نے لوگوں کو حضرت ک عثمان کے خلاف برانگیختہ کیا اور لوگوں کو متعدد مرتبہ ان کے قتل کا حکم دیا اور جب ستم زدہ عوام نے ان کے گھر کا محاصرہ کیا تو حضرت عائشہ حج وعمرہ کا بہانہ کرکے مکہ چلی گئیں اور اپنی لگائی ہوئی آگ کو انہوں نے بجھانے کی کوئی کو شش نہیں کی اور مکہ میں رہائش کے دوران ہروقت مدینہ کی خبر منتظر رہتی تھیں ۔
ایک دفعہ ایک جھوٹی خبر ان کے گوش گزار ہوئی کہ :- حضرت عثمان نے محاصرہ کرنے والے مخالفین کو قتل کرادیا ہے اور شورش دم توڑگئی ہے ۔ یہ سن کر بربی بی صاحبہ نے سخت غصہ میں فرمایا ۔یہ تو بہت برا ہوا ۔حق کے طلبگاروں کو قتل کردیا اور ظلم کے مخالفین کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ۔(٣)
ایک دفعہ حضرت عثمان اور حضرت عائشہ میں کافی تلخ کلامی ہوئی تو حضرت عثمان نے کہا امور سلطنت کے ساتھ تیرا کیا واسطہ ہے ؟ اللہ نے تجھے گھر میں بیٹھنے کا حکم دیا ہے ۔
یہ الفاظ سن کر انہیں سخت غصّہ آیا اور رسول خدا کے چند بال اور ایک
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(١):- ڈاکٹر طہ حسین مصری ۔الفتنتہ الکبری ۔علی وبنوہ ۔ص ٢٩
(٢):- ابن ابی الحدید معتزلی ۔ شرح نہیں البلاغہ ۔جلدچہارم ۔ص ٤٠٨
(٣):- عبدالفتاح عبدالمقصود ۔الامام علی ابن ابی طالب ۔جلد دوم ۔ص ٢٧٦-٢٧٧

١٩٣
لباس اور نعلین مبارک نکال کر فرمایا :- رسول خدا (ص) کے بال لباس اور ان کی نعلین تک بوسیدہ نہیں ہوئی تم نے ان کی سنت کو چھوڑ دیا ہے (١)۔
ام المومنین اور کبار صحابہ تمام ملت اسلامیہ میں مخالفت کی لہر دوڑ گئی اور باقی ممالک محروسہ کی نسبت حجاز ،مصر اور عراق میں مخالفت ک شدت زیادہ تھی ۔ اور تعجب خیز امر یہ ہے کہ حضرت عثمان کو مخالفت کی اس شدید لہر کا احساس نہیں تھا اور کبار صحابہ کے پر خلوص مشوروں کو درخور اعتنا نہ سمجھا ۔انہوں نے ہمیشہ مروان بن حکم اور اپنے دوسرے عمّال کے مشوروں کو اہمیت دی ۔ جب کہ تمام مشکلات ومسائل انہیں کے پیدا کردہ تھے۔

بنی امیہ کا اجلاس
جب چاروں طرف سے حضرت عثمان پر تنقید ہونے لگی تو انہوں نے اپنی کابینہ کا خصوصی اجلاس بلایا ۔ جس میں معاویہ بن ابی سفیان ،عبداللہ بن ابی سرح ، عبداللہ بن عامر اور سعید بن عاص نمایاں تھے ۔
حضرت عثمان نے معتمدین کے اس اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے کہا :- ہر سربراہ کے وزیر کرتے ہیں اور تم لوگ میرے وزیر ہو ۔ موجودہ خلفشار تمہارے سامنے ہے ۔ اس سے نمٹنے کیلئے مجھے تمہارے مشوروں کی ضرورت ہے ۔
معاویہ نے تو صرف یہی جواب دیا کہ تمام عمال کو ان کے علاقوں میں بھیج دیا جائے اور وہاں کے تمام شرپسند افراد سے نمٹنے کی ان کو کھلی چھٹی دی جائے اور عمال کو چائیے کہ وہ کسی حکومت مخالف فرد کو مدینہ آنے کی اجازت نہ دیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(١):- البلاذری ۔انساب الاشراف ۔ص ٤٨-٤٩

١٩٤
سعید بن العاص نے کہا :- شورش کے سربراہوں کو قتل کردیا جائے ۔ عبداللہ بن ابی سرح نے کہا :- قتل کرنے سے ہماری حکومت مزید بدنام ہوگی بیت المال سے ان لوگوں کو بھاری رقمیں دے کر خاموش کرادیا جائے ۔عبداللہ بن عامر نے کہا کہ :- لوگوں کو جہاد میں مشغول کیا جائے اور انہیں سرحدی علاقوں میں بھیج کر اس مشکل سے جان چھڑائی جائے ۔(١)
مشیروں کے درج بالا مشوروں سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے اصل حقیقت کے ادراک سے آنکھیں بند کی ہوئی تھیں ۔ اور وہ کسی ایک نتیجہ پر بھی نہیں پہنچے تھے اور انہوں نے اقرباء پروری اور مالی بدعنوانیوں کو ختم کرنے کی بجائے لوگوں کو بیرونی جنگوں میں الجھانے کا مشورہ دیا اور مذکورہ اجلاس میں حضرت عثمان بھی اپنی کوئی رائے پیش کرنے سے قاصر رہے تھے اور مشکلات کے وقتی اور دائمی خاتمہ کے لئے ان کے پاس کوئی پروگرام نہیں تھا ۔
اس وقت ہمیں یہ دیکھ کر انتہائی حیرت ہوئی ہے کہ جب چند صحابہ نے انہیں پر خلوص مشورہ دیا تو انہوں نے ان سے کہا کہ :- ہر امت کے لئے کوئی نہ کوئی آفت ومصیبت ہوتی ہے اور اس امت کی آفت مجھ پر نکتہ چینی کرنے والے افراد ہیں ۔
اے گروہ مہاجرین وانصار ! تم کیسے لوگ ہو تم میرے ایسے کاموں پر بھی اعتراض کیا ہے جنہیں عمر بن خطاب بھی کیا کرتے تھے ۔ لیکن تم نے اس پر تو کوئی اعتراض نہیں کیا تھا اب تم مجھ پر تم معترض ہوتے ہو ۔ تم عمر کے سامنے اس لئے اعتراض نہیں کرتے تھے کیونکہ اس نے تمہاری باگیں کھینچ رکھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(١):- ڈاکٹر طہ حسین مصری ۔الفتنتہ الکبری ۔عثمان بن عفان ۔ص ٢٠٦-٢٠٧

١٩٥
تھیں تمہیں جان لینا چاہئیے کہ ابن خطاب کا خاندان چھوٹا خاندان تھا جب کہ میرا خاندان بہت بڑا ہے ۔
حضرت عثمان کی اس گفتگو سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کا ان سے مطالبہ یہی تھا کہ وہ اپنی حکومت کو قرآن وسنت اور سیرت شیخین کے مطابق چلائیں ۔مگر صحابہ کے اس جائز اور فطری مطالبہ کے جواب میں حضرت عثمان نے انہیں لالچی اور عیب جو قراردیا ۔جبکہ ان القاب کی بجائے ان کا حق یہ تھا کہ وہ اپنی اور اپنے عمال کی صفائی پیش کرتے اور بیت المال کو جس طرح سے بنی امیہ پر لٹا یا گیا تھا ۔ اس کا حساب پیش کرتے اور عجیب ترین امر یہ ہے کہ حضرت عثمان نے اپنے اعمال کی صفائی دینے پر تو چنداں توجہ نہیں دی بلکہ انہیں طعنہ دیتے ہوئے کہا کہ یہی کام تو عمر بھی کیا کرتے تھے لیکن تمہاری زبانیں اس وقت خاموش رہتی تھیں اور خلیفہ صاحب نے اپنے خطبہ کا اختتام ڈرانے دھمکانے پر کیا ۔
انہی بے تدبیریوں کی وجہ سے آہستہ آہستہ لشکر میں بھی ان کی مخالفت سرایت کرتی گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ چنگاری شعلوں کی صورت اختیار کر گئی ۔
یہی وجہ ہے جب عبداللہ بن عامر رومیوں کے بحری بیڑے کو شکست دے کر واپس آیا تو محمد ابن ابی حذیفہ اس کے لشکر کو اس کا مخالف بنا چکا تھا ۔کیوں کہ وہ لشکر گاہ میں لوگوں سے کہتا تھا کہ :- ہمیں مدینہ جاکر عثمان سے جہاد کرنا ہے ۔اصحاب رسول (ص) کو کلیدی عہدوں سے ہٹا کر فاسق اور خائن قرابت داروں کو ان عہدوں پر فائز کرچکا ہے ۔تم لوگ اپنے اسی حاکم اور قائد جہاد کو ہی دیکھ لو ۔قرآن
١٩٦
نے اس کے کفر کی تائید کی ہے اور رسول خدا(ص) نے اسے واجب القتل ٹھہرایا ہے ۔لیکن اس کے باوجود عثمان نے اسے تمہار حاکم مقرر کیا ہے کیوں کہ یہ اس کا رضاعی بھائی ہے ۔(١)
الغرض اس وقت حضرت عثمان کے خلاف ایک ایسا محاذ بن گیا جہاں ان کے خلاف سینہ بہ سینہ خبریں جنم لیتی تھیں اور زبان زد عام وخاص ہوجاتی تھیں ۔لیکن ان خبروں کے اصل ذرائع کا لوگوں کو علم نہیں ہوتا تھا۔
حضرت عثمان نے مسجد نبوی کی توسیع کی تو اس وقت لوگوں کی زبانوں پر یہ عبارت جاری تھی کہ :- دیکھو رسول (ص) کی مسجد کی توسیع ہورہی ہے ۔لیکن ان کی سنت سے انحراف کیا جارہا ہے ۔
حضرت عثمان کے دور میں کبوتر زیادہ ہوگئے ۔مسجد نبوی مدینہ کے گھر اور اکثر چھتیں کبوتروں سے بھری ہوئی نظر آنے لگیں تو حضرت عثمان نے کبوتروں کو ذبح کرنے کا حکم دیا تو اس وقت لوگوں نے کہنا شروع کیا کہ :- پناہ حاصل کرنے والے بے چارے کبوتروں کو تو ذبح کرایا جارہا ہے اور طرید رسول (ص) حکم بن ابی العاص اور اس کے بیٹے مروان کو گھر میں بسایا جارہا ہے ۔(٢)
بلاذری نے یہی روایت سعید بن مسیب سے کی ہے کہ حضرت عثمان نے کبوتروں کو ذبح کرنے کا حکم دیا تو لوگوں نے کہا کہ بے چارے پرندوں کو ذبح کرارہا ہے اور جن کو رسول خدا(ص) نے مدینہ سے نکالا تھا انہیں پناہ دی جارہی ہے (٣)۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(١):- ڈاکٹر طہ حسین مصری ۔ الفتنتہ الکبری ۔عثمان بن عفان ۔ ص ١٦٨
(٢):- ایضا
(٣):- انساب الاشراف ۔جلد پنجم ۔ص ٢٢

١٩٧

ایک سوال جس کا جواب ضروری ہے
اس مقام پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے اور اس کا جواب تلاش کرنا بھی بڑا ضروری ہے اور وہ سوال یہ ہے کہ :-
حضرت عثمان کی سیاست کی مخالفت کہاں سے پیدا ہوئی ؟
کیا تحریک مخالفت خلافت کے مرکز مدینہ طیبہ میں پیدا ہوئی تھی ؟
یا
دوسرے شہروں میں اس تحریک نے جنم لیا اور پھر اس نے مدینہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ؟
واضح الفاظ میں یہ سوال ان الفاظ کے ذریعے بھی کیا جا سکتا ہے کہ :-
حضرت عثمان کی تحریک مخالفت مہاجرین وانصار میں پہلے پہل پیدا ہوئی اور پھر وہاں سے دوسرے شہروں کو منتقل ہوئی؟
یا
یہ تحریک پہلے فوج میں پیدا ہوئی اور وہاں سے سفر کرکے مدینہ پہنچی اور مہاجرین وانصار کو اپنی طرف مائل کرلیا ؟
ہم جانتے ہیں کہ اندھی عقیدت رکھنے والے افراد کے لئے اس سوال کا جواب دینا بڑا مشکل ہے ۔
کیونکہ اگر پہلی صورت کو تسلیم کیاجائے تو اس کا مفہوم یہ ہے کہ حضرت عثمان کی سیاست کا انکار سب سے پہلے مہاجرین وانصار صحابہ نے کیا بعد ازاں دوسرے لوگوں نے ان کا اتباع کیا ۔
اور اگر دوسری صورت کو کم ضرر رساں سمجھ کر اختیار کیا جائے اس کا مطلب یہ ہوگا کہ حضرت عثمان کی سیاسی ناہمواریوں کو دیکھ کر ان کے جانثار

١٩٨
لشکر نے ان کی مخالفت کا آغاز کیا اور صحابہ نے مخالفین کی پیروی کی ۔ لیکن ہمیں اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی مدنظر رکھنی ہوگی کہ کیا جلیل القدر صحابہ عام افراد کی باتوں میں آسکتے تھے اور ان کے ہاتھوں کھلونا بن سکتے تھے ؟
ہم یہ سمجھتے ہیں کہ حضرت عثمان کے خلاف جو تحریک چلی تھی اس کی ابتداء مدینہ سے ہوئی تھی ۔ اس تحریک مخالفت کا سرچشمہ مدینہ میں ہی تھا اور مدینہ سے یہ تحریک باقی شہروں تک پہنچی (١)۔
ہمارے پاس اپنے اس جواب کی صداقت کے لئے بزرگ صحابہ کرام کا طرز عمل موجود ہے ۔
ہم جانتے ہیں کہ حضرت عثمان نے حضرت ابو ذر کے ساتھ کیا سلوک کیا تھا اور اس کے ساتھ ہمیں یہ بھی علم ہے کہ حضرت عثمان نے عبداللہ بن مسعود اور حضرت عمار یا سر پر کتنا تشدد روارکھا تھا ؟ اسلامی تاریخ میں حضرت عثمان کے اس "حسن سلوک " کی بہت سی مثالیں موجود ہیں اور اسی وجہ سے صحابہ کرام بھی ان کی مخالفت پراتر آئے تھے ۔
بلاذری کی زبانی جبلہ بن عمرو الساعدی کی گفتگو سماعت فرمائیں :" جس زمانے میں لوگوں میں حضرت عثمان کی مخالفت عام ہوچکی تھی ۔ انہی ایام میں حضرت عثمان جبلہ بن عمر الساعدی کے مکان کے پاس سے گزرے اس وقت جبلہ اپنے دروازے پر کھڑا ہوا تھا تو اس نے حضرت عثمان سے کہا :- اے نعثل ! اللہ کی قسم میں تجھے قتل کروں گا یا تجھے جلاوطن کرکے خارش زدہ کمزور اونٹنی پر سوار کروں گا ۔تو نے حارث بن الحکم کو بازار کا مالک بنایا ہے اور تو نے فلاں فلاں غلط کا م کئے ہیں ۔"(٢)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(١):- ڈاکٹر طہ حسین مصری ۔الفنتہہ الکبری ۔عثمان بن عفان ۔ص ١٣٦
(٢):- البلاذری ۔انساب الاشراف ۔جلد پنجم ۔ص٤٧

١٩٩
واضح ہو کہ حارث بن الحکم مروان کا بھائی تھا اور اس نے بازار مدینہ میں اندھیر مچایا ہوا تھا ۔ اسی لئے جبلہ بن عمرو الساعدی نے اعتراض کیا تھا ۔اور کسی نے حضرت جبلہ سے کہا کہ آپ اس مسئلہ میں حضرت عثمان کی مخالفت ترک کردیں تو انہوں نے کہا تھا کہ مجھے کل اپنے خدا کے سامنے حاضر ہونا ہے اور میں یہ نہیں کہنا چاہنا :- " انّا اطعنا سادتنا وکبرآءنا فاضلّونا السبیلا "(الاحزاب)٦٧
"پروردگار ! ہم نے اپنے سرداروں اور بڑے لوگوں کی اطاعت کی تو انہوں نے ہمیں گمراہ کیا ۔"



۲۰