تاریخ اسلام( دور جاہلیت سے وفات مرسل اعظم ۖ تک )

تاریخ اسلام( دور جاہلیت سے وفات مرسل اعظم ۖ تک )0%

تاریخ اسلام( دور جاہلیت سے وفات مرسل اعظم ۖ تک ) قسم: متن تاریخ
صفحے: 45

تاریخ اسلام( دور جاہلیت سے وفات مرسل اعظم ۖ تک )

قسم:

صفحے: 45
مشاہدے: 856
ڈاؤن لوڈ، اتارنا: 214

تبصرے:

  • حرف اول

  • عرض مترجم

  • مقدمہ .....٢١

  • پہلا حصّہ: مقدماتی بحثیں.....٢٥

  • پہلی فصل: جزیرة العرب کی جغرافیائی، سماجی اور ثقافتی صورت حال .....٢٧

  • جزیرة العرب کی تقسیم..... .....٢٩

  • جزیرة العرب کی تقسیم اس کے شمالی اور جنوبی (قدرتی) حالات کی بنا پر..... ٣٠

  • جنوبی جزیرة العرب (یمن) کے حالات..... ٣٠

  • جنوبی عرب کی درخشاں تہذیب .....٣٢

  • سد مأرب کی تباہی..... .....٣٤

  • جزیرة العرب پر جنوبی تہذیب کے زوال کے اثرات ..... ٣٦

  • شمالی جزیرة العرب (حجاز) کے حالات ..... ٣٧

  • صحرا نشین ..... ٣٩

  • قبائلی نظام ..... ٤١

  • نسلی رشتہ ..... ٤٢

  • قبیلہ کی سرداری ..... ٤٢

  • قبائلی تعصب ..... ٤٤

  • قبائلی انتقام ..... ٤٥

  • قبائلی فخر و مباہات .....

  • حسب و نسب کی اہمیت ..... ٤٨

  • قبائلی جنگیں ..... ٥١

  • غارت گری اور آدم کشی ٥٤

  • حرام مہینے ..... ٥٧

  • عرب کے سماج میں عورت ..... ٥٧

  • عورت کی زبوںحالی ..... ٥٩

  • دوسری فصل: عربوں کے صفات اور نفسیات .....٦٥

  • متضاد صفتیں ..... ٦٥

  • عربوں کی اچھی صفتوں کی بنیاد ..... ٦٦

  • جہالت اور خرافات ..... ٦٧

  • علم و فن سے عربوں کی آگاہی ..... ٦٩

  • امی لوگ( ان پڑھ اور جاہل) ..... ٧٠

  • شعر .....٧٠

  • عرب اور ان کے پڑوسیوں کی تہذیب .....٧١

  • ایران اور روم کے مقابلہ میں عربوں کی کمزوری اور پستی .....٧٤

  • موہوم افتخار ..... ٧٥

  • دور جاہلیت ..... ٧٦

  • تیسری فصل: جزیرہ نمائے عرب اور اس کے اطراف کے ادیان و مذاہب ..... ٨١

  • موحدین ..... ٨١

  • عیسائیت ..... ٨٣

  • یمن میں عیسائیت ..... ٨٤

  • حیرہ میں عیسائیت ..... ٨٥

  • دین یہود ..... ٨٧

  • یمن میں یہودی ..... ٨٨

  • صابئین ..... ٨٩

  • مانی مذہب..... ٩١

  • ستاروں کی عبادت ..... ٩٢

  • جنات اور فرشتوں کی عبادت ..... ٩٤

  • شہر مکہ کی ابتدائ ..... ٩٦

  • دین ابراہیم کی باقی ماندہ تعلیمات ..... ٩٦

  • عربوں کے درمیان بت پرستی کا آغاز..... ٩٩

  • کیا بت پرست خدا کے قائل تھے؟ .....١٠٠

  • پریشان کن مذہبی صورتحال ..... ١٠٤

  • ظہور اسلام کی روشنی میں بنیادی تبدیلی .....١٠٦

  • شہر مکہ کی توسیع اور مرکزیت .....١٠٨

  • الف) تجارتی مرکز ..... ١٠٨

  • ب) کعبہ کا وجود .....١١٠

  • قریش کی تجارت اور کلید برداری .....١١٢

  • قریش کا اقتدار اور اثر و رسوخ .....١١٤

  • دوسرا حصّہ: حضرت محمدۖ ولادت سے بعثت تک .....١١٩

  • پہلی فصل: اجداد پیغمبر اسلامۖ .....١٢١

  • حضرت محمد مصطفی ۖ کا حسب و نسب .....١٢١

  • حضرت عبد المطلب کی شخصیت .....١٢٣

  • خاندان توحید ١٢٥

  • دوسری فصل: حضرت محمدۖ کا بچپن اور جوانی .....١٢٧

  • ولادت ..... ١٢٧

  • کم سنی اور رضاعت کا زمانہ ..... ١٣٠

  • والدہ کا انتقال اور جناب عبد المطلب کی کفالت .....١٣٣

  • جناب عبد المطلب کا انتقال اور جناب ابوطالب کی سرپرستی .....١٣٤

  • شام کا سفر اور راہب کی پیشین گوئی ..... ١٣٥

  • عیسائیوں کے ذریعہ تاریخ میں تحریف .....١٣٧

  • تیسری فصل: حضرت محمدۖ کی جوانی .....١٤٣

  • حلف الفضول ..... ١٤٣

  • شام کی طرف دوسرا سفر ..... ١٤٦

  • جناب خدیجہ کے ساتھ شادی ..... ١٤٨

  • حجر اسود کا نصب کرنا ..... ١٥٠

  • علی مکتب پیغمبرۖ میں ..... ١٥١

  • تیسرا حصّہ: بعثت سے ہجرت تک ١٥٥

  • پہلی فصل: بعثت اور تبلیغ ..... ١٥٧

  • رسالت کے استقبال میں ..... ١٥٧

  • رسالت کا آغاز ..... ١٦٠

  • طلوع وحی کی غلط عکاسی ..... ١٦٢

  • تنقید و تجزیہ ..... ١٦٤

  • مخفی دعوت ..... ١٦٩

  • پہلے مسلمان مرد اور عورت ..... ١٧٠

  • حضرت علی کی سبقت کی دلیلیں ..... ١٧١

  • اسلام قبول کرنے میں سبقت کرنے والے گروہ .....١٧٥

  • الف: جوانوں کا طبقہ .....١٧٥

  • ب: محروموں اور مظلوموں کا طبقہ .....١٧٨

  • دعوت ذو العشیرہ ١٨١

  • دوسری فصل: علی الاعلان تبلیغ اور مخالفتوں کا آغاز..... ١٨٥

  • ظاہری تبلیغ کا آغاز .....١٨٥

  • قریش کی کوششیں ..... ١٨٦

  • ابوطالب کی حمایت کا اعلان .....١٨٨

  • قریش کی مخالفت کے اسباب و علل .....١٨٨

  • ١۔ سماجی نظام کے بکھرنے کا خوف .....١٨٩

  • ٢۔ اقتصادی خوف ..... ١٩٠

  • ٣۔ پڑوسی طاقتوں کا خوف و ہراس .....١٩٤

  • ٤۔ قبیلہ جاتی رقابت اور حسد .....١٩٥

  • تیسری فصل: قریش کی مخالفت کے نتائج اور ان کے اقدامات .....١٩٧

  • مسلمانوں پر ظلم و تشدد ..... ١٩٧

  • حبشہ کی طرف ہجرت ..... ١٩٨

  • حضرت فاطمہ علیہا السلام کی ولادت ..... ٢٠٢

  • اسراء اور معراج ..... ٢٠٢

  • روایات معراج کی تحلیل اور تجزیہ ..... ٢٠٣

  • بنی ہاشم کا سماجی اور اقتصادی بائیکاٹ ٢٠٥

  • جناب ابوطالب اور جناب خدیجہ کی وفات ..... ٢٠٩

  • جناب خدیجہ کا کارنامہ ..... ٢١٠

  • جناب ابوطالب کا کارنامہ ..... ٢١١

  • ایمان ابوطالب ..... ٢١٢

  • ازواج پیغمبر اسلامۖ ..... ٢١٦

  • ١۔ امّ حبیبہ ..... ٢١٧

  • ٢۔ امّ سلمہ ..... ٢١٨

  • ٣۔ زینب بنت جحش ..... ٢٢٠

  • قرآن کی جاذبیت ..... ٢٢٣

  • جادو گری کا الزام ..... ٢٢٤

  • طائف کا تبلیغی سفر ..... ٢٢٦

  • کیا پیغمبرۖ نے کسی سے پناہ مانگی؟ ..... ٢٢٨

  • عرب قبائل کو اسلام کی دعوت ..... ٢٣٠

  • چوتھا حصّہ: ہجرت سے عالمی تبلیغ تک .....٢٣٢

  • پہلی فصل: مدینہ کی طرف ہجرت .....٢٣٥

  • مدینہ میں اسلام کے نفوذ کا ماحول ..... ٢٣٥

  • مدینہ کے مسلمانوں کا پہلا گروہ ..... ٢٣٧

  • عقبہ کا پہلا معاہدہ ..... ٢٣٨

  • عقبہ کا دوسرا معاہدہ ..... ٢٤٠

  • مدینہ کی طرف ہجرت کا آغاز ..... ٢٤٠

  • پیغمبرۖ کے قتل کی سازش ..... ٢٤١

  • پیغمبر اسلام ۖکی ہجرت ..... ٢٤٣

  • عظیم قربانی ..... ٢٤٤

  • قبا میں پیغمبرۖ کا داخلہ ..... ٢٤٦

  • پیغمبرۖ کا مدینہ میں داخلہ ..... ٢٤٧

  • ہجری تاریخ کا آغاز ..... ٢٤٨

  • دوسری فصل: مدینہ میں پیغمبر اسلامۖ کے بنیادی اقدامات .....٢٥١

  • مسجد کی تعمیر ..... ٢٥١

  • اصحاب صفّہ ..... ٢٥٢

  • عمومی معاہدہ ..... ٢٥٣

  • مہاجرین و انصار کے درمیان بھائی چارگی کا معاہدہ .....٢٥٤

  • یہودیوں کے تین قبیلوں کے ساتھ امن معاہدہ .....٢٥٩

  • منافقین ..... ٢٦٠

  • تیسری فصل: یہودیوں کی سازشیں .....٢٦٣

  • یہودیوں کی طرف سے معاہدے کی خلاف ورزیاں .....٢٦٣

  • یہودیوں کی مخالفت کے اسباب ..... ٢٦٥

  • قبلہ کی تبدیلی ..... ٢٦٨

  • چوتھی فصل: لشکر اسلام کی تشکیل .....٢٧٣

  • اسلامی فوج کا قیام ..... ٢٧٣

  • فوجی مشقیں ..... ٢٧٥

  • فوجی مشقوں سے پیغمبرۖ کے مقاصد ..... ٢٧٦

  • عبد اللہ بن جحش کا سریہ ..... ٢٧٩

  • جنگ بدر ..... ٢٨٠

  • مسلمانوں کی کامیابی کے اسباب ..... ٢٨٣

  • اسلامی لشکر کی کامیابی کے نتائج اور آثار ..... ٢٨٧

  • بنی قینقاع کی عہد شکنی ..... ٢٨٩

  • جناب فاطمہ زہرا سے حضرت علی کی شادی ..... ٢٩١

  • جنگ احد ..... ٢٩٢

  • جنگ کے پہلے مرحلہ میں مسلمانوں کی فتح ..... ٢٩٦

  • مشرکوں کی فتح ..... ٢٩٨

  • جنگ احد میں شکست کے نتائج ..... ٣٠١

  • نبی نضیر کے ساتھ جنگ ..... ٣٠٦

  • جنگ خندق (احزاب) ..... ٣٠٨

  • بنی قریظہ کی خیانت ..... ٣١٣

  • لشکر احزاب کی شکست کے اسباب ..... ٣١٤

  • ١۔ بنی قریظہ اور لشکر احزاب کے درمیان اختلاف کاپیدا ہونا .....٣١٥

  • ٢۔ عمرو بن عبدود کا قتل ہونا ..... ٣١٥

  • ٣۔ غیبی امداد ..... ٣١٨

  • جنگ بنی قریظہ ..... ٣١٩

  • تجزیہ و تحقیق ..... ٣٢١

  • جنگ بنی مصطلق ..... ٣٢٥

  • عمرہ کا سفر ..... ٣٢٦

  • بیعت رضوان ٣٢٨

  • پیمان صلح حدیبیہ (فتح آشکار) ..... ٣٢٨

  • پیغمبرۖ کی پیشین گوئی ..... ٣٣٠

  • صلح حدیبیہ کے آثار و نتائج ٣٣٠

  • پانچواں حصّہ: عالمی تبلیغ سے رحلت پیغمبر اسلامۖ تک..... ٣٣٣

  • پہلی فصل: عالمی تبلیغ ..... ..... ٣٣٥

  • پیغمبر اکرم ۖ کی عالمی رسالت ..... ٣٣٥

  • عالمی تبلیغ کا آغاز .....٣٣٧

  • جنگ خیبر ..... ٣٣٨

  • یہودیوں کا انجام ..... ٣٤٤

  • فدک .....٣٤٥

  • دوسری فصل: اسلام کا پھیلاؤ ..... ٣٤٧

  • جنگ موتہ .....٣٤٧

  • فتح مکہ ..... ٣٥٠

  • قریش کی عہد شکنی ..... ٣٥٠

  • پیغمبر اسلامۖ کی طرف سے عام معافی کا اعلان ..... ٣٥٤

  • فتح مکہ آثار و نتائج ..... ٣٥٦

  • جنگ حنین ..... ٣٥٨

  • آغاز جنگ میں مسلمانوں کی شکست اور عقب نشینی .....٣٦٠

  • مسلمانوں کی عالیشان فتح ..... ٣٦٠

  • جنگ تبوک ..... ٣٦٢

  • مدینہ میں حضرت علی کی جانشینی ..... ٣٦٥

  • راستے کی دشواریاں ..... ٣٦٩

  • اس علاقہ کے سرداروں سے پیغمبرۖ کے معاہدے ..... ٣٧٠

  • غزوۂ تبوک کے آثار اور نتائج ..... ٣٧١

  • جزیرہ نمائے عرب میں اسلام کا نفوذ اور پھیلاؤ .....٣٧١

  • مشرکین سے برائت کا اعلان ..... ٣٧٢

  • پیغمبر اکرمۖ کا مخصوص نمائندہ اور سفیر ..... ٣٧٤

  • پیغمبر اکرمۖ کے الٹی میٹم اور اعلان برائت کا متن ..... ٣٧٤

  • نصارائے نجران کے وفد کے نمائندوں سے پیغمبرۖ کامباہلہ ..... ٣٧٦

  • تیسری فصل: حجة الوداع اور رحلت پیغمبر اسلامۖ ..... ٣٨١

  • حجة الوداع ..... ٣٨١

  • پیغمبر اسلامۖ کا تاریخی خطبہ ..... ٣٨٣

  • عظیم فضیلت ..... ٣٨٤

  • واقعہ غدیر اور مستقبل کے رہنما کا تعارف ..... ٣٨٧

  • شواہد اور قرائن ..... ٣٩٧

  • لشکر اسامہ ..... ٤٠٤

  • پیغمبرۖ کا اعلی مقصد ..... ٤٠٧

  • وہ وصیت نامہ جو لکھا نہ جاسکا! ..... ٤٠٩

  • پیغمبر اسلام ۖکی رحلت ..... ٤١١

  • رحلت پیغمبر اسلامۖ کے وقت اسلامی سماج؛ ایک نظر میں ..... ٤١٣

کتاب کے اندر تلاش کریں
  • شروع
  • پچھلا
  • 45 /
  • آگے
  • آخر
  •  
  • مشاہدے: 856 / ڈاؤن لوڈ، اتارنا: 214
سائز سائز سائز
تاریخ اسلام( دور جاہلیت سے وفات مرسل اعظم ۖ تک )

تاریخ اسلام( دور جاہلیت سے وفات مرسل اعظم ۖ تک )


حرف اول تاریخ اسلام
دور جاہلیت سے وفات مرسل اعظم ۖ تک
مہدی پیشوائی
مترجم : کلب عابد خان سلطانپوری

مجمع جہانی اہل البیت

حرف اول جب آفتاب عالم تاب افق پر نمودار ہوتا ہے کائنات کی ہر چیز اپنی صلاحیت و ظرفیت کے مطابق اس سے فیضیاب ہوتی ہے حتی ننھے ننھے پودے اس کی کرنوں سے سبزی حاصل کرتے اور غنچہ و کلیاں رنگ و نکھار پیدا کرلیتی ہیں تاریکیاں کافور اور کوچہ و راہ اجالوں سے پرنور ہوجاتے ہیں، چنانچہ متمدن دنیا سے دور عرب کی سنگلاخ وادیوں میں قدرت کی فیاضیوں سے جس وقت اسلام کا سورج طلوع ہوا، دنیا کی ہر فرد اور ہر قوم نے قوت و قابلیت کے اعتبار سے فیض اٹھایا۔
اسلام کے مبلغ و موسس سرورکائنات حضرت محمد مصطفی ۖ غار حراء سے مشعل حق لے کر آئے اور علم و آگہی کی پیاسی اس دنیا کو چشمۂ حق و حقیقت سے سیراب کردیا، آپ کے تمام الٰہی پیغامات ایک ایک عقیدہ اور ایک ایک عمل فطرت انسانی سے ہم آہنگ ارتقائے بشریت کی ضرورت تھا، اس لئے ٢٣ برس کے مختصر عرصے میں ہی اسلام کی عالمتاب شعاعیں ہر طرف پھیل گئیں اور اس وقت دنیا پر حکمراں ایران و روم کی قدیم تہذیبیں اسلامی قدروں کے سامنے ماند پڑگئیں، وہ تہذیبی اصنام جو صرف دیکھنے میں اچھے لگتے ہیں اگر حرکت و عمل سے عاری ہوں اور انسانیت کو سمت دینے کا حوصلہ، ولولہ اور شعور نہ رکھتے تو مذہبِ عقل و آگہی سے روبرو ہونے کی توانائی کھودیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ایک چوتھائی صدی سے بھی کم مدت میں اسلام نے تمام ادیان و مذاہب اور تہذیب و روایات پر غلبہ حاصل کرلیا۔
اگرچہ رسول اسلام ۖ کی یہ گرانبہا میراث کہ جس کی اہل بیت علیہم السلام اور ان کے پیرووں نے خود کو طوفانی خطرات سے گزار کر حفاظت و پاسبانی کی ہے، وقت کے ہاتھوں خود فرزندان اسلام کی بے توجہی اور ناقدری کے سبب ایک طویل عرصے کے لئے تنگنائیوں کا شکار ہوکر اپنی عمومی افادیت کو عام کرنے سے محروم کردئی گئی تھی، پھر بھی حکومت و سیاست کے عتاب کی پروا کئے بغیر مکتب اہل بیت علیہم السلام نے اپنا چشمۂ فیض جاری رکھا اور چودہ سو سال کے عرصے میں بہت سے ایسے جلیل القدر علماء و دانشور دنیائے اسلام کو تقدیم کئے جنھوں نے بیرونی افکار و نظریات سے متاثر اسلام و قرآن مخالف فکری و نظری موجوں کی زد پر اپنی حق آگین تحریروں اور تقریروں سے مکتب اسلام کی پشت پناہی کی ہے اور ہر دور اور ہر زمانے میں ہر قسم کے شکوک و شبہات کا ازالہ کیا ہے، خاص طور پر عصر حاضر میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ساری دنیا کی نگاہیں ایک بار پھر اسلام و قرآن اور مکتب اہل بیت علیہم السلام کی طرف اٹھی اور گڑی ہوئی ہیں، دشمنان اسلام اس فکری و معنوی قوت واقتدار کو توڑنے کے لئے اور دوستداران اسلام اس مذہبی اور ثقافتی موج کے ساتھ اپنا رشتہ جوڑنے اور کامیاب و کامراں زندگی حاصل کرنے کے لئے بے چین وبے تاب ہیں،یہ زمانہ علمی اور فکری مقابلے کا زمانہ ہے اور جو مکتب بھی تبلیغ اور نشر و اشاعت کے بہتر طریقوں سے فائدہ اٹھاکر انسانی عقل و شعور کو جذب کرنے والے افکار و نظریات دنیا تک پہنچائے گا، وہ اس میدان میں آگے نکل جائے گا۔
(عالمی اہل بیت کونسل) مجمع جہانی بیت علیہم السلام نے بھی مسلمانوں خاص طور پر اہل بیت عصمت و طہارت کے پیرووں کے درمیان ہم فکری و یکجہتی کو فروغ دینا وقت کی ایک اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے اس راہ میں قدم اٹھایا ہے کہ اس نورانی تحریک میں حصہ لے کر بہتر انداز سے اپنا فریضہ ادا کرے، تاکہ موجودہ دنیائے بشریت جو قرآن و عترت کے صاف و شفاف معارف کی پیاسی ہے زیادہ سے زیادہ عشق و معنویت سے سرشار اسلام کے اس مکتب عرفان و ولایت سے سیراب ہوسکے، ہمیں یقین ہے عقل و خرد پر استوار ماہرانہ انداز میں اگر اہل بیت عصمت و طہارت کی ثقافت کو عام کیا جائے اور حریت و بیداری کے علمبردار خاندان نبوتۖو رسالت کی جاوداں میراث اپنے صحیح خدو خال میں دنیا تک پہنچادی جائے تو اخلاق و انسانیت کے دشمن، انانیت کے شکار، سامراجی خوں خواروں کی نام نہاد تہذیب و ثقافت اور عصر حاضر کی ترقی یافتہ جہالت سے تھکی ماندی آدمیت کو امن و نجات کی دعوتوں کے ذریعہ امام عصر (عج) کی عالمی حکومت کے استقبال کے لئے تیار کیا جاسکتا ہے۔
ہم اس راہ میں تمام علمی و تحقیقی کوششوں کے لئے محققین و مصنفین کے شکر گزار ہیں اور خود کو مؤلفین و مترجمین کا ادنیٰ خدمتگار تصور کرتے ہیں، زیر نظر کتاب، مکتب اہل بیت علیہم السلام کی ترویج و اشاعت کے اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، اہل تشیع کے جلیل القدر عالم دین آقائے پیشوائی کی گرانقدر کتاب ''تاریخ اسلام '' فاضل جلیل عالیجناب مولانا کلب عابد خان سلطانپوری ہندی نے اردو زبان میںاپنے ترجمہ سے آراستہ کیا ہے جس کے لئے ہم دونوں کے شکر گزار ہیں اور مزید توفیقات کے آرزومند ہیں، اس منزل میں ہم اپنے تمام دوستوں اور معاونین کا بھی صمیم قلب سے شکریہ ادا کرتے ہیں کہ جنھوں نے اس کتاب کے منظر عام تک آنے میں کسی بھی عنوان سے زحمت اٹھائی ہے، خدا کرے کہ ثقافتی میدان میں یہ ادنیٰ جہاد رضائے مولیٰ کا باعث قرار پائے۔

والسلام مع الاکرام
مدیر امور ثقافت، مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام

عرض مترجم عرصۂ داراز سے یہ خواہش تھی کہ ایک ایسی تاریخی کتاب کا ترجمہ کروں جو کسی حد تک کامل، معتبر، مستند اور مدلل ہو۔ جس میں واقعات کے تمام جزئیات کے حوالے درج ہوں۔ اور واقعات کا تجزیہ او ران کی تحلیل نیز شبہات و اعتراضات کے مدلل جوابات دیئے گئے ہوں۔ چنانچہ اس سلسلہ میں کافی جستجو اور تحقیق کے بعد، مؤلف محترم جناب مہدی پیشوائی صاحب کی کتاب ''تاریخ اسلام'' میری نظروں سے گزری، کتاب کے مطالعہ کے بعد اندازہ ہوا کہ مجھے ایسی ہی کتاب کی تلاش تھی چنانچہ ابھی اسی فکر میں تھا کہ مجمع جہانی اہل البیت ٪ کی جانب سے اس کتاب کے ترجمہ کا کام میرے سپرد کیا گیا تو میںنے بخوشی قبول کرلیا مضامین و مقالات وغیرہ لکھنے کا شوق پہلے ہی سے تھا اور حقیر کے متعدد مضامین ادارۂ تنظیم المکاتب کے ماہانہ رسالہ میں شائع ہوچکے ہیں لیکن ترجمہ کے میدان میں یہ میری پہلی کاوش ہے۔ترجمہ کیسا ہے یہ فیصلہ قارئین کے حوالہ ہے البتہ اتنا بہرحال طے ہے کہ ایک زبان کے جملہ مطالب کسی دوسری زبان میں منتقل کرنا کتنا مشکل ہے اس کا اندازہ وہی حضرات لگاسکتے ہیں جنھوں نے اس میدان میں قدم رکھا ہے۔ میری کوشش یہی تھی کہ کتاب کے جملہ مطالب ہمارے اردو زبان معاشرہ تک پہنچ جائیں اگر چہ بشریت کے ناطے ہر قسم کے کمال کا دعویٰ نہیں کرسکتا۔
امید ہے کہ میری یہ کوشش بارگاہ الٰہی میں شرف قبولیت حاصل کرے گی نیز حقیر اور اس کے تمام بزرگوں کے لئے ذخیرۂ آخرت قرار پائے گی۔

والسلام
احقر العباد:کلب عابد خان

مقدمۂ مولف تمام تعریفیں اس ذات پروردگار کے لئے ہیں جس نے ہمیں اس کتاب کی نگارش کی توفیق عطا کی اور درود و سلام ہو عظیم الشان رسول، حضرت محمد مصطفی ۖ اور اس کے برحق معصوم جانشینوں اور اصحاب پاک پر۔
قارئین کرام کی خدمت میں جو کتاب پیش کی جا رہی ہے یہ دس سال سے زیادہ عرصہ تک ملک کی اعلیٰ علمی درس گاہوں اور دوسرے تعلیمی اداروں میں نوٹس کی صورت میں تدریس کی جاچکی ہے۔ یہ کتاب، دقیق مطالعہ اور کلاس میں کئے گئے طرح طرح کے تاریخی سوالات کے جوابات میں، تاریخ اسلام سے برسوں کی واقفیت اور انسیت کے بعد تدوین و تالیف ہوئی ہے۔
اس کتاب کی تدوین و تالیف میں کچھ نکات کا لحاظ کیا گیا ہے جس کی طرف قارئین کرام، مخصوصاً طالب علموں اور اساتذہ کرام کی توجہ مبذول کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔
١۔ کتاب کے پہلے حصہ کی فصلوں میں ظہور اسلام سے قبل، جزیرة العرب کے حالات کو بطور مفصل بیان کیا گیاہے اس لئے کہ اس دور کے حالات سے مکمل واقفیت کے بغیر اسلامی تاریخ کے بے شمار واقعات کا صحیح ادراک کرنا اور ان کا تحلیل و تجزیہ کرنا ناممکن ہے۔
اسلامی تاریخ میں بہت سے واقعات کا تعلق زمانۂ جاہلیت سے ہے لہٰذا ظہور اسلام کے بعد جزیرة العرب کے حالات کو سمجھنے کے لئے ظہور اسلام سے پہلے کے حالات سے واقفیت ضروری ہے۔ اسی بنا پر ان واقعات کے صحیح ادراک اور ان کے ایک دوسرے سے مربوط ہونے اور ظہور اسلام کے بعد اس علاقہ میں آنے والی بنیادی تبدیلیوں کو سمجھنے کے لئے اس باب کے مباحث کوکچھ تفصیل سے پیش کیا گیا ہے، اس کے برخلاف بعد کے ابواب میں ہماری سعی و کوشش رہی ہے کہ حتی الامکان اختصار سے کام لیا جائے۔
٢۔ زیادہ تر حوالے حاشیہ پر، اس لئے ذکر کردیئے گئے ہیں تاکہ اگر قاری محترم واقعات کی تفصیلات کو معلوم کرنا چاہے تو اس سے کم از کم بعض حوالہ جات کی طرف رسائی حاصل کرسکے اس کے علاوہ یہ کوشش بھی کی گئی ہے کہ واقعات کی شہرت یا اس کا تواتر ثابت ہو جائے۔
٣۔ عام طور سے تاریخی واقعات کی تفصیلات اور اس کے مختلف پہلوؤں کو بیان کرنے کے بعد آخر میں اس کے حوالے ذکر کئے جاتے ہیں جب کہ اصل میں وہ حوالے ان تمام تفصیلات اور جزئیات کے نہیں ہوتے ۔ ان حوالوں کو دیکھ کر قاری خیال کرتا ہے کہ اس کے زیر مطالعہ بحث کی تفصیلات تمام کتابوں میں موجود ہیں۔ جبکہ یہ طریقہ زیادہ دقیق اور درست نہیں ہے خاص طور سے اگر بعض تفصیلات بہت زیادہ اہم یا محل اختلاف ہوں۔
اس کتاب میں عام روش کے برخلاف ہر واقعہ کی تمام تفصیلات اور پہلوؤں کو بالکل الگ کر کے بیان کیا گیاہے۔ مثال کے طور پر جنگوں کی تفصیلات جیسے وقوع جنگ کا سبب، اس کی تاریخ، دونوں طرف کے سپاہیوں کی تعداد، جنگ کا طریقہ، طرفین کو پہنچنے والے نقصانات، مال غنیمت کی تقسیم کا طریقہ اور جنگ کے آثار و نتائج وغیرہ ، جدا طریقہ سے ذکر ہوئے ہیں ان جزئیات کا مطالعہ کرنے سے قاری متوجہ ہو جاتا ہے کہ واقعات کا کون سا حصہ کس کتاب میں بیان ہوا ہے اور ضرورت کے وقت آسانی سے اس کتاب کی طرف رجوع کرسکتا ہے۔ مولف کے عقیدہ کے مطابق اس روش کے اپنانے میں (کئی اہم اور لطیف فائدے ہیں) بہت زیادہ دقت اور توجہ کی ضرورت ہوتی ہے جس کے نتیجہ میں مؤلف کو زیادہ زحمت اٹھانا پڑتی ہے۔
٤۔ قرآنی شواہد اور حدیثی تائیدات پوری کتاب میں ذکر ہوئی ہیں البتہ ضرورت کے تحت (قرآن کریم کی آیات، روایات اور تاریخی متون کے خاص حصوں کو عربی متن کے طور پر حاشیہ پر تحریر کردیا گیا ہے اور اس کا ترجمہ اصل کتاب میں نقل کردیا گیا ہے تاکہ کتاب کے متن میں یکسانیت اور روانی باقی رہے اور جو حضرات عربی داں نہیں ہیں ان کے لئے ملال آور نہ ہو۔
٥۔ ضروری مقامات پر بحث کی مناسبت سے تجزیہ اور تحلیل کر کے شبہات کا واضح جواب دیا گیا ہے جبکہ بعض مقامات پر تفصیلی تجزیہ سے پرہیز کرتے ہوئے بہت سے موضوعات (جیسے جنگ فجار میں آنحضرتۖ کی شرکت اور آپ کے سینہ کا شگافتہ کرنا اور عبد المطلب کے نذر کی بحث) کو اس لئے نظر انداز کیا گیا ہے کہ کتاب کی تدریس صرف ٣٤ درسوں کی صورت میں ہونا طے پائی ہے لہٰذا اس کے لئے اس سے زیادہ ضخیم ہونا مناسب نہیںہے۔ اس کے علاوہ بعض مطالب تخصصی اور مہارتی پہلو رکھتے ہیں اور ان کے ذکر کا اپنا محل ہے۔ لہٰذا اصل موضوع کی طرف مختصر سے اشارہ کے بعد اس طرح کی بحثوں کے حوالے حاشیہ پر بیان کردیئے گئے ہیں تاکہ اس موضوع میں دلچسپی لینے والے حضرات ان کی طرف رجوع کرسکیں۔
٦۔ دوسرے درجے کے مطالب، اقوال کے اختلاف کی جگہیں، غیر ضروری گوشے اور تکمیلی و اضافی تفصیلات وغیرہ عام طور سے حاشیہ پر بیان کی گئیں ہیں ۔ بہر حال کتاب کو دقیق، مستحکم اور مفید بنانے کے لئے، مطالب کے نقل میں دقت، ترجموں کی صحت، تجزیہ و تحلیل کی درستگی اور پھر ان کی نتیجہ گیری میں ہر ممکن کوشش اور زحمتیں اٹھائی گئیں ہیں ۔ لیکن پھر بھی کتاب، نقص ا و راصلاح و تکمیل سے بے نیاز نہیں ہے۔ لہٰذا اساتذہ کرام اور طلاب محترم اور صاحبان نظر کی تنقید اور مشورے کتاب کی اصلاح اور تکمیل کی راہ میں مفید ثابت ہوں گے۔
خلوص اور وفاداری کا تقاضہ ہے کہ اپنے دیرینہ دوست، نامور خطیب، مایہ ناز قلم کار حجة الاسلام و المسلمین الحاج غلام رضا گل سرخی کاشانی مرحوم کا بھی تذکرہ کروں جن کے تعاون اور مدد سے اس کتاب کی تدوین کا ابتدائی کام انجام پایاہے۔ لہٰذا اپنے اس مرحوم دوست کے لئے خداوند عالم کی بارگاہ میں رحمت اور بلندی درجات کا خواہاں ہوں۔ اور اسی طرح سے حجج اسلام الحاج شیخ علی اکبر ناصح اور فرج اللہ فرج الٰہی کا بھی شکر گزار ہوں کہ ان حضرات نے کتاب کی تصحیح، ٹائپ اور مقدماتی مباحث کی تدوین اور تالیف میں ہمارا ہر طرح سے تعاون کیا۔
آخر میں درسی کتابوں کی تدوین اور تاریخ اسلام کے شعبہ کے سرپرست نیز اراک کی آزاد اسلامی یونیورسٹی کا بھی شکر گزار ہوں۔

والسلام
قم۔ مہدی پیشوائی
محرم الحرام ١٤٢٤ ہجری قمری



۱
پہلا حصہ : مقدماتی بحثیں تاریخ اسلام
دور جاہلیت سے وفات مرسل اعظم ۖ تک

پہلا حصہ
مقدماتی بحثیں

پہلی فصل : جزیرة العرب کی جغرافیائی، سماجی اور ثقافتی صورتحال
دوسری فصل: عربوں کے صفات اور نفسیات
تیسری فصل: جزیرہ نمائے عرب اور اس کے اطراف کے ادیان و مذاہب

پہلی فصل
جزیرة العرب کی جغرافیائی، سماجی اور ثقافتی صورتحال جزیرہ نمائے عرب جس کو ''جزیرة العرب'' بھی کہتے ہیں یہ دنیا کا سب سے بڑا جزیرہ نما ہے جو مغربی ایشیا کے جنوب میں واقع ہے۔
یہ جزیرہ مغربی شمال سے مشرقی جنوب تک ''غیر متوازی چوکور'' شکل میں ہے.(١) اور اس کی مساحت تقریباً بتیس (٣٢) لاکھ مربع کلو میٹر ہے.(٢) اس جزیرہ نما کے تقریباً ٤٥ حصے میں اس وقت سعودی عرب واقع ہے.(٣) اور اس کا بقیہ حصہ دنیا کی موجودہ سیاسی تقسیم بندی کے اعتبار سے چھ ملکوں یعنی یمن، عمان، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین اور کویت میں بٹا ہوا ہے۔
اس جزیرہ نما کی سرحد، جنوب کی سمت سے خلیج عدن، تنگۂ باب المندب، بحر ہند اور بحر عمان میں محدود ہے اور مغرب کی سمت میں یہ بحر احمر اور مشرق کی طرف خلیج عمان، خلیج فارس اور عراق تک پھیلا ہوا ہے اور شمال کی جانب سے ایک وسیع صحرا جو کہ درّۂ فرات سے سر زمین شام تک ہے اس جزیرہ کو گھیرے
______________________
(١)حسین قراچانلو، حرمین شریفین (تہران: انتشارات امیر کبیر، ط ١، ١٣٦٢)، ص ٩.
(٢) یورپ کی ایک تہائی مساحت، فرانس کی چھ گنا مشرقی اور مغربی جرمنی کی نو برابر، دس برابر اٹلی ملک کی، ٨٠ گنا سویزرلینڈ اور ایران کی مساحت کے دوگنی مساحت ہے۔
(٣) مؤسسۂ گیتا شناسی، گیتا شناسی کشورھا (تہران: انتشارات گیتا شناسی، ط ٤، ١٣٦٥)، ص ٢٠٥.
ہوئے ہے۔ اور چونکہ اس علاقہ کی، دریا اور پہاڑ وغیرہ جیسی کوئی قدرتی سرحد نہیں ہے لہٰذا جغرافیہ دان قدیم زمانے سے ہی سعودی عرب کی شمالی سرحدوں کے بارے میں اختلاف نظر رکھتے ہیں۔(١)
اگرچہ جزیرہ نمائے عرب خلیج فارس، بحر عمان، بحر احمر اور بحر مڈی ٹرانہ سے گھرا ہوا ہے لیکن صرف جنوبی حصہ کے علاوہ اس پانی سے کوئی فائدہ نہیں ہے اور یہ علاقہ دنیا کے بہت زیادہ خشک اور گرم علاقوں میں شمار کیا جاتا ہے یہاں تک کہ وہاں ایک ایسا بڑا دریا بھی موجود نہیں ہے جس میں بحری جہاز کا راستہ ہو بلکہ اس کے بجائے وہاں ایسی گھاٹیاں موجود ہیں جن میں کبھی کبھار سیلاب آجاتا ہے۔
اس علاقہ میں خشکی کی وجہ، اس جزیرہ میں پھیلے ہوئے ایسے پہاڑ ہیں جو ایک بلند دیوار کے مانند جزیرۂ سینا سے شروع ہوتے ہیں اور مغرب کی سمت میں بحر احمر کے ساتھ ساتھ پھیلے ہوئے ہیںاور جنوب کے مغربی گوشہ سے ٹیڑھے ترچھے (غیر مستقیم) انداز میں جنوبی اور مشرقی ساحل سے ، خلیج فارس تک ان کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ اس طرح سے سعودی عرب تین طرف سے اونچے پہاڑوں سے گھرا ہوا ہے اور یہ پہاڑ سمندروں کی رطوبت کو اس علاقہ میں سرایت کرنے سے روک دیتے ہیں۔(٢)
دوسرے یہ کہ اس کے اطراف کے ملکوں میں پانی کا ذخیرہ اتنا کم ہے کہ افریقا اور ایشیا کی اس وسیع آراضی کی گرمی اور خشکی کو یہاں کی مختصر سی بارش متعادل موسم میں تبدیل نہیں کرسکتی۔ کیونکہ عرب میں ہمیشہ چلنے والی موسمی ہوائیں (جن کو سموم کہتے ہیں) بحر ہند کے جنوبی علاقہ سے اٹھتے ہوئے ابرباراں کو جزیرة العرب میں برسنے سے روک دیتی ہیں۔ (٣)
______________________
(١) فیلیپ خلیل حتی، تاریخ عرب، ترجمہ: ابو القاسم پایندہ (تہران: انتشارات آگاہ، طبع دوم، ١٣٦٦ ش)، ص ٢١
(٢) علی اکبر فیاض ، تاریخ اسلام، (تہران: انتشارات تہران یونیورسٹی، ط ٣ ١٣٦٧)، ص٢؛ آلبرمالہ و ژول ایزاک، تاریخ قرون وسطی تا جنگ صد سالہ، ترجمہ: میرزا عبد الحسین ہژیر (تہران: دنیای کتاب، ١٣٦٢)، ص ٩٥.
(٣) فلیپ حتی، گزشتہ حوالہ، ص ٢٤

جزیرة العرب کی تقسیم عرب اور عجم کے جغرافیہ نویسوں نے جزیرة العرب کو کبھی موسم (آب و ہوا) کے لحاظ سے اور کبھی قوم یا نسل کی بنیاد پر تقسیم کیا ہے.(١) اور بعض معاصر دانشوروں نے اس کو مندرجہ ذیل تین بنیادی علاقوں میں تقسیم کیا ہے:
١۔ مرکزی حصہ جس کا نام ''صحرائے عرب'' ہے۔
٢۔ شمالی حصہ جس کا نام ''حجاز'' ہے۔
٣۔ جنوبی حصہ جو ''یمن'' کے نام سے مشہور ہے۔(٢)
_______________________
(١) مَقدِسی، چوتھی صدی کا مسلمان دانشور کہتا ہے کہ ملک عرب چار بڑے علاقوں ، حجاز، یمن ، عمان اورہجر پر مشتمل ہے۔ (احسن التقاسیم فی معرفة الاقالیم، ترجمہ علی نقی منزوی (تہران: گروہ مؤلفین و مترجمین، ایران، ط ١، ١٣٦١)، ص ١٠٢، لیکن دوسروں نے کہا ہے کہ وہ پانچ حصے یعنی تہامہ، حجاز، نجد، یمن اور عروض پر مشتمل ہے. (الفداء ،تقویم البلدان، ترجمہ: عبد المحمد آیتی (تہران: انتشارات بنیاد فرھنگ ایران، ١٣٤٩)، ص ١٠٩، یاقوت حموی، معجم البلدان، بہ تصحیح محمد امین الخانجی الکتبی (قاہرہ: مطبعة السعادة، ط ١، ١٣٢٤ھ. ق)، ص١٠١، اور ٢١٩؛ شکری آلوسی، بغدادی، بلوغ الارب فی معرفة احوال العرب، (قاہرہ: دار الکتب الحدیثہ، ط ٢،)، ج١، ص ١٨٧؛ جواد علی، المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام (بیروت: دار العلم ، للملایین، ط ١، ١٩٦٨)، ج١، ص ١٦٧۔
ان کے علاوہ دوسری تقسیمات بھی ذکر ہوئی ہیں جس کا ہمارے زمانے میں کوئی خاص فائدہ نہیںہے ۔ رجوع کریں: گوستاولوبون، تمدن اسلام و عرب، ترجمہ: سید ہاشم حسینی (تہران: کتاب فروشی اسلامیہ)، ص ٣١
(٢) یحیی نوری، اسلام و عقائد و آراء بشری، (جاہلیت و اسلام) ، تہران: مطبوعاتی فراہانی ١٣٤٦)، ص٢٣٤۔ ٢٣١)

جزیرة العرب کی تقسیم، اس کے شمالی اور جنوبی (قدرتی) حالات کی بنا پر موجودہ دور میں ایک دوسری بھی تقسیم رائج ہوئی ہے جو اس کتاب کے لئے زیادہ مناسب ہے۔ یہ تقسیم، زندگی کے ان حالات کی بنیاد پر ہے جو اس علاقہ کے انسانوں، حیوانوں اور مقامات پر اثر انداز تھے اور یہ شرائط وہاں کے باشندوں کی انفرادی اور اجتماعی خصوصیات اور تبدیلیوں میں جلوہ گر ہوئے جو ظہور اسلام تک باقی رہے کیونکہ جزیرة العرب دومخالف جغرافیائی حالات کا گہوارہ رہا ہے اور وہاں کے اجتماعی حالات کا دارو مدار پانی کے وجود پر ہے اور پانی کی موجودگی یا عدم موجودگی ہی وہاں کے اجتماعی حالات پر اثر انداز ہوتی ہے جس کی بنا پر اس کا جنوبی علاقہ یعنی ''یمن'' ،اس کے شمالی اور مرکزی علاقہ سے الگ ہو جاتا ہے۔



۲
جنوبی جزیرة العرب (یمن) کے حالات تاریخ اسلام
دور جاہلیت سے وفات مرسل اعظم ۖ تک

جنوبی جزیرة العرب (یمن) کے حالات اگر ہم اس سرزمین کے نقشہ پر نگاہ ڈالیں تو جزیرة العرب کے مغربی جنوب کے آخر میں ایک علاقہ مثلث کی شکل میں نظر آتا ہے جس کے مشرقی ضلع میں بحر عرب کا ساحل اور مغربی ضلع میں بحر احمر کا ساحل ہے اور ظہران (جوکہ مغرب میں واقع ہے) سے وادی حضر موت (جوکہ مشرق میں واقع ہے) تک کھینچے جانے والے خط کو مثلث کا تیسرا ضلع قرار دیا جاسکتا ہے ان حدود میں جو علاقہ ہے اس کو قدیم زمانے سے ''یمن'' کہا جاتا ہے اس علاقہ میں پانی کی فراوانی اور مسلسل بارش کی وجہ سے کاشتکاری اچھی اور آبادی زیادہ رہی ہے۔ اس بنا پر یہ علاقہ شمالی یا مرکزی جزیرة العرب سے قابل قیاس نہیں ہے۔
جیسا کہ معلوم ہے کہ ایک بڑی آبادی کے لئے دائمی جائے سکونت کی ضرورت پڑتی ہے اور اسی وجہ سے قصبے اور شہر بنتے ہیں اور لوگ بڑی تعداد میں وہاں بستے ہیں اور ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں جس کے نتیجے میں کوئی نظام لازم ہوتا ہے لہٰذا اس کے لئے قانون بنایا جاتا ہے (اگرچہ وہ ابتدائی اور آسان ہی کیوں نہ ہو) اور یہ بات واضح ہے کہ قوانین کے ساتھ حکومت کا ہونا بھی ضروری ہے کیونکہ ان دونوں میں تلازم پایا جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس علاقہ میں حضرت مسیح کی ولادت سے صدیوں سال قبل حکومتیں قائم ہوئی ہیں اور ان کے ذریعہ تہذیب و ثقافت کو رواج ملا ہے.(١)۔ جو حکومتیں اس علاقہ میں قائم ہوئی ہیں وہ یہ ہیں:
١) حکومت معین: یہ حکومت ١٤٠٠ سے ٨٥٠ سال قبل عیسوی تک برقرار رہی اور حکومت سبا کے تسلط پر ختم ہوگئی۔
٢)حکومت حضر موت: جو ١٠٢٠ عیسوی سے قبل شروع ہوئی اور ٦٥ عیسوی کے بعد تک باقی رہی اور حکومت سبا کے مسلط ہونے کے ساتھ ختم ہوگئی۔
٣)حکومت سبا: جو ٨٥٠ عیسوی سے لیکر ١١٥ عیسوی سال قبل مسیح تک برسر اقتدار رہی اور حمیری سبا وریدان کے برسر اقتدار آتے ہی بکھر گئی۔
٤)حکومت قتیان: جو ٨٦٥ سے لے کر ٥٤٠ سال قبل مسیح تک برسر اقتدار رہی اور حکومت سبا کے آتے ہی نابود ہوگئی۔
٥) حکومت سبا و ریدان: حضر موت اور اطراف یمن جن کے بادشاہوں کے سلسلہ کو ''تبع'' کہا گیا ہے اور ان کی حکومت سال عیسوی سے ١١٥ سال پہلے شروع ہوئی اور عیسوی کے بعد ٥٢٣ء تک برقرار رہی اور اس کی راجدھانی ''ظفار'' تھی۔ (٢)
_______________________
(١) سید جعفر شہیدی، تاریخ تحلیلی اسلام (تہران: مرکز اشاعت یونیورسٹی، ط٦، ١٣٦٥)، ص ٣.
(٢) احمد حسین شرف الدین، الیمن عبر التاریخ (قاہرہ: مطبعة السنة المحمدیہ ، ط ٢، ١٣٨٤ھ.ق)، ص ٥٣.

جنوبی عرب کی درخشاں تہذیب یمن کی پر رونق تہذیب مورخین کی نگاہ میں قابل تحسین واقع ہوئی ہے جیسا کہ ہَرُودَت (قبل مسیح پانچویں صدی میںیونان کا ایک بزرگ مورخ) دور سبا میں اس سرزمین کی تہذیب اور عالی شان محلوں اور ہیرے اور جواہرات سے مرصع دروازوں کا ذکر کر کے کہتا ہے کہ ان میں سونے چاندی کے ظروف اور قیمتی دھاتوں سے بنی ہوئی پلنگیں موجود تھیں۔(١) کچھ مورخین نے صنعاء کے عالی شان محل (غمدان) کا ذکر کیا ہے جو بیس منزلہ تھا جس میں سو عدد کمرے تھے اور کمروں کی دیواریں بیس ہاتھ لمبی اور ساری چھتیں آئینہ کاری اور شیشے سے مزین تھیں۔(٢)
ستر ابون (روم کا مشہور سیاح) نے بھی سن عیسوی سے ایک صدی قبل اس سرزمین کا دورہ کیا تو اس علاقہ کے تمدن کے بارے میں ھرودت کی طرح اپنے خیالات کا اظہار اس طرح سے کیا۔ مأرب ایک عجیب و غریب شہر ہے جس کی عمارتوں کی چھتیں عاج سے بنائی گئی ہیں اور ان کو ہیرے اورجواہرات سے مرصع تختیوں سے مزین کیا گیا ہے۔ اور وہاں ایسے خوبصورت ظروف دیکھنے کو ملے جن کو دیکھ کر انسان حیرت زدہ ہو جائے۔(٣)
اسلامی مورخین اور جغرافیہ دان جیسے مسعودی (وفات ٣٤٦ھ) اور ابن رُستہ (تیسری صدی ہجری کے دانشوروں سے ہیں)نے بھی اس علاقہ کے لوگوں کی ظہور اسلام سے قبل، پُر رونق اور خوشحال زندگی، عمارتوں اور آبادیوں کا تفصیل سے ذکر کیا ہے۔(٤)
_______________________
(١) گوستاولوبون، تمدن اسلام و عرب، ترجمہ: سید ہاشم حسینی (تہران: کتاب فروشی اسلامیہ)، ص ٩٢.
(٢) سید محمود شکری آلوسی بغدادی، بلوغ الارب فی معرفة احوال العرب (قاہرہ: دار الکتب الحدیثہ، ط٢)، ج١، ص ٢٠٤.
(٣) جرجی زیدان، تاریخ تمدن اسلام، ترجمہ: علی جواہر کلام (تہران: امیر کبیر، ١٣٣٣)، ج١، ص ١٣.
(٤) مسعودی، مروج الذہب و معادن الجوہر، تحقیق: محمد محیی الدین عبد الحمید (دار الرجاء للطبع و انشر)، ج٢، ص ٨٩؛ ابن رستہ، الاعلاق النفیسہ، ترجمہ و تعلیق: حسین قراچانلو (تہران: امیر کبیر، ط ١، ١٣٦٥)، ص ١٣٢.
انیسویں اور بیسویں صدی میں آثار قدیمہ کے ماہرین کے مطالعے اور بحثوں اور مورخین کی تحقیقات سے اس علاقہ کی تاریخ واضح ہوئی اور ایسی نئی دستاویزات اور شواہد ملے جن سے اس سرزمین کے درخشاں اور قدیمی تمدن کا پتہ چلتاہے۔ عدن، صنعائ، مأرب اور حضر موت کے آثار قدیمہ اس بات کے گواہ ہیں کہ عرب کے جنوبی علاقہ یمن اور اس کے نواح میں بسنے والوں میں عظیم تمدن پایا جاتا تھا جو فینیقیہ اور بابل کے تمدن کے مقابلہ میں تھا۔ یمن کے قدیمی تمدن کا ایک مظہر مأرب کا سب سے بڑا بند تھا۔(١) یہ بند جو دقیق ریاضی محاسبات اور پیچیدہ نقشہ کے مطابق بنایا گیا تھا اس کو دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ اس کا نقشہ بنانے والا علم ہندسہ کا کس قدر ماہر تھا کہ اس سے اس علاقہ میں کس قدر کاشتکاری اور خوشحالی پیدا ہوئی۔ (٢)
یمن کے لوگ کاشتکاری کے علاوہ، تجارت بھی کرتے تھے اور سبئیان مشرق و مغرب کی تجارت کا وسیلہ تھے کیوں کہ ملک یمن اس زمانہ میں چند متمدن ملکوں کے درمیان واقع تھا۔ ہندوستان کے تاجر اپنے تجارتی مال کو سمندر کے ذریعہ یمن اور حضر موت لایا کرتے تھے اور یمن کے تاجر اس کو حبشہ، مصر، فینیقیہ، فلسطین، مدین کے شہر، ادوم، عمالقہ اور مغربی ممالک لے جایا کرتے تھے۔ اور اہل مکہ بھی اپنے تجارتی مال کو خشکی کے راستے سے دنیا کے مختلف آباد علاقوں میں بھیجتے تھے(٣)۔ ایک زمانہ تک مشرق و سطیٰ کی تجارت یمنیوں کے ہاتھ میں تھی(٤) بحر احمر کی راہوں میں مشکلات کی بنا پر سبئیوں نے خشکی کے
_______________________
(١) مأرب بند، یمن کے موجودہ دار الحکومت صنعاء کے مشرقی سمت میں ١٩٢کلو میٹر کے فاصلہ واقع پر ہے۔
(٢) اس بند کے نقشے اور اس کی تعمیری خصوصیات سے مزید آگاہی کے لئے رجوع کریں : فرہنگ قصص قرآن (ضمیمۂ قصص قرآن) صدر بلاغی، (تہران: امیر کبیر، ط ٣، ص ٨٢ اور ٨٨؛ احمد حسین شرفالدین، الیمن عبر التاریخ ، ص ١٣٢۔ ١٢٢۔
(٣) جرجی زیدان، تاریخ تمدن اسلام، ج١، ص ١١.
(٤) ویل ڈورانٹ، تاریخ تمدن، ترجمہ: احمد آرام و ھمکاران (تہران: سازمان انتشارات و آموزش انقلاب اسلامی، ط٢، ١٣٦٧)، ج١، ص ٣٤١.
راستے کو اختیار کیا اسی لئے وہ یمن سے شام تک کی مسافت کو جزیرة العرب کے مغربی ساحل سے طے کرتے تھے۔ یہ راستہ ''مکہ'' اور ''پترا'' سے گزر کر شمال کی جانب مصر، شام اور عراق کی طرف نکلتا ہے۔(١)

مأرب کے بند کی تباہی یمنیوں میں برائیوں کا رواج اور اندرونی فتنوں اور فسادات کی بنا پر وہاں کا چمکتا ہوا خورشیدتمدن روز بروز غروب ہونے لگا تھا اور بند مأرب جو کہ مرمت کا محتاج تھا وہاں کے حکمراں اور باشندے اس کی مرمت نہیں کرسکے آخر کار ٹوٹنے کی وجہ سے سیلاب نے آس پاس کی آبادی اور کھیتی کو نابود کردیا اوراس کے اطراف میں پانی کی قلت کی بنا پر کاشتکاری ختم ہوگئی اور لوگ دوسری جگہ کوچ کرنے پر مجبور ہوگئے(٢)۔ قرآن کریم کے دو سوروں میں قوم سبا کا نام آیا ہے۔
ایک ملکۂ سبا کے ذکر اور ان کے نام حضرت سلیمان کے خط کی مناسبت سے اس طرح تذکرہ ہے ''زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ (ہدہد) آیا اور کہا: میں ایسی چیز جانتا ہوں جس سے آپ باخبر نہیں ہیں میں سرزمین سبأ سے آپ کے لئے یقینی خبر لایاہوں میں نے ایک خاتون کو دیکھا جو وہاں حکومت کرتی ہے اور تمام چیزیں اس کے اختیار میں ہیں (خاص طور سے ) ایک بڑا تخت رکھتی ہے''۔(٣)
اور دوسری جگہ مأرب نامی بند کے ٹوٹنے سے سیلاب کی آمد اور برائیوں اور فحشاء کے رواج کے
_______________________
(١) فیلیپ حِتی، تاریخ عرب، ترجمہ: ابوالقاسم پایندہ (تہران: سازمان انتشارات آگاہ، ط٢، ١٣٦٦)، ص ٦٥۔ ٦٤؛ رجوع کریں: گوشتاولوبون، تمدن اسلام و عرب، ص ٩٤؛ احمد حسین شرف الدین، الیمن عبر التاریخ، ص ١٠٥؛ آلوسی، بلوغ الارب، ج١، ص ٢٠٣.
(٢) حسن ابراہیم، تاریخ سیاسی اسلام، ترجمہ: ابوالقاسم پایندہ (تہران: سازمان انتشارات جاویدان، ط ٥، ١٣٦٢)، ص ٣٢.
(٣) سورۂ نمل ،٢٧، آیت ٢٣۔ ٢٢.
نتیجے میں قوم کے انحطاط کی مناسبت سے یوں ذکر ہوا ہے ۔ ''اور قوم سبأ کے لئے ان کے وطن ہی میں ہماری نشانیاں تھیں کہ داہنے بائیں دونوں طرف باغات تھے۔ تم لوگ اپنے پروردگار کا دیا رزق کھاؤ اور اس کا شکر ادا کرو تمہارے لئے پاکیزہ شہر اور بخشنے والا پروردگار ہے۔ مگر ان لوگوں نے انحراف کیاتو ہم نے ان پر بڑے زوروں کا سیلاب بھیج دیا اور ان کے دونوں باغات کو ایسے دو باغات میں تبدیل کردیا جن کے پھل بے مزہ تھے اوران میں جھاؤ کے درخت اور کچھ بیریاں تھیں یہ ہم نے ان کی ناشکری کی سزا دی ہے اور ہم ناشکروں کے علاوہ کس کو سزا دیتے ہیں۔ اور جب ہم نے ان کے اور ان بستیوں کے درمیان جن میں ہم نے برکتیں رکھی ہیں کچھ نمایاں بستیاں قرار دیں اور ان کے درمیان سفر کو معین کردیا کہ اب دن و رات جب چاہو سفر کرو محفوظ رہوگے۔ تو انھوں نے اس پر بھی یہ کہا کہ پروردگار ہمارے شہروں اور آبادیوں میں دوری پیدا کردے اور اس طرح اپنے نفس پر ظلم کیا تو ہم نے انھیں کہانی بنا کر چھوڑ دیا اور انھیں ٹکڑے ٹکڑے کردیا کہ یقینا اس میں صبر و شکر کرنے والوں کے لئے بڑی نشانیاں پائی جاتی ہیں۔ (١)
حمزہ اصفہانی نے اس بند کی تباہی کو ظہور اسلام سے چار صدی قبل(٢)، ابوریحان بیرونی نے تقریبا ٥صدی قبل(٣) اور یاقوت حموی نے حبشیوں کے تسلط کے زمانہ میں ذکر کیا ہے(٤) اور چونکہ حبشیوں کا تسلط چھٹی صدی کے وسط میں ہوا تھا لہٰذا بعض مورخین کا گمان ہے کہ اس بند
_______________________
(١) سورۂ سبا، ٣٤،آیت ١٩۔ ١٥
(٢) حمزہ اصفہانی، تاریخ پیامبران و شاھان( تاریخ ملوک الارض و الانبیائ)، ترجمہ: جعفر شعار (تہران: امیر کبیر، ط ٢، ١٣٦٧)، ص ١٢٠ اور ١٣٢۔
(٣) آثار الباقیہ، ترجمہ: ابکر دانا سرشت (تہران: امیر کبیر، ط ١ ، ١٣٦٣)، ص ١٨١۔
(٤) معجم البلدان، تصحیح محمد امین الخانجی الکتبی (قاہرہ: مطبعة السعادة، ط ١، ١٣٢٤ھ.ق)، ج٧، ص ٣٥٥.
کی تباہی ٥٤٢ سے ٥٧٠ عیسوی کے درمیان میں ہوئی ہے۔(١) بہرحال شاید اس بند کی تباہی تدریجی طور پر ہوئی ہے اور چند بار مرمت کے بعد آخر کار یہ منہدم ہوگیا۔
قرآن مجید میں قوم تُبّع(٢) اور ان کے انجام کار کا دو جگہ پر ذکر ہوا ہے۔
١۔ ''بھلا یہ لوگ زیادہ بہتر ہیں یا قوم تُبَّع اور ان سے پہلے والے افراد جنھیںہم نے اس لئے تباہ کردیا کہ یہ سب مجرم تھے''(٣)
٢۔ان سے پہلے قوم نوح، اصحاب رس(٤) اور ثمود نے بھی تکذیب کی تھی۔ اور اسی طرح قوم عادوفرعون ، قوم لوط ،اصحاب ایکہ(٥) اورقوم تُبَّع نے بھی رسولوں کی تکذیب کی تو ہمارا وعدہ پورا ہوگیا۔(٦)

جزیرة العرب پرجنوبی تہذیب کے زوال کے اثرات جنوبی ملکوں کا انحطاط اور جزیرة العرب کے جنوب میں تمدن کا زوال اور بند مأرب کی تباہی اس علاقہ کے حالات کی تبدیلی کا باعث بنی کیونکہ وہاں پر زندگی کی سہولیتں مفقود ہوگئیں تھیں اور بند کے
_______________________
(١) فیلیپ خلیل حتی، تاریخ عرب، ص٨٢.
(٢) تُبَّع (جس کی جمع تبایعہ ہے) یمن میں حمیری بادشاہوں کا لقب ہوا کرتا تھا ۔ یہ لوگ دوسرے درجہ کے بادشاہ ہوا کرتے تھے پہلے درجہ کے بادشاہ، سبا اور ریدان کے بادشاہ تھے جنھوں نے ١١٥ سال قبل مسیح سے ٢٧٥ سال بعد مسیح تک حکومت کی ہے۔ سبا، ریدان، حضر موت اور شَحر ، کے دوسرے درجے کے بادشاہوں نے ٢٧٥ سے ٥٣٢ تک بعد مسیح حکومت کی ہے۔ (احمد حسین شرف الدین، الیمن عبر التاریخ، ص ٩٧۔ ٩٠)
(٣) سورۂ دخان، ٤٤،آیت ٣٧.
(٤) وہ قوم جو یمامہ میں زندگی بسر کرتی تھی۔
(٥) قوم شعیب.
(٦)ق.(٠ ٥) ١٤۔ ١٢.
اطراف کی کھیتیاں پانی کی عدم موجودگی کی بنا پر ختم ہوگئیں تھیں لہٰذا وہاں پر آباد قوموں میں سے کچھ لوگ مجبور ہوکر دوسری جگہ کوچ کرگئے۔ اس انتشار کے نتیجے میں تنوخ خاندان جو کہ یمنی قبیلہ ازد سے تھا، حیرہ (عراق) ہجرت کرگیا اور وہاں ''لخمیان'' کی حکومت کی بنیاد ڈالی اور ''آل جَفنہ'' کا خاندان شام چلا گیا اور وہاں مشرقی اردن کے علاقہ میں حکومت کی بنیاد ڈالی اور ''سلسلۂ غسانیان'' کے نام سے مشہور ہوا۔(١)
قبیلۂ اوس اور خزرج، یثرب (مدینہ) خزاعہ، مکہ اور اس کے اطراف میں قبیلۂ بجیلہ و خثعم اور دوسرے چند گروہ، سروات کے علاقہ میں جاکر ہمیشہ کے لئے بس گئے(٢) اور ان میں سے ہر ایک نے اپنی ایک مستقل تاریخ کی بنیاد ڈالی۔

شمالی جزیرة العرب]حجاز[ کے حالات حجاز ایسا خشک علاقہ ہے جہاں پر بارش کم ہوتی ہے اور (پہاڑی اور ساحلی علاقوں کے علاوہ) لو چلتی ہے اور اس سے وہاں کے باشندوں کی زندگی متاثر ہے اور چونکہ یہاں کے رہنے والے، یمنیوں کے برخلاف آب و گیاہ کی کمی کی بنا پر صرف پالتو جانوروں کا ایک مختصر گلہ یا اونٹ کے علاوہ دوسری چیزیں نہیں رکھ سکتے تھے لہٰذا یہ لوگ اپنی خوراک اور پوشاک عموماً اونٹ کے ذریعہ فراہم کرتے تھے اور چونکہ دور دراز کے علاقوں میں ہجرت اور صحراؤوں میں رفت و آمد صرف اسی طرح کی گلہ داری کے ذریعہ ممکن تھی لہٰذا ایک سیاسی نظام کا قیام اور خانہ بدوشوں کے لئے دائمی سکونت ممکن نہ تھی اس وجہ سے
_______________________
(١) حمزۂ اصفہانی، تاریخ پیامبران و شاہان، ص ٩٩ اور ١١٩ ؛ نیز رجوع کریں: حسن ابراہیم حسن، تاریخ سیاسی اسلام، ص ٤٤؛ ابوریحان بیرونی، الآثار الباقیہ، ص ١٨١ اور ١٨٣۔
(٢) کارل بروکلمان، تاریخ ملل و دول اسلامی، ترجمہ: ھادی جزایری، (تہران: ادارہ ترجمہ ونشر کتاب، ١٣٤٦)، ص٥.
یہاں کے لوگ (جنوبی علاقہ کے لوگوں کی بہ نسبت جو کہ شہر نشین اور کاشتکار تھے) غیر متمدن، خانہ بدوش اور صحرا ئی لوگ تھے۔ مکہ کے علاوہ حجاز کے دوسرے شہر کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتے تھے۔
انھیں علاقائی دشواریوں اورخراب راستوں کی وجہ سے اہل حجاز کا، اس زمانہ کے متمدن لوگوں سے کوئی خاص تعلق نہیں تھا اور یہ قدرتی اور جغرافیائی حالات باعث بنے تھے کہ یہ علاقہ سلاطین جہاں کی طمع اور ان کے حملوں سے محفوظ رہا اور اس طرح سے دنیا کے بڑے سلاطین اور فاتحان عالم جیسے رامِس دوم چودھویں صدی میں قبل مسیح ، سکندر مقدونی کو قبل مسیح چوتھی صدی میں اورایلیوس گالوس (اگوست کے زمانہ میں پہلی صدی عیسوی میں روم کا بادشاہ) کو حجاز پر تسلط سے کوئی دلچسپی نہیں تھی اور اسی طرح ایرانی شہنشاہوں نے بھی اس علاقہ پر قبضہ نہیں کیا اسی لئے حجاز کے لوگ آسودہ خاطر ہوکر اپنی زندگی گزار رہے تھے(١)۔ ایک مورخ اس بارے میں لکھتا ہے:
جس وقت دمتریوس، یونانی سردار (اسکندر کے بعد) سعودی عرب پر قبضہ کرنے کے ارادہ سے پترا پہونچا تو اس علاقہ کے بدّووں نے اس سے کہا: اے امیر بزرگ! کیوں ہم سے جنگ کے لئے آئے ہو؟ ہم ایسے ریگستانی علاقہ میں زندگی بسر کر رہے ہیں کہ جہاں زندگی گزارنے کی کوئی چیز موجود نہیں ہے ہم اس بیابان اور تپتے ہوئے صحرا میں اس بنا پر زندگی بسر کر رہے ہیں کہ کسی کے ماتحت اور غلام بن کر نہ رہیں۔ لہٰذا ہماری جانب سے پیش کردہ ہدیہ قبول فرمائیں اور اپنی جگہ واپس چلے جائیں اورایسی صورت میں ہم آپ کے باوفا ساتھیوں میں سے ہوں گے لیکن اگر آپ نے ہمارا محاصرہ کر کے، ہمارے صلح کے مشورے کو قبول نہ کیا تو آپ کو ایک زمانہ تک اپنی راحت و سکون کی زندگی سے ہاتھ دھونا پڑے گا اور آپ ہماری اس عادت اور طرز زندگی کو جو شروع سے چلی آرہی ہے تبدیل نہیں کرسکتے اور اگر ہم میں سے چند افراد کو اسیر کر کے لے بھی گئے تو آپ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا کیونکہ یہ لوگ اپنی ہمیشہ کی آزاد زندگی کو چھوڑ کر آپ کی غلامی نہیں کرسکتے۔ لہٰذا دمتریوس نے
_______________________
(١) جرجی زیدان، تاریخ تمدن اسلام، ترجمہ: علی جواہر کلام، (تہران: امیر کبیر، ١٣٣٣)، ج١، ص ١٥.
ان کے پیش کردہ ہدیہ کو قبول کرلیا اور ایک ایسی جنگ سے جس میں مشکلات اور پریشانیوں کے علاوہ اس کے ہاتھ کچھ نہ آتا چشم پوشی کر کے واپس چلا گیا۔(١)
ایک دانشمند کہتا ہے کہ جزیرة العرب انسان اور زمین کے درمیان روابط کے منقطع نہ ہونے کا ایک کامل نمونہ ہے۔ اگر مختلف ملکوں میں جیسے ہندوستان، یونان، اٹلی، انگلینڈ اور امریکہ میں موقع پرست قومیں مسلسل ایک دوسرے کو شکست دینے یا اپنے زیر تسلط رکھنے کی بنا پر دوسری جگہ کوچ کرگئی ہیں۔ تاریخ عرب میں کوئی ایسا جنگجو بادشاہ نہیں ملا جس نے ریگستان کے سینہ کو چاک کرکے وہاں پر دائمی سکونت اختیار کی ہو، بلکہ عرب کے لوگ (تاریخی دستاویزات کے مطابق) ہمیشہ اپنی سابقہ حالت پر باقی رہے۔ اور ان میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ (٢)
_______________________
(١) گوسٹاولوبون، تاریخ تمدن اسلام، ج١، ص ٨٨.
(٢) فیلیپ حتی، تاریخ عرب، ص ١٤۔



۳
صحرا نشین تاریخ اسلام
دور جاہلیت سے وفات مرسل اعظم ۖ تک

صحرا نشین جزیرة العرب کا شمالی علاقہ (حجاز) زیادہ تر صحرائی ہے لہٰذا وہاں کے اکثر قبائل ظہور اسلام سے قبل بادیہ نشین و صحرا گرد تھے۔ بدو عرب قدرتی مناظر سے محروم اوراپنے زندگی کے میدان میں صرف گلہ بانی کے ذریعہ وہ بھی محدود اور قدیم طرز پر، زندگی گزارتے تھے۔ وہ لوگ بھیڑ بکریوں کے اون اور اونٹ کے بالوں سے بنے ہوئے خیموں میں زندگی بسر کرتے تھے۔ اور جس جگہ آب و گیاہ موجود ہو وہیں جاکر بس جاتے تھے اور پانی اور سبزے کے ختم ہونے پر دوسرے علاقہ کی طرف کوچ کرنے پر مجبور ہوجاتے تھے یہ لوگ ہریالی اور چراگاہ کی کمی کی وجہ سے صرف چند اونٹ اور مختصر گلہ کے علاوہ دوسرے چوپائے نہیں رکھ سکتے تھے۔ جیسا کہ کہا گیا ہے : ''صحرا میں تین چیزوں، بدو عرب، اونٹ
اور کھجور کے درخت کی حکومت ہوتی ہے''۔ اور اگر اس میں ریگزار کا بھی اضافہ کردیا جائے تو بنیادی طور پر چار چیزوں کا صحرا پر غلبہ ہوتا ہے۔ پانی کی قلت، گرمی کی شدت، راہوں کی صعوبت اور آذوقہ کی کمی، عام طور سے انسانوں کے بڑے دشمن ہیں اور انسانوںکو خوف و خطرہ انھیں سے ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ جب یہ معلوم ہو کہ عرب اور صحرا نے کبھی بھی غیروں کے تسلط کو اپنے اوپر برداشت نہیں کیا تو ہمیں تعجب نہیں کرنا چاہیئے. صحرا کی خشکی، اس کا استمرار اور یکسانیت، بدؤوں کے جسم و عقل کی تکوین میں تجلی پاگیا تھا۔ یہ لوگ کاشتکاری یا دوسرے پیشے اور کام کو اپنی شان کے لائق نہیں سمجھتے تھے۔(١) لہٰذا متمدن حکومتوں اور شہری نظام کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور صحرا و ریگستانی علاقوں میں زندگی بسر کرنے کو ترجیح دیتے تھے اور یہ بات ان کی موروثی خصلت میں شامل تھی۔ (٢)
یہ لوگ ایک وسیع صحرا کے سپوت اور آزاد مزاج تھے لہٰذا بغیر کسی عمارت کی رکاوٹ کے یہ لوگ صاف و شفاف ہو اسے بہرہ مند ہوتے تھے، سورج کی دائمی تپش اور بارش و سیلاب کے پانی کو روکنے کے لئے کوئی سد نہیں تھا بلکہ تما م چیزیں قدرتی طور پر آزاد اور اپنی اصلی حالت پر تھیں۔
کاشتکاری اور کاروبار نے انھیں محدود اور مصروف نہیں کر رکھا تھا اور نہ ہی شہر کی بھیڑ بھاڑ سے وہ تنگ آگئے تھے اور چونکہ آزاد زندگی کی عادت تھی لہٰذا آزادی کو پسند کرتے تھے اور اپنے کو کسی قانون اور نظام کا پابند نہیں سمجھتے تھے اور جو بھی ان پر فرمانروائی کرنا چاہتا تھا اس سے پوری طاقت کے ساتھ لڑتے تھے۔ صرف دو چیزیں ان کو محدود کئے ہوئے تھیں:
١۔ ایک بت پرست نظام کی قید و بند اور اس کے مذہبی رسومات ۔
٢۔دوسرے قبیلوں کے آداب و رسومات اور قبیلے سے وابستگی کی بنا پر جو ذمہ داریاں ان پر عائد ہوتی تھیں۔
_______________________
(١) فیلیپ حتی، تاریخ عرب، (تہران: آگاہ ط٢، ١٣٦٦)، ص ٣٥، ٣٣.
(٢) گوسٹاولوبون، تاریخ تمدن اسلام، ج١، ص ٦٥۔ ٦٤؛ ویل ڈورانٹ، تاریخ تمدن،( عصر ایمان)، ج٤، (بخش اول)، ترجمہ: ابوطالب صارمی (تہران: سازمان انتشارات و آموزش انقلاب اسلامی، ط٢، ١٣٦٨)، ص ٢٠١.
البتہ ان کے یہاں قبیلہ کے رسم و رواج کی پیروی خلوص اور اعتقاد جازم کے ہمراہ تھی۔ (١)
لارمنس بلجیکی (مشرقی محقق) کہتا ہے: عرب، آزادی اور ڈیموکراسی کا نمونہ تھے۔ لیکن ایسی افراطی ڈیموکراسی جس کی کوئی حد نہیں تھی۔ اور جو بھی ان کی طاقت اور آزادی کو محدود کرنا چاہتا تھا (اگرچہ یہ محدودیت ان کے فائدہ میں ہو) وہ اس کے خلاف قیام کرنے کے لئے تیار ہو جاتے تھے۔ جس سے ان کے ظلم اور جرائم کا پتہ چلتا ہے جس سے تاریخ عرب کا ایک عظیم حصہ پُر ہے۔(٢)

قبائلی نظام ظہور اسلام سے قبل حجاز کا علاقہ کسی حکومت کے تابع نہیں تھا اور وہاں کوئی سیاسی نظام نہیں پایا جاتا تھا اسی بنا پر ان کی معاشرتی زندگی ایران اور روم کے لوگوں سے بہت زیادہ فرق کرتی تھی۔ کیونکہ یہ دونوں ملک سعودی عرب کے ہمسایہ تھے اور ان میں مرکزی حکومت پائی جاتی تھی جس کے زیر نظر ملک کے تمام علاقے تھے اور وہاں پر مرکز کے قوانین نافذ تھے۔ لیکن حجاز (مجموعی طور سے شمال اور مرکز جزیرة العرب کے علاقہ کو کہتے ہیں) میں ایک مرکزی حکومت شہروں میں بھی موجود نہیں تھی۔ عرب کے سماج کی بنیاد قبیلے پر اور ان کا سیاسی اور اجتماعی نظام، قبائلی نظام کے مطابق تھا۔ اور یہ نظام ان کی زندگی کے تمام پہلوؤں میں نمایاں تھا۔ اور اس نظام میں لوگوں کی حیثیت صرف کسی قبیلہ سے منسوب
_______________________
(١) احمد امین، فجرالاسلام، (قاہرہ: مکتبة النہضة المصریة، ط٩، ١٩٦٤)، ص ٤٦.
(٢) وہی حوالہ، ص ٣٤۔ ٣٣، نعمان بن منذر (حیرہ کے بادشاہ) نے کسریٰ (بادشاہ ایران)، کے جواب میں جس نے پوچھا تھا کہ کیوںعرب کی قوم ایک حکومت اور نظام کے تحت نہیں رہتی ہے؟ کہا دوسری قومیں چونکہ اپنے کو کمزور محسوس کرتی ہیں اور دشمن کے حملہ سے خوف کھاتی ہیں ، لہٰذا اپنے کاموں کوایک خاندان کے سپرد کردیتی ہیں لیکن عربوںمیں ہر ایک چاہتاہے کہ ہم بادشاہ رہیں اور وہ خراج و ٹیکس دینے سے نفرت کرتے ہیں (آلوسی بلوغ الارب، ج١، ص ١٥٠)
ہونے کی بنا پرمتعین ہوتی تھی۔
قبیلہ جاتی زندگی کا تصور نہ تنہا صحرا نشینوں میں بلکہ شہروں میں بھی نمایاں تھا۔ اس علاقہ میں ہر قبیلہ ایک مستقل ملک کے مانند تھا اور اس دور میں قبائل کے درمیان تعلقات ویسے ہی تھے جیسے آج کسی ملک کے تعلقات دوسرے ملکوں سے ہوتے ہیں۔

نسلی رشتہ اس زمانہ میں عربوں میں ''ملیت'' اور ''قومیت'' وحدت دین، زبان یا تاریخ جیسے مختلف موضوعات کی بنیاد پر متصور نہیں تھی بلکہ چند خاندانوں کے مجموعہ کو'' قبیلہ'' کہتے تھے اور حسب و نسب اور خاندانی رشتے اور ناطے ہی افراد کے درمیان تعلقات کی بنیاد تھے۔ اور انھیں چیزوں کی بنیاد پر لوگوں کے درمیان تعلقات اور رشتے قائم تھے کیونکہ ہر قبیلہ کے لوگ اپنے کو اسی قبیلہ کے خون سے سمجھتے تھے.(١) خانوادے کے اجتماع سے خیمہ اور خیموں کے اجتماع سے قبیلہ وجود پاتا تھا ۔ اور متعدد قبیلوں سے مل کر بڑی تنظیمیں تشکیل پاتی تھیں جیسے یہودیوں کی تنظیم ایک ہی نسل اور خاندان کی بنیاد پر تھی۔ یہ لوگ اپنے خیموں کو اتنا قریب نصب کرتے تھے کہ اس سے چند ہزار افراد پر مشتمل قبیلہ ہو جاتا تھا اور پھر ایک ساتھ مویشیوں کے ہمراہ کوچ کرتے تھے۔(٢)

قبیلہ کی سرداری قبیلہ کے سردار اور نمائندہ کو ''شیخ'' کہا جاتا تھا (٣) شیخ عام طور پرسن رسیدہ ہوتا تھا اور قبیلہ کی سرداری چند چیزوں کی بنا پر ملتی تھی۔ بڑی شخصیت، تجربہ یا قبیلہ سے دفاع کرنے میں شجاعت کا اظہار
_______________________
(١) احمد امین ، فجر الاسلام، ص ٢٢٥؛ عبد المنعم ماجد، التاریخ السیاسی للدولة العربیہ، (قاہرہ: ط ٧، ١٩٨٢)، ص٤٨.
(٢) کارل بروکلمان، تاریخ دول و ملل اسلامی، ص ٦۔ ٥.
(٣) رئیس ، امیر اور سید بھی کہا جاتا ہے۔ (عبد المنعم ، التاریخ السیاسی للدولة العربیہ، ص ٤٩)
اور کثرت مال ہے(١) شیخ کے انتخاب میں امتیازی صفات جیسے سخاوت، شجاعت، صبر، حلم، تواضع اور انداز بیان کا لحاظ بھی کیا جاتا تھا۔(٢)
قبیلہ کا سردار، فیصلے ، جنگ اوردوسرے عمومی امور میں، ڈکٹیٹر شپ کا درجہ نہیں رکھتاتھا بلکہ ہر کام کے لئے ،اس کمیٹی سے مشورہ لیتا تھا جو بزرگان قوم و قبیلہ کے ذریعہ تشکیل پاتی تھی اور یہی وہ افراد تھے جو شیخ کا انتخاب کرتے تھے او ر جب تک اس کے گروہ والے اس سے خوش رہتے تھے وہ اپنے منصب پر باقی رہتا تھا(٣)ورنہ معزول کردیا جاتا تھا. لیکن بہرحال قبیلہ کے دستور کے مطابق، تمام افراد رئیس کی پیروی کرتے تھے اوراس کے مرنے کے بعداس کا بڑا بیٹا اور کبھی ایک سن رسیدہ شخص جس کے اندر اس کی تمام خوبیاں پائی جاتی تھیں یا وہ شخص جو خاص شخصیت اور لیاقت کا مالک ہوا کرتا تھا اسے اس منصب کے لئے چنا جاتا تھا۔
دین اسلام نے قبیلہ جاتی نظام سے جنگ کی اور اس کو ختم کیا اور حسب و نسب جو اس نظام کی بنیاد تھی اس کو اہمیت نہیں دی اور نئے اسلامی معاشرے کی بنیاد، وحدت عقیدہ اور ایمان پر استوار کی، جو کہ اجتماعی رشتہ جوڑ نے میں بہت مؤثرہے اور اس طرح وحدتِ خون کی جگہ، وحدت ایمان کو بنیاد قرار دیا اور تمام مومنین کو آپس میں بھائی بھائی قرار دیا(٤) اور اس طرح سے عرب سماج کے ڈھانچے کی بنیاد میں تبدیلی پیدا ہوئی۔
_______________________
(١) وہی حوالہ.
(٢) آلوسی، بلوغ الارب، تصحیح محمد بہجة الأثری، (قاہرہ: دارالکتب الحدیثہ، ط٣)، ج٢، ص ١٨٧
(٣) فیلیپ حتی،تاریخ عرب، ص ٣٩.
(٤) (انما المومنون اخوة) سورۂ حجرات، ٤٩،آیت ١٠.

قبائلی تعصب تعصب اس حد تک تھا کہ قبیلہ کی روح قرار دیا گیا تھا اور یہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ شخص بے انتہا اپنے قبیلہ کے افراد سے وابستہ تھا۔ مجموعی طور پر صحرا نشینوں میں قبیلہ جاتی تعصب، وطن پرستی کے تعصب کی مانند تھا.(١) وہ کام جو ایک متمدن شخص اپنے ملک، مذہب یا قوم کے لئے انجام دیتا ہے بدو عرب اپنے قبیلے کے لئے انجام دیتے تھے اور اس راہ میں ہر کام انجام دینے کے لئے تیار رہتے تھے، یہاں تک کہ اپنی جان نثار کر دیتے تھے۔(٢)
عربوں کے درمیان، قبائلی لوگوں کا برتاؤ اپنے بھائیوں اور رشتہ داروں کے حق میں تعصب کی حد تک ہوتا تھا یعنی یہ لوگ ہر حال میں اپنے اقرباء کی حمایت کرتے تھے چاہے وہ حق پر ہوں یا باطل پر، خطاکار ہوں یا درست کار، ان کی نظروں میں اگر کوئی اپنے بھائی کی حمایت کرنے میں کوتاہی کرے تو اس کی شرافت داغ دار ہوجاتی ہے اس سلسلہ میں وہ کہتے تھے کہ اپنے بھائی کی مدد کرو چاہے وہ ظالم ہو یا مظلوم۔
ایک عرب شاعر نے اس بارے میں کہا ہے: جس وقت ان کے بھائیوں نے مشکلات میں ان کی مدد چاہی تو وہ بغیر کسی سوال اور دلیل کے ان کی مدد کو دوڑ پڑے۔ (٣)
یہی وجہ تھی کہ اگر قبیلہ کے کسی فرد کی اہانت ہوجاتی تو وہ پورے قبیلہ کی اہانت سمجھی جاتی تھی۔ اور قبیلہ کے لوگوںکی ذمہ داری ہوتی تھی کہ اس اہانت اور بے عزتی کے داغ کو مٹانے کے لئے وہ اپنی پوری طاقت صرف کردیں۔(٤)
دین اسلام اس طرح کے اندھے قبائلی تعصب کی مذمت کرتا ہے اور اسے جاہلانہ اور غیر منطقی قرار دیتا
_______________________
(١) فیلیپ حتی ، گزشتہ حوالہ، ص ٣٨.
(٢) ویل ڈورانٹ ، گزشتہ حوالہ، (عصر ایمان) ، ج٤، ص ٢٠٠.
(٣) لایسئلون اخاہم حین یندبہم ٭ فی النائبات علی ماقال برہانا(احمد امین، گزشتہ حوالہ، ص ١٠)
(٤) حسن ابراہیم حسن، تاریخ سیاسی اسلام، ترجمہ: ابوالقاسم پایندہ (تہران: سازمان انتشارات جاویدان، ط٥، ١٣٦٢)، ج١، ص ٣٨۔ ٣٧؛ عبد المنعم ماجد، گزشتہ حوالہ، ص ٥١۔ ٥٠.
ہے۔'' اس وقت کو یاد کرو جب کفار اپنے دلوں میں زمانہ جاہلیت جیسا تعصب رکھتے تھے''۔(١)
پیغمبر اسلاۖم نے فرمایا ہے: جو شخص تعصب کرے یا اس کے لئے تعصب کیا جائے وہ اسلام سے خارج ہے(٢) آپ نے یہ بھی فرمایا ہے: جو شخص تعصب کی بات کرے یا لوگوں کو تعصب کی طرف دعوت دے یا تعصب کی روح اور فکر رکھتے ہوئے مرجائے وہ ہم میں سے نہیں ہے(٣) نیز آپ نے فرمایا: اپنے بھائی کی مدد کرو چاہے وہ ظالم ہو یا مظلوم لوگوں نے عرض کیا: مظلوم کی مدد کرنا تو معلوم ہے، ظالم کی کس طرح سے مدد کریں؟ آپ نے فرمایا: اسے ظلم کرنے سے روکو۔(٤)

قبائلی انتقام عرب میںاس وقت کوئی ایسی مرکزی حکومت یا کمیٹی موجود نہیں تھی جو لوگوں کے اختلافات کو ختم کرے اور وہاں پر عدل و انصاف قائم کرسکے۔ جس پر ظلم و ستم ہوتا تھا وہ اپنا انتقام لیتا تھا اور اگر ظالم دوسرے قبیلہ کا ہوا کرتا تھا تو مظلوم کو یہ حق حاصل تھا کہ وہ اپنا بدلہ اس قبیلہ کے تمام افراد سے لے اور یہ چیز
_______________________
(١) (اذجعل الذین کفروا فی قلوبہم الحمیة حمیة الجاہلیة) سورۂ فتح،٤٨ آیت ٢٦.
(٢) من تعصب او تعصب لہ فقد خلع ربقة الاسلام من عنقہ۔ (صدوق)، ثواب الاعمال، و عقاب الاعمال،( تہران: مکتبة الصدوق)، ص ٢٦٣؛ کلینی، الاصول من الکافی (تہران:مکتبة الصدوق، ط ٢، ١٣٨١ھ.ق)، ج٢، ص٣٠٨.
(٣) لیس منا من دعا الی عصبیة، و لیس منا من قال (علی عصبیة) و لیس منا من مات علی عصبیة۔ (سنن ابی داؤد (بیروت: دارالفکر)، ج٤، کتاب الادب، باب فی العصبیة، ص ٣٣٢، حدیث ٥١٢١).
(٤) عن انس قال: قال رسول اللہۖ انصر أخاک ظالماً أو مظلوماً . قالوا: یا رسول اللّٰہ ہذا ننصرہ مظلوماً فکیف ننصرہ ظالماً؟ قال: تأخذ فوق یدیہ۔ (صحیح بخاری بحاشیة السندی (بیروت: دارالمعرفة)، ج٢، کتاب المظالم، ص ٦٦؛ مسند احمد، ج٣، ص٢٠١).
عربوں میں بہت عام تھی(١)۔ کیونکہ لوگوں کی خطائیں پورے قبیلہ کی طرف منسوب ہوتی تھیں اور قبیلہ کا ہر فرد رشتہ دار ہونے کی وجہ سے ذمہ دار تھا کہ وہ اپنے قبیلے کے تمام افراد کی مدد کرے۔ (بغیر اس بات کا خیال رکھتے ہوئے کہ وہ حق پر ہے یا ناحق) اور یہ ذمہ داری شروع میں گھر، خاندان اور اقرباء کی جانب سے انجام پا تی تھی۔ اور جب اس میں وہ کامیاب نہیں ہوتے تھے اور خطرہ نہیں ٹلتا تھا تو گروہ اور قبیلہ کے دوسرے افراد اس کی مدد کرتے تھے۔
اگر کوئی قتل ہو جاتا تھا تو قصاص کی ذمہ داری اس کے قریب ترین رشتہ دار پر ہوتی تھی(٢) اور اگر مقتول دوسرے قبیلہ سے ہوتا تھا تو وہاں پر انتقام کی ''رسم'' جاری ہوتی تھی اور قاتل کے قبیلہ کے ہر فرد کو یہ خطرہ لاحق رہتا تھا کہ کہیں مقتول کے بدلہ میں اسے اپنی جان سے ہاتھ نہ دھونا پڑے۔ کیونکہ ان کی صحرائی سنت اور رسم یہ تھی کہ ''خون صرف خون کے ذریعہ دھلتا ہے'' اور خون کا بدلہ صرف خون ہے۔
لوگوں نے ایک اعرابی سے کہا: کیا تم اس بات پر راضی ہو کہ جس نے تمہیں اذیت پہنچائی ہے اسے معاف کردو اور انتقام نہ لو؟ اس نے جواب دیا کہ میں خوش ہوؤں گا اگر بدلہ لوں اور جہنم میں جاؤوں۔(٣)

قبائلی رقابت اور فخر و مباہات اس زمانہ میں عرب کا ایک دوسرا طریقہ یہ ہوا کرتا تھا کہ وہ ایک دوسرے پر فخر و مباہات کیا کرتے تھے اور جو چیزیں اس سماج میں عزت کی نگاہ سے دیکھی جاتی تھیں (اگرچہ وہ چیزیں موہوم اور بے
______________________
(١) حسن ابراہیم حسن، گزشتہ حوالہ، ص ٣٩.
(٢)بروکلمان، گزشتہ حوالہ، ص ٧۔ ٦.
(٣) نویری، نہایة الارب فی فنون الادب (وزارة الثقافہ و الارشاد القومی المصریہ)، ج٦، ص ٦٧.
بنیاد ہوتی تھیں)اس پر ناز کرتے تھے اور اس کی بنا پر دوسرے قبائل پر فخر کرتے تھے۔ میدان جنگ میں شجاعت، بخشش اور وفاداری،(١) مال و دولت کثرت اولاد اور کسی بڑے قبیلہ سے تعلق ہر ایک اس زمانہ کے عرب کی نگاہ میں بڑی اہمیت کا حامل اور وسیلہ ٔ برتری تھا اور وہ اس چیز کو اپنے افتخار کا ذریعہ سمجھتے تھے۔
قرآن کریم نے ان کی باتوں کی اس طرح سے مذمت کی ہے:
''اور یہ بھی کہہ دیا کہ ہم اموال اور اولاد کے اعتبار سے تم سے بہتر ہیں او رہم پر عذاب ہونے والا نہیں ہے آپ کہہ دیجئے کہ میرا پروردگار جس کے رزق میں چاہتا ہے کمی یا زیادتی کر دیتا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے ہیں اور تمہارے اموال اور اولاد میں کوئی ایسا نہیں ہے جو تمہیں ہماری بارگاہ میں قریب بنا سکے علاوہ ان کے جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کئے''۔(٢)
ایک دن کسریٰ (بادشاہ ایران) نے نعمان بن منذر (بادشاہ حیرہ) سے پوچھا کہ کیا قبائل عرب میں کوئی ایسا قبیلہ ہے جو دوسروں پر شرف اور برتری رکھتا ہے؟ تو اس نے جواب دیا: ہاں! تو اس نے کہا: ان کے شرف کی وجہ کیا ہے؟ تو اس نے جواب دیا کہ جس کے باپ دادا میں سے تین شخص لگاتار رئیس قبیلہ ہو ںاور ان کی نسل سے چوتھا بھی رئیس بنے تو قبیلہ کی ریاست اس کے خاندان کو ملتی ہے۔(٣)
عصر جاہلیت میں عرب قبیلہ کے افراد کی کثرت کو اپنے لئے مایہ ٔ افتخارسمجھتے تھے اور اس طرح اپنے رقیب قبائل پر فخر و مباہات کرتے اور ان سے افراد کی تعداد کا مقابلہ کرتے تھے (٤) یعنی اپنے افراد کی تعداد بتا کر یہ دعویٰ کرتے تھے کہ ان کے قبیلہ کی تعداد دشمن کے مقابلہ میں زیادہ ہے۔
ایک دن دو قبیلوں کے درمیان اس قسم کا تفاخر شروع ہوا، ہر ایک نے اپنے قبیلہ کے افتخارات بیان
______________________
(١) آلوسی، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٢٨٠۔
(٢)سورۂ سبا،٣٤، آیت ٣٧۔ ٣٥
(٣) آلوسی، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٢٨١۔
(٤) منافرہ، نفر سے بنا ہے یعنی ہر ایک اپنی تعداد دوسرے سے زیادہ بتاتا تھا۔ (آلوسی، گزشتہ حوالہ، ص ٢٨٨.) اس قسم کے تفاحر کے بے شمار واقعات، ظہور اسلام سے قبل تاریخ عرب میں نقل ہوئے ہیں۔
کئے اور طرفین نے دعویٰ کیا کہ ہماری خوبیاں اور قبیلہ کے افراد، دوسرے قبیلہ کے مقابل میں زیادہ ہیں اس موقع پر دونوں کی تعداد کو شمار کیا گیا، زندہ لوگوں کی سرشماری مفید ثابت نہیں ہوئی تو مردوں کے شمارش کی نوبت آئی اور دونوں طرف کے لوگ قبرستان گئے اور اپنے اپنے مردوں کو شمار کیا۔(١)
قرآن کریم نے ان کے اس جاہلانہ اور غیر عاقلانہ طرز عمل کی اس طرح سے مذمت کی ہے۔
''تمہیں باہمی مقابلۂ کثرت مال اور اولاد نے غافل بنادیا ، یہاں تک کہ تم نے قبروں سے ملاقات کرلی اور اپنے مردوں کی قبر وںکو شمار کیا اور اس پر فخر و مباہات کیا . ایسا نہیںہے کہ گمان کرتے ہو ، دیکھو تمہیں عنقریب معلوم ہوجائے گا''۔ (٢)

نسب کی اہمیت جاہل عربوں کے درمیان کمال کا ایک اہم معیار، نسب ہوا کرتا تھا جو ان کی نظر میں بہت اہمیت رکھتا تھا یہاں تک کہ بہت ساری خوبیاں ''نسب'' کی بنا پر ہوا کرتی تھیں۔(٣)
قبائل عرب میں نسلی تفاخر بہت زیادہ پایا جاتا تھا جس کا واضح نمونہ وہ قومی رقابتیں ہیں جو عدنانیوں
______________________
(١) سید محمد حسین طباطبائی، تفسیر المیزان، ج٢٠، ص ٣٥٣؛ آلوسی،گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٢٧٩
(٢) سورۂ تکاثر، ١٠٢،آیت ٣۔ ١
(٣) مثلاً اس زمانہ کی رسم یہ تھی کہ اگر کسی کا باپ عرب اور ماں عجمی ہوتی تھی تو اس کو طعنہ اور تحقیر کرنے کے لئے ''ہجین'' کہتے تھے (جو نسب کی پستی اورناخالصی پر دلالت کرتا ہے) اور اگر کوئی اس کے برعکس ہوتا تھا تو اس کو ''مذَرّع''۔۔کہتے تھے۔ ھجین ارث سے محروم رہتا تھا (ابن عبد ربہ اندلسی، العقد الفرید، (بیروت: دار الکتاب العربی، ١٤٠٣ھ.ق)، ج٦، ص ١٢٩؛ ھجین مرد صرف اپنی جیسی عورتوں سے شادی کرنے کا حق رکھتا تھا (محمد بن حبیب المحبر، (بیروت: دار الآفاق الحدیدة)، ص ٣١٠؛ شہرستانی، الملل و النحلل، (قم: منشورات الرضی، ط٢) ص ٢٥٤. دور اسلام میں پیغمبر اسلام ۖ سے ھجین کے خون بہا کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے جواب میں فرمایا: اسلام کے ماننے والوں کے خون کی قیمت برابر ہے۔(ابن شہر آشوب، مناقب،( قم: المطبعة العلمیہ، ج١، ص ١١٣.
(شمالی عرب) اور قحطانیوں (جنوبی عرب) کے درمیان پائی جاتی تھیں۔(١)اسی بنا پر وہ لوگ اپنے نسب کی شناخت اور حفاظت کو اہمیت دیتے تھے۔
نعمان بن منذر کسریٰ کے جواب میں کہتا ہے: عرب کے علاوہ کوئی بھی امت، اپنے نسب سے واقف نہیں ہے اور اگر ان کے اجداد کے بارے میں پوجھا جائے تو اظہار لاعلمی کرتے ہیں لیکن ہر عرب اپنے آباء و اجداد کو پہچانتا ہے اورغیروں کو اپنے قبیلہ کا جزء نہیں مانتا اور خود دوسرے قبیلہ میں شامل نہیں ہوتا اور اپنے باپ کے علاوہ دوسروں سے منسوب نہیں ہوتا۔(٢)
لہٰذا تعجب کی بات نہیں ہے کہ علم ''نسب شناسی'' اس وقت ایک محدود علم تھا جس کی بڑی اہمیت تھی اور نسب دانوں کوایک خاص مقام حاصل تھا۔
آلوسی جوکہ عرب شناسی کے مسئلہ میں صاحب نظر ہے کہتا ہے: عرب کے جاہل اپنے نسب کی شناخت اور حفاظت کو بہت اہمیت دیتے ہیں کیونکہ یہ شناخت الفت و محبت کا ایک وسیلہ تھی وہ اور ان کے یہاں اس کی زیادہ ضرورت پڑتی تھی کیونکہ ان کے قبائل متفرق ہوتے تھے اور جنگ کی آگ مستقل ان کے درمیان شعلہ ور تھی اور لوٹ و مار ان کے درمیان رائج تھا۔ اور چونکہ وہ کسی قدرت کے ماتحت نہیں
______________________
(١)جواد علی، المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام، (بیروت: دار العلم للملائین، ١٩٦٨م)، ج١، ص ٤٩٣کے بعد؛ شوقی ضیف، تاریخ الادب العربی، العصر الجاہلی، ص ٥٥۔
(٢)آلوسی، گزشتہ حوالہ، ج١، ص١٤٩۔ زمانہ اسلام میں عمر بن خطاب نے اسی فکر سے متاثر ہوکر عراق کے نبطیوں سے جنھوں نے اپنا تعارف اپنے رہنے کی جگہ سے کیا تھا ، ناراضگی کا اظہار کیا اور کہا: اپنے نسب کو سیکھو اورعراق کے نبطویں کی طرح نہ بنو اس لئے کہ جب ان سے ان کے خاندان اور نسب کے بارے میں پوچھا جاتاہے تو جواب میں کہتے ہیں فلاں جگہ اور فلاں محل کا رہنے والا ہوں ۔ (ابن خلدون ، مقدمہ، تحقیق: خلیل شحادہ و سہیل زکار، نویں فصل، ص ١٦٢؛ ابن عبد ربہ اندلسی، گزشتہ حوالہ، ج٣، ص ٣١٢)۔
رہنا چاہتے تھے جو ان کی حمایت کرے لہٰذا وہ مجبور ہوکر اپنے نسب کی حفاظت کیا کرتے تھے تاکہ اپنے دشمن پر کامیاب ہوسکیں کیونکہ رشتہ داروں کی آپسی محبت، حمایت اور تعصب ایک دوسرے کے الفت اور تعاون کا باعث بنتی ہے اور رسوائی اور تفرقہ سے رکاوٹ کا باعث قرار پاتی ہے۔(١)
دین اسلام ہر طرح کی قومی برتری کا مخالف ہے اگر چہ قرآن کریم قریش اور عرب کے درمیان نازل ہوا تھا لیکن اس کے مخاطبین صرف قریش، عرب یا اس کے مانند دوسرے افراد نہیں ہیں بلکہ اس کے مخاطبین عوام الناس ہیں اور اس میں مسلمانوں او رمومنین کے فرائض بیان کئے گئے ہیں۔ قرآن کریم قومی فرق کو فطری جانتا ہے اور اس فرق کا فلسفہ بتاتا ہے کہ لوگ ایک دوسرے کو پہچانیں اور قومی اور نسلی فخر و مباہات کی مذمت کرتا ہے اور بزرگی کا معیار ''تقویٰ'' کوبتاتا ہے۔
اے لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے اور پھر تم میں شاخیں اور قبیلے قرار دیئے ہیں تاکہ آپس میں ایک دوسرے کو پہچان سکو بیشک تم میں خدا کے نزدیک زیادہ محترم وہی ہے جو زیادہ پرہیزگار ہے اور اللہ ہر شیٔ کا جاننے والا اور ہر بات سے باخبر ہے۔(٢)
پیغمبر اسلاۖم نے نسلی اور خاندانی فخر و مباہات کی شدت سے مخالفت کی ہے۔ جس کے چند نمونے یہ ہیں:
١۔ فتح مکہ کے موقع پر جب قریش کا اصلی قلعہ منہدم ہوگیا تو آپ نے فرمایا: اے لوگو! خداوند عالم نے نور اسلام کے ذریعہ، زمانۂ جاہلیت میں رائج فخر و مباہات کو ختم کردیا۔ آگاہ ہوجاؤ کہ تم نسل آدم سے ہو اور آدم خاک سے پیدا ہوئے ہیں۔ خدا کا بہترین بندہ وہ ہے جو متقی ہو کسی کے باپ کا عربی
______________________
(١) بلوغ الارب، ج٣، ص ١٨٢؛ اسی طرح رجوع کریں: المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام، ج١، ص٤٦٧۔ ٤٦٦۔
(٢) سورۂ حجرات،٤٩، آیت ١٣۔ حضرت امام صادق سے ایک روایت کے مطابق اور بعض تفسیروں کیبنیاد پر، مذکورہ آیت میں کلمۂ ''قبائل'' سے مراد عرب کے چھوٹے چھوٹے گروہ ہیں جن میں سے ہر ایک کو ''قبیلہ''کہا جاتا ہے اور ''شعوب'' سے مراد غیر عربی گروہ ہے۔ (طبرسی، مجمع البیان، تفسیر سورۂ حجرات، ذیل آیۂ ١٣)
ہونا فضیلت نہیں رکھتا ، یہ صرف زبانی بات ہے اور جس کا عمل اسے کسی مرتبہ پر نہ پہنچا سکے اس کا نسب و خاندان بھی اسے کسی مرتبہ پر نہیں پہنچا سکتا۔(١)
٢۔ حجة الوداع کے موقع پر ایک مفصل خطبہ کے دوران جو کہ اہم اور بنیادی مسائل پر مشتمل تھا آپ نے فرمایا: کوئی عربی، عجمی پر فضیلت نہیں رکھتا، صرف تقویٰ کے ذریعہ آدمی بزرگ اور محترم قرار پاتا ہے۔(٢)
٣۔ایک دن آپ نے قریش کے سلسلے میں گفتگو کے دوران، جناب سلمان کی باتوں کی تائید فرمائی اور قریش کے غلط طرز فکراور انکی نژاد پرستی کے مقابلہ میں روحانی کمالات پر تکیہ کرتے ہوئے فرمایا: اے گروہ قریش! ہر شخص کا دین ہی اس کا حسب و نسب ہے اور ہر کسی کا اخلاق و کردار ہی اس کی مردانگی ہے اور ہر ایک کی اساس اور بنیاد اس کی عقل و فہم اور دانائی ہے۔(٣)
______________________
(١) کلینی ، الروضة من الکافی، (تہران: دار الکتب الاسلامیہ، ط٢)، ص ٢٤٦؛ مجلسی، بحار الانوار، (تہران: دار الکتب اسلامی)، ج٢١، ص ١٣٧ ، اور ١٣٨، اور الفاظ میں تھوڑے سے اختلاف کے ساتھ، سیرہ ابن ہشام، ج٤، ص ٥٤، پر نقل ہوا ہے۔
(٢) حسن بن علی بن شعبہ، تحف العقول (قم: مؤسسة النشر الاسلامی، ط٣، ١٣٦٣)، ص ٣٤.
(٣) کلینی ، گزشتہ حوالہ، ص ١٨١۔



۴
قبائلی جنگیں تاریخ اسلام
دور جاہلیت سے وفات مرسل اعظم ۖ تک

قبائلی جنگیں اگر عرب کے درمیان کوئی قتل رونما ہوتا تھا تو اس کی ذمہ داری قاتل کے قریبی ترین افراد پر عائد ہوتی تھی اور چونکہ قاتل کا قبیلہ اس کی حمایت پر آمادہ اور کمر بستہ نظر آتا تھا ، لہٰذا انتقام کے لئے خون ریز جنگیں ہوتی تھیں. اور یہ جنگیں جو عام طور پر چھوٹی باتوں پر ہوتی تھیں کئی سالوں تک جاری رہتی تھیں جیسا کہ ''جنگ بسوس'' جو کہ دو قبیلوں بنی بکر اور بنی تغلب کے درمیان (یہ دونوں قبیلے ربیعہ سے تھے)
چھڑی چالیس سال تک جنگ جاری رہی اور اس جنگ کی وجہ یہ تھی کہ پہلے قبیلہ کا اونٹ جو کہ بسوس نامی خاتون کا تھا بنی تغلب کی چراگاہ میں چرنے کے لئے چلا گیا تو اسے ان لوگوں نے مار ڈالا۔(١)
اسی طرح سے'' داحس اور غبراء نامی'' دو خون ریزجنگ قیس بن زہیر (قبیلہ ٔ بنی قیس کا سردار) اور حذیفۂ ابن بدر (قبیلۂ بنی فزارہ کا سردار) کے درمیان ایک گھوڑ دوڑ کے سلسلہ میں رونما ہوئی اور مدتوں جاری رہی۔ داحس اور غبراء نامی دو گھوڑے تھے ایک قیس کا اور دوسرا حذیفہ کا تھا۔ قیس نے دعوا کیا کہ اس کا گھوڑا مسابقہ میں جیتا ہے اور حذیفہ نے دعوا کیا کہ اس کا گھوڑا مسابقہ میں بازی لے گیا ،اسی مختصر سی بات پر دونوں کے درمیان جنگ کی آگ بھڑک ا ٹھی اور بہت زیادہ قتل اور خونریزی رونما ہوئی۔(٢) اور اس طرح کے واقعات ''ایام العرب'' کے نام سے مشہورہوئے۔ اور اس کے بارے میں کتابیں لکھی گئیں۔البتہ کبھی چند اونٹ خون بہا کے طور پر دے کر مقتول کی دیت ادا کردی جاتی تھی۔ اور ہر قبیلہ کے بزرگ اس قسم کے مسائل کے لئے راہ حل تلاش کرتے اور اس کو قوم کے سامنے پیش کرتے تھے لیکن وہ اس کو قوم پر تھوپتے نہیں تھے۔ اور زیادہ تر قبائل ان تجاویز کو اس وقت قبول کرتے تھے جب طولانی جنگوں سے تھک اور ناامید ہوجاتے تھے تو ان تجاویز کو قبول کرلیتے تھے۔
اگر قاتل کا گروہ، خطاوار کو قصاص کے لئے مقتول کے سپرد کردیتا تو یہ جنگ رونما نہ ہوتی لیکن ان
______________________
(١) محمد احمد جادالمولی بک، علی محمد البجاوی و محمد ابو الفضل ابراہیم، ایام العرب فی الجاہلیة، (بیروت: دار احیاء التراث العربی)، ص ١٦٨۔ ١٤٢؛ رجوع کریں: ابن اثیر، الکامل فی التاریخ (بیروت: دار صادر، ١٣٩٩ھ.ق)، ج١، ص ٥٣٩۔ ٥٢٣۔
(٢)عبد الملک بن ہشام، سیرة النبی، تحقیق: مصطفی السقائ(اور دوسرے لوگ)، (قاہرہ: مطبعة مصطفی البابی الحلبی، ١٣٥٥ھ.ق)، ج١، ص٣٠٧؛ یاقوت حموی، معجم البلدان، قاہرہ: مطبعة السعادة، ط١، ١٣٢٣ھ.ق)، ج١، ص٢٦٨ لفظ (صاد) ۔ ابن اثیر اور جاد المولی بک دونوں قیس کا گھوڑا جانتے تھے۔(الکامل فی التاریخ، ج١، ص ٥٨٢۔ ٥٦٦؛ ایام العرب، ص ٢٧٧۔ ٢٤٦)۔
کی نظروں میں ایسا کرنا ان کی عزت و وقار کے خلاف تھا اسی بنا پر وہ اپنے لئے بہتر سمجھتے تھے کہ خطاکار کو خود سزا دیں۔ کیونکہ بادیہ نشینوں کی نگاہ میں عزت اور آبرو کی حفاظت سب سے زیادہ اہم تھی اور وہ اپنے تمام اعمال میں اس بات کا اظہار کیا کرتے تھے۔
ان کے درمیان جو قوانین اور دستورات رائج تھے وہ کم و بیش حجاز کے شہروں یعنی طائف، مکہ اور مدینہ میں بھی نافذ تھے۔ کیونکہ ان شہروں کے باشندے بھی اپنے سماج میں بادیہ نشینوں کی طرح مستقل اور آزاد رہتے تھے اور کسی کی پیروی نہیں کرتے تھے بادیہ نشینوں میں تعصب اور آبرو پرستی، بے حد اور مبالغہ آمیز تھی۔ لیکن مکہ میں کعبے کے احترام اور تجارتی مرکز ہونے کی بنا پر ایک حد تک متوسط تھی۔ (١)
قرآن کریم اس قسم کے تعصب اور انتقام کی مذمت کرتا ہے اور نصرت اور حمایت کا معیار، حق و عدالت کو قرار دیتا ہے اور تاکید فرماتا ہے کہ مسلمانوں کو چاہیئے کہ وہ عدالت کو شدت کے ساتھ قائم کریں اگرچہ یہ عدالت والدین اور رشتہ داروں کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔
''اے ایمان والو! عدل و انصاف کے ساتھ قیام کرو اور اللہ کے لئے گواہی دو چاہے اپنی ذات یا اپنے والدین اور اقرباء کے خلاف ہی کیوںنہ ہو۔ جس کے لئے گواہی دینا ہے وہ غنی ہو یا فقیر اللہ دونوں کی حمایت کا تم سے زیادہ سزاوار ہے لہٰذا خبردار! خواہشات کا اتباع نہ کرنا تاکہ انصاف نہ کرسکو اور اگر توڑ مروڑ سے کام لیا یا بالکل کنارہ کشی کرلی تو یاد رکھو کہ اللہ تمہارے اعمال سے خوب باخبر ہے''۔(٢)
______________________
(١) بروکلمان،گزشتہ حوالہ، ص٨.
(٢)سورۂ نسائ، ٤،آیت ١٢٥.

غارت گری اور آدم کشی بدو عرب اپنے قبیلہ کے علاوہ دوسروں سے دوستی اور محبت نہیں کرتے تھے ان کا دائرہ فکر اور فہم صرف اپنے قبیلہ تک محدود ہوتا تھا یہ لوگ اس قدر متعصب اور قبیلہ پرست ہوتے تھے کہ دنیا کی ساری چیزیں صرف اپنے لئے چاہتے تھے اور سب سے زیادہ اپنے اور اپنے رشتہ داروں کا فائدہ چاہتے تھے جیسا کہ ان میں سے کسی نے زمانۂ اسلام میں اپنی جاہلیت کی تہذیب سے متاثر ہوکر اس طرح سے دعا کی، اے خدا! مجھ پر اور محمد ۖ پر رحم فرما اور ہمارے علاوہ کسی پر رحم نہ کر۔(١)
ان میں صحرائی زندگی کی بنا پر جو محرومیت پائی جاتی تھی اس کی بنا پر وہ غارت گری کیا کرتے تھے کیونکہ ان کی سرزمین نعمتوں سے محروم تھی اور وہ اس کمی اور محرومیت کو لوٹ مار کے ذریعہ پورا کرتے تھے۔ رہزنی اور غارت گری کو نہ صرف یہ کہ برا فعل نہیں سمجھتے تھے بلکہ (جیسے آج کے دور میں ایک شہر یا صوبہ پر قبضہ کرلینے کو فخر سمجھتے ہیں) اپنے لئے باعث فخر اور شجاعت سمجھتے تھے۔(٢)
البتہ قبیلوں کے درمیان جو رقابت پائی جاتی تھی وہ بھی جنگ اور غارت کا سبب بنتی تھی اور زیادہ تر اختلافات اور جھگڑے، چراگاہوں پر قبضہ کرلینے کی بنا پر ہوتے تھے۔ اور کبھی قبیلہ کی سرداری کے انتخاب پر بھی رشتہ داروں کے درمیان جنگ و خونریزی ہوتی تھی۔ مثلاً اگر بڑا بھائی سرداری کے منصب پر فائز ہو اور مرجائے تو اس کے دوسرے بھائی اپنی عمر کے مطابق قبیلہ کی سرداری کے خواہاں رہتے تھے اور مرنے والی کی اولاد اپنے باپ کے مقام کی آروزمند ہوتی تھی۔ اسی بنا پر اکثر قبیلوں اور
______________________
(٢) اللہم ارحمنی و محمداً و لاترحم معنا احداً (صحیح بخاری، شرح و تحقیق: الشیخ قاسم الرفاعی، (بیروت: دار القلم)، ج٨، کتاب الادب، باب ٥٤٩، ح ٨٩٣، ص ٣٢٧، اور تھوڑے سے الفاظ کے اختلاف کے ساتھ: سنن ابی داؤد (بیروت: دارالفکر)، ج٤، کتاب الادب، باب ''من لیست لہ غیبة''، ص ٢٧١.)
(٣) گوسٹاولوبون، گزشتہ حوالہ، ص ٦٣.
رشتہ داروں کے درمیان جو کہ نسب اور محل سکونت کے لحاظ سے بہت قریب تھے، سخت اختلافات اور جھگڑے ہوتے تھے۔ شعراء بھی اپنے اشعار کے ذریعہ فتنہ کی آگ بھڑکایا کرتے تھے۔ وہ اشعار میں اپنے قبیلہ کے افتخارات کو بیان کرتے تھے اور دوسرے قبیلہ کے عیوب کو برملا کرتے تھے اور لوگوں کے ذہنوں میں گزشتہ باتوں کو تازہ کر کے ان کے دلوں میں کینہ اور لڑائی کا جذبہ پیدا کرتے تھے۔ اکثر و بیشتر ان کے درمیان لڑائیاں صرف معمولی اور چھوٹی بات پر ہوتی تھیں۔ جس وقت فتنہ کی آگ بھڑکتی تھی تو دونوں قبیلے ایک دوسرے کی جان کے پیاسے ہوجاتے تھے اور ایک دوسرے کو نابود کرنے کی فکرمیں لگ جاتے تھے۔(١)
وحشی گری اور تمدن سے دوری ان کی غارت گری کا ایک دوسرا سبب تھا۔ ابن خلدون کی نگاہ میں اس قوم کے لوگ وحشی تھے اور ان کے درمیان وحشی گری اس قدر پائی جاتی تھی کہ جیسے ان کے سرشت اور عادت میں رچ بس گئی ہو، مثال کے طور پر، کھانے کی دیگ بنانے کے لئے انھیں سنگ کی ضرورت پڑتی تھی تو وہ اس کی خاطر عمارتوں کو مسمار کردیتے تھے تاکہ کھانے کی دیگ ان پتھروں سے بنائیں یا محلوں اور بڑی عمارتوں کو اس بنا پر ویران کردیتے تھے تاکہ ا س کی لکڑی سے خیمہ بنائیں یا اس سے عمارتیں اور ستون خیمہ تیار کریں۔ غارت گری کی عادت ان میں اس قدر پائی جاتی تھی کہ جو بھی چیز وہ دوسروں کے ہاتھوں میں دیکھتے تھے اسے لوٹ لیا کرتے تھے۔ ان کی روزیاں نیزوں کے بل پر فراہم ہوتی تھیں دوسروں کا مال چوری کرنے سے کبھی باز نہیں آتے تھے بلکہ ان کی نظر اگرکسی کے مال و ثروت یا وسائل زندگی پر پڑتی تھی تو اسے وہ لوٹ لیا کرتے تھے۔(٢)
ان کی آمدنی کا ایک ذریعہ لوٹ اور غارت ہوا کرتا تھا جس وقت وہ کسی قبیلہ پر حملہ آور ہوتے تھے تو
______________________
(١) حسن ابراہیم حسن، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٣٨.
(٢) مقدمہ ترجمۂ محمد پروین گنابادی ، (تہران: مرکز انتشارات علمی و فرہنگی، ط٤، ١٣٦٢)، ج١، ص ٢٨٦۔ ٢٨٥.
ان کے اونٹوں کو لوٹ لیا کرتے تھے اور ان کی عورتوں اور بچوں کو قیدی بنالیا کرتے تھے۔
دوسرا قبیلہ بھی کمین گاہ میں بیٹھا اسی تاک میں لگا رہتا تھا اور اسے بھی جب موقع ملتا تھا یہی حرکت کربیٹھتا تھا۔ اور جب دوسروں سے دشمنی نہیں ہوتی تھی تو آپس میں ایک دوسرے سے لڑتے تھے۔ جیسا کہ قطامی (بنی امیہ کے پہلے دور کا) شاعر اپنے اشعار میں ا س بات کا تذکرہ کرتا ہے:
ہمارا کام پڑوسیوں اور دشمنوں پر ہجوم اور غارت گری تھا اور اگرہمیں کبھی کوئی نہ ملتا تو اپنے بھائی کا مال لوٹ لیا کرتے تھے۔(١)
اس زمانے میں جو جنگیں اوس اور خزرج نامی دو قبیلوںکے درمیان قصاص اور خونخواہی کی بنا پر شروع ہوئی تھیں وہ یثرب (مدینہ) میں اس قدر شدید اور زیادہ بڑھ گئی تھیں کہ کسی میں جرأت نہیں تھی کہ وہ اپنے علاقے یا جائے امن سے دور جائے ان لڑائیوں نے عرب کی زندگی کو مفلوج اور ان کی حالت کو پست کردیا تھا۔ قرآن مجید ان کی اس رقت بار حالت کو یاد دلاکر، اسلام کے سایہ میں جو ان کے درمیان بھائی چارگی قائم ہوئی اس کے بارے میں اس طرح سے ذکر کرتا ہے۔
''... اور اللہ کی نعمت کو یاد کرو کہ تم لوگ آپس میں دشمن تھے اس نے تمہارے دلوں میں الفت پیدا کردی تو تم اس کی نعمت سے بھائی بھائی بن گئے اور تم جہنم کے کنارے پر تھے تو اس نے تمہیںنجات دی اور اللہ اسی طرح اپنی آیتیں بیان کرتا ہے کہ شاید تم ہدایت یافتہ بن جاؤ''۔(٢)
___________________
(١) و احیاناً علی بکر اخینا٭اذا مالم نجد الا اخانا۔
احمد امین، گزشتہ حوالہ، ص٩؛ فیلیپ حتی، گزشتہ حوالہ، ص٣٥؛ حماسة ابی تمام حبیب اوس الطائی (کلکتہ: مطبع لیسی، ١٨٩٥ئ)،ص ٣٢.
(٢)سورۂ آل عمران،٣، آیت ١٠٣

حرام مہینے صرف حرام مہینوں (ذیقعدہ، ذی الحجہ، محرم اور رجب) میں جو کہ جناب ابراہیم اور جناب اسماعیل کی دیرینہ سنت کی یاد اوران کی بچی ہوئی تعلیمات میں سے تھی(١) ان مہینوں کے احترام میں عربوں کے درمیان، آپس میں جنگ بندی (مقدس صلح) کا قانون پایا جاتا تھا۔ اور ان کو موقع ملتا تھا کہ وہ کچھ دن سکون سے رہیں اور تجارت اور کعبہ کی زیارت کرسکیں(٢)اور ان مہینوں میں کوئی جنگ ہوجاتی تھی تو اس کو ''حرب الفجار'' (ناروا اور گناہ آلود جنگ) کہتے تھے۔(٣)

عرب کے سماج میں عورت جاہل عربوں میں جہالت اور خرافات کا ایک واضح نمونہ، عورت کے بارے میں ان کے مخصوص نظریات تھے۔ اس دور کے معاشرے میں عورت انسانیت کے معیار ،سماجی حقوق اور آزادی
______________________
(١) سید محمد حسین طباطبائی، تفسیر المیزان (بیروت: موسسہ الاعلمی للمطبوعات، ط ٢، ١٣٩١ھ.ق)، ج٩، ص ٢٧٢.
(٢) وہ لوگ مہینوں کے ناموں کو بدل کر کے حرام مہینوں کو پیچھے کردیتے تھے اور اپنے کو اس کے حد و حدود سے الگ کر کے حرام مہینے میں بھی جنگ و خونریزی کرتے تھے اسی مناسبت سے خداوند عالم نے فرمایا ہے: ( محترم مہینوں میں تقدیم و تاخیر، کفر میں ایک قسم کی زیادتی ہے۔ جس کے ذریعہ کفار کو گمراہ کیا جاتا ہے کہ وہ ایک سال اسے حلال بنالیتے ہیں اور دوسرے سال اسے حرام کردیتے ہیں تاکہ اتنی تعداد برابر ہو جائے جتنی خدا نے حرام کی ہے۔ اور حرام خدا حلال بھی ہو جائے ...)، (سورۂ توبہ، ٩،آیت ٣٧.)
(٣) ابن واضح، تاریخ یعقوبی، (نجف: المکتبة الحیدریہ، ١٣٨٤ھ.ق)، ج٢، ص١٢؛ شہرستانی، الملل و النحلل، (قم: منشورات الرضی، ط ٢)، ج٢، ص ٢٥٥.
سے بالکل محروم تھی۔ اور اس سماج میں گمراہی اور سماج کے وحشی پن کی بنا پر لڑکی اور عورت کا وجود باعث ذلت و رسوائی سمجھا جاتا تھا۔(١) وہ لڑکیوں کو میراث کے قابل نہیں سمجھتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ارث کے حقدار صرف وہ لوگ ہیں جو تلوار چلاتے ہیں اور اپنے قبیلہ کا دفاع کرتے ہیں۔(٢) ایک روایت کی بنا پر عرب میں عورت کی مثال اس مال جیسی تھی جو شوہر کے مرنے کے بعد (لڑکا نہ ہونے کی صورت میں) شوہر کے دوسرے اموال اور ثروت کی طرح سوتیلی اولاد کے پاس منتقل ہوجاتی تھی۔(٣)
واقعات گواہ ہیں کہ شوہر کے مرنے کے بعد اس کا بڑا لڑکا اگر اس عورت کو رکھنے کا خواہش مند ہوتا تھا (یعنی اپنی بیوی بنانا چاہتا تھا) تو اس کے اوپر ایک کپڑا ڈال دیتا تھا اور اس طریقہ سے میراث کے طور پر عورت اسے مل جایا کرتی تھی اس کے بعد اگر وہ چاہتا تھا تو اسے بغیر کسی مہر کے، صرف میراث ملنے کی بنا پر اس سے شادی کرلیتا تھا اور اگر اس سے شادی کا خواہش مند نہ ہوتا تو دوسروں سے اس کی شادی کردیتا تھا اور اس عورت کا مہر خود لے لیتا تھا۔ اور اس کے لئے یہ بھی ممکن تھا کہ اسے ہمیشہ کے لئے دوسرے مردوں سے شادی کرنے سے منع کردے، یہاں تک وہ مرجائے اور اس کے مال کا مالک بن جائے۔(٤)
______________________
(١) سید محمد حسین طباطبائی، تفسیر المیزان (قم: مطبوعاتی اسماعیلیان، ط٣، ١٣٩٣ھ.ق)، ج٢، ص٢٦٧۔
(٢) ابوالعباس المبرد، الکامل فی اللغة و الادب، مع حواشی: نعیم زرزور (اور) تغارید بیضون (بیروت: دار الکتب العلمیہ، ط١، ١٤٠٧ھ.ق)، ج١، ص ٣٩٣؛ محمد بن حبیب، المحبر (بیروت: دارالافاق الجدیدة)، ص ٣٢٤۔
(٣) کلینی، الفروع من الکافی، (تہران: دار الکتب الاسلامیہ، ط٢، ١٣٦٢)، ج٦، ص ٤٠٦.
(٤)طباطبائی، گزشتہ حوالہ، ج٤، ص ٢٥٨۔ ٢٥٤؛ سیوطی، الدرالمنثور فی التفسیر بالماثور، (قم: مکتبة آیة اللہ مرعشی نجفی، ١٤٠٤ھ.ق)، ج٢، تفسیر آیۂ ٢٢ سورۂ نسائ، ص ١٣٢۔ ١٣١؛ شہرستانی، الملل و النحل (قم: منشورات الرضی، ط٢)، ج٢، ص ٢٥٤؛ حسن، حسن، حقوق زن در اسلام و یورپ (ط٧، ١٣٥٧)، ص٣٤۔عرب اس شخص کو ''ضیزن'' کہتے تھے جو باپ کے مرنے کے بعد اس کی بیوی کو اپنی بیوی بنالیتا تھا۔ (محمد بن حبیب، المحبر ، ص ٣٢٥)، ابن قتیبہ دینوری نے اس قسمکی عورتوں کی تعداد کو ذکر کیا ہے، جنھوں نے شوہر کے مرنے کے بعد اپنے لڑکوں سے شادی کرلی تھی (المعارف، تحقیق: ثروة عکاشہ، قم: منشورات الرضی، ص ١١٢.)
چونکہ باپ کی بیوی سے شادی کرنا اس وقت قانوناً منع نہیں تھا۔ لہٰذا قرآن کریم نے ان کو اس کام سے منع کیا(١)۔ دور اسلام میں مفسرین کے کہنے کے مطابق ایک شخص جس کا نام ''ابو قبس بن اسلت'' تھا جب وہ مر گیا تو اس کے لڑکے نے چاہا کہ اپنے باپ کی بیوی کے ساتھ شادی کرے تو خدا کی جانب سے یہ آیت نازل ہوئی (لایَحِلُّ لَکُمْ اَن تَرِثُوْا النِّسَائَ...)،(٢) تمہارے لئے حلال نہیں ہے کہ تم عورت کو ارث میں لو۔
اس سماج میں متعدد شادیاں بغیر کسی رکاوٹ کے رائج تھیں۔(٣)

عورت کی زبوں حالی ( ٹریچڈی) یہ بات مشہور ہے کہ عربوں میں سب سے بری رسم یہ تھی کہ وہ لڑکیوں کو زندہ درگور کردیتے تھے۔ کیونکہ لڑکیاں ایسے سماج میں جو تہذیب اور تمدن سے دور، ظلم و بربریت میں غرق ہو، مردوں کی طرح لڑکر اپنے قبیلہ سے دفاع نہیں کرسکتی تھیں کیونکہ لڑنے کی صورت میں یہ ممکن تھا لڑکیاں دشمن کے ہاتھ لگ جائیں اور ان سے ایسی اولادیں پیدا ہوں جو باعث ننگ اور عار بنیںلہٰذا وہ لڑکیوں کو زندہ درگور کردیتے تھے(٤) اور کچھ لوگ مالی مشکلات کی خاطر، فقر و افلاس کے خوف
______________________
(١) ''ولاتنکحوا ما نکح آبائکم من النسائ''( سورۂ نسائ، ٤،آیت ٢٢.)
(٢) طباطبائی، گزشتہ حوالہ، ج٤، ص ٢٥٨؛ طبری، جامع البیان فی تفسیر القرآن (بیروت: دارالمعرفہ، ط ٢، ١٣٩٢ھ.ق)، ج٤، ص ٢٠٧؛ سورۂ نساء کی آیت نمبر ١٩ کی تفسیر کے ذیل میں۔
(٣) طباطبائی، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ٢٦٧۔
(٤) شیخ عباس قمی، سفینة البحار (تہران: کتابخانۂ سنایی، ج١)، ص ١٩٧ (کلمۂ جھل)؛ ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، تحقیق: محمد ابو الفضل ابراہیم (قاہرہ: دار احیاء العربیہ، ١٩٦١ئ)، ج١٣، ص ١٧٤؛ کلینی ، الاصول من الکافی، (تہران: دار الکتب الاسلامیہ)، ج٢، باب ''البر بالوالدین''، ح١٨، ص ١٦٣؛ قرطبی، تفسیر جامع الاحکام (بیروت: دار الفکر)، ج١٩، ص ٢٣٢۔
سے ایسا کرتے تھے۔(١)
مجموعی طور پر لڑکیاں اس سماج میں منحوس سمجھی جاتی تھیں قرآن کریم نے ان کی اس غلط فکر کو اس طرح سے نقل کیا ہے:
''اور جب ان میں سے کسی کو لڑکی کی بشارت دی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ پڑ جاتا ہے اور وہ خون کے گھونٹ پینے لگتا ہے، قوم سے منھ چھپاتا ہے کہ بہت بری خبر سنائی گئی ہے اب اس کو ذلت سمیت زندہ رکھے یا خاک میں ملادے، یقینا یہ لوگ بہت برا فیصلہ کر رہے ہیں''۔(٢)
عورت کو محروم اور دبانے کی باتیں اس زمانے کے عربی ادب اور آثار میں بہت زیادہ ملتی ہیں جیسا کہ ان کے درمیان یہ بات عام تھی کہ جس کے پاس لڑکی ہوتی تھی اس سے وہ لوگ کہتے تھے کہ ''خدا تم کو اس کی ذلت سے محفوظ رکھے اور اس کے اخراجات کو پورا کرے اور قبر کو داماد کا گھر بنادے۔(٣)
ایک عرب شاعر نے اس بارے میں کہا ہے:
جس باپ کے پاس لڑکی ہو اور وہ اس کو زندہ رکھنا چاہے تو اس کے لئے تین داماد ہیں: ١)ایک وہ گھر جس میں وہ رہتی ہے۔ ٢)دوسرے اس کا شوہر جو اس کی حفاظت کرتا ہے۔ ٣)اور تیسرے وہ قبر جو اس کو اپنے اندر چھپالیتی ہے۔ لیکن ان میں سب سے بہتر قبر ہے۔(٤)
______________________
(١) سورۂ انعام،٦، آیت ١٥١؛ سورۂ اسرائ،١٧، آیت ٣١؛ قرطبی، گزشتہ حوالہ، ص ٢٣٢۔
(٢) سورۂ نحل، ١٦،آیت ٥٩۔ ٥٨۔
(٣) آمنکم اللّٰہ عار ہا و کفاکم مؤنتہا، وصاہرتم القبر!
(٤) لکل اب بنت یرجی بقائہا
ثلاثة اصہار اذا ذکرو الصہر
فبیت یغطیہا و بعل یصونہا
و قبر یواریہا و خیرہم القبر!
(عائشہ عبد الرحمن بنت الشاطی، موسوعة آل النبی (بیروت: دار الکتاب العربیہ، ١٣٨٧ھ.ق، ص ٤٣٥.)
کہتے ہیں کہ ایک شخص جس کا نام ابوحمزہ تھا وہ صرف اس وجہ سے اپنی بیوی سے ناراض ہوگیا اور پڑوسی کے یہاں جاکر رہنے لگا کہ اس کے یہاں لڑکی پیدا ہوئی تھی۔ لہٰذا اس کی بیوی اپنی بچی کو لوری دیتے وقت یہ اشعار پڑھتی تھی۔
ابوحمزہ کو کیا ہوگیا ہے کہ جو ہمارے پاس نہیں آتا ہے اور پڑوسی کے گھر میں رہ رہا ہے وہ صرف اس بنا پر ناراض ہے کہ ہم نے لڑکا نہیں جنا! خدا کی قسم یہ کام میرے دائرۂ اختیار میں نہیں ہے جو بھی وہ ہم کو دیتا ہے ہم اسے لے لیتے ہیں۔ہم بمنزلۂ زمین ہیں کہ کھیت میں جو بویا جائے گا وہی اگے گا ۔ (١)
حقیقت میں اگر دیکھا جائے تو اس کی ماں کی باتیں اس سماج کے نظام کے خلاف ایک احتجاج ہیں اور ان کے درمیان عورت کی پائمالی کا ایک طرح سے اظہار ہے۔
سب سے پہلا قبیلہ جس نے اس غلط رسم کی بنیاد ڈالی، وہ قبیلۂ ''بنی تمیم'' تھا کہا جاتا ہے کہ اس قبیلہ نے نعمان بن منذر کو ٹیکس دینے سے انکار کردیا جس کی وجہ سے ان کے درمیان جنگ ہوئی جس میں بہت ساری لڑکیاں اور عورتیں اسیر کرلی گئیں جس وقت بنی تمیم کے نمائندے اسیروں کو چھڑانے کے لئے نعمان کے دربار میں حاضر ہوئے تو اس نے یہ اختیار خود ان عورتوں کو دیدیا کہ چاہیں تو حیرہ میں رہیں اور چاہیں تو بنی تمیم کے پاس چلی جائیں۔ قیس بن عاصم جو کہ قبیلہ کا سردار تھا اس کی لڑکی بھی اسیروں کے درمیان تھی اس نے ایک درباری سے شادی کرلی تھی لہٰذا اس نے دربار میں رکنے کا
______________________
(١) ما لابی حمزة لایأتینا
یظل فی البیت الذی یلینا
غضبان الا نلد البنینا
تاللہ ما ذالک فی ایدینا
وانما نأخذ ما أعطینا
و نحن کالارض لزارعینا
ننبت ما قدزرعوہ فینا
(جاحظ، البیان والتبیین، بیروت: داراحیاء التراث العربی، ١٩٦٨ئ، ج١، ص ١٢٨۔ ١٢٧؛ عایشہ بنت الشاطی، گزشتہ حوالہ، ص ٤٣٤۔ ٤٣٣؛ آلوسی، بلوغ الارب فی معرفة احوال العرب، ج٣، ص ٥١.
فیصلہ کرلیا، قیس اس بات سے سخت ناراض ہوا اور اس نے اسی وقت عہد کرلیا کہ اس کے بعد وہ اپنی لڑکیوں کو قتل کر ڈالے گا،(١) اور اس نے یہ کام انجام دیا۔ اس کے بعد آہستہ آہستہ یہ رسم دوسرے قبیلوں میں بھی رائج ہوگئی، کہا جاتا ہے کہ اس جرم اور جنایت میں قیس، اسد، ہذیل اور بکر بن وائل نامی قبیلے شامل تھے۔ (٢)
البتہ یہ رسم عام نہیں تھی کچھ قبیلے اور بڑی شخصیتیں اس کام کی مخالف تھیں، ان میں سے جناب عبد المطلب پیغمبر اسلاۖم کے جد تھے جو اس کام کے شدید مخالف تھے،(٣) اور کچھ لوگ جیسے زید بن عمرو بن نفیل اور صعصعہ بن ناجیہ، لڑکیوں کو ان کے باپ سے فقر کے خوف سے زندہ درگور کرتے وقت لے لیتے تھے اور ان کو اپنے پاس رکھتے تھے۔(٤) اور کبھی لڑکیوں کے عوض میں ان کے باپ کو اونٹ دیدیا کرتے تھے۔(٥) لیکن واقعات گواہ ہیں کہ یہ رسم عام طور پر رائج تھی، کیونکہ :
١۔صعصعہ بن ناجیہ نے زمانۂ اسلام میں پیغمبرۖ سے کہا تھا کہ میں نے دور جاہلیت میں ٢٨٠ لڑکیوں کو زندہ درگور ہونے سے بچایا ہے(٦)
______________________
(١)ابوالعباس المبرد، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٣٩٢؛ ابن ابی الحدید، گزشتہ حوالہ، ج١٣، ص ١٧٩۔
(٢) ابن ابی الحدید، گزشتہ حوالہ، ج١٣، ص ١٧٤۔
(٣) آلوسی، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٣٢٤؛ تاریخ یعقوبی، (بیروت: دار صادر)، ج٢، ص١٠
(٤) آلوسی، گزشتہ حوالہ، ج٣، ص ٤٥، ابن ہشام، السیرة النبویہ، تحقیق: مصطفی السقاء (اوردوسرے لوگ) (تہران: آفسٹ، مکتبة الصدر)، ج١، ص ٢٤٠۔
(٥) محمد ابوالفضل ابراہیم( اور ان کے معاونین)، قصص العرب (بیروت: دار احیاء التراث العربی، ط٤)، ج٢، ص٣١؛ ابوالعباس المبرد، گزشتہ حوالہ، ص ٢٩٤؛ فرزدق کے جد، صعصعہ، عصر اسلام کے شاعر تھے اور وہ اپنے جد کے اس فعل پر افتخار کرتے تھے اور کہتے تھے : و منا الذی منع الوائدات فأحیا الوئید فلم یوأد۔ (قرطبی، تفسیر جامع الاحکام، ج١٩، ص ٢٣٢)۔
(٦) ابوالعباس المبرد، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٣٩٤
٢۔قیس بن عاصم نے عہد کرنے کے بعد (جیسا کہ پہلے گزر چکا) اپنی ١٢ یا ١٣لڑکیوں کو قتل کیا۔(١)
٣۔پیغمبر اسلاۖم نے پہلے پیمان عقبہ میں (بعثت کے بارہویں سال) جو کہ یثربیوں کے ایک گروہ کے ساتھ کیا تھا،معاہدہ کی ایک شرط یہ قرار دی کہ لڑکیوں کو زندہ درگور نہ کریں۔(٢)
٤۔ فتح مکہ کے بعد پیغمبر اکرۖم نے خدا کے حکم سے اس شہر کی مسلم عورتوں سے بیعت لیتے وقت یہ شرط رکھی تھی کہ اپنی لڑکیوں کو قتل کرنے سے پرہیز کریں۔(٣)
٥۔قرآن کریم نے متعدد مقامات پر اس رسم کی شدید مذمت فرمائی ہے۔ لہٰذا ان واقعات سے پتہ چلتا ہے کہ یہ مسئلہ اس سماج کی سب سے بڑی مشکل تھی جس کے بارے میں قرآن کریم نے خبردار کیا ہے۔
١۔ اور خبردار! اپنی اولاد کو فاقہ کے خوف سے قتل نہ کرو کہ ہم انھیں بھی رزق دیتے ہیں اور تمھیں بھی رزق دیتے ہیں بیشک ان کا قتل کردینا بہت بڑا گناہ ہے۔(٤)
______________________
(١) ابن اثیر، اسد الغابہ (تہران: المکتبة الاسلامیہ، ١٣٣٦)، ج٤، ص ٢٢٠ (شرح حال قیس بن عاصم) منقول ہے کہ قیس عصر اسلام میں مسلمان ہوئے اور پیغمبر اسلام ۖ کی خدمت میں پہنچے اور عرض کیا: زمانۂ جاہلیت میں،میںنے اپنی آٹھ لڑکیوںکو زندہ درگور کردیاتھا اب اس فعل کا جبران کیسے کروں؟ آنحضرتۖ نے فرمایا کہ ان میں سے ہر ایک کے بدلے ایک غلام آزاد کرو ۔ اس نے کہا: میرے پاس بہت اونٹ ہیں ۔ تو آپۖ نے فرمایا: ان میں سے ہرایک کے بدلے اونٹ کی قربانی بھی کرسکتے ہو۔ (قرطبی، تفسیر جامع الاحکام، ج١٩، ص ٢٣٣.)
(٢) ابن ہشام ، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص٧٥.
(٣) ''یا ایہا النبی اذا جائک المؤمنات یبایعنک علی ان لا یشرکن باللہ شیئاً ولایسرقن و لایزنین و لا یقتلن اولادہن و لایأتین ببہتان یفترینہ بین ایدیہن و ارجلہن ولایعصینک فی معروف فبایعہن واستغفر لہن اللّٰہ ان اللّٰہ غفور رحیم۔'' (سورۂ ممتحنہ،٦٠،آیت ١٢.)
(٤) سورۂ اسرائ،١٧، '' ولا تقتلوا اولادکم خشیة املاق نحن نرزقہم وایاکم ان قتلہم کان خطأ کبیراً، آیت ٣١.
٢۔ اور اسی طرح ان شریکوںنے بہت سے مشرکین کے لئے اولاد کے قتل کو بھی آراستہ کردیا ہے تاکہ ان کو تباہ و برباد کردیں اوران پر دین کو مشتبہ کردیں۔(١)
٣۔ یقینا وہ لوگ خسارہ میں ہیں جنھوںنے حماقت میں بغیر جانے بوجھے اپنی اولاد کو قتل کردیا۔(٢)
٤۔ اپنی اولاد کوغربت کی بنا پر قتل نہ کرنا کہ ہم تمھیں بھی رزق دے رہے ہیں اورانھیں بھی۔(٣)
٥۔ اور جب زندہ درگور لڑکیوںکے بارے میں سوال کیا جائے گا کہ انھیں کس گناہ میں مارا گیا ہے۔(٤)
______________________
(١) سورۂ انعام، ٦، (وَکَذَلِکَ زَیَّنَ لِکَثِیرٍ مِنْ الْمُشْرِکِینَ قَتْلَ َوْلاَدِہِمْ شُرَکَاؤُہُمْ لِیُرْدُوہُمْ وَلِیَلْبِسُوا عَلَیْہِمْ دِینَہُمْ وَلَوْ شَائَ اﷲُ مَا فَعَلُوہُ فَذَرْہُمْ وَمَا یَفْتَرُونَ) آیت ١٣٧.
(٢) سورۂ انعام، ٦،( قَدْ خَسِرَ الَّذِینَ قَتَلُوا َوْلاَدَہُمْ سَفَہًا بِغَیْرِ عِلْمٍ )آیت ١٤٠.
(٣)سورہ انعام،٦،( وَلاَتَقْتُلُوا َوْلاَدَکُمْ مِنْ ِمْلاَقٍ نَحْنُ نَرْزُقُکُمْ وَِیَّاہُم )آیت ١٥١.
(٤) سورۂ تکویر، ٨١،( واذالمؤودة سئلت بای ذنب قتلت آیت ٩۔ ٨.


۵
دوسری فصل : عربوں کے صفات اور نفسیات تاریخ اسلام
دور جاہلیت سے وفات مرسل اعظم ۖ تک

دوسری فصل
عربوں کے صفات اور نفسیات

متضاد صفات بدو عرب میں وحشیانہ عادت اور لوٹ مار کے باوجود اچھی عادتیں ، جیسے عفو و کرم، مہمان نوازی، شجاعت اور دلیری بھی پائی جاتی تھی۔ خاص طور سے وہ اپنے وفائے عہد و پیمان کے شدید پابند تھے یہاں تک کہ اپنے عہد و پیمان کی خاطر اپنی جان کی بازی لگادیتے تھے۔ اور یہ ان کی سب سے نمایاں صفت شمار ہوتی تھی۔ ان کے اندر متضاد صفات کو دیکھ کر لوگ حیرت و استعجاب میں پڑ جاتے تھے۔ اور وہ ایسے دور دراز علاقہ میں زندگی بسر کرتے تھے جو دنیا میں کم نظیر تھا۔ اگر ان کے حالات زندگی ایسے نہ ہوتے تو اس بات کا سمجھنا بہت مشکل تھا۔ وہی لڑاکو عرب جو لوٹ مار کے پیاسے تھے جس وقت ان کے اندر انتقام کی آگ بھڑکتی تھی تو وہ بدترین جرائم کرنے سے بازنہیں آتے تھے۔ اپنے گھر میں بہت بڑے مہمان نواز، مہربان اور مونس تھے۔ اگر ایک کمزور اور بے چارہ، ان سے پناہ مانگتاتھا یا ایک ستمدیدہ (اگرچہ دشمن ہی کیوں نہ ہو) ان کی طرف دست نیاز دراز کرتا تھا یا اس کو اپنی پناہ گاہ سمجھتا تھا تو اس کے ساتھ اس طرح پیش آتے تھے کہ گویا وہ شخص، ان کے خاندان یا قبیلہ کا ایک فرد ہے. او رکبھی تو اس کادفاع کرنے میں اپنی جان کی بازی لگا دیتے تھے۔(١)
میدان جنگ میں شجاعت و دلیری عفو و درگزر، قبیلہ کے سامنے تسلیم اور ایسے ظالموںسے انتقام لینے میں ، جنھوں نے اس کے یا اس کے رشتہ داروں کے حقوق کو پائمال کردیا تھا بے رحمی کے ساتھ پیش آنا عرب کی شرافت اور فضیلت سمجھی جاتی تھی۔(٢)

عربوں کی اچھی صفتوں کی بنیاد جیسا کہ ہم بیان کرچکے ہیں کہ عربوں کے درمیان اگرچہ پانی اور چراگاہوںکے بارے میں رقابت اکثر کشمکش کا باعث بنتی تھی اور قبائل کوایک دوسرے کے ساتھ الجھا اور کشت و کشتار پر مجبور کردیتی تھی۔ لیکن دوسری طرف سے ان کے اندر کمزوری اور عاجزی کے احساس نے ہی ان کے مزاج کی سختی اور لجاجت کے مقابلہ میںاس فکر کو ہوا دی تھی کہ سبھی ایک مقدس رسم کے محتاج ہیں۔ اور ایسی سرزمین میں جہاں مہمان سرائیں اور مسافر خانے نہ ہوتے ہوں، مہمانوں کی ضیافت سے بچنا ان کے اخلاق اور عزت کے خلاف تھا۔ عہد جاہلیت کے شعراء ہمارے زمانے کے صحافیوں کا رتبہ رکھتے تھے۔ان کی بہادری اور دلیری کے ساتھ ان کی مہمان نوازی ، قوم عرب کی نمایاں فضیلت شمار کی جاتی تھی ۔ اور اس کے بارے میں وہ اشعار کہا کرتے تھے اور پڑھتے تھے۔(٣)
______________________
(١) ڈاکٹر گوسٹاولوبون، تمدن اسلام و عرب، ترجمہ: سید ہاشم حسینی، ص ٦٥۔ ٦٤؛ ویل ڈورانٹ، اس بارے میں لکھتا ہے: ''عرب کے بدو، مہربان بھی تھے اور خونخوار بھی، سخی بھی تھے اور کنجوس بھی، خیانت کار بھی تھے اورامین بھی، محتاط بھی تھے اور بہادر بھی ،اگرچہ فقیر تھے لیکن دنیا میں کرم و بزرگی سے پیش آتے تھے'' تاریخ تمدن، ترجمہ: ابوطالب صارمی (تہران: سازمان انتشارات و آموزش انقلاب اسلامی، ط ٢،)، ج٤، ص ٢٠١.
(٢) احمد امین، فجر الاسلام، (قاہرہ: مکتبة النہضة المصریہ، ط ٩، ١٩٦٤م)، ص ٧٦.
(٣) فلیپ حتی، تاریخ عرب، ترجمہ: ابوالقاسم پایندہ، (تہران: آگاہ، ط ٢، ١٣٦٦)، ص ٣٥۔ ٣٣.
لیکن یہ خیال رکھنا چاہیئے کہ ان کی بہت ساری اچھی خوبیاں جیسے شجاعت، مہمان نوازی، کرم اور پناہ گزینوں کی حمایت (جیسا کہ بعد میںاسلامی تعلیم اور کلچر میں یہ چیزیں ذکر ہوئی ہیں) روحانی اور انسانی اقدار سے نشأت نہیں پائی ہیں۔ بلکہ معاشرتی اسباب اور جاہلی کلچر جیسے قبیلوں کے درمیان فخر و مباہات کی بنا پر تھیں۔ کیونکہ ایسے ماحول میں جہاں پر نظم و امنیت نہ ہو، شجاعت اور دلیری ان کی زندگی کا لازمہ تھی۔ نام و نمود سے دلچسپی، منصب کی آرزو و تمنا، شعراء کی مذمت کا خوف، ذلت و رسوائی اور بدمزاجی وغیرہ نے عربوں کو جود و سخاوت، وفائے عہد، پناہ گزینوں کی حمایت اور اس طرح کی دوسری اچھائیوں پر اکسایا تھا۔ مہمان نوازی اور دلیری کی عادتیں ایسے ماحول میں کہ جہاں لوگ مال واولاداور جنگجوؤں کی کثرت تعداد پر فخر کیا کرتے تھے۔ ان کی سربلندی اور عزت کا وسیلہ بن گئی تھی اور یہ بات اس کے لئے واضح ہے جو تاریخ اسلام سے آگاہ ہے۔(١)
______________________
(١) رجوع کریں: جعفر مرتضی العاملی، الصحیح من سیرة النبی الاعظم، (قم: ١٤٠٢ھ.ق)، ج١، ص ٥٤۔ ٥٠.

جہالت اور خرافات حجاز کے عرب جو عموماً صحرا میں زندگی بسر کرتے تھے۔ تہذیب اور کلچر سے دور فکری جمود میںاس طرح سے گرفتار ہوگئے تھے کہ بہت سی چیزوں کے درمیان موجود نسبت کو نہیں سمجھ سکتے تھے۔ وہ چیزوں کی منطقی تحلیل اور تجزیہ نہیں کرسکتے تھے اور نہ ہی علت و معلول کے درمیان موجود رابطے کو پوری طرح سے سمجھ سکتے تھے۔ مثلاً اگر ایک شخص مریض ہوگیا اور تکلیف جھیل رہاہے تو ا سکے اطراف کے لوگ اس کے لئے دوا تجویز کرتے تھے اور وہ اس درد و درمان کے درمیان ایک طرح کا ربط سمجھتا تھا لیکن یہ فہم، دقیق اور تحلیلی نہیںہوا کرتی تھی۔ وہ صرف اتنا جانتا تھا کہ اس کے قبیلہ کے لوگ اس دوا کو فلاں درد میںاستعمال کرتے ہیں۔ بطور نمونہ وہ آسانی سے یہ بات مان لیتا تھا کہ قبیلہ کے سردار کا خو ن ہادی نامی
مسری بیماری ( جو عموماً کتے کے کاٹنے سے پیدا ہوتی ہے)کا علاج کرتاہے اسی طرح وہ یہ تصور کرتا تھا کہ بیماری کی وجہ، روح کی کثافت ہوا کرتی ہے جو بیمار کے اندر داخل ہوجاتی ہے اسی بنا پر یہ کوشش ہوا کرتی تھی کہ وہ روح، بیمار کے بدن سے نکل جائے، یا اگر کسی کے بارے میں پاگل ہو جانے کا خطرہ ہوتا تھا تواس کی گردن میں مردار کی ہڈی یا غلاظت مل دیا کرتے تھے تاکہ وہ جنون سے محفوظ رہ سکے۔ دیو کا عقیدہ بھی ان کے یہاں ملتاہے وہ معتقد تھے کہ بھیانک شکلیں رات کے وقت خالی مکانوں میں دکھائی پڑتی ہیں یا بیابانوں میں لوگوں کے راستے میں حائل ہوجاتی ہیں اور ان کو آزار و اذیت پہنچاتی ہیں۔
جس وقت وہ اپنے مویشیوں کو پانی پلانے کے لئے گھاٹ پر لے جاتے تھے تو اگر وہاں پر وہ پانی نہیں پیتے تھے تو یہ خیال کرتے تھے کہ ان کے سینگ کے درمیان ایک دیو بیٹھا ہے جو انھیں پانی نہیں پینے دیتا ہے لہٰذا وہ دیو کو بھگانے کے لئے ان مویشیوں کے سر او رمنھ پر ڈنڈے مارا کرتے تھے۔(١) اس قسم کی مضحکہ خیز حرکتیں ان کے درمیان بہت زیادہ رائج تھیں۔
وہ اس طرح کی حرکتوں کے بارے میں (جب کہ یہ حرکتیں ان کے قبیلہ کے اندر پائی جاتی ہوں) زرّہ برابر بھی شک و تردید نہیں کرتے تھے کیونکہ انکار اور تردید کی وجہ، دقت نظر، بیماری کی تحقیق کی صلاحیت، اسباب و عوارض اور ان کا علاج وغیرہ ہے جبکہ اس زمانہ میں عرب، جہالت میں زندگی بسر کر رہے تھے اور اس حد تک فہم و فراست ان کے اندر نہیں پائی جاتی تھی۔(٢)
البتہ کبھی جاہلیت کے اشعار یا اس زمانے کے محاورے یا ان کی داستانوں میں روشن فکری کے اشارے اور علت و معلول کے درمیان میں ارتباطات کی باتیں ملتی ہیں ۔ لیکن وہ بھی عمیق تفکر ،تشریح اور تجزیہ کے قابل نہیںہیں۔ اور چیزوںکے بارے میں تجزیہ کی صلاحیت کے نہ ہونے کا اصل راز
______________________
(١) محمود شاکری آلوسی، بلوغ الارب فی معرفة احوال العرب، تصحیح: محمد بہجة الاثری (قاہرہ: دار الکتب الحدیثہ ط٣)، ج٢، ص ٣٠٣.
(٢) جاہل عربوں کی خرافات کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کے لئے رجوع کریں: بلوغ الارب فی معرفة احوال العرب، ج٢، ص ٣٦٧۔ ٣٠٣؛ ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، (قاہرہ: دا راحیاء الکتب العربیہ)، ج١٩، ص ٤٢٩۔ ٣٨٢۔
ان کے درمیان موجود مختلف طرح کے موہومات اور خرافات تھے جنھیں وہ یقین کرتے تھے۔ اور اس طرح کے باور سے عرب اوراسلام کی تاریخی کتابیں پر ہیں۔(١)

علم و فن سے عربوں کی آگاہی بعض دانشوروں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی تھی کہ عربوں کے یہاں مختلف طرح کے علوم جیسے طب، ستارہ شناسی، قیافہ شناسی(٢) وغیرہ پائے جاتے تھے لیکن یہ دعوا مبالغہ آمیز ہے۔ عربوں کی آگاہی ان علوم و فنون سے ایک علم و فن کی حد تک منظم و مرتب شکل میں نہیں تھی بلکہ ایک سطحی اور بکھری ہوئی معلومات کی شکل میں تھی جوان کو حدس و گمان اور قبیلہ کے بڑے بوڑھے مرد اور عورتوں سے سن سنا کر حاصل ہوئی تھیں۔ لہٰذا اس طرح کی معلومات کو ''علم'' نہیں کہا جاسکتا ہے۔ مثلاً ستارہ شناسی کے سلسلے میںعربوں کی آگاہی صرف بعض ستاروں کے وقت طلوع اور غروب تک محدود تھی وہ بھی صرف اس بنا پر تھی کہ اس وسیع و عریض صحرا میں راستوں کی تلاش یا شب و روز کے اوقات کو معلوم کرسکیں۔ طب کے بارے میں ان کی آگاہی، ابن خلدون کے کہنے کے مطابق اس طرح سے تھی:
طب کے بارے میں معلومات عام طور سے بعض لوگوں میں مختصر اور محدود تجربات کی بنیاد پر تھی اور علم طب وراثتی طور پر قبیلہ کے بڑے بوڑھوںکے ذریعہ نسل در نسل منتقل ہوتے ہوئے ان کی اولاد تک پہنچ جاتا تھا۔ اور کبھی کبھار بعض مریض اس علاج کے ذریعہ ٹھیک بھی ہوجایا کرتے تھے۔ لیکن وہ معالجہ نہ طبی قانون کے مطابق ہوا کرتا تھا او رنہ ہی انسان کے مزاج او رفطرت کے مطابق۔(٢) حارث بن کلدہ کی طبابت بھی اسی طرح کی تھی۔
______________________
(١) آلوسی، گزشتہ حوالہ، ج٣، ص ١٨٢، ٢٦١۔ ٢٢٣ ؛ اور ٣٢٧.
(٢) مقدمہ، ترجمہ: محمد پروین گنابادی، (تہران: مرکز انشارات علمی و فرہنگی، ١٣٦٢، ط ٤)، ج٢) ص ١٠٣٤۔

امی لوگ اہل حجاز قرآن کریم کی تعبیر کے مطابق ''امی'' یعنی نومولود بچہ کے مانند ہمیشہ جاہل اور ان پڑھ ہوا کرتے تھے ۔اور لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے۔
بلاذری اس بارے میں لکھتا ہے:
ظہور اسلام کے وقت صرف ١٧ افراد قریش میںاو ریثرب (مدینہ) میں دو بڑے قبیلے اوس اورخزرج کے درمیان ١١، افراد لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔(١)
جبکہ قریش مکہ میں ایک خاص مقام او ردرجہ رکھتے تھے او رتجارت کے پیشہ میں لکھنے پڑھنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ اس وجہ سے یہ کیسے باور کیا جاسکتاہے کہ وہ قوم جوا س حد تک جہالت اور نادانی میں ڈوبی ہواس کے پاس اس قسم کے علوم ہوں جس کا بعض دانشوروں نے دعوی کیا ہے؟!

شعر عہد جاہلیت کے عربوں میں صرف ایک اہم خوبی پائی جاتی تھی کہ وہ شعر او رخطابت میں مہارت رکھتے تھے ان کے یہاں، شاعر ایک مورخ، ماہر نساب، ھجاگر، عالم اخلاق، صحافی، پیشین گوئی کرنے والا اور جنگ کا وسیلہ سمجھا جاتا تھا۔(٢) اس زمانے میں عرب کے بڑے شعراء کی موسمی بازاروں میں جیسے عکاظ، ذی المجاز اور مجنہ(٣) میں تجارتی اور ادبی آثار کی موسمی اور عمومی نمائشیں لگتی تھیں جس میں
______________________
(١) فتوح البلدان، (قم: منشورات مکبتة الارمیہ، ١٤٠٤ھ.ق)، ص ٤٥٩۔ ٤٥٧.
(٢) ویل ڈورانٹ، تاریخ تمدن، ج٤، عصر ایمان (بخش اول)، ترجمہ ابوطالب صارمی (تہران: سازمان انتشارات و آموزش انقلاب اسلامی ط٢)، ص ٢٠٢.
(٣) اس بازار کے بارے میں رجوع کریں : بلوغ الارب، ج٢، ص ٢٧٠۔ ٢٦٤
شعراء اپنے عمدہ اشعار او رقصیدوں کو پیش کیا کرتے تھے اور اس میں سے جس کے اشعار منتخب ہوتے تھے وہ اور اس کے قبیلہ والے اسے اپنے لئے باعث فخر و عزت سمجھتے تھے اور اس کے اشعار کو اہمیت او راعزاز کے طور پر خانہ کعبہ کی دیوار پر لٹکادیا جاتا تھا ''معلقات سبعہ'' سات بہترین، فصیح و بلیغ اور عمدہ قصیدے سات عظیم شاعر کے تھے جس کی مثال اور نظیر اس زمانہ میں نہیں ملتی تھی۔ لہٰذا انھیں دیوار کعبہ پر لٹکادیاگیاتھا۔(١)اور اسی وجہ سے انھیں معلقات سبعہ(سات عددلٹکے ہوئے قصیدے) بھی کہا جاتا تھا۔
عرب کے اشعار اپنے تمام تر لفظی حسن کے باوجود تہذیب و ثقافت کے نہ ہونے کی بنا پربلندی فکر سے خالی ہوا کرتے تھے۔ اس زمانہ کے اشعار کے عناوین، زیادہ تر عشق، شراب، عورت، جنگ اور قومی مسائل ہوا کرتے تھے۔ او راس میں لفظی جذابیت او رادبی نزاکتیں پائی جاتی تھیں۔
______________________
(١) رجوع کریں: معلقات سبع، ترجمہ: عبد المحمد آیتی، تہران: سازمان انتشارات اشرفی، ط٢، ١٣٥٧)



۶
عرب اور ان کے پڑوسیوں کی تہذیب تاریخ اسلام
دور جاہلیت سے وفات مرسل اعظم ۖ تک

عرب اور ان کے پڑوسیوں کی تہذیب علم و ہنر کے لحاظ سے عرب کے حالات کا تجزیہ کرنے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا عرب کے جاہل اس زمانہ کے دو متمدن پڑوسی ملک یعنی ایران اور روم کے ساتھ تجارتی روابط اور مبادلہ کی بنا پر وہاں کے تمدن سے بہرہ مند تھے؟ او رکیا یہ روابط اور تعلقات ان کی زندگی میں ا نقلاب کا باعث بنے تھے؟
اس سوال کا جواب دینے کے لئے ہمیں یہ یاد دہانی کرانی چاہیئے کہ حجاز کے لوگ اس علاقے کی قدرتی اور جغرافیائی صورت حال کے لحاظ سے نہ صرف سیاسی اعتبار سے اس زمانے کی حکومتوںکے اثر و رسوخ سے دور تھے بلکہ تہذیب و ثقافت کے لحاظ سے بھی ان کے دائرہ نفوذ سے خارج رہے ہیں عربوں کے لئے پڑوسی ملکوںکی تہذیب اور کلچر سے متاثر ہونے کے صرف تین راستے تھے:
١۔ تجارت ٢۔ ایران و روم کے زیر نفوذ حکومتیں (حیرہ او رغسان) ٣۔ اہل کتاب (یہودی اور عیسائی)لیکن ہمیں یہ دیکھنا چاہیئے کہ یہ اثرات کس حد تک تھے۔ اس سلسلہ میں بعض مورخین کے
تاثرات مبالغہ آرائی سے خالی نہیں ہیں، جیسا کہ بعض نے کہا ہے:
قبائل عرب کے تعلقات ایران اور روم کے ساتھ ہونے کی بنا پر ایک حد تک وہ ان دونوں ملکوںکے کلچر اور تہذیب سے واقف ہوگئے تھے۔ عرب کے لوگ جب بھی تجارت کے لئے ایران اور روم جایا کرتے تھے تو ان دونوں ملکوں میں تہذیب اور کلچر کے نمونہ دیکھتے تھے۔ اور متوجہ ہوتے تھے کہ ایرانیوں اوررومیوں کی زندگی، عربوں کی زندگی سے کتنا فرق کرتی ہے۔ جیسا کہ ان کے آثار کو واضح طور پر زمانۂ جاہلیت کے اشعار میں دیکھا جاسکتا ہے اس کے علاوہ مسافر اور تاجر حضرات بہت سارے الفاظ اور قصوں کو ایران او روم کی سرزمین سے عربوں کے لئے تحفہ کے طور پر لیجاتے تھے اور اس کے ضمن میں ایرانیوں اور رومیوں کے بعض عقائد اور افکار بھی ان تک پہنچ جاتے تھے۔(١)
لیکن یہ خیال رہے کہ ان دونوں ملکوںمیں حجاز کے تاجروںکی آمد و رفت بہت زیادہ ہونے کے باوجود ان کے تمدن اور فکری ارتقاء میں مؤثر نہیںبن ہوسکی کیونکہ ان تمدنوںکی روشنی بہت ہی تنگ راہ گزر سے پہنچتی تھی او رکبھی تودوسروں سے منقول باتوں میں تحریف پائی جاتی تھی ۔ جیسا کہ بعض واقعات جوایرانیوںاو ررومیوں کے سلسلے میں نقل کئے گئے ہیںان میں تحریف پائی گئی ہے درحقیقت اس زمانہ کے عرب، علم و دانش کو اپنے پڑوسیوں سے حاصل نہیں کیا کرتے تھے کیونکہ اس سلسلے میں ان کے لئے رکاوٹیں درپیش تھیں کہ جن میں سے کچھ یہ ہیں:
١۔ قدرتی رکاوٹ: جیسے پہاڑ، سمندر، صحراء وغیرہ جس کی بنا پر پڑوسیوں سے عربوں کے رابطے دشوار او رمشکل ہوگئے تھے۔
٢۔ عربوں کی اجتماعی زندگی اور عقلی و فکری سطح: اس زمانے کے ایرانیوں اور رومیوں سے
______________________
(١) حسن ابراہیمی، تاریخ سیاسی اسلام ، ترجمہ: ابوالقاسم پایندہ(تہران: سازمان انتشارات جاویدان، ط ٥، ١٣٦٢)، ج١، ص ٣٤.
بہت فاصلہ رکھتی تھی جبکہ دوسری قوموں کے تمدن کو اپنانا ثقافتی نزدیکی کی صورت میں ممکن تھا۔
٣۔ عربوںکے درمیان جہالت: یہ چیز سبب بنی کہ جو لوگ رومیوں اور ایرانیوں سے رابطہ رکھتے تھے ان کے درمیان بعض حکمت آمیز باتیں یا داستانیںاور محاورات یا تاریخی واقعات اس انداز سے نقل ہوں کہ ناقل آسانی سے اس کو اپنے دل و دماغ میں محفوظ کر سکے اور بدو عرب یا دوسرے لوگ اس کو سمجھ سکیں اس وجہ سے ان کے درمیان رابطہ سطحی حد تک تھا اور وہ دقیق او رعمیق آگاہی سے بے خبر تھے۔
لہٰذا یہ نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ پڑوسی ملکوں سے عربوں کے تعلقات صرف ان کی مادی اور ادبی زندگی میں مؤثر واقع ہوئے ہیں۔(١)
یہودیوں کی موجودگی کے اثرات کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہودی حضرت موسیٰ کے زمانے سے اوراس کے بعد رومیوں کے مظالم، خاص طور سے یروشلم کی تباہی و بربادی کے بعد حجاز کی طرف ہجرت کرگئے۔(٢) حجاز میں یہودیوں کی آمد سے اس علاقہ کی زندگی کے حالات میں کافی تبدیلی آئی۔ اور توریت اور تلمود کی داستانیں بھی عربوں میں منتقل ہوگئیں۔(٣)
ایسی دستاویزات سامنے آئی ہیں جن سے پتہ چلا ہے کہ عربوں کے مقابلہ میں یہودیوں کی فکری اور مذہبی سطح بلند تھی. ظہور اسلام کے بعد بھی وہ بعض مسلمانوں سے اپنے مذہبی سوالات پوچھتے تھے۔(٤) لیکن چونکہ دین یہود (عیسائیوں کے دین کی طرح) بری طرح سے تحریف کا شکار ہوگیاتھا،لہٰذا عرب، جو افکار یہودیوں سے لیتے تھے وہ بیہودہ اور مسخ شدہ ہوا کرتے تھے یہودیوں کی تعلیم نہ صرف یہ کہ ان کے لئے راہ گشا نہ تھی بلکہ ان کی گمراہی میں اضافہ کا باعث تھی۔
______________________
(١) رجوع کریں: فجر الاسلام، ص ٢٩.
(٢) یہودی عام طور سے مدینہ میں خیبر ، فدک، او رتیماء میں رہتے تھے او رکچھ طائف میں بھی تھے لیکن کوئی ایسی نشانی نہیں ملتی جس سے پتہ چلے کہ مکہ میں بھی یہودی رہا کرتے تھے۔
(٣) جرجی زیدان، تاریخ تمدن اسلام، ترجمہ: علی جواہر کلام (تہران: امیر کبیر ١٣٣٣)، ج١، ص ١٦، تلخیص کے ساتھ)
(٤) صحیح بخاری، دار مطابع الشعب، ج٩، ص ١٣٦، کتاب الاعتصام بالکتاب و السنہ.

ایران اور روم کے مقابلہ میںعربوں کی کمزوری اور پستی جیسا کہ ہم عرض کرچکے ہیں کہ حجاز کے لوگ ایک دوسرے سے کافی فاصلے پر ایک قبیلہ کی شکل میں زندگی بسر کرتے تھے اور زیادہ تر بادیہ نشین ہوا کرتے تھے، ان کے درمیان ایک مرکزی حکومت نہیں تھی جوان کو منظم کرسکے ۔ وہ ہمیشہ لڑائی جھگڑا اور قبائلی جنگوں میں الجھے رہا کرتے تھے۔ اسی وجہ سے وہ ذلیل اور کمزور تھے اور اس زمانہ میں دوسری قوموںکے نزدیک ہرگز عزت نہیں رکھتے تھے اور جیسا کہ یہ قوم، قبیلہ اور خاندان کے دائرہ میں محصور تھی اور خیموں کی محدود فضا، اور اونٹوں کے چرانے سے تعصب، محرومیت اور بے نظمی کا شکار تھے۔ لہٰذا وہ ہرگز اپنے ملک اورجزیرة العرب کے حدود سے باہر نکل کر نہیں سوچتے تھے۔ او رنہ صرف ان کے ذہنوں سے پڑوسی ملکوں پر فتح و کامرانی کا تصور ختم ہوگیا تھا بلکہ اس زمانہ کی قدرتمند طاقتوں، یعنی روم اور ایران کے سامنے بری طرح سے کمزوری اور حقارت کا احساس کرنے لگے تھے جیسا کہ ایک شخص جس کا نام قتادہ تھا جو کہ خود ایک عرب تھا اس زمانے کی عرب قوم کو حقیر و ذلیل، پست و گمراہ اور گرسنہ ترین قوم تصور کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ''وہ لوگ دوشیروں یعنی بڑی طاقتوں ایران او رروم کے درمیان پھنسے ہوئے تھے اوران سے ڈرتے تھے۔(١)
اس بات کی شہادت اس طرح سے دی گئی ہے کہ پیغمبر اسلامۖ نے مکہ میںاپنی دعوت کے زمانے میں ایک دن عرب کے کچھ بزرگوں سے گفتگو کی اوران کو اسلام کی طرف دعوت دی اور قرآن مجید کی چند آیات جو فطری اور اخلاقی تعلیمات پر مشتمل تھیں ان کے سامنے پڑھیں تو وہ سب کے سب متأثر ہوگئے، ہر ایک نے اپنے طور سے تعریف کی لیکن ان کے بزرگ مثنی بن حارثہ نے کہا:
______________________
(١) طبری، جامع البیان فی تفسیر القرآن، (بیروت: دار المعرفہ، ط٢، ١٣٩٢ھ.ق)، ج٤، ص٢٥ (تفسیر آیۂ... و کنتم علی شفاحفرة من النار...) زاہیة قد ورة ،الشعوبیة ، و اثرہ الاساسی،الاجتماعی فی الحیاة الاسلامیة فی عصر العباسی الاول. (بیروت: دار الکتاب اللبنانی، ط١، ١٩٧٢ئ)، ص٣٤؛ احمد امین، ضحی الاسلام، (قاہرہ: مکتبة النہضہ، ط٧)، ج١، ص١٨.
ہم دو پانی کے درمیان گھرے ہوئے ہیں ایک طرف سے عرب کا پانی اور ساحل اور دوسری جانب سے ایران اور کسریٰ کی نہروں کا پانی، کسریٰ ہم سے عہد و پیمان باندھ چکا ہے کہ کوئی حادثہ نہیں رونما ہونے دیں گے او رکبھی خطا وار کو پناہ نہیں دیں گے۔ شاید تمہارے آئین کو قبول کرنا، شہنشاہوں کی خوشی کا باعث قرار نہ پائے اگر اس سرزمین پر ہم سے کوئی خطا سرزد ہو تو قابل چشم پوشی ہے لیکن ایسی خطائیں ایران کے علاقہ میں (کسریٰ کی طرف سے) قابل بخشش نہیںہیں۔(٢)
______________________
(٢) محمد ابوالفضل ابراہیم ( اور ان کے معاونین)، قصص العرب (بیروت: دار احیاء التراث العربی، ١٣٨٢ھ.ق)، ج٢، ص ٣٥٨؛ ابن کثیر، البدایہ والنہایہ، (بیروت: مکتبة المعارف، ط٢، ج٣، ص ١٤٤۔

موہوم افتخار مورخین، عربوں کے احساس حقارت کے متعلق لکھتے ہیں کہ ایک سال قبیلہ بنی تمیم، خشک سالی میں گرفتار ہوگیا اور کسریٰ نے ان کو اجازت نہیں دی کہ عراق کے سرسبز و شاداب او رزرخیز علاقہ سے فائدہ اٹھائیں۔ یہاں تک کہ ان کے بزرگوں میں سے ایک شخص جس کا نام حاجب ابن زرارہ تھا اس قبیلہ کی نمائندگی میں کسریٰ کے دربار میں گیا اور اس سے مدد مانگی کسریٰ نے کہا: ''تم عرب لوگ خیانت کار ہو، اگر اس بارے میں تم کو اجازت دیدوں تو تم بلوا اور فتنہ برپا کردو گے۔ لوگوں کو میرے خلاف ورغلاؤ گے اور مجھے رنجیدہ اور ملول کروگے۔ حاجب نے کہا: میں ضمانت لیتا ہوں کہ اس قسم کی بات پیش نہیں آئے گی۔ کسریٰ نے پوچھا: کیا ضمانت رکھتے ہو؟'' اس نے کہا:اپنی کمان تمہارے پاس گروی رکھ دیتا ہوں۔ کسریٰ نے قبول کرلیا اور حاجب نے اپنی کمان (جو کہ شجاعت و دلیری کا نمونہ اور بہادری کی علامت سمجھی جاتی تھی) کسریٰ کے پاس گروی رکھ دی اور اس طرح سے کسریٰ کی موافقت حاصل کرلی۔ حاجب کے مرنے کے بعد اس کے لڑکے عطارد نے باپ کی کمان کسریٰ
سے واپس لے لی۔(١)
اس واقعہ کے بعد ایک زمانہ تک قبیلۂ بنی تمیم اس طرح کے اغوا شدہ افراد کو کسریٰ کی جانب سے قبول کرنے کو اپنے لئے بہت بڑا فخر سمجھتے تھے۔(٢) دوسری جانب سے چونکہ قبیلۂ ''بنی شیبان، عجلیوں اوریشکریوں'' کی مدد سے جنگ ''ذی قار'' میں خسرو پرویز پر فتح پاگیا تھا۔(٣)لہذا اس کامیابی کو بے انتہا اپنی عزت و سربلندی کا باعث سمجھتا تھا اوراس کے باوجود کہ وہ جیت گئے تھے۔
پھر بھی اس پر ان کو یقین نہیں آتا تھا اور ہر وقت اس کے بار ے میں فکر مند اور خوف زدہ رہتے تھے۔ اور ان کے اندر اتنی جرأت نہیں تھی کہ اس کامیابی اور فتح کو عربوں کی عجم پر کامیابی کہہ سکیں ۔ بلکہ اس کوایک اتفاقی حادثہ (نہ کہ عربوںکا افتخار) او رجنگ میں درگیر تین قبیلوں کا افتخار سمجھتے تھے۔ اس کامیابی کی بنا پر ان کی خود ستائی اس حد تک بڑھ گئی کہ ابو تمام(٤) شاعر نے قبیلۂ بنی تمیم کے مقابلہ میں
______________________
(١) آلوسی، بلوغ الارب، ج١، ص ٣١٣۔ ٣١١؛ محمد بن عبد ربہ، العقد الفرید (بیروت: دار الکتاب العربی، ١٤٠٣ھ.ق)، ج٢، ص٢٠؛ ابن قتیبہ، المعارف، تحقیق: ثروة عکاشہ (قم: منشورات الرضی)، ص ٦٠٨۔
(٢)احمد امین، ضحی الاسلام، ج١، ص١٩۔
(٣) اس جنگ کی ابتدا اس طرح سے ہوئی کہ خسرو پرویز حرہ کے حاکم نعمان بن منذر کی لڑکی کے ساتھ شادی کرنا چاہتا تھا لیکن نعمان نے اس کی مخالفت کی لہٰذا کسریٰ کی جانب سے اسے دربار میں بلاکر قید میں ڈال دیا گیااور قیدخانہ میں ہی وہ مرگیا اس وقت خسروپرویز نے ہانی بن مسعود شیبانی سے کہا کہ نعمان کے مال و دولت کو جواس کے پا س ہے اسے دیدے۔ اس نے دینے سے انکار کیا جس کے نتیجے میں کسریٰ نے اپنے سپاہیوں کو بنی شیبان (جو کہ بکر بن وائل کا ایک خاندان تھا) سے جنگ کرنے کے لئے بھیجا اور اس جنگ میں ایران کی فوج ہار گئی (ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، بیروت: دار اصادر ١٣٩٩ھ.ق، ج١، ص ٤٨٩۔ ٤٨٥، رجوع کریں مقدسی، البدء والتاریخ (پیریس: ١٩٠٣م)، ج٣، ص ٢٦.
(٤) ابو تمام حبیب بن اوس طائی۔
(جو کہ ایک دن حاجب کی کمان کسریٰ کے پاس رکھنے کو افتخار سمجھتے تھے ) ابودلف عجلی(١)کی مدح میںاس طرح کے اشعار کہے:
اگر ایک دن تمیم اپنی کمان پر افتخار کرتے تھے اور اس کو اپنی عزت و شرف اور سربلندی کا باعث سمجھتے تھے تو تمہاری تلوروں نے جنگ ذی قار میں ایسے لوگوںکے تخت حکومت کو جو کہ کمان حاجب کو گروی رکھے ہوئے تھے، درہم و برہم کردیا۔(٢)
______________________
(١) ابودلف قاسم بن عیسی عجلی۔
(٢) اذا افتخرت یوماً تمیم بقوسہا
و زادت علی ما وطدت من مناقب
فانتم بذی قار، امالت سیوفکم
عروش الذین استرہنوا قوس حاجب

دور جاہلیت ہم نے جزیرة العرب اور وہاں کے لوگوں کی بحث میں ظہور اسلام سے قبل کے دور کو، عصر جاہلیت، اوروہاں کے باشندوں کو، ''جاہل عرب'' کے نام سے یاد کیا ہے۔ یہاں پر یہ بیان کرتا چلوں کہ ایسے شواہد موجود ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ ''عصر جاہلیت'' کی اصطلاح ظہور اسلام کے بعد(قرآن کے الہام کے ذریعہ) اسلام سے قبل زمانہ کے بارے میں مسلمانوں کے درمیان استعمال ہوتی تھی۔اور ایک خاص مفہوم رکھتی تھی۔(٣) کچھ معاصر مورخین نے اس دور کا تخمینہ ١٥٠ سال سے ٢٠٠ سال قبل از بعثت پیغمبر اسلامۖ لگایا ہے۔(٤)
احمد امین، ضحی الاسلام، ج١، ص ١٩؛ مسعودی، التنبیہ او الاشراف، تصحیح: عبداللہ اسماعیل الصاوی (قم: مؤسسة نشر منابع الثقافیہ الاسلامیہ)، ص٢٠٩؛ جلال الدین ھمایی، شعوبیہ (اصفہان: کتابفروشی صائب، ٢٣٦٣)، ص ١٢۔ ١١
(٣)جواد علی، المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام (بیروت: دار العلم للملایین، ط١، ص ٤٢۔ ٤١۔
(٤) عمر فروخ، تاریخ صدر الاسلام و الدولة لامویہ (بیروت: دار العلم للملایین، ط٣، ١٩٧٦ئ)، ص٤٠۔
اگر چہ لفظ جاہلیت ''جہل'' سے نکلا ہے لیکن جہل یہاں پر علم کے مقابلہ میںنہیں ہے بلکہ عقل اور منطق کے مقابل میں ہے۔(١) یہ صحیح ہے کہ اس زمانے میں جزیرة العرب کے لوگ (اس تشریح کی بنا پر جو دی گئی ہے) پڑھے لکھے نہیںتھے۔ اورعلم و دانش سے بے بہرہ تھے او راس زمانے کو ''عصر جاہلیت'' کہا جاتا تھا۔ نہ صرف یہ کہ جہالت کی بنا پر بلکہ غلط فکر اور عقل و منطق سے دور، بے بنیاد رسم و رواج، برے صفات، جیسے کینہ توزی، خود پسندی، فخر فروشی، اندھے تعصب کی بنا پر اسلام نے سختی کے ساتھ ان سے مقابلہ کیا ۔(٢)
شاید کہا جاسکتا ہے کہ یہاں پر جہل کا مفہوم ''نافہمی'' کے مانند ہے۔ جس کا لازمہ جہالت نہیںہے بلکہ کج فکری، کم عقلی اور ہلکے دماغ کے افراد کو بھی جاہل کہہ سکتے ہیں۔(٣)
قرآن کریم میں متعدد مقامات پر جاہلیت کو اس انداز سے بیان کیا گیا ہے، جن میں سے بعض کی طرف اشارہ کیا جارہا ہے:
١۔ اہل کتاب میں سے کچھ لوگوں کی بے جا، غلط توقعات اور امیدیں یہ تھی کہ پیغمبر اسلام ۖ ان کی مرضی کے مطابق مشورہ دیں، اسے ''حکم جاہلیت'' کہا گیاہے۔(٤)
______________________
(١) عمر فروخ کہتا ہے: جاہلیت اس جہل پر دلالت کرتی ہے جو حلم کے مقابلہ میںہے نہ کہ جو علم کے مقابلہ میںہے ۔ (تاریخ صدر الاسلام، ص٤٠).
(٢) رجوع کریں: طباطبائی، تفسیر المیزان، ج٤، ص ١٥٥۔ ١٥١، احمد امین، فجر الاسلام، ص ٧٨۔ ٧٤؛ آلوسی، بلوغ الارب، ج١، ص ١٨۔ ١٥؛ شوقی ضیف، تاریخ الادب العربی، ج١، ''العصر الجاہلی'' (قاہرہ دار المعارف، ط ٧)، ص ٣٩۔ اس مطلب کی تائید کے لئے ہماری کچھ احادیث ہیں جس میں جہل کو عقل کے مقابلہ میںقرار دیا گیا اور اصول کافی جیسی کتاب میں ''فصل العقل والجہل'' ، (ج١، ص ١١ کے بعد) میں اس طرح کی احادیث بیان ہوئی ہیں۔
(٣) جواد علی کہتے ہیں: ''میری نظر میں جاہلیت، بیوقوفی، کم عقلی، غرور، کند ذہنی، غصہ او رحکم ودستور الٰہی کے مقابلہ میں سر تسلیم خم نہ کرنے سے پیدا ہوتی ہے او ریہ وہ صفات ہیں جن کی اسلام نے مذمت کی ہے اس بنا پر یہ ویسے ہی ہے جیسے آج کوئی سفیہ اوراحمق گالی بکے اوراخلاق و تہذیب کا خیال نہ کرے تو ہم اس سے کہیں گے: اے نادان یہاں سے دور ہوجا! اس کا مطلب یہ نہیںہے کہ وہ انسان جاہل ہے'' (المفصل فی تاریخ العرب فی الاسلام، ج١، ص ٤٠
(٤) ''افحکم الجاہلیة یبغون...'' سورۂ مائدہ، ٥،آیت ٥٠۔
٢۔ خداوند عالم نے بت پرست عربوں کے اندھے تعصب کو ''جاہلیت کا تعصب'' قرار دیا ہے۔(١)
٣۔ پیغمبر اسلام ۖ کی بیویوں کو خبردار کیا گیاہے کہ اپنی گزشتہ جاہلیت کی رسم و رواج کے مطابق خود نمائی کے ساتھ گھر سے باہر نہ نکلیں۔(٢)
٤۔ خداوند عالم نے منافقین اور ضعیف الایمان لوگوں کے ایک گروہ کو جنگ احد میں لشکر اسلام کے شکست کھا جانے کے بعد جن کے حوصلہ پست ہوگئے تھے اور تشویش و بدبینی کا شکار ہوگئے تھے۔ ان کی مذمت کی ہے کہ خدا کے بارے میں ''جاہلیت'' جیسا گمان رکھتے ہو۔(٣)
خداوند عالم نے بیان کیا ہے کہ جس وقت جنا ب موسیٰ نے اپنی قوم کو گائے کے کاٹنے کا حکم دیا تو ان کی قوم والوں نے کہا: ''کیا آپ ہمارا مذاق اڑا رہے ہیں؟ جناب موسیٰ نے فرمایا: خدا کی پناہ مانگتا ہوںکہ میں جاہلوں میں سے ہو جاؤں''۔(٤)
امیر المومنین حضرت علی بت پرست عربوں کی ذلت و پستی اورتاریک زندگی کا نقشہ کھینچتے ہوئے ان کی جہالت کی بنا پر ان کی دماغی پستی کا ذکر فرماتے ہیں۔(٥)
______________________
(١) سورۂ فتح،٤٨( ِذْ جَعَلَ الَّذِینَ کَفَرُوا فِی قُلُوبِہِمْ الْحَمِیَّةَ حَمِیَّةَ الْجَاہِلِیَّة) آیت ٢٦۔
(٢) سورۂ احزاب، ٣٣( وَقَرْنَ فِی بُیُوتِکُنَّ وَلاَتَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاہِلِیَّةِ الُْولَی )آیت ٣٣۔
(٣) سورۂ آل عمران، ٣(...وَطَائِفَة قَدْ َہَمَّتْہُمْ َنْفُسُہُمْ یَظُنُّونَ بِاﷲِ غَیْرَ الْحَقِّ ظَنَّ الْجَاہِلِیَّةِ...)آیت ١٥٤۔
(٤) سورۂ بقرہ، ٢(قَالُوا َتَتَّخِذُنَا ہُزُوًا قَالَ َعُوذُ بِاﷲِ َنْ َکُونَ مِنْ الْجَاہِلِینَ )آیت ٦٧۔
(٥) واستخفیتم الجاہلیة الجھلائ۔ (صبحی صالح، نہج البلاغہ، خطبہ ٩٥)


۷
تیسری فصل : جزیرہ نمائے عرب اور ا سکے اطراف کے ادیان و مذاہب تاریخ اسلام
دور جاہلیت سے وفات مرسل اعظم ۖ تک

تیسری فصل
جزیرہ نمائے عرب اور ا سکے اطراف کے ادیان و مذاہب
ظہور اسلام کے وقت عرب کے اکثر پیشوا بت پرست تھے لیکن ملک عرب کے گوشہ و کنار میں مذہبی رہبروں کی پیروی کرنے والے اور مختلف ادیان جیسے عیسائیت، یہودیت، حنفیت، مانوی اور صابئی وغیرہ بھی موجودتھے۔ اس بنا پر عرب کے لوگ صرف ایک دین کی پیروی نہیں کرتے تھے اس کے علاوہ ہر ایک دین اور آئین، ابہام اور تیرگی سے خالی نہ تھا۔ اسی بنا پر ایک طرح کی سرگردانی اورحیرانگی ، ادیان کے سلسلے میں پائی جاتی تھی۔ ہم یہاں پر ہر ایک دین اور مذہب کے بارے میں مختصر توضیح دے رہے ہیں:

موحدین موحدین یا دین حنیف(١) کے معتقد ایسے لوگ تھے جو مشرکین کے برخلاف بت پرستی سے بے زار، خداوند متعال اور قیامت کے عقاب و ثواب کا عقیدہ رکھتے تھے۔ ان میں سے کچھ عیسائیت کے ماننے والے تھے۔ لیکن بعض مورخین، ان کو بھی دین حنیف پر سمجھتے ہیں و رقہ بن نوفل، عبد اللہ بن حجش، عثمان بن حویرث، زید بن عمر بن نفیل(٢)، نابغۂ جعدی (قیس بن عبد اللہ) امیہ بن ابی ا لصلت، قس بن
______________________
(١) حنیف (جس کی جمع حنفاء ہے) اس شخص کو کہتے ہیں جودین ابراہیم کا پیرو ہو (طبرسی، مجمع البیان، شرکة المعارف، ج١، ص ٢١٦.)
(٢) محمد بن حبیب، (المحبر (بیروت: دار الافاق الجدیدہ)، ص ١٧١.
ساعدہ ، ابوقیس صرمہ بن ابی انس، زہیرابن ابی سلمیٰ، ابوعامر اوسی (عبد عمرو بن صیفی) عداس (عتبہ بن ربیعہ کا غلام) رئاب شنی او ربحیرہ راہب جیسے افراد کو بھی دین حنیف کے معتقدین میں سمجھا جاتا ہے۔(١) ان میں سے بعض ،حکماء یا مشہو رشعراء تھے۔
البتہ وحدانیت کی طرف رحجان کا سبب ان کی پاک فطرت او رروشن فکر اوراس زمانے کے رائج ادیان کی بے رونکی اور اس سماج میں پائے جانے والے مذہبی خلا میں تلاش کرنا چاہیئے۔ یہ لوگ اپنی پاک فطرت کے ذریعہ خلاق عالم، مدبر جہاں کے معتقد تھے او رعقل و خرد سے دور ایک پست آئین جیسے بت پرستی کو قبول نہیں کر سکتے تھے۔ اور یہودی مذہب بھی صدیاں گزر جانے کے بعد اپنی حقیقت اور معنویت کو کھو بیٹھا تھا۔ اور روشن فکر افراد کے اندر پائی جانے والی بے چینی کو اطمینان اور سکون میں نہیں بدل سکتے تھے اسی بنا پر بعض الوہیت کے متلاشی افراد کے بارے میں نقل ہوا ہے کہ آئین حق کی تلاش میںوہ اپنے اوپر سفر کی صعوبتوںاور پریشانیوں کو روا جانتے ہوئے مسیحی اور یہودی علماء اور دوسرے آگاہ لوگوں سے بحث اور گفتگو کیا کرتے تھے۔(٢) اور پیغمبر اسلام ۖ کی بعثت کی نشانیوں کے سلسلے میں آسمانی کتابوں میں جواشارے ملتے ہیں ان کے بارے میں تحقیق کرتے تھے اور چونکہ معمولاًکسی نتیجہ تک نہیں پہنچتے تھے لہٰذا اصل وحدانیت کو قبول کرتے تھے۔ بہرحال وہ اپنی مذہبی عبادتوں اور رسومات کو کس طرح انجام دیتے، یہ ہمارے لئے واضح نہیں ہے۔
______________________
(١) مسعودی، مروج الذہب، ترجمہ: ابو القاسم پایندہ (تہران: ادارۂ ترجمہ و نشر کتاب، ط٢، ١٣٥٦)، ج١، ص ٦٨۔ ٦٠؛ ابن ہشام، سیرة النبی، تحقیق: مصطفی السقاء و معاونین، (قاہرہ: مطبعة مصطفی البابی الحلبی، ١٣٥٥ھ.ق)، ج١، ص ٢٣٧؛ ابن کثیر، السیرة النبویہ، تحقیق: مصطفی عبد الواحد (قاہرہ: مطبعة عیسی البابی الحبی، ١٣٨٤ھ.ق)، ج١، ص ١٦٥۔ ١٢٢؛ محمد بن اسحاق، السیر و المغازی، تحقیق: ڈاکٹر سہیل زکار (بیروت: دار الفکر، ط٢، ١٤١٠ھ.ق)، ص١١٦۔ ١١٥؛ محمد بن حبیب بغدای، المنمق فی اخبار قریش، تحقیق: خورشید احمد فارق (بیروت: عالم الکتب، ط١، ١٤٠٥ھ.ق)، ص ١٩۔ ١٣۔
(٢) ابن کثیر، گزشتہ حوالہ، ص ١٥٦؛ محمد ابوالفضل ابراہیم (اور معاونین)، قصص العرب، (قاہرہ: دار احیاء الکتب العربیہ،ط٥)، (قم: آفسیٹ منشورات الرضی، ١٣٦٤)، ج١، ص٧٢۔
اس نکتہ کی طرف توجہ دلانا ضروری ہے کہ دین حنیف کے پیرو کار، بعض لوگوں کے خیال کے برخلاف ہدایت اور عرب سماج کی تبدیلی میں توحید کے مسئلہ میں کوئی رول نہیں رکھتے تھے۔ بلکہ جیسا کہ مورخین نے صراحت کی ہے کہ وہ لوگ تنہائی اور انفرادی شکل میں زندگی بسر کرتے تھے اور غور و فکر میں لگے رہتے تھے اور کبھی بھی ایک گروہ یا ایک منظم فرقہ کی شکل میں نہیں تھے اور ان کے پاس کوئی ایسا دین و آئین نہیں تھا جس میں ثابت اور معیّن احکام بیان کئے گئے ہوں۔ ان لوگوں نے آپس میں طے کر رکھا تھا کہ لوگوں کے اجتماعی مراکز سے دور رہیںاور بتوں کی پرستش سے بچیں اس قسم کے لوگ اپنی جگہ پر مطمئن تھے ا ور خیال کرتے تھے کہ ان کی قوم والوںکے عقائد باطل ہیںاور اپنے کو تبلیغ و دعوت کی زحمت میں مبتلا کرنے کے بجائے صرف اپنے نظریات کا اظہار کرتے تھے۔ اور اپنی قوم والوں سے ان کے تعلقات ٹھیک ٹھاک تھے ان کے درمیان کسی قسم کا ٹکراؤ نہیں رہتا تھا۔(١)

عیسائیت دین عیسائیت کے ماننے والے بھی عرب کے بعض علاقوں میں پائے جاتے تھے۔ یہ دین، جنوب کی سمت حبشہ سے اور شمال کی سمت سوریہ سے اور نیز جزیرہ نمائے سینا سے عرب میں آیا تھا۔ لیکن اس سرزمین کو کوئی خاص ترقی نہیں ملی۔(٢) جزیرة العرب کے شمال میں عیسائیت،( قبیلۂ تغلب )کے درمیان(قبیلۂ ربیعہ کی ایک شاخ) اور(غسان)اور قبیلۂ ''قضاعہ'' کے بعض لوگوں کے
______________________
(١) جواد علی، المفصل فی تاریخ العرب، قبل الاسلام (بیروت: دار العلم للملایین، ط١، ١٩٦٨ئ)،ج٦، ص ٤٤٩؛ حسینی طباطبایی، خیانت در گزارش تاریخ (تہران: انتشارات چاپخش، ١٣٦٦ش)، ج١، ص١٢٠؛ ابن ہشام، سیرة النبی، ج١، ص ٢٣٧۔
(٢) حسن ابراہیمی حسن، تاریخ سیاسی اسلام، ترجمہ: ابوالقاسم پایندہ (تہران: سازمان انتشارات جاویدان، ط٥، ٢٣٦٢)، ج١، ص٦٤۔
درمیان رائج تھی۔(١- ٢)
قس بن ساعدہ، حنظلہ طائی اور امیہ بن صلت کو بھی عیسائیوں کے بزرگوں میں شمار کیا ہے ان میں سے کچھ لوگوں نے اجتماعی جگہوں پر جانا چھوڑ دیاتھا اور جنگلوںمیں جاکر آباد ہوگئے تھے۔(٣)

یمن میں عیسائیت یمن میںعیسائیت چوتھی صدی عیسوی میں داخل ہوئی ''فلیپ حِتّی'' جو کہ خود ایک عیسائی ہے ، لکھتا ہے: ''عیسائیوں کا پہلا گروہ عربستان کے جنوب میں گیا یہ خبر صحیح ہے یہ وہی گروہ تھا جس کو ''کنتانیتوس'' نے ٣٥٦ئ عیسوئی میں تئوفیلوس اندوس اربوس کی سرپرستی میں بھیجا اور یہ کام اس زمانہ کے سیاسی عوامل اور عربستان کے جنوبی علاقہ میں ایران اور روم کے نفوذ کی خاطر انجام دیاگیا تھا عدن میں ایک اور ملک حمیربان میں دو دوسرے کلیسوں کی بنیاد رکھی ، نجران کے لوگ ٥٠٠ئ میںایک نئے دین کے گرویدہ ہوگئے تھے۔(٤)
______________________
(١) گزشتہ حوالہ، ص ٦٤؛ شہاب الدین الابشہی، المستطرف فی کل فن مستظرف (بیروت:داراحیاء التراث العربی)، ج٢، ص٨٨؛ ابن قتیبہ، المعارف، تحقیق: ثروت عکاشہ (دار الکتب، ١٩٦٠ئ)، ص ٦٢١؛ الامیر ابوسعید الحمیری، الحور العین، تحقیق: کمال مصطفی، (تہران: ١٩٧٢ئ)، ص١٣٦۔
(٢) عثمان بن حویرث اور ورقہ بن نوفل (بنی اسد سے، قریش کا ایک خاندان) کو ہم نے دین حنیف کے معتقدین میں سے ذکرکیا ہے و نیز امرء القیس کے لڑکوں (قبیلۂ بنی تمیم سے تھے) کو مسیحی بیان کیاہے (تاریخ یعقوبی، ج١، ص ٢٢٥)
(٣) احمد امین، فجر الاسلام، (قاہرہ: مکتبة النہضة المصریہ، ط٩، ١٩٦٤ئ)، ص٢٧۔
(٤) تاریخ عرب، ترجمہ: ابوالقاسم پایندہ (تہران: انتشارات آگاہ، ط ٢، ١٣٦٦)، ص ٧٨؛ کچھ مورخین نے یمن میںعیسائیوں کے نفوذ کا آغاز ایک فیمیون نامی شامی زاہد کے اس علاقہ میں آکر اس کے کام کرنے کے وقت بتاتے ہیں (ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٣٥۔ ٣٢؛ یاقوت حموی، معجم البلدان، (بیروت: داراحیاء التراث العربی)، ج٥، ص ٢٦٦؛ لفظ نجران، لیکن یہ افسانوی شکل رکھتا ہے اور جو کچھ حتی سے نقل ہوا ہے اس کے مطابق نہیں ہے۔
ظہور اسلام کے وقت، طی، مذحج، بہرائ، سلیح، تنوخ، غسّان اور لحم قبائل یمن میں عیسائی تھے۔(١)
عیسائیوں کا سب سے اہم مرکز یمن میں ''نجران شہر'' تھا نجران ایک آباد او رپررونق شہر تھا وہاں کے لوگوں کا مشغلہ زراعت، ریشمی کپڑوں کی بناؤٹی، کھال کی تجارت او ر اسلحہ سازی تھا۔ یہ شہر تاجروں کے راستوں میں پڑتا تھا جو حیرہ تک پھیلا ہوا تھا۔(٢)
عیسائیت اس طرح سے یمن میں رائج ہوئی تھی۔ یہاں تک کہ یمن میں ذونواس برسراقتدار آیااور اس نے عیسائیوں پر سختیاں کی تاکہ وہ اپنے آئین سے دست بردار ہو جائیں۔ جس وقت عیسائیوں نے مقابلہ کیا تو ان کو آگ سے بھرے ہوئے گڑھوں میں جلا دیاگیا۔(٣)
آخرکار ذونواس، حکومت حبشہ کی مداخلت سے ٥٢٥ئ میں شکست کھا گیا او رعیسائی دوبارہ برسر اقتدا

حیرہ میں عیسائیت ایک دوسراعلاقہ جہاں پر عیسائیوں نے نفوذ کیا وہ ''شہر حیرہ'' تھا جو عربستان کے شرق میں واقع تھا۔ یہ مذہب رومی اسیروں کے ذریعہ اس علاقہ میں آیا تھا۔ حکومت ایران ہرمز اول کے زمانے سے ایسی جگہوں پر مسلط ہوگئی جہاں کے رہنے والے رومی اسیر تھے ان میں سے کچھ اسیر حیرہ میں رہتے تھے۔
______________________
(١) تاریخ یعقوبی، (نجف: مکتبة الحیدریہ، ١٣٨٤ھ.ق)، ج١، ص ٢٢٤
(٢) احمد امین، گزشتہ حوالہ، ص ٢٦
(٣) مفسرین کاایک گروہ کہتا ہے کہ سورۂ ''بروج'' کی ٤ سے ٩ تک آیتیں مسیحیوں کے قتل عام کے بارے میں نازل ہوئی ہیں یا یہ واقعہ ان آیتوں کا ایک مصداق ہے (تفسیر المیزان، ج٢، ص ٢٥٧۔ ٢٥١؛ جیسا کہ خداوند عالم سورۂ بروج کی ٩۔ ٤، آیتوں میں ارشاد فرماتا ہے۔
(٤) احمد امین، گزشتہ حوالہ، ص ٢٧.
بعض کے عقیدہ کے مطابق سرزمین حیرہ میں عیسائیت کے نفوذ کا سرچشمہ یہی اسیر تھے۔ بہرحال عیسائی مبلغین حیرہ میں رہتے تھے اور اپنے مذہب کی نشر واشاعت میں مشغول رہتے تھے۔ عربوں کے بازاروں میں وعظ و نصیحت او رتبلیغ کرتے تھے۔ اور قیامت، جنت و جہنم کے مسئلہ سے آگاہ کرتے تھے ان کی محنتوں اورکوششوں کے نتیجہ میں ایک گروہ اس آئین کا گرویدہ ہوگیا اور حد ہے کہ ہند (نعمان پنجم کی بیوی) نے بھی مذہب عیسائیت کو قبول کرلیا اور اس نے ایک معبد بنایا جو ''معبد ہند'' کے نام سے مشہو ر ہوا اور طبری کے زمانے تک باقی رہا۔ حنظلہ طائی، قس بن ساعدہ اور امیہ بن صلت (جن کا تذکرہ ہم پہلے کرچکے ہیں) حیرہ کے لوگوں میں سے تھے۔(١)
نعمان بن منذر (بادشاہ حیرہ ) نے بھی عدی بن زید کی تشویق پر آئین مسیحیت قبول کرلیا۔(٢)
قرآن مجید میں ایسی متعدد آیات موجود ہیں جن میں عیسائیوں کے افکار وعقائد کو بیان کرکے ان میں سے جو غلط اور ضعیف عقائد اوراعمال ہیں (خاص طور پر حضرت عیسیٰ کی الوہیت کے بارے میں) جوان کے خیالات ہیں، ان کو بیان کیا گیا ہے۔(٣) اور یہ چیزیں بہت اہم گواہ ہیں کہ یہ دین جزیرة العرب میں نزول قرآن کے وقت موجودتھا۔
اس کے علاوہ نجران کے عیسائیوں کے ساتھ، پیغمبر اسلامۖ کا مباہلہ (جوکہ تاریخ اسلام میں مشہور ہے) بھی اس بات کا ثبوت ہے۔(٤)
______________________
(١) احمد امین، گزشتہ حوالہ، ص ١٨، ٢٥، ٢٦، ٢٨.
(٢) محمد ابو الفضل ابراہیم (اور اس کے ساتھی) قصص العرب،ج١، ص ٧٣؛ احمد امین، گزشتہ حوالہ، ص ٢٧
(٣) سورۂ مائدہ، آیت ١٨، ٧٢، ٧٣؛ سورۂ نسائ، آیت ١٧١؛ سورۂ توبہ، آیت ٣٠؛ لیکن قرآن نے، عیسائیوں کو یہودیوں کے مقابلہ میں جو کہ مسلمانوں کے سخت دشمن تھے ان کا قریبی دوست بتایا ہے۔ (مائدہ، ٥، آیت ٨٢).
(٤) سید محمد حسین طباطبائی، تفسیر المیزان، (مطبوعاتی اسماعیلیان، ط ٣، ١٣٩٣ھ.ق)، ج٣، ص ٢٢٨ و ٢٣٣).
البتہ جیساکہ اشارہ ہوچکا ہے کہ مذہب عیسائیت بھی زمانہ کے گزرنے کے ساتھ اس کی اصالت اور معنویت کا نورماند پڑ گیا ہے اور وہ تحریفات کا شکار ہوگیاہے۔ لہٰذا اس زمانہ کے لوگوں کے فکری اور عقیدتی خلاء کو پر نہیںکیا جاسکتا اور ان کے مضطرب و پریشان قلب و ضمیر کو سکون نہیں بخشا جاسکتا ۔



۸
دین یہود تاریخ اسلام
دور جاہلیت سے وفات مرسل اعظم ۖ تک

دین یہود دین یہودکا ظہور اسلام سے چند صدی قبل عربستان میں نفوذ ہواتھا اور بعض یہودی نشین علاقے ظہور میں آچکے تھے جن میں سے سب سے معروف ''یثرب'' تھا جسے بعد میں ''مدینہ'' کہا گیا ''تیمائ،(١) ''فدک''(٢) اور ''خیبر''(٣) بھی یہودی نشین علاقے تھے۔ یثرب کے یہودی تین گروہ میں بٹے ہوئے تھے:١۔ طائفہ ٔ بنی نظیر ٢۔ طائفہ ٔ بنی قینقاع ٣۔ طائفہ ٔ بنی قریظہ۔(٤)
______________________
(١) یاقوت حموی کے بقول، تیماء ایک چھوٹا سا شہر تھا جو شام او روادی القریٰ کے بیچ پڑتا تھا (معجم البلدان، ج٢، ص ٦٧)، او روادی القری مدینہ او رشام کے بیچ مدینہ کا ایک علاقہ تھا۔ وہی حوالہ، ج٥، ص ٣٤٥.) لہٰذا تیماء شام اور مدینہ کے بیچ پڑتا تھا ؛ مقدسی چوتھی صدی کا اسلامی دانشور ، کہتا ہے کہ ''تیمائ'' ایک ایسا قدیمی شہر ہے جوایک وسیع زمین میں کھجوروں کے درختوں سے پُر بے شمار باغات پانی کی فراوانی ابلتے ہوئے چشموں کی بنا پر دلکش اور حسین منظر جو کہ ایک لوہے کی جالی سے تالاب میں گرتاہے اور پھر باغوں میں جاتا ہے، میٹھے پانی کے کنویں بھی موجود تھے، جنگل میں واقع تھا لیکن اب اس کا اکثر حصہ ویران ہوگیا ہے'' (احسن التقاسیم فی معرفة الاقالیم، ترجمہ: علی نقی منتروی (گروہ مولفین و مترجمین ایران)
(٢)فدک ایک گاؤں ہے جس کا فاصلہ مدینہ سے دو یا تین روز پیدل مسافت کے ذریعہ طے ہوتا ہے (معجم البلدان، ج٤، ص ٢٣٨)
(٣)خیبر ایک ایسا علاقہ ہے جو تقریباً ٩٦ میل (١٩٢کلو میٹر) مدینہ کے شمال کی جانب (شام کی طرف) پڑتا ہے کہ جہاں سات قلعے کاشتکاری کی زمینیں اور بہت سے کھجور کے باغات تھے (معجم البلدان، ج٢، ص ٤٠٩) اس کا فاصلہ مدینہ سے اس سے بھی کم او رزیادہ بیان کیا گیا ہے (ابوالفداء تقویم، ترجمہ: عبد المحمد آیتی (انتشارات بنیاد فرہنگی ایران)، ص ١٢٣۔
(٤)حسن ابراہیم حسن، گزشتہ حوالہ، ص ٦٤.
مدینہ میں مذکورہ تین قبیلوں کے علاوہ دو قبیلے اوس او رخزرج بھی رہتے تھے جو تیسری صدی عیسوئی کے نزدیک، یمن سے آئے تھے۔ یہ دونوں قبیلے یثرب میں یہودیوں کے مقیم اور مستقر ہو جانے کے بعد وہاں مستقر ہوئے تھے۔ یہ دو قبیلے بت پرست تھے اور یہودیوں کے پہلو میں رہنے کی بنا پران میں سے کچھ لوگ، دین یہود کے گرویدہ ہوگئے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ طائف میں بھی کچھ یہودی رہتے تھے جویمن او ریثرب سے نکالے گئے تھے۔(١)
یہودی عربستان کے جس علاقہ میں رہتے تھے وہاں اپنی مہارت کی بنا پر زراعت میں مشہور تھے یہ لوگ مدینہ میں بھی زراعت کے علاوہ دوسرے ہنر کی وجہ سے جیسے آہنگری، رنگریزی، اوراسلحوں کے بنانے کی بنا پر مشہور ہوگئے تھے۔(٢)
دین یہود کے ماننے والے قبیلۂ حمیر ،بنی کنانہ، بنی حارث بن کعب، کندہ(٢) غسّان و جذام میں بھی پائے جاتے تھے۔(٣)

یمن میں یہودی یہودی جس علاقہ میں رہتے تھے اپنے عقائد و افکار او رتوریت کی تعلیمات کو ترویج دیتے تھے۔ یمن بھی ایک زمانہ تک یہودیوں کے زیر نفوذ رہا ہے اور ذونواس (بادشاہ یمن ) نے جو کہ یہودی ہوگیاتھا۔
______________________
(١) بلاذری، فتوح البلدان (بیروت: دار الکتب العلمیہ، ١٣٩٨ھ.ق)، ص٦٧۔
(٢) احمد امین، فجر الاسلام، ص ٢٤
(٢) ابن قتیبہ، المعارف، تحقیق: ثروت عکاشہ(قم: منشورات الرضی)، ط١، ص ١٤١٥ھ.ق)، ص ٦٢١؛ الامیر ابو سعید بن نشوار الحمیری، الحور العین، تحقیق: کمال مصطفی (تہران: ١٩٧٢.)، ص ١٣٦، کتاب المستطرف ، ج٢، ص ٨٨، پر قبیلۂ حمیر کا نام (نمیر) لکھا ہوا ہے جو غلط چھپا ہے۔
(٣) تاریخ یعقوبی، ج١، ص ٢٥٧.
عیسائیوں کو کچل کر، دین یہود کے قانونی دین ہونے کا اعلان کردیاتھا۔ بعض مورخین کے عقیدے کے مطابق ذونواس کا یہ اقدام مذہبی جذبہ کے تحت نہیں تھا بلکہ قومی اور وطن پرستی کے جذبہ کی خاطر تھا۔ اس اعتبار سے کہ نجران کے عیسائی ملک حبشہ سے دوستانہ تعلقات رکھتے تھے اور حکومت حبشہ، نجران میں عیسائیوں کی حمایت کو مدعا بناکر ، یمن کے امور میں مداخلت کرتی تھی اور اس طرح وہ اپنے مقاصد کے حصول میں کامیاب ہوگئے۔ ذونواس اوراس کے طرفداروںنے چاہا کہ وہاں پر عیسائیوں کو کچل کر، حبشہ کو اس علاقہ اورمرکز سے محروم کردیں۔ اسی بنا پر اس نے عیسائیوں کا قتل عام شروع کردیا۔
نجران کے عیسائیوں کے قتل عام کے بعد ان میں کا ایک آدمی بچ گیا تھا جو بھاگ کر حبشہ پہنچا اوروہاں کے بادشاہ سے مدد مانگی ۔ جس کی بنا پر دونوں ملکوں میں جنگ چھڑ گئی اور ذونواس ٥٢٥ئ میں شکست کھا گیا او رنجران کا علاقہ دوبارہ پیغمبر اسلامۖ کے زمانہ تک عیسائیوں کا مرکز سمجھا جاتا تھا۔(١)
______________________
(١) احمد امین، گزشتہ حوالہ، ص ٢٣، ٢٤ اور ٢٧؛ رجوع کریں: ابن ہشام، السیرة النبویہ، ج١، ص ٣٧؛ یاقوت حموی، معجم البلدان، ج٥، ص ٢٦٦

صابئین بعض مورخین اس گروہ کے آغاز کو ''سلطنت تہمورث'' کے زمانہ میں بتاتے ہیںاو راس کا بانی ''بوذاسف'' کو جانتے ہیں۔ ابوریحان بیرونی (٤٤٠ھ۔ ٣٦٠ھ) اس گروہ کے آغاز کی تاریخ بیان کرنے کے بعد کہتا ہے: ''ہم ان کے بارے میں اس سے زیادہ نہیں جانتے تھے کہ وہ خداوند عالم کی وحدانیت کے قائل ہیں اوراس کو ہر طرح کے صفات بد سے منزہ اور بے عیب جانتے ہیں جیسے وہ کہتے ہیں :خدا محدود نہیںہے، دکھائی نہیںدیتا ، ظلم نہیں کرتا، تدبیر عالم کو فلک اور آسمانی کہکشاؤوں کی طرف نسبت دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ حیات افلاک اوراس کے نطق، شنوائی اور بینائی کے معتقد
ہیں،انوار کی تعظیم کرتے ہیں۔ یہ لوگ ستاروں پر عقیدہ رکھنے کی بنا پر، ان کی حرکتوں سے زمین کے مقدرات کو مربوط جانتے تھے اور ان کے مجسموں کو اپنے معبد میں نصب کرتے تھے ۔ جیسا کہ انھوں نے سورج کے مجسمہ کو بعلبک میں، چاند کے مجسمہ کو حران میں اور زھرہ کے مجسمہ کوایک قریہ میں نصب کر رکھا تھا۔(١)
صابئین کامرکز ''حران'' (٢)شہر تھا۔ یہ دین ایک زمانہ میں روم، یونان، بابل اوردنیا کے دوسرے علاقوں تک پھیل گیاتھا۔(٣)
قرآن مجید نے ان میں سے تین مقامات کاذکر کیا ہے۔(٤) یہ فرقہ ہمارے زمانے میں ختم ہوتا جارہا ہے ان میں سے کچھ لوگ صرف خوزستان(٥)، اور عراق(٦) میں باقی رہ گئے ہیں۔(٧)
______________________
(١) الآثار الباقیہ، ترجمہ: اکبر دانا سرشت، (تہران: ط ٣، ١٣٦٣)، ص ٢٩٥۔ ٢٩٤.
(٢) حران، دجلہ اور فرات کے درمیان ایک بڑا شہر تھا لیکن آج ویران ہوگیاہے اورایک کھنڈر دیہات میں تبدیل ہوگیاہے .صدر اسلام میں یہ شہر آباد تھا اور اور جید علماء یہاں سے پیدا ہوئے ہیں (معجم البلدان، ج٢، ص ٢٣٦۔ ٢٣٥؛ تقویم البلدان، ص ٣٠٧۔ ٣٠٦؛ محمد معین: فرہنگ فارسی، (تہران: امیر کبیر)، ج٥، ص ٤٥٧.
(٣) طباطبائی، تفسیر المیزان، ج١٠، ص ٢٧٩.
(٤) سورۂ بقرہ، ٢، آیت ٦٢؛ سورۂ مائدہ،٥، ٦٩؛ سورۂ حج، ٢٢، آیت ١٧.
(٥)دریائے کارون کے ساحلی علاقے، اہواز،خرم شہر، آبادان، شادگان اور دشت میشان ہیں)
(٦) بغداد میں دجلہ او رفرات کے ساحلی علاقے حلہ، ناصریہ، عمارہ، کوت، دیالی، کرکوک ،موصل ،رمادی ،سلیمانیہ ، اور کربلا ہیں۔
(٧) کلمۂ صابئی کے ریشہ اوراصل کے سلسلہ میں اور کیا یہ عربی کلمہ ہے یا عبری؟ اور اس کے معنی کیا ہیں اور نیز صابئیوں کے عقائد اور یہ کسی نبی کے ماننے والے ہیں ، رجوع کریں آلوسی، بلوغ الارب، ج٢، ص ٢٢٨۔ ٢٢٣؛ یحیی نوری، اسلام و عقائد و آراء بشری، (تہران: موسسہ مطبوعاتی فراہانی، ط ٢، ١٣٤٦)، ص ٤٣٢۔ ٤٣١؛ شہرستانی، الملل و نحل، تحقیق: محمد سید گیلانی (بیروت: دار المعرفہ)، ج١، ص ٣٣٠، ج٢، ص ٥.

مانی دین دین زردشتی، مزدکی اور مانوی کا منبع او رمرکز ایران رہا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ ادیان ظہور اسلام سے قبل بھی حجاز میں موجودتھے یانہیں؟ اس بار ے میں مورخین کے درمیان اختلاف ہے بعض معاصر مورخین کا کہنا ہے کہ یہ ادیان ظہور اسلام سے قبل حجاز میں موجودتھے لیکن تاریخی دستاویزات اس علاقہ میں صرف دین مانوی کے وجود کی تصدیق کرتی ہیں۔
یعقوبی لکھتا ہے: عربوں کا ایک گروہ دین یہودیت کا گرویدہ ہوگیاتھا اور ایک گروہ دین عیسائیت کو ماننے لگا تھا اور ایک گروہ جو زندیق ہوگیاتھااس نے دین ثنوی (دوگانہ پرستی) کو اپنا لیا تھا۔(١)
اگرچہ کلمۂ ''زندیق'' ملحد اور منکر خدا کے معنی میںاستعمال ہوتا تھا لیکن صاحبان نظر کے عقیدے کے مطابق، دراصل ایک ایسا فرقہ تھا جو دین مانوی کی پیروی کرتا تھا اور پھر یہ کلمہ تمام مانویوں کے لئے بولا جانے لگا۔ اس رو سے کافر اور دھری اس میں شامل ہوگئے اسی وجہ سے قدیم حوالوں میں ''زندقہ'' سے مراد دین مانی ہے(٢) اور دین مانوی عیسائیت اور یہودیت سے مل کر بنا ہے۔(٣)
______________________
(١) تاریخ یعقوبی، ج١، ص ٢٢٦.
(٢) احمد امین، فجر الاسلام، ص ١٠٨؛ داؤد الہامی، ایران و اسلام (قم: مرکز نشر جدید)، ص ٣٩٢۔ بیرونی اس بات کی طرف اشارہ کرنے کے بعد کہ مزدکیان زند، کی پیروی کرنے کی وجہ سے زنادقہ کہے جاتے ہیں۔ لکھتاہے: ''مانویان کو بھی مجازی طور سے زنادقہ کہتے ہیں۔ اور فرقہ باطنیہ کو بھی اسلام میںایسے کہتے ہیں: کیونکہ یہ دو گروہ خداوندعالم کو بعض صفات سے متصف کرنے میںاو رنیز ظواہر کی تاویل کرنے میں مزدکیہ کے مشابہ ہیں'' (الآثار الباقیہ، ترجمہ: اکبردانا سرشت، ص ٣١٢) .
عبد الحسین زرین کوب اس سلسلہ میں لکھتے ہیں: ''لفظ زندیق کہ جس کی اصل زندیک پہلوی ہے، جوآج کل تقریباً مسلم سمجھا جاتاہے، اسلامی عہد میں اس سے قطع نظر کہ یہ مانوی کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ تمام ایسے افراد جو ایک طرح سے شک و الحاد اور بے اعتقادی میں متہم تھے ان کو بھی زندیق کہا جاتا ہے؛ ( نہ شرقی نہ غربی، انسانی، ص ١١٠)۔
(٣) شہرستانی، گزشتہ حوالہ، ص ٢٤٤، ایک مستشرق کہتا ہے: اگر دین مانی کوایسا زردشتی دین سمجھیں جس میں مسیحیت کی آمیزش ہوئی ہے تو یہ کلام حقیقت سے بہت قریب ہے بہ نسبت اس کے اسے ایسا عیسائی دین سمجھیں جس میں زردشت کی آمیزش ہوئی ہے۔ (احمد امین، فجر الاسلام، ص ١٠٤)، مانی او راس کے دین کے بارے میں رجوع کریں: عبد الحسین زرین کوب، نہ شرقی نہ غربی، انسانی، ص ٧٦۔ ٧٢۔
مورخین کے ایک گروہ نے وضاحت کی ہے کہ زندقہ کا قریش کے درمیان وجود تھااور اس کو، انھوں نے اہل حیرہ سے اپنایا تھا۔(١) اور اس دین کو حیرہ سے لینا اس بات کا ثبوت ہے کہ مراد ''دوگانہ پرستی'' ہے کیونکہ حیرہ، ایران کا پڑوسی اوراس کے زیر اثر تھا اورادیان ایرانی جنکی بنیاد دوگانہ پرستی پر قائم تھی، وہاں تک پہنچ گئے تھے۔

ستاروں کی عبادت زمانۂ جاہلیت میں جزیرة العرب میں رہنے والوں کا ایک گروہ، بہت سارے دوسرے علاقہ کے لوگوں کی طرح اجرام آسمانی جیسے سورج، چاند اور بعض ستاروں کی عبادت کرتا تھا۔ اور انہیں بہت ہی
______________________
(١) ابن قتیبہ، المعارف (قم: منشورات الرضی، ط١، ١٤١٥ھ.ق)، ص ٦٢١؛ الابشہی، المستطرف فی کل فن مستظرف، ج٢، ص ٨٨؛ ابن رستہ، املاق النفسیہ، ترجمہ: حسین قرہ چانلو، (تہران: امیر کبیر، ط١، ١٣٦٥)، ص ٢٦٤؛ احمد امین، فجر الاسلامۖ ص ١٠٨؛ محمد بن حبیب بغدادی کے بقول، قریش سے صخر بن حرب (ابوسفیان) عقبہ بن ابی معیط، ابی بن خلف، ابوعزہ (عمربن عبداللہ جمحی) نضر بن حارث، نبیہ و منبہ (مجاج بن عامر سہمی کے لڑکے) عاص بن وائل سہمی، اور ولید بن مغیرہ مخرومی، اس گروہ میں تھے۔ (المنمق فی اخبار قریش) ص ٢٨٩۔ ٢٨٨؛ المحبر ص ١٦١)، لیکن اسلام کے مقابلہ میںان کا کوئی بھی کلام یا موقف اس مطلب کی تصدیق نہیں کرتا ہے، بلکہ شواہد و قرائن سے ان کی بت پرستی کا پتہ چلتا ہے ۔ عبد الحسین زرین کوب، زندیق و زنادقہ کی بحث میں لکھتے ہیں : ''... لفظ زندقہ جیسا کہ ثعلب سے نقل کیا گیا ہے دہریہ کے لئے استعمال ہوتا تھا۔ دہریہ سے مراد وہ لوگ ہیں جو حوادث اور امور عالم کوایک صانع مختار کی طرف نسبت دینے کے منکر ہوئے ہیں قریش کے زنادقہ کے نام ابوسفیان ، عقبہ بن معیط، نضر بن حارث، عاص بن وائل او رولید بن مغیرہ بھی انھیں میں سے ہیں جودرحقیقت اس طرح کا عقیدہ رکھتے تھے۔ قریش کے بزرگوں اور اہم شخصیتوں کی خبروں اوران کے اشعار سے پتہ چلتا ہے کہ زندقہ ان کو کہا گیا ہے جو صانع عالم، حشر و حیات، عقبیٰ کے عقیدہ کا انکار کرتے تھے۔ (نہ شرقی نہ غربی، انسانی ، ص ١٠٧)۔
طاقتور اور قوی شے سمجھتا تھا۔ جن کے ذریعہ دنیا اور دنیا والوں کے انجام کا پتہ چلتا تھا مثلاً قبیلۂ خزاعہ او رحمیر، ستارۂ ''شعریٰ'' کو جو کہ ایک ثابت او ردرخشان ستارہ ہے اس کی پرستش کرتے تھے اور اسی طرح ابوکبشہ جو پیغمبر اسلامۖ کے مادری اجداد میں سے تھے، وہ اس ستارہ کی پرستش کرنے والوں میں سے تھے۔(١)
قبیلۂ طیٔ کے کچھ لوگ ''ستارۂ ثریا'' کی پرستش کیا کرتے تھے۔(٢) افلاک اور ستاروںکی پرستش کا مسئلہ اتنا رائج ہوگیا تھاکہ عرب کے افسانوں ادبیات اور خرافات میںاس کا ذکر ملتا ہے۔(٣) صابئین جو کہ سورج اور چاندکی پرستش کیا کرتے تھے ان کے علاوہ دوسرے تمام بت پرست بھی ان دو آسمانی موجود کو مقدس سمجھتے تھے۔(٤)
قرآن مجیدنے آسمانی اجرام کی پرستش کرنے سے منع فرمایا ہے اور اس کی پرستش کی مذمت کی ہے اور تاکید فرمائی ہے کہ یہ محدود موجودات، خود پروردگار عالم کی مخلوق اوراس کے فرمان اورارادہ کے تابع ہیں اور بارگاہ پروردگار میں سجدہ ریز او رخاضع ہیں۔ اس وجہ سے وہ خداوند عالم کی جانب سے بشر کے لئے دلیل اور راہنما قرار دیئے گئے ہیں کیونکہ یہ ساری چیزیں اس کی قدرت او رعلم کی نشانیاں ہیں۔ ''اور اسی نے تمہارے لئے رات اور دن اور آفتاب و ماہتاب سب کو مسخر کردیا ہے اور ستارے بھی اسی کے حکم کے تابع ہیں بیشک اس میں بھی صاحبان عقل کے لئے قدرت کی بہت ساری نشانیاں پائی جاتی ہیں''۔(٥)
اور اسی خدا کی نشانیوں میں سے رات اور دن اور آفتاب و ماہتاب ہیں لہٰذا آفتاب و ماہتاب کو
______________________
(١) طباطبائی، تفسیر المیزان، ج١٩، ص ٤٩.
(٢) آلوسی، بلوغ الارب، ج٢، ص ٢٤٠.
(٣) رجوع کریں: وہی حوالہ، ص ٢١٥، ٢٢٠، ٢٣٠، ٢٣٧، ٢٣٩، ٢٤٠، اسلام و عقائد اور آراء بشری، ص ٢٩٧۔ ٢٩٥۔
(٤) طباطبائی ، گزشتہ حوالہ، ج١٧، ص ٣٩٣۔
(٥) سورہ نحل، ١٦، آیت ١٢.
سجدہ نہ کرو بلکہ اس خدا کو سجدہ کرو جس نے ان سب کو پیدا کیا ہے اگر واقعاً اس کے عبادت کرنے والے ہو''(١) اور وہی ستارہ شعریٰ کا مالک ہے''(٢)
یہ آیات اس بات کی گواہ ہیں کہ بعثت پیغمبر اسلامۖ کے زمانہ میںان اجرام کی پرستش اور عبادت رائج تھی۔

جنات اور فرشتوں کی عبادت اس بات سے قطع نظر کہ ہم نے سابق میں مختلف ادیان کے ماننے والوں کا تذکرہ کیا ہے، عرب میں ایسے گروہ بھی موجود تھے جو جِن اور فرشتوں کی عبادت کیا کرتے تھے۔ عبد اللہ بن زبعری (جو کہ مکہ کا ایک سردار تھا) کہتا ہے ہم لوگ فرشتوںکی عبادت کرتے تھے۔ یہودی، عزیر کی اور عیسائی عیسیٰ کی پرستش کرتے تھے، محمدۖ سے پوچھیں کیا ہم سب ان معبودوں کے ساتھ جہنم میں جائیں گے؟۔(٣)
بنو ملیح جو قبیلۂ خزاعہ کی ایک شاخ تھی وہ جن کی عبادت کرتے تھے(٤)، کہتے ہیں جن لوگوں نے سب سے پہلے جن کی پرستش کی وہ یمن کے لوگ تھے اس کے بعد قبیلۂ بنی حنیفہ تھا اور پھر آہستہ آہستہ عربوں میں یہ بات رائج ہوگئی۔(٥) بعض مفسرین کے کہنے کے مطابق ایک گروہ کا عقیدہ تھا کہ خداوند عالم نے جنات کے ساتھ شادی کی ہے اور فرشتے اس کی اولاد ہیں۔(٦)
خداوندعالم نے قرآن مجید میں جن اور فرشتوںکی عبادت اور ان کے بارے میں غلط اعتقاد کی مذمت فرمائی ہے۔ اور ان لوگوںنے جنات کو خدا کا شریک بنادیا ہے حالانکہ خدا نے انھیں پیدا کیا
______________________
(١) سورۂ فصلت، ٤١، آیت ٣٧.
(٢) سورۂ نجم، ٥٣،آیت ٤٩.
(٣) ابن ہشام، السیرة النبویہ (قاہرہ: مطبعة مصطفی البابی الحلبی، ١٣٥٥ھ.ق)، ج١، ص ٣٨٥۔
(٤) ہشام بن محمد کلبی، کتاب الاصنام، ترجمہ: سید محمد رضا جلالی نائینی، تہران: ١٣٤٨، ص ٤٢.
(٥) طباطبائی، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ٤٢.
(٦) طبرسی، مجمع البیان، شرکة المعارف الاسلامیہ، ١٣٧٩ھ.ق، ج٨، ص ٤٦.
ہے۔(١) اور جس دن خداسب کو جمع کرے گا اور پھر ملائکہ سے کہے گا کہ کیا یہ لوگ تمہاری ہی عبادت کرتے تھے۔ تو وہ عرض کریں گے کہ تو پاک و بے نیاز او رہمارا ولی ہے یہ ہمارے کچھ نہیں ہیں اور یہ جنات کی عبادت کرتے تھے اوران کی اکثریت انھیں پر ایمان رکھتی تھی۔(٢)
یہ بالکل واضح ہے کہ یہ سوال، استفہامی پہلو رکھتا ہے اور اس سے مجہول کا پتہ نہیں چل سکتا ہے کیونکہ خداوند عالم تمام چیزوں سے واقف ہے بلکہ اس سوال کا مقصد یہ ہے کہ حقائق فرشتوں کی زبان سے بیان ہوں تاکہ ان کی عبادت کرنے والوں کا سرجھکا رہے اور فرشتوں کے جواب سے بھی بات واضح ہوتی ہے کہ وہ اس بات سے راضی نہیں تھے کہ انسانوں کا ایک گروہ ان کی پرستش کرے۔ لیکن جنّات اس بات سے راضی تھے۔
بہرحال ان دو ناقابل دید موجودات کی پرستش، ثنوی آئین سے مشابہت رکھتی تھی کیونکہ وہ لوگ جنات کو باعث شر و اذیت اور فرشتوںکو سرچشمۂ نور اور رحمت و برکت سمجھتے تھے بعض عرب،رات کے وقت جب کسی درہ میں داخل ہوتے تھے تو کہتے تھے کہ اس سرزمین کے احمقوں کے شر سے ان کے بزرگ اور رئیس سے پناہ مانگتا ہوں۔(٣) اور عقیدہ رکھتے تھے کہ یہ بات کہنے سے ان کا بڑا جِن، احمقوں کے شر سے ان کو محفوظ رکھتا ہے ۔ اس بات کی تصدیق قرآن میں کلام خدا کے ذریعہ ہوئی ہے۔ ''اور یہ کہ انسانوں میں سے کچھ لوگ جنات کے بعض لوگوں کی پناہ ڈھونڈ رہے تھے تو انھوں نے گرفتاری میں اوراضافہ کرلیا''۔(٤)
______________________
(١) سورۂ انعام، ٦،آیت ١٠٠.
(٢) سورۂ سبا ، ٣٤،آیت ١٤۔ ٤٠.
(٣) اعوذ بعزیز ہذا الوادی من شر سفہاء قومہ (آلوسی، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ٢٣٢.
(٤)و ''انہ کان رجال من الانس یعوذون برجال من الجن فزادوہم رہقاً'' سورۂ جن،٧٢، آیت٦



۹
شہرمکہ کی ابتدائ تاریخ اسلام
دور جاہلیت سے وفات مرسل اعظم ۖ تک

شہرمکہ کی ابتدائ شہر مکہ کی تاریخ حضرت ابراہیم کے زمانے سے ملتی ہے کہ جب آپ حکم خدا سے اپنی زوجہ محترمہ ہاجرہ اور اپنے شیر خوار فرزند جناب اسماعیل کو شام لیکر آئے اور انھیں ایک خشک اور بے آب و گیاہ سرزمین میں لاکر ٹھہرا دیا۔(١) اور حکم و ارادۂ الٰہی سے آب زمزم ان دونوںکے لئے جاری ہوا(٢) اس کے بعد جنوب کے قبائل میں سے قبیلۂ جرہم (جو کہ قحطی اور خشک سالی کی بنا پر شمال کی جانب حرکت میں تھا) اس جگہ جاکر بس گیا۔(٣) جناب اسماعیل جوان ہوئے اور جرہمی قبیلہ کی لڑکی سے شادی کی.(٤) جناب ابراہیم خدا کی جانب سے مامور ہوئے کہ اپنے فرزند اسماعیل کی مدد سے کعبہ کی بنیاد ڈالیں(٥) چنانچہ کعبہ کی تعمیر کے ساتھ شہر مکہ کا قیام عمل میں آیا اور زمانے کے گزرنے کے ساتھ نسل اسماعیل وہاں بڑھنے لگی۔

دین ابراہیم کی باقی ماندہ تعلیمات جناب عدنان، عرب عدنانی ( عرب مکہ)کے جد اعلی اور حضرت محمدۖ کے بیسویں جد، جناب اسماعیل کی نسل سے تھے۔ اور حجاز، نجد، تہامہ میں رہنے والے عدنانی جناب اسماعیل(٦) کی اولاد، میں سے
______________________
(١) سورۂ ابراہیم، ١٤،آیت ٣٧.
(٢) ابن ہشام، السیرة النبویہ، (قاہرہ: مطبعة مصطفی البابی الحلبی، ١٣٥٥ھ.ق)، ج١، ص ٥٥ و ١١٦؛ ازرقی، تاریخ مکہ، تحقیق: رشدی الصالح ملحس (قم: منشورات الرضی، ١٣٦٩)، ج١، ص٥٥؛ تاریخ یعقوبی (نجف: المکتبة الحیدریہ، ١٣٤٨ھ.ق)، ج١، ص١٨؛ ابن رستہ، الاعلاق النفیسہ، ترجمہ: حسین قرہ چانلو (تہران: امیر کبیر، ١٣٦٥)، ص ٥١۔
(٣)ازرقی، گزشتہ حوالہ، ص ٥٧؛ مسعودی، مروج الذہب (بیروت: دار الاندلس، ط١، ١٩٦٥.)، ج٢، ص ٢٠.
(٤) تاریخ یعقوبی، ج١، ص ١٩؛ ازرقی، گزشتہ حوالہ، ص ٥٧.
(٥)سورۂ بقرہ،٢، آیت ١٢٧.
(٦) ایک تفسیر کی بنیاد پر سورۂ حج کی ٧٩ ویں آیت ''ملة ابیکم ابراہیم'' میںاسی مطلب کی طرف اشارہ ہوا ہے (طبرسی، مجمع البیان، ج٧، ص ٩٧.)
تھے جو برسوں سے شریعت ابراہیمی کی پیروی کرتے تھے۔ یعقوبی کے کہنے کے مطابق:
قریش اورجناب عدنان کی ساری اولادیںدین ابراہیمی کے بعض احکام کی پابند تھیں وہ لوگ کعبہ کی زیارت کیا کرتے تھے، حج کے اعمال بجالاتے تھے، مہمان نواز تھے، حرام مہینوں کا احترام کیا کرتے تھے برے کاموں سے پرہیز اور ایک دوسرے کے ساتھ قطع تعلق اور ظلم کو برا سمجھتے تھے اور بدکاروں کو سزا دیتے تھے۔(١)
سنت ابراہیمی اوران کی بچی ہوئی تعلیمات جیسے خدا پر اعتقاد ، محارم کے ساتھ شادی کی حرمت، حج و عمرہ اور قربانی کے اعمال، غسل جنابت(٢) ختنہ، میت کی تکفین و تدفین(٣) وغیرہ ظہور اسلام کے زمانہ تک اسی طرح ان کے درمیان رائج تھیں اور جسم کی نظافت او رزائد بالوں کے کاٹنے وغیرہ کے بارے میں موجودہ دس سنتوں کے وہ پابند تھے۔(٤) اسی طرح وہ چار مہینوں کا تقدس واحترام جو سنت ابراہیمی(٥) میں پایا جاتا تھا اس کا بھی وہ عقیدہ رکھتے تھے او راگر ان کے درمیان کسی وجہ سے کوئی جنگ یا خون خرابہ، ان مہینوں میں واقع ہو جاتا تھا تواسے ''جنگ فجار'' (ناروا اور گناہ آلودجنگ) کہا کرتے تھے۔(٦) اسی وجہ سے آئین توحید اس علاقہ کے عربوں کے درمیان بہت زمانہ سے پایا جاتا تھا اور بت پرستی بعد میں وہاں پر آئی ہے جوان کے دین توحیدی سے منحرف ہونے کا باعث بنی ۔
______________________
(١) تاریخ یعقوبی، ج١، ص ٢٢٤.
(٢) مجلسی، بحار الانوار، (تہران: دار الکتب الاسلامیہ)، ج١٥، ص ١٧٠؛ ہشام کلبی، الاصنام، ص ٦.
(٣) شیخ حرعاملی، وسائل الشیعہ (بیروت: دار احیاء التراث العربی، ط ٤،)، ج١، کتاب الطہارة ، ابواب الجنابہ حدیث ١٤، ص ٤٦٥؛ طبرسی، احتجاج (نجف: المطبعة المرتضویہ، ١٣٥٠ہ.ق)، ص ١٨٩.
(٤) شہرستانی، الملل و النحل (قم: منشورات الرضی)، ج٢، ص ٢٥٧.
(٥) طباطبائی ، المیزان (بیروت: موسسة الاعلمی للمطبوعات)، ج٩، ص ٢٧٢.
(٦) شہرستانی، گزشتہ حوالہ، ص٢٥٥؛ تاریخ یعقوبی، ج٢، ص ١٢.

عربوں کے درمیان بت پرستی کا آغاز مختلف دستاویزات اور شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ عربوں کے درمیان بت پرستی کے نفو ذ کا اصلی سرچشمہ اوران کے درمیان بت پرستی کے آغاز کے دو سبب تھے۔
الف: عمرو بن لُحیّ (قبیلۂ خزاعہ کا سردار)نام کا ایک شخص، جو کہ اپنے زمانہ میں مکہ میں بہت زیادہ با اثر و قدرت مند اور کعبہ کا متولی تھا۔(١) شام گیااور وہاں پر عمالقہ(٢) کے ایک گروہ سے اس کی ملاقات ہوئی جو بت پرست تھے۔ جب اس نے ان لوگوں سے بت پرست ہونے کی وجہ دریافت کی توان لوگوں نے کہا: یہ ہمارے لئے بارش نازل کرتے ہیں، ہماری مدد کرتے ہیں'' اس نے ان لوگوں سے ایک بت مانگا توان لوگوں نے اسے ''ھبل'' بت دیا اور وہ اسے لیکر مکہ آیا اور کعبہ میں نصب کردیا اور لوگوں سے کہا کہ اس کی عبادت کریں۔(٣)
______________________
(١) ازرقی، گزشتہ حوالہ، ج١، ص٨٨، ١٠٠، ١٠١؛ محمود آلوسی، بلوغ الارب فی معرفة احوال العرب (قاہرہ: دار الکتب الحدیثہ، ط٣)، ج٢، ص ٢٠٠؛ علی بن برہان الدین الحلبی، السیرة الحلبیہ (بیروت: دار المعرفہ)، ج١، ص١٦۔
(٢) عمالقہ، جناب نوح کے لڑکوںکا ایک گروہ تھاان کے جد عملاق یا عملیق کی مناسبت سے ان کا نام عمالقہ پڑا۔ (ابن ہشام، السیرة النبویہ، ج١، ص ٨ اور ٧٩؛ ابن کثیر، البدایہ والنہایہ، ج٢، ص ١٨٨؛ علی ابن برہان الدین الحلبی، السیرة الحلبیہ، ج١، ص١٧.
(٣) آلوسی، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ٢٠١؛ شہرستانی، گزشتہ حوالہ، ص ٢٤٣؛ علی بن برہان الدین الحلبی، گزشتہ حوالہ، ص١٧؛ تاریخ یعقوبی، ج٢، ص ٢٢٤؛ شہاب الدین الابشہی، المستطرف (بیروت: دار احیاء التراث العربی)، ج٢، ص٨٨؛ مسعودی، مروج الذہب (بیروت: دار الاندلس،ط١)، ج٢، ص ٢٩؛ ہشام کلبی، الاصنام، ترجمہ: سید محمد رضا جلالی نایینی، ١٣٤٨)، ص٧؛ محمد بن حبیب، المنمق فی اخبار قریش، تحقیق: خورشید احمد فارق (بیروت: عالم الکتب، ط١، ١٤٠٥ھ.ق)، ص ٣٢٨۔ بعض منابع میں آیا ہے کہ وہ ''ہبل'' کو عراق سے لایا تھا۔ (ازرقی، اخبار مکہ، ج١، ص١١٧؛ ابن ہشام، السیرة النبویہ، ج١، ص ٧٩؛ ابن کثیر، البدایہ والنہایہ، ج٢، ص ١٨٨۔ لیکن ایک روایت کے مطابق، ھبل بت کا پتھر ''مأزمین'' (عرفات و مشعر کے درمیان ایک گزرگاہ ہے)، سے لیا گیا تھا، اور یہی وجہ ہے کہ پیغمبر اسلامۖ اس جگہ سے گزرتے تھے تو اظہار نفرت کرتے تھے (محمد بن حسن حر عاملی، وسائل الشیعہ، بیروت: دار احیاء التراث الاسلامی، ج١٠، کتاب الحج، باب استحباب التکبیر بین المأزمین) ص ٣٦، حدیث١.)
اس کے علاوہ دو بت ''اساف''(١) اور ''نائلہ'' کو بھی اس نے کعبہ کے پہلو میں رکھ دیا اور لوگوں کو ان کی پرستش کے لئے ابھارا اور ورغلایا(٢)اور اس طرح سے عرب میں بت پرستی کی بنیاد پڑی۔
پیغمبر اسلامۖ سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: عمرو بن لحی پہلا وہ شخص تھا جس نے دین اسماعیل میں تحریف کی اور بت پرستی کی بنیاد ڈالی۔ اور میں نے ا سکو آتش جہنم میں دیکھا ہے۔(٣)
ب: جب جناب اسماعیل کی نسل مکہ میں کافی بڑھ گئی تو وہ لوگ مجبور ہوکر ذریعہ معاش کی تلاش میں دوسرے شہروں اور علاقوں کی طرف کوچ کرگئے۔ او رچونکہ انھیں مکہ او رحرم سے بہت لگاؤ اور محبت تھی لہٰذا کوچ کرتے وقت ان میں سے ہر ایک نشانی اور یادگار کے طور پر حرم کا ایک پتھر اپنے ساتھ لے گیا اور جہاں پر جاکر وہ بسے اس کو ایک گوشہ میں رکھ کر (کعبہ کے گرد طواف کے مانند) اس کے گرد طواف کرتے تھے۔ اور آہستہ آہستہ وہ اپنے اصلی جذبہ اور لگاؤ اور ہدف کو بھولتے گئے اور سارے پتھر ایک بت کی شکل میں تبدیل ہوگئے او رپھر نوبت یہ آگئی کہ جس پتھر کو وہ پسند کرتے تھے اسی کی پرستش کرنے لگتے تھے اوراس طرح وہ اپنے سابقہ آئین کو بھول گئے۔(٤)
البتہ اس علاقہ میں بت پرستی کے نفوذ کے لئے یہ دونوں اسباب نقطۂ آغاز قرار پائے ہیں ورنہ دوسرے عوامل جیسے جہل، حس گرائی (جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کا خدا ملموس اور محسوس
______________________
(١) اساف کو ہمزہ کے زبر اور زیر دنوں طرح سے لکھا گیا ہے۔ (ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٨٤۔
(٢) ازرقی، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٨٨؛ شہرستانی، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ٢٤٣ اور ٣٤٧.
(٣) ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ص ٧٩؛ علی بن برہان الدین، گزشتہ حوالہ، ص ١٧؛ ابن عبد البر، الاستیعاب، (درحاشیہ الاصابہ)، ج١، ص ١٢٠، شرح حال اکثم بن جون خزاعی؛ابن اثیر، اسد الغابة (تہران: المکتبة الاسلامیہ)، ج٤، ص٣٩٠؛ شیخ محمد تقی التستری، الاوائل، ط١، ص ٢١٧؛ ابی الفدا اسماعیل بن کثیر، السیرة النبویہ(قاہرہ: مطبعة عیسی البابی الحلبی، ١٣٨٤ھ.ق)، ج١، ص٦٥؛ ازرقی، گزشتہ حوالہ، ص ١١٦۔
(٤) آلوسی، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ٢٢٠؛ المستطرف، ج٢، ص ٨٨؛ ابی الفداء اسماعیل بن کثیر، السیرة النبویہ، ج١، ص ٦٢؛ البدایہ و النہایہ (بیروت: مکتبة المعارف)، ج٢، ص ١٨٨؛ ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ج١، ص٧٩؛ طباطبائی، المیزان، ج١٠، ص ٢٨٦۔
(مادی)،ہو۔(١) قبیلہ جاتی اختلافات اور کشمکش، (ہر قبیلہ چاہتا تھا کہ اپنی لئے ایک الگ بت قرار دے) قبائل کے رئیسوں اور بزرگوں کی جاہ طلبی (وہ چاہتے تھے کہ عوام اسی طرح جہالت اور گمراہی میں پڑی رہے تاکہ وہ اچھی طرح سے حکمرانی کرسکیں) اور آخرکار گزشتہ لوگوں کی اندھی تقلید اس کی ترویج میں معاون ثابت ہوئی اور آہستہ آہستہ بت پرستی کی مختلف صورتیں اور عبادت کے مختلف طریقے، نذر و نیاز اور ان سے استمداد کے بے شمار طریقے انجام پانے لگے(٢) اور بتوں کی تعداد میں اس طرح سے اضافہ ہونے لگا کہ ہر گھر میںایک بت پایا جانے لگا۔(٣) جس سے وہ سفر کے موقع پر برکت حاصل کرتے تھے اوراسے مس کرتے تھے فتح مکہ کے موقع پر ٣٦٠ بت اس شہر میں موجود تھے۔(٤)

کیا بت پرست، خدا کے قائل تھے؟ بت پرست ''اللہ'' کے منکر نہیں تھے اور جیسا کہ قرآن نے نقل کیا ہے کہ یہ لوگ بھی خدا کو، زمین و آسمان اور اس جہان کاخالق سمجھتے ہیں۔(٥) لیکن یہ دو بڑی خطاؤں کے مرتکب ہوگئے تھے جوان کی
______________________
(١) طباطبائی، المیزان، ج١٠، ص ٢٨٦۔
(٢) سورۂ انعام، آیت ١٣٨، ١٣٩؛ سورۂ مائدہ، آیت ٣، ٩٠، ١٠٣، ہشام کلبی، الاصنام، ص ٢٨۔
(٣) کلبی، گزشتہ حوالہ، ص ٣٢۔
(٤) شیخ طوسی، الامالی، (قم: دار الثقافہ، ط١، ١٤١٤ھ.ق)، ص ٣٣٦؛ آلوسی، بلوغ الارب، ج٢، ص ٢١١؛ ازرقی، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ١٢١؛ السیرة الحلبیہ، ج٣، ص ٣٠؛ رجوع کریں: المیزان، ج٢٦۔ امام رضا کی ایک روایت کی مطابق۔
(٥) اگر ان سے پوچھئے: کہ کس نے زمین و آسمانوں کو پیدا کیا ہے؟ تو یقینا وہ کہیں گے خدا نے (سورۂ لقمان، آیت ٢٥، سورۂ زمر، آیت ٣٨، زخرف، آیت٩، اور اگر آپ ان سے سوال کریں گے کہ خود ان کا خالق کون ہے تو کہیں گے کہ اللہ (زخرف، آیت٨٧، پیغمبر ذرا ان سے پوچھئے کہ تمہیں زمین و آسمان سے کون رزق دیتا ہے اور کون تمہاری سماعت و بصارت کا مالک ہے اور کون مردہ سے زندہ اور زندہ سے مردہ نکالتا ہے اور کون سارے امور کی تدبیر کرتا ہے تو یہ سب یہی کہیں گے کہ اللہ! (یونس آیت٣١.)

گمراہی کی اصلی جڑ تھی۔ ١۔ اللہ اور اس کی صفات کے بارے میں غلط شناخت؛ وہ لوگ خدا کے بارے میں مبہم او رگنگ ذہنیت رکھتے تھے ۔ اور اس بات کی شہادت اس سے ملتی ہے کہ وہ خدا کے لئے بیوی اور بچوں کے قائل تھے۔ وہ فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں تصور کرتے تھے یعنی خدا کے لئے انسان اور دوسرے جانداروں کی طرح جسم او رمادہ اور زاد و ولد کے قائل تھے۔ خداوند عالم نے ان کے غلط خیال کی متعدد آیات میں مذمت فرمائی ہے: ''اوران لوگوں نے ان ملائکہ کو جو رحمان کے بندے ہیں لڑکی قرار دیدیا ہے کیا یہ ان کی خلقت کے گواہ ہیں تو عنقریب ان کی گواہی لکھ لی جائے گی اور پھر اس کے بارے میں سوال کیاجائے گا''۔(١)
''بیشک جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہیں وہ ملائکہ کے نام لڑکیوں جیسے رکھتے ہیں''۔(٢)
''اور مشرکوںنے یہ کہنا شروع کردیا کہ اللہ نے کسی کو اپنا فرزندبنالیا ہے حالانکہ وہ اس امر سے پاک و پاکیزہ ہے بلکہ وہ سب اس کے محترم بندے ہیں''۔(٣)
اس کے لئے بغیر جانے بوجھے بیٹے اور بیٹیاں بھی تیار کردی ہیں۔ جب کہ وہ بے نیاز اوران کے بیان کردہ اوصاف سے کہیں زیادہ بلند و بالا ہے۔
وہ زمین و آسمان کا ایجاد کرنے والا ہے۔ اس کے اولاد کس طرح ہوسکتی ہے اس کی تو کوئی بیوی بھی نہیںہے اور وہ ہر شے کا خالق ہے اور ہر چیز کا جاننے والا ہے''۔(٤)
''اور ہمارے رب کی شان بہت بلند ہے اس نے کسی کو اپنی بیوی بنایا ہے نہ بیٹا''۔(٥)
______________________
(١) سورۂ زخرف، آیت ١٩.
(٢) سورۂ نجم، آیت ٢٧.
(٣) سورۂ انبیاء ، آیت ٢٦.
(٤) سورۂ انعام، آیت ١٠١۔ ١٠٠.
(٥) سورۂ جن، آیت ٣.
اس کے علاوہ خداوند عالم نے متعدد آیات میں مشرکوں کی مذمت فرمائی ہے کہ چونکہ وہ لڑکیوں کو برا سمجھتے تھے لہٰذا اسے خدا کی جانب منسوب کرتے تھے اور لڑکوں کواچھا سمجھتے تھے لہٰذا اسے اپنی طرف منسوب کرتے تھے''
کیاخدا کے لئے لڑکیاںاور تمہارے لئے لڑکے ہیں!۔(١)
''پھر اے پیغمبر! ان کفار سے پوچھئے کہ کیاتمہارے پروردگار کے لئے لڑکیاںہیںاور تمہارے لئے لڑکے ہیں؟ یا ہم نے ملائکہ کو لڑکیوں کی شکل میں پیدا کیاہے اور یہ اس کے گواہ ہیں؟''۔(٢)
''کیا تم لوگوں نے لات او رعزی کودیکھا ہے او رمنات جو ان کا تیسرا ہے اسے بھی دیکھا ہے تو کیا تمہارے لئے لڑکے ہیں اور اس کے لئے لڑکیاںہیں یہ انتہائی ناانصافی کی تقسم ہے یہ سب وہ نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے طے کر لئے ہیں۔(٣)
''سچ بتاؤ کیاخدانے اپنی تمام مخلوقات میں سے اپنے لئے لڑکیوں کو منتخب کیاہے اور تمہارے لئے لڑکوں کو پسند کیا ہے؟''۔(٤)
''اور انھوں نے خدا اور جنات کے درمیان بھی رشتہ قرار دیدیا حالانکہ جنّات کو معلوم ہے کہ انھیں بھی خدا کی بارگاہ میں حاضر کیا جائے گا،خدا ان سب کے بیانات سے بلند و برتر او رپاک و پاکیزہ ہے''۔(٥)
ایک تفسیر کی بنا پر خداوند عالم کی جِنّ سے نسبت او ررشتہ داری اس بنا پر تھی کہ وہ خیال کرتے تھے کہ خدا نے جنات کے ساتھ شادی کر رکھی ہے اور فرشتے (اس شادی کا نتیجہ اور ثمرہ ہیں) اس کی اولاد ہیں۔(٦)
______________________
(١) سورۂ طور، آیت ٣٩.
(٢) سورۂ صافات، آیت ١٥٠۔ ١٤٩.
(٣)سورۂ نجم، آیت ٢٣۔ ١٩؛ لات ، عزیٰ اور منات تین بتوں کے نام تھے جن کو گویا وہ فرشتوں کا روپ سمجھتے تھے چونکہ تینوں نام مونث ہیں (رجوع کریں: تفسیر نمونہ، ج٢٢، ص ٥١٨).
(٤) سورۂ زخرف، آیت ١٦.
(٥) سورۂ صافات، آیت ١٥٩۔ ١٥٨.
(٦) سیوطی، الدر المنثور، ج٧، ص ١٣٣؛ ابن کثیر ، تفسیر، ج٤، ص ٢٣؛ طبرسی، مجمع البیان، ج٨، ص ٤٦٠۔
٢۔ یہ بتوں کو چھوٹا خدا او راپنے اور اللہ کے درمیان واسطہ بتاتے ہیں اور ان کی عبادت کو خدا کی بارگاہ میں قرب اور رضایت کا باعث سمجھتے تھے۔ جبکہ عبادت صرف اللہ سے مخصوص ہے۔
دوسری طرف سے اگرچہ بتوں کو دنیا کا ''خالق'' نہیں سمجھتے تھے لیکن ان کے لئے ایک قسم کی ربوبیت اور عالم ہونے کے مرتبہ کے قائل تھے اور ان کودنیا کے امور کی تدبیر میں اور انسان کے تقدیر میں موثر جانتے تھے اور اپنی مشکلات اور پریشانیوں کے دور ہونے کے لئے ان سے مدد مانگتے تھے۔ جبکہ اسلام کی نظر میں جس طرح دنیاکاخالق ''اللہ'' ہے اورامور دنیا کی تدبیر (توحید افعالی)بھی صرف اسی کے ہاتھ میںہے(١) اور بت، بے جان اور ناقابل فہم وارادہ موجودات ہیں۔
قرآن مجید ان کے بے بنیاد خیالات کو نقل کر کے، اس طرح ان کی مذمت کرتا ہے:
''اور یہ لوگ خدا کو چھوڑ کر ان کی پرستش کرتے ہیں جو نہ نقصان پہنچاسکتے ہیں او رنہ فائدہ اور یہ لوگ کہتے ہیں: یہ خدا کے یہاں ہماری سفارش کرنے والے ہیں تو آپ کہہ دیجئے کہ کیا تم لوگ خدا کواس بات کی اطلاع دے رہے ہو جس کا علم اسے آسمان و زمین میں کہیں نہیں ہے وہ پاک و پاکیزہ ہے اور ان کے شرک سے بلند و برتر ہے''۔(٢)
''آگاہ ہو جاؤ کہ خالص بندگی صرف اللہ کے لئے ہے او رجن لوگوں نے اس کے علاوہ سرپرست بنائے ہیں یہ کہہ کر کہ ہم ان کی پرستش صرف اس لئے کرتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ سے قریب
______________________
(١) ۔ ''و قل الحمد للہ الذی لم یتخذ ولدأًولم یکن لہ شریک فی الملک و لم یکن لہ ولی من الذل و کبرہ تکبیراً۔'' (سورۂ اسرائ، آیت ١١١(، ''قل اللہم مالک الملک تؤتی الملک من تشاء و تنزع الملک ممن تشاء و تعز من تشاء و تذل من تشاء بیدک الخیر انک علی کل شیء قدیر۔'' (آل عمران، آیت ٢٦.)
(٢) سورۂ یونس،(١٠) آیت ١٨( وَیَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اﷲِ مَا لاَیَضُرُّہُمْ وَلاَیَنْفَعُہُمْ وَیَقُولُونَ ہَؤُلَائِ شُفَعَاؤُنَا عِنْدَ اﷲِ قُلْ َتُنَبِّئُونَ اﷲَ بِمَا لاَیَعْلَمُ فِی السَّمَاوَاتِ وَلاَفِی الَْرْضِ سُبْحَانَہُ وَتَعَالَی عَمَّا یُشْرِکُونَ )
کردیںگے۔ اللہ ان کے درمیان تمام اختلافی مسائل میں فیصلہ کردے گا کہ اللہ کسی بھی جھوٹے اورناشکری کرنے والے کو ہدایت نہیں دیتا ہے''۔(١)
''خدائے یکتا کے بجائے انھوں نے دوسرے خداؤں کواختیار کر لیا تاکہ ان کی عزت کا سبب بنے''(٢)
''اوران لوگوںنے خداکو چھوڑ کر دوسرے خدا بنالئے ہیں کہ شایدان کی مدد کی جائے''۔(٣)
اسی بنا پر بت پرست، عبادت اورامور عالم کی تدبیر میں بتوں کو خدا کا شریک قرار دیتے ہیں اور قرآن مجید ان کو ''مشرک'' قرار دیتا ہے۔

پریشان کن مذہبی صورتحال بہرحال ظہور اسلام کے وقت، بت پرستی وسیع پیمانے پر اپنی تمام صورتوں اور پہلوؤں کے ساتھ حنیفیت کے چہرے کو مسخ کرچکی تھی۔اور دینی لحاظ سے مشرکین کی بہت بری حالت ہوچکی تھی ایک طرف سے بت پرست بت پرستی اور اس کے رسومات کے سختی سے پابند تھے اور دین ابراہیم کی بچی ہوئی تعلیمات جیسے حج، عمرہ اور قربانی کو ناقص ،تحریف شدہ ،خرافات او رشرک آمیز باتوں سے آمیختہ شکل میں انجام دیتے تھے مثلاً کعبہ کی تعظیم کے ساتھ دوسری بھی عبادت گاہیں بنا رکھی تھیں کہ جہاں کعبہ کی طرح طواف کرتے تھے اور ان کے لئے ہدیہ بھیجتے تھے او روہاں پر قربانی کرتے تھے۔(٤)کعبہ کے پاس ان کی نمازیں صرف شور و غل او رتالی بجاکر ہوتی تھیں۔(٥) قبیلۂ قریش والے احرام حج اور ''لبیک''
______________________
(١) سورۂ زمر،(٣٩)(َلاَلِلَّہِ الدِّینُ الْخَالِصُ وَالَّذِینَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِہِ َوْلِیَائَ مَا نَعْبُدُہُمْ ِلاَّ لِیُقَرِّبُونَا ِلَی اﷲِ زُلْفَی ِنَّ اﷲَ یَحْکُمُ بَیْنَہُمْ فِی مَا ہُمْ فِیہِ یَخْتَلِفُونَ ِنَّ اﷲَ لاَیَہْدِی مَنْ ہُوَ کَاذِب کَفَّار )آیت ٣۔
(٢) سورۂ مریم، (١٩)( وَاتَّخَذُوا مِنْ دُونِ اﷲِ آلِہَةً لِیَکُونُوا لَہُمْ عِزًّا)آیت ٨١.
(٣) سورۂ یٰس،(٣٦)( وَاتَّخَذُوا مِنْ دُونِ اﷲِ آلِہَةً لَعَلَّہُمْ یُنصَرُونَ )آیت ٧٤.
(٤) ابی الفداء اسماعیل بن کثیر، السیرة النبویہ (قاہرہ: مطبعة عیسی البابی الحلبی، ١٣٨٤ھ۔ق)، ج١، ص٧؛ ابن ہشام، السیرة النبویہ، (قاہرہ: مطبعة مصطفی البابی الحلبی، ١٣٥٥ھ.ق)، ج١، ص ٨٥.
(٥) سورۂ انفال، آیت ٣٥۔
کہتے وقت خدا کے نام کے ساتھ بتوں کا نام لیتے تھے۔(١)
اور اس طرح سے حج ابراہیمی کو جو کہ توحید کا عالی ترین نمونہ ہے شرک سے آلودہ کرتے تھے۔ دو قبیلے اوس او رخزرج، حج کے اعمال انجام دینے کے بعد، منیٰ میں جاکر سرمنڈوانے کے بجائے اپنے شہر (یثرب) کی جانب ''بت منات'' (جو کہ مکہ کے راستے میں دریا کے کنارے پر واقع ہے)،(٢) کے پاس سرمنڈاتے تھے۔(٣) مشرکین (خواہ مرد ہوں یا عورت) کعبہ کا برہنہ طواف کرتے تھے۔(٤) ظاہر ہے کہ کعبہ کے پا س لوگوں کے سامنے اس طرح کے اعمال کا کتنا برا منظر رہتا رہاہوگا۔
قریش اپنے بتوں کو کعبہ کے پاس رکھتے تھے اوراسے مشک وعنبرسے معطر کرتے تھے اور ان کے سامنے سجدہ کرتے تھے پھر اس کے چاروں طرف جمع ہوکر لبیک کہتے تھے۔(٥) اگرچہ وہ ظاہری طور پر چار مہینوں کی حرمت کا خیال کرتے تھے لیکن اپنے کواس حکم سے آزاد رکھنے کے لئے ان مہینوں کے نام او رظاہری لحاظ سے ان کو تبدیل کرکے حرام مہینوں کو بعد میں کردیتے تھے۔(٦)
______________________
(١) لبیک اللہم لبیک، لاشریک لک لبیک الا شریک ہو لک تملکہ و ما ملک۔ (ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ص ٨٠؛ ابن کثیر، گزشتہ حوالہ، ص ٦٣؛ شہرستانی، الملل و النحلل، ج٢، ص ٢٤٧؛ ابن کثیر البدایہ والنہایہ، ج٢، ص ٨٨.)
(٢) ہشام کلبی، الاصنام، ترجمہ: سید محمد رضا جلالی نایینی، ١٣٤٨، ص ١٣؛ ابن ہشام، السیرة النبویہ، ج١، ص ٨٨؛ آلوسی٧ بلوغ الارب، ج٢، ص ٢٠٢۔
(٣) ہشام کلبی، گزشتہ حوالہ، ص ١٤۔
(٤) ازرقی، اخبار مکہ، ج١، ص ١٧٨ اور ١٨٢؛ آلوسی، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٢٤٤؛ صحیح مسلم بشرح النووی، ج١٨، کتاب التفسیر، ص ١٦٢۔
(٥) طباطبائی، تفسیر المیزان، ج ١٤، ص ٤١٤۔
(٦)سورۂ توبہ،٩، آیت ٣٧؛ ازرقی، اخبار مکہ، ج١، ص ١٨٣؛ ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٤٥.



۱۰
ظہور اسلام کی روشنی میں بنیادی تبدیلی تاریخ اسلام
دور جاہلیت سے وفات مرسل اعظم ۖ تک

ظہور اسلام کی روشنی میں بنیادی تبدیلی ظہور اسلام اور روز بروز اس کے فروغ کے ساتھ اہل حجاز کی زندگی کے تمام پہلوؤں میں گہری او روسیع پیمانہ پر تبدیلی رونما ہوئی۔اور ایک مکمل انقلاب اور تبدیلی پیدا ہوئی۔ اور آہستہ آہستہ اس کے اثرات جزیرة العرب کے چاروں طرف پھیل گئے۔
پیغمبر اسلامۖ نے اپنی مسلسل او رپیہم جنگ کے ذریعہ اس بت پرستی کو جوان کی تمام بدبختیوں کی جڑ تھی، اکھاڑ پھینکااور نظام توحیدکوا س کی جگہ پر پیش کیااور قبائلی اور قومی نظام نیز غلط رسم و رواج کوختم کردیااور قومی عصبیت کو مٹا کر اس کی جگہ پر حق و عدل کی تعلیم دی۔ جذبۂ انتقام اور قبائلی قتل و غارت کو صلح و آشتی میں بدل دیااور مسلمانوں کو ایک دوسرے کا بھائی بنادیا۔عورت کو قید و بدبختی سے نجات دلائی اور اسے سماج میں بلند مقام عطا کیا۔اور جاہل عوام سے آگاہ امتی بنا دیا۔
قبائلی نظام کے بدلے، امت اور امامت کا نظام قائم کیا اورعرب کے بکھرے اور پراگندہ قبائل کو ''ایک امتی'' بنادیا۔ان کو قبائلی زندگی کے تنگ دائرہ سے نکال کر عالمی نظام کی طرف راہنمائی فرمائی۔ اور اسلام کی روشنی میں قوم عرب کوایسی عظمت و طاقت بخشی کہ دو عظیم حکومتوں کی بنیادوں کوہلاکر رکھ دیا اور یہ بات اتنی واضح اور روشن تھی کہ غیر مسلم مصنفوں اور دانشوروں نے بھی اس کا اعتراف کیا ہے۔ بطور نمونہ ان میں سے تین لوگوں کے خیالات یہاں پر پیش کر رہے ہیں:
ڈاکٹر گوستاد لوبون فرانسوی کہتا ہے: ''پیغمبر اسلامۖ کا ایک عظیم معجزہ یہ تھا کہ انھوں نے اپنی وفات سے قبل عرب کے پراگندہ قافلے کوایک جگہ جمع کردیااور اس سرگرداں اور پریشان کاروان سے، ایک ملت کی تشکیل دی اور اس طرح سب کو ایک دین کے سامنے تسلیم کے ساتھ ایک پیشوا اور رہبر کا مطیع اور فرمانبردار بنادیا...
اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت محمد ۖ نے اپنی زحمتوں سے ایسے نتائج حاصل کئے کہ اسلام سے قبل کوئی بھی دین خواہ وہ یہودیت ہو یا عیسائیت کسی نے ایسے نتائج نہیں حاصل کئے ۔ اور اسی وجہ سے آنحضرتۖ کا عربوں کی گردن پر بہت بڑا حق ہے۔اگر ہم چاہیں کہ کسی ذات کی قدر واہمیت کا اندازہ اس کے کردار او ر نیک آثار کے ذریعہ لگائیں توقطعی اور مسلم طور سے حضرت محمد ۖ سب سے عظیم مرد تاریخ قرار پائیں گے ۔ ہم اس عظیم دین کو جسے آپ لیکر آئے اور لوگوں کواس کی طرف دعوت دی، اس کے ماننے والوں کے لئے خدا کی جانب سے عظیم نعمت سمجھتے ہیں۔(١)
توماس کار لایل انگریز کہتا ہے: خداوندعالم نے عرب کواسلام کے ذریعہ، تاریکی سے اجالے اور روشنی کی طرف ہدایت فرمائی اور اس کی روشنی میں عرب کی خاموش قوم کواس مردہ سرزمین پر زندہ کردیا، جبکہ عرب آغاز خلقت سے بے نام و نشان صحراوؤں میں، تہی دست تھے جودیہاتوں میں زندگی بسر کرتے تھے نہ ان کی آواز سنائی پڑتی ہے اور نہ ہی ان کی طرف سے کوئی حرکت اور جنبش نظر آتی ہے۔ خداوند عالم نے جس وقت ایک پیغمبر کونور وحی اور رسالت کے ساتھ ان کی ہدایت کے لئے بھیجا توان کی گمنامی کو شہرت میںاور ان کی حیرت او ر سرگردانی کو بیداری میں اوران کی پستی و حقارت کو سربلندی میں اور عاجزی و ناتوانی کو قدرت مندی میں تبدیل کردیا۔ اس کا نور جہاں چمکا اس کی روشنی سے وہاں کی جگہ منور ہوگئی اوراس کی ہدایت کی روشنی دنیا کے مشرق و مغرب اور شمال و جنوب تمام ستموں میں اس طرح پھیل گئی کہ ظہور اسلام کو ایک صدی بھی نہیں گزری تھی کہ اسلامی حکومت نے اپنا ایک قدم ہندوستان اور دوسرا قدم اسپین میں رکھ دیا۔(٢)
ویل ڈورانٹ لکھتا ہے: اس وقت کسی نے خواب بھی نہیں دیکھا تھاکہ ایک صدی بعد، یہ خانہ بدوش حکومت روم کے ماتحت رہنے والے علاقے نصف ایشا، پورے ایران، مصر اور شمال افریقا کا زیادہ تر علاقہ فتح کر کے، اسپین کی طرف بڑھ جائیں گے۔ سچ ہے کہ یہ تاریخی سورج جو عربستان
______________________
(١) تمدن اسلام او رغرب، ترجمہ: سیدہاشم رسولی (تہران: کتابفروشی اسلامی)، ص ١٣٠۔ ١٢٨.
(٢) الابطال، عربی ترجمہ: محمد السباعی کے قلم سے (قاہرہ: ط٣، ١٣٤٩ھ.ق)، ٩.
سے طلوع ہوا تھا اس کے ذریعہ عرب مڈیٹرانہ کے نصف علاقے پر مسلط ہوگئے اوردین اسلام کو وہاں پر پھیلانا، قرون وسطیٰ کے حیرت انگیز اجتماعی واقعات میں سے ہے۔(١)

شہر مکہ کی توسیع او رمرکزیت پہلے یہ بیان کرچکے ہیں کہ جزیرة العرب کے زیادہ تر لوگ زمانۂ جاہلیت میں بادیہ نشین اور صحرا نورد ہوتے تھے۔ کیونکہ شہر نشینی حجاز کے علاقہ میں زیادہ رائج نہیںتھی اس علاقہ میں آبادیوں کے لحاظ سے جسے شہر کہا جاتا تھا درحقیقت وہ چھوٹے شہر ہوا کرتے تھے ۔ جس میں زیادہ آبادی نہیںہوا کرتی تھی۔ بعض معاصر مورخین اس علاقہ کے شہر نشینوں کی آبادی کو ١٦ (٢) اور بعض دوسرے مورخین پوری آبادی کا ١٧ فیصد(٣) حصہ سمجھتے تھے ۔ اس محاسبہ کا اصول واضح نہیںہے لیکن یہ بات مسلّم ہے کہ شہر نشینوں کی آبادی کا تناسب فیصد کے لحاظ سے بہت کم ہوا کرتا تھا۔ان میں سے صرف شہر مکہ میں جو حجاز کے جنوبی علاقہ (بحر احمر سے تقریباً ٨٣... کلو میٹر کے فاصلہ پر واقع ہے) میں ایک اہم شہر تھا، ظہور اسلام سے چند صدی قبل اس میں توسیع ہوئی اور آہستہ آہستہ وہاں بہت سارے لوگ آکر بس گئے ۔
مکہ کی توسیع کے دو اسباب تھے:

الف: تجارتی مرکز: چونکہ شہر مکہ ایک خشک و بے آب و گیاہ اور سنگلاخ علاقہ میں واقع ہے لہٰذا زراعت یا کارخانے اور فیکٹریوں کے لگانے کے امکانات اور وسائل وہاں مہیا نہیں تھے
______________________
(١)ویل ڈورانٹ، تاریخ تمدن، ج٤، عصر ایمان، (بخش اول)، ترجمہ: ابوطالب صارمی (تہران: سازمان انتشارات و آموزش انقلاب اسلامی، ط٢، ١٣٦٨، ص ١٩٧.
(٢) ویل ڈورانٹ، گزشتہ حوالہ، ص ٢٠٠.
(٣) فیلیپ حتی، تاریخ عرب، ترجمہ: ابوالقاسم پایندہ، ١٣٤٤، ج١، ص ١٢٥.
وہاں کے لوگ قدیم زمانے سے مجبور تھے کہ اپنی زندگی، تجارت کے ذریعہ چلائیں۔ لیکن ان کی تجارت صرف مکہ تک محدود تھی۔(١)
عرب کے علاوہ دوسرے تاجر اپنے مال کو مکہ میں لاکر بیچتے تھے۔ تجارتی مال شہر کے تاجروں کے ذریعہ خریدا جاتاتھا اور پھر شہر میں بیچا جاتا تھا۔(٢) یا جزیرة العرب کے اندر فصلی بازار میں لیجا کر وہ بیچتے تھے۔ یہاں تک کہ جناب ہاشم (پیغمبر اسلامۖ کے دوسرے جد) نے امیر شام (جوکہ حکومت روم کا پٹھو تھا) کے ساتھ ایک پیمان باندھا، تاکہ مکہ کے تجار آزادی کے ساتھ اس ملک سے آمد و رفت کرسکیں۔(٣)
اس کے علاوہ انھوں نے ایسے قبائل سے پیمان باندھا جو شام کے راستے میں واقع تھے تاکہ مکہ کے تجارتی قافلوں سے تعرض نہ کریں اور ان سے عہدکیا کہ ان کی اشیاء تجارتی بغیر کرایہ لئے ہوئے تجار مکہ کے توسط سے محل تجارت تک پہنچائی جائیں گی ۔(٥) اور آپ کے بھائیوں (عبد الشمس، نوفل اور مطلب) نے بھی اسی طرح کے عہد و پیمان ، حاکم حبشہ، شہنشاہ ایران(٦) اور شہنشاہ یمن(٧) کے ساتھ کئے۔
راستوں کی امنیت کے بعد، جناب ہاشم نے یمن اور شام میں تجارتی خطوط کی بنیاد ڈالی(٨) کہ
______________________
(١) ابن واضح، تاریخ یعقوبی، (نجف: مکتبة الحیدریہ، ١٣٨٤ھ.ق)، ج١، ص ٢١٥.
(٢) محمد بن حبیب بغدادی، المنمق فی اخبار قریش، تحقیق: خورشید فارق (بیروت: عالم الکتب ، ط ١، ١٤٠٥ھ.ق)، ص ٤٢
(٣) ابن واضح، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٢١٤.
(٤) گزشتہ حوالہ، ص ٢١٣.
(٥) ابن سعد، طبقات الکبریٰ، (بیروت: دار صادر)، ج١، ص ٧٨.
(٦) ابن واضح ، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٢١٥.
(٧) محمد بن جریر طبری، تاریخ الامم و الملوک (بیروت: دار قاموس الحدیث)، ج٢، ص ١٨٠؛ ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، (بیروت: دار صادر)، ج٢، ص١٦.
(٨) طبری، گزشتہ حوالہ، ص ١٨٠؛ ابن ہشام، السیرة النبویہ، (قاہرہ: مطبعہ مصطفی البابی الحلبی، ١٣٥٥ھ.ق)، ج١، ص ١٤٣.
جس کا حلقۂ اتصال مکہ تھا،جو ان دو تجارتی مرکز کے نصف راستے میں واقع تھے۔(٢) اس طرح سے قریش نے دوسرے ممالک کے ساتھ تجارت کا آغاز کیا۔(٣) اس وقت سے مکہ کے تجار، فصلی بازاروں جیسے ''عکاظ، ذوالمجاز اور مجنہ'' میں شرکت کرنے کے علاوہ جاڑے کی فصل میں یمن، حبشہ اور گرمی کی فصل میں شام اور غزہ کا سفر کرتے تھے۔
وہ لوگ ان مسافرتوں میں عطریات، بخور، ریشمی لباس، چمڑا اور دوسروں چیزوں کوجو ہندوستان، چین اور دوسرے علاقوں سے یمن میں آیا کرتی تھیں خرید کر خشکی کے راستے سے تمام جزیرة العرب میںحضر موت کے راستہ بحراحمر(٤) کے سامنے سے ہوتے ہوئے مکہ میںلایا کرتے تھے پھر غزہ، بیت المقدس، دمشق اور بحر مڈیٹرانہ کی بندرگاہ تک پہنچایا کرتے تھے۔اور شام کے بازاروں سے گیہوں، تیل، زیتون، لکڑی، اور ریشم کی بنی ہوئی چیزوں کو خریدتے تھے۔ اسی طرح سے جدہ کی بندرگاہ کے ذریعہ (جوکہ مکہ سے ٨٠ کلو میٹر کے فاصلہ پر ہے) بحر احمر کو عبور کر کے حبشہ میں داخل ہوتے تھے اور اس طرح علاقائی چیزوں کودوسری جگہ لیجاتے تھے۔(٥)
اس تجارتی راہ کے کھلنے سے، شہر مکہ ، ایک پر منفعت تجارتی مرکز میں تبدیل ہوگیا اور وہاں کے رہنے والوں کی زندگی میں بڑی تبدیلی رونما ہوئی اور خدوند عالم نے اس تجارتی سفر کی برقراری کو قریش کے لئے راحت وآرام کا سبب قرار دیا ہے ''قریش کے انس والفت کی خاطر، جوانھیں سردی اور
______________________
(١) احمد امین، فجر الاسلام، (قاہرہ: مکتبة النہضہ المصریہ، ط٩، ١٣٦٤.)، ص ١٤۔ ١٢؛ ڈاکٹر شوقی ضیف.
(٢) طبری، گزشتہ حوالہ، ج٢، ؛ابن اثیر، گزشتہ حوالہ، ص ١٦.
(٣) احمد امین، گزشتہ حوالہ، ص ١٢؛ عبد المنعم ماجد، التاریخ السیاسی للدولة العریہ)، (قاہرہ: مکتبة الابحلوا المصریہ) ص ٧٩.
(٤) حسن ابراہیم حسن، تاریخ سیاسی اسلام، ترجمہ: ابوالقاسم پایندہ (تہران: انشارات جاویدان، ط٤ ١٣٦٠ھ.ق)، ص ٥٦.
گرمی کے سفر سے ہے ابرہہ کو ہلاک کردیاہے۔ لہٰذا انھیں چاہئے کہ اس گھر کے مالک کی عبادت کریں۔ جس نے انھیں بھوک میں سیر کیا ہے اور خوف سے محفوظ رکھا''۔(١)

ب: کعبہ کا وجود: شہر مکہ کی توسیع اور اس کی اقتصادی رونق کاایک دوسرا سبب کعبہ کا وجود تھا کیونکہ عرب کے لوگ سال میں دوبار اعمال حج انجام دینے کے لئے اس شہر میں آتے تھے اور قریش جو کہ کعبہ سے متعلق مختلف امور کے ذمہ دار تھے حجاج کے قیام و طعام کا انتظام کرتے تھے۔ دوسری طرف سے اعمال حج کے ساتھ زائروں اور مکہ کے تاجروں کے درمیان تجارتی معاملات بھی انجام پاتے تھے۔(٢) اور یہ دو چیزیں شہر کی توسیع اور اقتصادی رونق میں مددگار ثابت ہوئیں۔
البتہ سرزمین حرم کا تقدس واحترام بھی جو کہ اطراف حرم میںا من و سکون کا سبب بنا ہوا تھا مکہ کی تجارتی رونق میں بہت زیادہ موثر ثابت ہوا ۔ جیسا کہ خداوند عالم فرماتا ہے: ''اور یہ کفار کہتے ہیں کہ ہم آپ کے ساتھ حق کی پیروی کریں گے تو اپنی زمین سے اچک لئے جائیں گے۔ تو کیا ہم نے انھیں ایک محفوظ حرم پر قبضہ نہیں دیاہے جس کی طرف ہر شیء کے پھل ہماری دی ہوئی روزی کی بنا پر چلے آرہے ہیں لیکن ان کی اکثریت سمجھتی ہی نہیں ہے''۔(٣)
جناب ابراہیم نے بھی اپنی شریک حیات اور بچوںکو کعبہ کے پاس ٹھہرانے کے بعد خداکی بارگاہ میں اس طرح سے دعا فرمائی: ''پروردگار! میں نے اپنی ذریت میں سے بعض کو تیرے محترم مکان کے قریب بے آب و گیاہ وادی میں چھوڑ دیا تاکہ نمازیں قائم کریں اب تو لوگوں کے دلوں کوان کی طرف موڑ دے اور انھیں پھلوں کا رزق عطا فرما تاکہ وہ تیرے شکر گزار بندے بن جائیں''۔(٤)
______________________
(١) سورۂ قریش،آیت ٤۔ ١.
(٢) عباس زریاب، سیرۂ رسول اللہۖ (تہران: سروش، ط ١، ١٣٧٠)، ص ٦٧۔ ٦٦.
(٣) سورۂ قصص، آیت ٥٧.
(٤) سورۂ ابراہیم، آیت ٣٧.
''اور اس وقت کو یاد کرو جب ابراہیم نے دعا کی کہ پروردگار اس شہر کوامن کا شہر قرار دیدے اور اس شہرکے ان لوگوں کو جواللہ اور آخرت پر ایمان رکھتے ہوں پھلوں کا رزق عطا فرما''۔(١)
ارشاد ہوا کہ پھر جو کافر ہو جائیں گے انھیں دنیا میں تھوڑی نعمتیںدے کر آخرت میں عذاب جہنم میں زبردستی دھکیل دیا جائے گا جو بدترین انجام ہے۔

قریش کی تجارت اور کلیدبرداری دو چیزیں،تجارت اور کعبہ کا وجود، شہر مکہ کی توسیع او رمرکزیت کا سبب قرار پائیں اور مکہ میں قریش کے اقتدار کے اضافہ کا باعث بھی بنیں کیونکہ اقتصادی طاقت اور کعبہ کے سارے مذہبی پروگرام ان کے اختیار میں تھے۔
١۔ قریش نے آہستہ آہستہ تجارت کے ذریعہ بے شمار دولت جمع کرلی اور مکہ میں بڑے بڑے ثروت مند پیدا ہوگئے جن میں بعض کی دولت و ثرو ت کی مقدار مبالغہ آمیزبتائی گئی ہے۔ جیسا کہ ان میں سے ایک کی دولت کی مقدار ایک قافلہ میں تیس ہزار دینار سے زیادہ تھی۔(٢)
قریش کی اہم شخصیتوں کے پاس سیاحتی علاقے اور طائف جیسی پاکیزہ جگہ جو آب و ہوا کے لحاظ سے سرزمین شام کا ایک حصہ سمجھی جاتی ہے۔(٣) باغات اور سیاحتی مراکز موجود تھے۔(٤) عباس ابن
______________________
(١) سورۂ بقرہ، آیت ١٢٦.
(٢) جواد علی، المفصل فی التاریخ العرب (بیروت: دار العلم للملایین، ط١، ١٩٦٨ئ)، ج١، ص ١١٤۔ گویا مقصود، سعیدابن العاص (ابی احیحہ) ہے کہ واقدی کے بقول (المغازی، ج١، ص ٢٧) شام سے پلٹتے وقت جنگ بدرکے موقع پر قریش کے قافلہ کی سب سے زیادہ دولت اس کے پاس تھی۔ لیکن واقدی کی عبارت اس صراحت کے ساتھ نہیںہے۔
(٣) فیلیپ حِتی، گزشتہ حوالہ، ص ١٣٠ .
(٤) طبری، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ٢٢١؛ بلاذری، فتوح البلدان، (بیروت: دار الکتب العلمیہ، ١٣٩٨ھ.ق)، ص ٦٨۔
عبد المطلب کے پاس طائف میں انگور کا باغ تھا کہ جس کا انگور شراب بنانے کے لئے مکہ جایا کرتا تھا(١) او روہ مکہ کے بڑے سودخوروں میں سے تھا(٢) عبد المطلب کے مرنے کے بعد انھیں دو یمنی کپڑوں میں لپیٹا گیا جس کی قیمت ہزار مثقال سونا تھی۔(٣) (جس سے ان کے ورثہ کی دولت کا اندازہ لگایا جاسکتاہے) ، کہا جاتا ہے کہ ان کی لڑکی ''ہند'' نے ایک دن میں چالیس غلاموںکو آزاد کیا۔(٤) ولید بن مغیرہ (قبیلۂ بنی مخزوم کا سردار) جس کے پاس بے شمار دولت اور متعدد اولادیں تھیں وہ ہر جگہ مشہور تھا۔(٥) بعد میںغرور اور گھمنڈ کی بنا پر، قرآن نے اس کی سرزنش کی(٦) عبداللہ بن جدعان تیمی کی دولت اور اس کی عمومی مہمان نوازی افسانے کے طور پر نقل ہوئی ہے۔(٧) شعرائ، انعام و اکرام کی خاطر اس کی مدح سرائی کرتے تھے۔(٨)
ایک شاعر نے اس کو ''قیصر'' سے تشبیہ دی تھی۔(٩) کہتے ہیں کہ اس نے قبیلہ جاتی جنگ میںاپنے
______________________
(١) بلاذری، گزشتہ حوالہ، ص ٦٨۔
(٢) ابن ہشام، السیرة النبویہ، ج٤، ص ٢٥١
(٣) ابن واضح، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ١٠۔
(٤) شوقی ضیف، گزشتہ حوالہ، ص ٥١؛ جاحظ، المحاسن و الاضداد (بیروت: دار مکتبہ عرفان)، ص ٦٢۔ فصل محاسن السخائ)۔
(٥) ایک تفسیر کے مطابق۔ آیت ''لولا نزل ہذا القرآن علی رجل من القریتین عظیم۔'' (سورۂ زخرف، آیت ٣١.) میں دو بڑی شخصیتوں سے مراد مکہ میں ولید ابن مغیرہ ، اور طائف میں عروہ ابن مسعود ثقفی تھے کہ مشرکین ان کی بے شمار دولت کی بنیاد پر انھیں نبوت کے لئے نامزد کئے ہوئے تھے۔
(٦) طباطبائی، تفسیر المیزان، ج٢، ص ٩٣؛ ابن کثیر، تفسیر ، ج٤، ص ٤٤٢؛ تفسیر سورۂ المدثر۔
(٧) ابن کثیر، البدایہ والنہایہ، (بیروت: مکتبہ المعارف، ط٢، ١٩٧٧ئ)، ج٢، ص ٢٢٩؛ آلوسی، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٨٩؛ محمد احمد جاد المولی بک ( و معاونین)، ایام العرب فی الجاہلیہ (بیروت: داراحیاء التراث العربی)، ص ٢٤٨۔
(٨) آلوسی، گزشتہ حوالہ، ٨٧؛ ابن کثیر، گزشتہ حوالہ، ص ٢٢٩۔
(٩) یوم بن جدعان، بجنب الحزورة
کانہ قیصرا و ذو الد سکرہ
(بکری، معجم ماستعجم، عالم الکتب، ط٣، ١٤٠٣ھ.ق)، ج٢، ص ٤٤٤؛ لفظ حزورہ؛ شوقی ضیف، گزشتہ حوالہ، ص ٥١.)
ساتھیوں اور لڑنے والوں کو ١٠٠٠ اونٹ دے رکھے تھے۔(١) اور سو (١٠٠) لوگوں کواپنے خرچ پر مسلح کیا تھا۔(٢) وہ غلاموں کو رکھتاتھااو رکنیزوں کو فروخت کرتاتھا۔(٣) اور سونے کے برتن میں پانی پیتاتھا۔(٤) پیغمبر اسلام ۖ نے فتح مکہ کے بعد جس وقت جنگ حنین کے لئے روانہ ہوئے۔ تو صفوان امیہ (مکہ کا ایک مشرک) سے سو (١٠٠) زرہ اور ضروری اسلحے امانت کے طور پر لئے۔(٥)
٢۔ دوسری طرف سے، قریش نے قصی (رسول خداۖ کے چوتھے جد) کے زمانہ سے کعبہ کی کنجی قبیلۂ خزاعہ کے ہاتھوں سے لے رکھی تھی۔(٦) اور حج و زیارت اور طواف سے مربوط مختلف ذمہ داریاں ، جیسے حاجیوںکے لئے پانی کی فراہمی (سقایہ) او رقیام و طعام کا انتظام (رفادہ) کعبہ کی دربانی اور پردہ داری (سدانہ) اور کعبہ کی نگہبانی اورخدمت گزاری (عمارہ) قریش کے مختلف
______________________
(١) محمد احمد جاد المولی بک، گزشتہ حوالہ، ص ٣٣٤۔
(٢) گزشتہ حوالہ، ص ٣٢٩۔
(٣) ابن قتیبہ، المعارف، تحقیق: ثروت عکاشہ (قم: منشورات الشریف الرضی، ط١، ١٤١٥ھ.ق)، ص ٥٧٦؛ مسعودی، مروج الذہب، (بیروت: دار الاندلس، ط١)، ج٢، ص ٢٨٧؛ جواد علی، گزشتہ حوالہ، ص ٩٦۔
(٤) آلوسی، گزشتہ حوالہ، ص ٨٧۔
(٥) ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ج٤، ص ٨٣؛ واقدی، المغازی، تحقیق: مارسڈن جانس، ج٣، ص ٨٩٠؛ ابن سعد، طبقات الکبریٰ، (بیروت: دار صادر)، ج٢، ص ١٥٠؛ حلبی، السیرة الحلبیہ (بیروت: دار المعرفہ)، ج٣، ص٦٣۔ اسی طرح رسول خدا اپنے چچازاد بھائی نوفل بن حارث بن عبدالمطلب سے تین ہزار نیزہ، امانت کے طور پر لیا (حلبی، گزشتہ حوالہ،) یہ سب ان کے عظیم مالی اقتدار کی علامت تھا ۔
(٦) ازرقی، اخبار مکہ، تحقیق: رشدی الصالح ملحس (قم: منشورات الرضی، ط١، ١٤١١ھ.ق)، ج١، ص ١٠٧؛ ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ١٣٠۔
سرداروں کے درمیان بٹی ہوئی تھی اور اس طرح سے انھیں مذہبی حمایت بھی حاصل تھی۔
اس کے علاوہ شہر کے اجتماعی امور کو بھی جیسے پرچم داری، دیت اور نقصان کا بدلہ دینے میں نظارت اور اختلافات کو ختم کرنے کی نمایندگی کواپنے قبیلوں کے درمیان بانٹ کر شہر کے کاموں کو اپنے ہاتھ میں لے رکھا تھا۔(١)

قریش کا اقتداور اثر و رسوخ قریش جن کا شمار ایک زمانہ میںایک چھوٹے خاندان میں ہوا کرتا تھا اور فقیر و تنگدست سمجھے جاتے تھے اور جنوب حجاز میںانکا کوئی مقام ودرجہ نہیں تھا وہ اپنے اقتصادی اور دینی انتظامات کی بنا پر آہستہ آہستہ عرب کے ایک طاقتور قبیلہ کی شکل میں ظاہر اور معروف ہوئے۔
اور شرف و بزرگی اور اہمیت کے اعتبار سے اپنے کودوسرے قبیلوں سے بلند کردیا۔ایک معاصر مورخ کے کہنے کے مطابق اس وقت قبیلۂ قریش حجاز کے تمام قبیلوں کی بہ نسبت بہت زیادہ امتیازات و خوبیاں رکھتا تھا۔ جس طرح سے لاوی لوگ حجاز کے یہودیوں کے درمیان اور راہب عیسائیوں کے درمیان امتیاز رکھتے تھے۔(٢)
خاص طور سے ہاتھیوں کے لشکر اور ابرہہ کی شکست کے بعد قریش جو کہ کلیددار کعبہ تھے ان کا احترام لوگوں کی نظروں میں بڑھ گیا۔(٣) اور انھوں نے اس واقعہ سے اپنے حق میں اورفائدے
______________________
(١) ابن عبد ربہ (العقد الفرید، (بیروت: دار الکتاب العربی، ١٤٠٣ھ.ق) ج٣، ص ٣١٤؛احمد امین، گزشتہ حوالہ، ٢٢٧؛ آلوسی، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ١٤٥؛ البتہ یہ اقدامات بعض عیسائی مورخین جیسے جرجی زیدان اور لامنس کے تصور کے برخلاف، اس دور کے حکومتی محکموں اور دفتروں جیسا نہیں تھا بلکہ ایک ابتدائی اور قبیلہ کی شکل رکھتا تھا۔
(٢) فیلیپ حِتی، گزشتہ حوالہ، ص ١٧۔
(٣) ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٥٩؛ ازرقی، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ١٧٦۔
اٹھائے۔ اپنے کو ''آل اللہ ، جیران اللہ اور سکان اللہ'' کہتے تھے۔(١) اور اس طرح انہوں نے اپنے مذہبی مراکز کوہموار کیااوران کی قدرت و طاقت کے احساس نے انھیں فساد اور انحصار طلبی کی طرف مائل کردیا۔(٢) اور اس طرح سے انھوں نے دوسرے قبائل پر اپنی طرف سے نئے قوانین کا سلسلہ تھوپ دیا۔ مثلاً قریش دوسرے قبیلوں سے بغیر کسی شرط کے لڑکی لاتے تھے۔ لیکن اپنی لڑکیوں کو اس شرط پر انھیں دیتے تھے کہ قریش کی خاص دینی بدعتیں مخصوصاً اعمال حج اور طواف کو وہ قبول کرلیں۔(٣) اور جو مسافر مکہ میں داخل ہوتے تھے ان سے ٹیکس وصول کرتے تھے۔(٤) اوراسے قریش کا حق سمجھتے تھے۔(٥) اس کے علاوہ حج کا پروگرام وہ اپنے ہاتھ میں رکھ کر حاجیوں کواپنے قوانین کا اس طرح تابع بناتے تھے کہ حاجیوں کی روانگی منی اور رمی جمرات سے ان کی اجازت پر موقوف ہوتی تھی۔(٦)
اسی طرح قریش اہل مکہ کے علاوہ دوسرے حاجیوں کو مجبور کرتے تھے کہ طواف کا لباس ان سے خریدیں ورنہ برہنہ طواف کریں اور اگر انھوں نے اپنے لباس میں طواف کیا تو طواف کے بعد
______________________
(١) ابن عبد ربہ، گزشتہ حوالہ، ج٣، ص ٣١٣؛ ازرقی، گزشتہ حوالہ، ص ١٧٦۔
(٢) ازرقی، گزشتہ حوالہ، ص ١٧٦۔
(٣) گزشتہ حوالہ، ص ١٧٩؛ آلوسی، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٢٤٣۔
(٤) ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٧٠.
(٥) جواد علی، گزشتہ حوالہ، ج٤، ص ٢١۔
(٦) ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ص ٦٩؛ ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ص ١٢٥، ١٣٠؛ ابن اثیر، الکامل فی التاریخ (بیروت: دار صادر)، ج٢، ص ٢٠؛ ازرقی، گزشتہ حوالہ، ص ١٨٩۔
اسے پھینک دیں۔(١) (تاکہ مجبور ہوکر قریش سے لباس خریدیں) او رحاجیوں کو یہ حق نہیں تھا کہ وہ اپنے پاس موجود غذا کو استعمال کریں بلکہ اہل مکہ کی تیار کردہ غذا استعمال کریں۔(٢) (اور ان کے بازاروں سے غذائیں خریدیں) ٩ھ میں پیغمبر اسلامۖ نے علی کو مکہ بھیجا تاکہ مشرکین سے برائت کا اعلان کریں۔ قطعنامہ کی ایک شق جس کا علی نے حج کے عمومی پروگرام میں اعلان کیایہ تھی کہ آج کے بعد سے کوئی بھی کعبہ کا برہنہ طواف نہ کرے۔(٣)
مکہ میں قریش کے اثر ورسوخ کا پتہ لگانااس اعتبار سے قابل اہمیت ہے کہ ہم اس کے ذریعہ سے پیغمبر اسلاۖم کی پریشانیوں اور مشکلات کا اندازہ لگا سکتے ہیں اور پھر غور کریں کہ آنحضرت ۖکا سامنا کتنے بڑے اور طاقتور دشمن سے تھا۔ خاص طور پر مکہ میں دعوت اور تبلیغ دین کے دوران بغیر کسی قوت و طاقت ونیز محدود حامیوں کے ساتھ، قریش سے ڈٹ کر مقابلہ کیااور ان کے پنجہ سے پنجہ لڑا دیا!
______________________
(١) ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ص ٧٢؛ ازرقی، گزشتہ حوالہ، ص ١٧٤، ١٧٨، ١٨٢؛ کعبہ کا برہنہ طواف جس کے بارے میں پہلے بیان کرچکے ہیں اور نیز اس خاتون کی داستان جس نے بہت ہی بری حالت میں طواف کیا اور کہتی تھی: الیوم یبدو بعضہ او کلہ۔ و ما بدا منہ فلا احلہ، ا س سختی اورانحصا رطلبی کے نتیجہ میں تھا (ازرقی، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ١٧٨، ١٨٢؛ ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ج٤، ص ١٩٠؛ آلوسی، گزشتہ حوالہ، ص ٢٤٤؛ صحیح مسلم بشرح النووی، ج١٨، ص ١٦٢، کتا ب التفسیر.)
(٢) ازرقی، گزشتہ حوالہ، ص ١٧٧.
(٣) ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ج٤، ص ١٩٠.



۱۱
دوسرا حصہ : حضرت محمدۖ ولادت سے بعثت تک تاریخ اسلام
دور جاہلیت سے وفات مرسل اعظم ۖ تک

دوسرا حصہ
حضرت محمدۖ ولادت سے بعثت تک

پہلی فصل: اجداد پیغمبر اسلام ۖ
دوسری فصل: حضرت محمدۖ کا بچپن اور جوانی
تیسری فصل: حضرت محمدۖ کی جوانی

پہلی فصل
اجداد پیغمبر اسلام ۖ

حضرت محمد مصطفی ۖ کا حسب و نسب حضرت محمد مصطفی ۖ کے سلسلۂ نسب میں، آپ کے بیس اجداد کا تذکرہ اس طرح سے موجود ہے:
عبد المطلب، ہاشم، عبد مناف، قصی، کلاب، مرہ، کعب، لوی، غالب، فھر، مالک، نضر، کِنانہ، خزیمہ، مدرکہ، الیاس، مُضَر، نِزَار، مُعَدّ اور عدنان۔(١)
لیکن حضرت اسماعیل تک آنحضرتۖ کے دوسرے اجداد اور ان کے ناموں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔(٢)
______________________
(١) طبری، تاریخ الامم و الملوک (بیروت: دار القاموس الحدیث)، ج٢، ص ١٩١؛ ابن اثیر، اسد الغابہ (تہران: المکتبة الاسلامیہ)، ج١، ص١٣؛ طبرسی، اعلام الوری (تہران: دار الکتب الاسلامیہ،ط٣)، ص ٦۔٥۔
(٢) ابن اثیر، گزشتہ حوالہ، ص ١٣؛ ابوبکر احمد بن حسین بیہقی، دلائل النبوة، ترجمہ: محمود مہدوی دامغانی (تہران: مرکز انتشارات علمی و فرہنگی، ١٣٦١)، ص ١١٨؛ مسعودی، التنبیہ و الاشراف (قاہرہ: دارالصاوی للطبع و النشر)، ص١٩٦۔ ١٩٥؛ ابن اثیر، الکامل فی التاریخ (بیروت: دارصادر)، ج٢، ص٣٣؛ جمال الدین احمد بن عنبہ، عمدة الطالب فی انساب آل ابی طالب (قم: منشورات الرضی، ط ٢)، ص٢٨۔
آپ اپنے سلسلۂ نسب کو بیان کرتے وقت جب عدنان پر پہنچتے تھے تو ٹھہر جاتے تھے اور بقیہ کو نہیں بیان فرماتے تھے۔(١) اور دوسروں کو بھی اسی بات کی نصیحت فرماتے تھے.(٢) اور عدنان سے اسماعیل تک اپنے اجداد کے سلسلۂ نسب کے بارے میں فرمایا: کہ اہل نساب نے جو بات کہی ہے وہ جھوٹ ہے۔(٣)
عرب کے تمام قبیلے دو گروہوں میں بٹے ہوئے تھے۔ ''قحطانی اور ''عدنانی''(٤) اور قریش عدنان (رسول خداۖ کے بیسویں جد) سے انتساب کی بنا پر، عدنانی کہے جاتے ہیں۔ عدنانی عرب میں، جس کا خاندان اور سلسلۂ نسب نضر بن کنانہ سے ملتا ہے وہ قرشی کہا جاتا ہے۔ کیونکہ قریش، آپ کا نام یا لقب تھا۔(٥)
______________________
(١) ابن سعد، طبقات الکبری، (بیروت: دار صادر)، ج١، ص ٥٦؛ ہشام بن محمد الکلبی، جمھرة النسب، تحقیق: ناجی حسن (بیروت: عالم الکتب، ط١)، ص ١٧۔
(٢) ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی طالب (قم: المطبعة ا لعلمیہ)، ج١، ص ١٥٥؛ طبرسی، گزشتہ حوالہ، ص٦؛ مجلسی، بحار الانوار، (تہران: دار الکتب الاسلامیہ)، ج١٥، ص ١٠٥۔
(٣) کلبی، گزشتہ حوالہ، ص١٧؛ ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ص٥٦؛ ابن شہر آشوب، گزشتہ حوالہ، ص ١٥٥؛ ابن عنبہ، گزشتہ حوالہ، ص ٢٨۔
(٤) پہلے گروہ کو یمانی (یمنی) اور دوسرے گروہ کو مضری، نزاری اور قیسی بھی کہتے ہیں
(٥)ابن شہرآشوب، گزشتہ حوالہ، ص ١٥٤؛ ابن عنبہ، گزشتہ حوالہ، ص ٢٦؛ طبرسی، گزشتہ حوالہ، ص٦؛ ابن قتیبہ، المعارف، تحقیق: ثروة عکاشہ (قم: منشورات الرضی، ١٤١٥ھ.ق)، ص٦٧؛ طبرسی، مجمع البیان، (تہران: شرکة المعارف الاسلامیہ)، ج١٠، ص ٥٤٥؛ ابن ہشام، السیرة النبویہ، (قاہرہ: مطبعة مصطفی البابی الحلبی،، ١٣٥٥ھ.ق)، ج١، ص ٩٦؛ ابن عبد ربہ، العقد الفرید (دار الکتاب العربی، ١٤٠٣ھ.ق)، ج٣، ص ٣١٢؛ ابن کثیر، السیرة النبویہ، (قاہرہ: مطبعة عیسی البابی الحلبی)، ج١، ص ٨٤؛ محمد امین بغدادی سویدی، سبائک الذہب فی معرفة قبائل العرب (بیروت: دار صعب)، ص ٦٢؛ ابن واضح، تاریخ یعقوبی، (نجف : المکتبة الحیدریہ، ١٣٨٣ھ.ق)، ج١، ص ٢٠٤۔
بعض اہل نساب نے، فہربن مالک بن نضر کو قرشی کہا ہے۔ رجوع کریں: کلبی، گزشتہ حوالہ، ص ٢١؛ ابن سعد.گذشتہ حوالہ، ص٥٥؛ ابن عنبہ، گذشتہ حوالہ، ص٢٦؛ ابن ہشام، گذشتہ حوالہ، ص ٩٦؛ محمد امین بغدای، گذشتہ حوالہ، ص٦٢؛ ابن واضح، گذشتہ حوالہ، ص ٢٠٤؛ ابن حزم، جمھرة انساب العرب (بیروت: دار الکتب العلمیہ، ط١، ١٤٠٣ھ.ق)، ص١٢؛ حلبی، السیرة الحلبیہ، (انسان العیون) (بیروت: دار المعرفہ)، ج١، ص٢٦۔ ٢٥۔ دوسرے اقوال بھی اس بات میں موجود ہیں کہ جن کا ذکر کرنا فائدہ نہیں رکھتا۔ رجوع کریں: السیرة الحلبیہ، ج١، ص٢٧۔
قبیلۂ قریش(١) متعدد خاندانوں او رحصوں میں بٹا ہوا تھا۔ جیسے بنی مخزوم، بنی زھرہ، بنی امیہ ، بنی سہم اور بنی ہاشم(٢) اور حضرت محمد ۖ آخری خاندان سے تھے ۔

حضرت عبد المطلب کی شخصیت حضرت محمدۖ کے اجداد میں ہم زیادہ تر معلومات آپ کے پہلے جد عبد المطلب کے بارے میں رکھتے ہیں کیونکہ ان کا دور حیات عصر اسلام سے نزدیک رہا ہے۔
جناب عبد المطلب، ایک ہر دل عزیز، مہربان، عقلمند، سرپرست اور قریش کی ایسی پناہ گاہ تھے(٣) جن کا کوئی مقابل اور رقیب نہیں تھا۔ وہ تمام عظیم الٰہی شخصیتوں کی طرح اپنے معاشرے میں نمایاں کردار رکھتے تھے ۔ طولانی عمر پانے کے باوجود مکہ کے آلودہ سماج کے رنگ میں اپنے کو کبھی
______________________
(١) عرب کے قبیلے اور گروہ چھوٹے اور بڑے ہونے کے لحاظ سے اور اس کے اندر جو شاخیں پیدا ہوئی تھیں ان کے اعتبار سے ترتیب وار انھیں شعب، قبیلہ، عمارہ، بطن، فخذ اور فصیلہ کہا جاتا تھا۔ جیسے خزیمہ، شعب، کنانہ، قبیلہ، قریش، عمارہ، قصی، بطن، ہاشم، فخذ، اور عباس کو فصیلہ کہا جاتا تھا (ابن حزم، العقدالفرید، ج٣، ص ٣٣٠؛ ڈاکٹر حسین مؤنس، تاریخ قریش، (دار السعودیہ، ط ١، ١٤٠٨ھ.ق) ، ص ٢١٥) اس بنیاد پر بعض دانشوروںنے قریش کو ''قبیلہ'' اور بعض نے ''عمارہ'' کہا ہے۔ لیکن اس بات کا خیال رہے کہ اس تقسیم بندی کی بنیاد اور اصل ، محل بحث ہے۔ اور اصولی طور پر بعض محققین نے اس تقسیم بندی کو قبول نہیں کیا ہے۔ (تاریخ قریش، ص ٢١٦۔ ٢١٥)، ہم یہاں پر اس بحث سے ہٹ کر صرف آسانی کے لئے قریش کو قبیلہ کے عنوان سے ذکر کرتے ہیں۔
(٢)مسعودی نے قبیلۂ قریش میں ٢٥ خاندان بتائے ہیں اور ان کا نام ذکر کیاہے۔ (مروج الذہب، (بیروت: دار الاندلس، ط١، ١٩٦٥)، ج٢، ص ٢٦٩.)
(٣) حلبی، گزشتہ حوالہ، ص٦۔
نہیں رنگا۔ اس وقت مکہ میں معاد کا عقیدہ نہیں پایا جاتا تھا یا بہت کم تھا۔ لیکن عبد المطلب نہ صرف معاد کا عقیدہ رکھتے تھے بلکہ روز قیامت کی جزا اور سزا کے بارے میں بھی تاکید فرماتے تھے اور کہتے تھے: اس دنیا کے بعد ایسی دنیا آئے گی جس میں اچھے اور برے لوگ، اپنے اعمال کی جزا اور سزا پائیں گے۔(١)
جبکہ اس وقت جزیرة العرب کے ماحول میں قبیلہ جاتی عصبیت عام تھی اور جیساکہ ہم بیان کرچکے ہیں ہر شخص جھگڑے اور اختلافات میں (بغیر حق و باطل کا خیا ل کئے) اپنے قبیلے، خاندان اور احباب کی حمایت کرتا تھا۔ لیکن جناب عبد المطلب، ایسے نہیںتھے۔ چنانچہ حرب بن امیہ جو کہ آپ کے خاندان اور دوستوں میں سے تھا اس پر اتنا دباؤ ڈالا، تاکہ وہ ایک یہودی کا خون بہا دیدے جو اس کے ورغلانے پر قتل ہوا تھا(٢) وہ اپنی اولاد کو ظلم و ستم اور دنیا کے پست اور گھٹیا کاموں سے منع کرتے تھے اور اچھے صفات کی ترغیب دلاتے تھے۔(٣)
جناب عبد المطلب کا جو طریقۂ کار تھا اسلام نے زیادہ تر اس کی تائید فرمائی ہے ۔ ان میں کچھ چیزوں ، جیسے حرمت شراب، حرمت زنا، زناکار پر حد جاری کرنا، چور کے ہاتھ کاٹنا، فاحشہ عورتوں کو مکہ سے جلا وطن کرنا اور لڑکیوں کو زندہ درگور کرنا، محرموں سے شادی کرنااور خانہ کعبہ کا برہنہ طواف کرنے کو حرام قرار دینا اور نذر کی ادائیگی کو واجب جاننا اور حرام مہینوںکی قداست و احترام او رمباہلہ
______________________
(١)گزشتہ حوالہ، ص٦؛ شکری آلوسی، بلوغ الارب فی معرفة احوال العرب، تصحیح محمد بہجة الاثری، (قاہرہ: دار الکتب الحدیثہ، ط٢)، ج١، ص٣٢٤۔
(٢) حلبی، گزشتہ حوالہ، ص ٦؛ آلوسی، گزشتہ حوالہ، ص ٣٢٣؛ ابن اثیر ، الکامل فی التاریخ، ج٢، ص ١٥؛ بلاذری، انساب الاشراف، تحقیق: محمد حمید اللہ (قاہرہ: دار المعارف)، ج١، ص٧٣.
(٣) حلبی، گزشتہ حوالہ، ص ٧؛ مسعودی، مروج الذہب، ج٢، ص ١٠٩.
وغیرہ (١) کے وہ قائل تھے۔ایک روایت میں آیاہے کہ عبدالمطلب ''خدا کی حجت'' اورابوطالب ان کے ''وصی'' تھے۔(٢)

خاندان توحید حضرت محمد ۖ کا خاندان، موحد تھا۔ علماء امامیہ کے عقیدے کے مطابق آپ کے آباء و اجداد حضرت عبد اللہ سے لیکر حضرت آدم تک سب موحد تھے اوران کے درمیان کوئی مشرک نہیں تھا۔ اس بارے میں آیات و روایات سے استدلال ہوا ہے۔ آنحضرتۖ سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: ''خداوند عالم نے مجھے ہمیشہ پاک مردوں کی صلبوں سے پاکیزہ عورتوں کے رحموں میں منتقل کیا۔ یہاں تک اس دنیا میں بھیج دیا اور اس نے مجھے ہرگز جاہلیت کی کثافتوں سے آلودہ نہیں کیا''(٣) اور ہمیں یہ معلوم ہے
______________________
(١) آلوسی، گزشتہ حوالہ، ٣٢٤؛ ابن واضح، تاریخ یعقوبی، ج٢، ص ٧؛ رجوع کریں: السیرة الحلبیہ، ج١، ص ٧؛ رجوع کریں: الخصال صدوق، باب الخمسہ، ج٢، ص ٣١٣۔ ٣١٢۔
(٢) صدوق، اعتقادات، ترجمہ: سید محمد علی بن سید محمد الحسنی (تہران: کتابخانۂ شمس، ط٣، ١٣٧٩ھ.ق)، ص١٣٥؛ مجلسی، بحار الانوار، ج١٥، ص ١١٧؛ رجوع کریں: اصول کافی، ج١، ص ٤٤٥۔
جناب عبد المطلب سے مربوط بحثوں میں سے ایک بحث خدا کی راہ میں ایک فرزند کی قربانی ، ان کی نذر ہے جس کی خبر مشہور ہونے کے باوجود جس طرح سے تاریخ کی کتابوںمیں آئی ہے وہ سند اور متن کے لحاظ سے جائے اشکال ہے۔ اوراس سلسلہ میں بحث و تحقیق کی ضرورت ہے۔(رجوع کریں: علی دوانی، تاریخ اسلام از آغاز تا ہجرت، ص ٥٩۔ ٥٤؛ من لایحضرہ الفقیہ، تحقیق: علی اکبر غفاری، ج٣، ص ٨٩؛ باب الحکم بالقرعہ، حاشیہ، تعلیقہ ٔ آغائے غفاری) چونکہ یہ کتاب اختصار کے طور پر لکھی گئی ہے لہٰذا اس کے بارے میں بحث کرنے سے صرف نظر کرتے ہیں۔
(٣) صدوق، گزشتہ حوالہ، ص ١٣٥؛ مجلسی، گزشتہ حوالہ، ص ١١٧؛ مفید، اوائل المقالات (قم: مکتبة الداوری)،ص ١٢؛ طبرسی، مجمع البیان، ج٤، ص ٣٢٢؛ تفسیر آیہ ٧٤ سورۂ انعام، بعض معاصر دانشوروں نے اس حدیث کو طہارت نسل یعنی ولادت و پیدائش کا سبب، ازدواج قرار دیا ہے (نہ آزاد اور غیر مشروع روابط) سے تفسیر کیا ہے کہ اگر اس تفسیر کو قبول کریں تو ہماری بحث کے لئے شاہد قرار نہیں پائے گا۔ (سید ہاشم رسولی محلاتی، درس ھایی از تاریخ تحلیلی اسلام ماھنامہ پاسدار اسلام، ١٣٦٧، ج١، ص ٦٤).
کہ کوئی بھی نجاست شرک سے بدتر نہیں ہے اگر ان کے درمیان کوئی ایک بھی مشرک ہوتا تو انھیں ہرگز پاک نہ کہا جاتا۔
علمائے امامیہ کا عقیدہ ہے کہ جناب ابوطالب اور آمنہ بنت وھب موحد(١) تھے۔
حضرت علی نے فرمایا ہے کہ خدا کی قسم! میرے والد اور اجداد عبد المطلب، ھاشم اور عبد مناف میں سے کوئی بھی بت پرست نہیں تھا وہ لوگ دین ابراہیمی کے پیرو تھے اور کعبہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھا کرتے تھے۔(٢)
______________________
(١) مفید، گزشتہ حوالہ، ص ١٢؛ صدوق، گزشتہ حوالہ، اہل سنت کے بعض نامور علماء جیسے فخر رازی اور سیوطی بھی اس سلسلے میں امامیہ کے ہم عقیدہ ہیں۔ رجوع کریں: بحار الانوار، ج١٥، ص ١٢٢۔ ١١٨.
(٢) صدوق، کمال الدین و تمام النعمہ، تصحیح علی اکبر الغفاری (قم: موسسہ النشر الاسلامی، ١٣٦٣)، ج١، ص ١٧٥؛ الغدیر، ج٧، ص ٣٨٧.



۱۲
دوسرا حصہ : حضرت محمدۖ ولادت سے بعثت تک تاریخ اسلام
دور جاہلیت سے وفات مرسل اعظم ۖ تک

دوسری فصل
حضرت محمد ۖکا بچپن اور جوانی

ولادت جاہل عرب میں تاریخ کی کوئی منظم اور مستقل، ابتدا مقرر نہیں تھی بلکہ علاقے کے اہم واقعات جیسے کسی بڑی اور مشہور شخصیت کے مرنے یا دو قبیلوں کے درمیان خون ریز جنگ کے دن کو ایک زمانے تک تاریخ کا آغاز قرار دیتے تھے۔(١) یہاں تک تمام قبائل عرب میں تاریخ کے آغاز کے لئے ایک معین دن نہیں تھا بلکہ اس قبیلہ کے نزدیک جو بھی اہم واقعہ رونما ہوتا تھا اسی کو تاریخ کی ابتدا قراردیتے تھے۔(٢)
جس وقت ابرہہ (حبشہ کا بادشاہ) نے، ہاتھیوں سمیت لشکر کے ساتھ خانۂ کعبہ کو مسمار کرنے کے
______________________
(١) اس واقعہ کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کے لئے رجوع کریں: مسعودی، التنبیہ و الاشراف، ص ١٨١۔ ١٧٢؛ ڈاکٹر محمد ابراہیم آیتی، تاریخ پیغمبر اسلامۖ (ط ٢، انتشارات دانشگاہ تہران، ١٣٦١)، ص ٢٧۔ ٢٦.
(٢) مسعودی، گزشتہ حوالہ، ص ٢٧.
لئے مکہ پر حملہ کیا(١) تو اعجاز پروردگار اور اس کی غیبی طاقت کے مقابلہ میں شکست کھا گیا۔ اور اس واقعہ سے اس زمانہ کے دوسرے تمام واقعات تحت الشعاع میں آگئے اور وہ سال ایک عرصہ تک''عام الفیل'' کے عنوان سے تاریخ کی شروعات قرار پایا٭ اور حضرت محمدۖ اسی سال مکہ میں پیدا ہوئے۔(٢)
یہ واقعہ بعض قرائن اور شواہد کے لحاظ سے جیسے حضرت محمدۖ کی ہجرت، جوکہ ٦٢٢ اور آپ کی وفات ٦٣٤ئ میں (٦٠ یا ٦٣) سال کی عمر میں ہوئی ہی اور یہ واقعہ تقریباً ٥٦٩ئ ، ٥٧٠ئ
______________________
(١) شیخ طوسی، الامالی، (قم: دار الثقافہ، ط١، ١٤١٤ھ.ق)، ص ٨٢۔ ٨٠؛ بیہقی، گزشتہ حوالہ، ص ٩٧۔ ٩٤،ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ص ٥٥۔ ٤٤؛ بلاذری، گزشتہ حوالہ، ص ٩٦۔ ٦٧؛ محمد بن حبیب بغدادی، المنمق فی ا خبار قریش، تحقیق: خورشید احمد فارق (بیروت: عالم الکتب، ط ١، ١٤٠٥ھ.ق)، ص ٧٧۔ ٧٠)۔
٭ ہاتھیوں کے لشکر کے واقعہ سے پہلے قریش قصی (جو کہ ایک بڑی اور نامور شخصیت تھی اور جس نے پہلی بار قریش کو قدرت مند بنایا) کو تاریخ کی شروعات قرار دیتے تھے (ابن واضح، تاریخ یعقوبی، ج٢، ص ٤)
(٢) کلینی ، اصول الکافی (تہران: دار الکتب الاسلامیہ، ١٣٨١ھ.ق)، ج١، ص ٤٣٩؛ ابن واضح، تاریخ یعقوبی، ج٢، ص٤؛ مسعودی، مروج الذہب، ج٢، ص ٢٧٤؛ مجلسی، بحار الانوار، ج١٥، ص ٢٥٢۔ ٢٥٠؛ حلبی، گزشتہ حوالہ، ص ٩٥؛ بیہقی، گزشتہ حوالہ، ص ٧٣۔ ٧٢؛ ابن کثیر، السیرة النبویہ، ج١، ص٢٠١؛ محمد بن سعد، طبقات الکبری، ج١، ص ١٠١؛ ابن اثیر، اسد الغابہ، ج١، ص١٤؛ ابن ہشام، السیرة النبویہ، ج١، ص١٦٧؛ الشیخ عبد القادر بدران، تہذیب تاریخ دمشق (بیروت:دار احیاء التراث العربی، ط٣، ١٤٠٧ھ.ق)، ج١، ص ٢٨٢؛ ابن اسحاق، السیر و المغازی، تحقیق: سہیل زکار (بیروت: دار الفکر، ط١، ١٣٩٨ھ.ق)، ص٦١۔
کے بیچ میں رونما ہوا ہے۔(١)
___________________________
(١) علی اکبر فیاض، تاریخ اسلام، (تہران: انتشارات تہران یونیورسٹی، ط٣، ١٣٦٧)، ص ٧٢؛ عباس زریاب، سیرۂ رسول اللہ (پہلے حصہ سے ہجرت کے آغاز تک) (تہران: سروش، ط ١، ١٣٧٠)، ص ٨٧۔ ٨٦؛ سید جعفر شہیدی ، تاریخ تحلیلی اسلام تا پایان امویان (تہران: مرکز نشر یونیورسٹی، ط ١٠، ١٣٦٩)، ص ٣٧۔
اس سلسلہ میں کہ کیا آنحضرتۖ کی ولادت ٹھیک اسی عام الفیل میں ہوئی یا اس سے پہلے یا بعد میں اورنیز عام الفیل کو عیسوی سالوں سے مطابقت کرنے میں دوسرے نظریات او راحتمالات بھی ذکر ہوئے ہیں کہ جس کے نقل کرنے کی اس کتاب میں ضرورت نہیں ہے۔ مزید معلومات کے لئے رجوع کریں: محمد ختم پیامبران، ج١، ص ١٧٧۔ ١٧٦؛ مقالہ سید جعفر شہیدی؛ رسولی محلاتی ، درسھای از تاریخ تحلیلی اسلام (قم: ماہنامہ پاسدار اسلام ١٤٠٥ھ.ق)، ج١، ص ١٠٧ کے بعد؛ ابن کثیر ، السیرة النبویہ، ج١، ص ٢٠٣؛ تہذیب تاریخ ذمشق، ج١، ص ٢٨٢۔ ٢٨١؛ سید حسن تقی زادہ، از پرویز تاچنگیز (تہران: کتابفرشی فروغی، ١٣٤٩)، ص ١٥٣؛ جسین مونس، تاریخ قریش (الدار السعودی، ط ١، ١٤٠٨ھ.ق)، ص ١٥٩۔ ١٥٣؛ اس کے علاوہ بعض یورپی مورخین اسلامی کتابوں میں ابرھہ کی لشکر کشی کا مقصد دینی جذبہ اور کعبہ اور یمن میں قلیس معبد کے د رمیان رقابت کو بتایاہے، ملکوں کی فتح اورابرھہ کا حملہ ایران جزیرة العرب کے شمالی راستے سے حکومت روم کے اکسانے پر بتایا گیا ہے؛ فیاض، گزشتہ حوالہ، ص ٦٢؛ ابوالقاسم پایندہ، مقدمہ ترجمہ فارسی قرآن مجید، ص ۔ لز۔) جس کے بارے میں الگ سے بحث اور تحقیق کی ضرورت ہے جواس کتاب کے حجم سے باہر ہے۔

کم سنی اور رضاعت کا زمانہ حضرت محمدۖ ابھی دو مہینے کے تھے(١) کہ آپ کے پدر بزرگوار جناب عبد اللہ، ملک شام سے تجارتی سفر کی واپسی میں، شہر یثرب میں انتقال فرماگئے اور وہیں پر آپ کو سپردخاک کردیا گیا۔(٢)
قرآن کریم نے ان کی یتیمی کواس انداز میں بیان کیا ہے: ''کیااس نے تم کو یتیم پاکر پناہ نہیں دی
______________________
(١) کلینی ، گزشتہ حوالہ، ص ٤٣٩؛ ابن واضح، گزشتہ حوالہ، ص٦؛ ابوالفتح محمد بن علی الکراجکی، کنز الفوائد (قم: دارالذخائر،ط١، ١٤١٠ھ.ق)، ج٢، ص ١٦٧؛ حضرت محمد ۖ کا سن باپ کے مرنے کے سال، سات مہینے اور ٢٨ روز بھی لکھا ہے۔ (محمد بن سعد، طبقات الکبری، (بیروت: دار صادر، ج١، ص ١٠٠)، بعض مورخین نے، حضرت عبد اللہ کی وفات کو حضرت رسول اسلاۖم کی ولادت کے قبل ہی تحریر کیا ہے۔ (ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ص ١٠٠۔ ٩٩؛ ابن اثیر، اسد الغابہ، ج١، ص ١٣؛ ابن ہشام، السیرة النبویہ، ج١، ص ١٦٧؛ الشیخ عبدالقادر بدران، تہذیب تاریخ دمشق، تالیف ابن عساکر (بیروت: دار احیاء التراث العربی، ط ٣ ، ١٤٠٧ھ.ق)، ج١، ص ٢٨٤.) لیکن بعض اسناد و شواہد، پہلی روایت کی تائید کرتے ہیں ان میں سے عبدالمطلب کے اشعار بھی ہیں جو اسی مطلب پر دلالت کرتے ہیں:
اوصیکم یا عبد مناف بعدی
بمفرد بید ابیہ فرد
فارقہ وہو ضجیج المہد
فکنت کالام لہ فی المجد
(تاریخ یعقوبی، ج٢، ص ١٠؛ رجوع کریں: ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی طالب (قم: المطبعة العلمیہ)، ج١، ص ٣٦.)
(٢) تہذیب تاریخ دمشق، ج١٧، ص ٢٨٢؛ ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٩٩؛ مسعودی، التنبیہ والاشراف، ص١٩٦؛ محمد بن جریر الطبری، تاریخ الامم و الملوک، (بیروت: دارالقاموس الحدیث)، ج٢، ص ١٧٦؛ ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، (بیروت: دار صادر)، ج٢، ص١٠۔
ہے اور کیا تم کو گم گشتہ پاکر منزل تک نہیں پہنچایا اور تم کو تنگ دست پاکر غنی نہیں بنایا''۔(١)
آمنہ کے لال نے ولادت کے ابتدائی دنوںمیںاپنی ماں کا دودھ پیا(٢) اور اس کے بعد تھوڑے دن تک (ابولہب کی آزاد شدہ کنیز) ثوبیہ نے اپنا دودھ پلایا۔(٣)
اس دور میں رسومات عرب(٤) کے مطابق آپ کو حلیمہ سعدیہ نامی دایہ کے سپرد کردیا گیا۔ وہ قبیلۂ بنی سعد بن بکر سے تعلق رکھتی تھیں اور دیہات(٥) میں زندگی بسر کرتی تھیں۔ دایہ حلیمہ نے دو سال تک آپ کو دودھ پلایا(٦) اور پانچ سال تک پرورش کی اس کے بعد آپ کے گھر والوں کے سپرد کردیا۔(٧)
ایک نومولود بچہ کو کسی بادیہ نشین کے سپرد کرنے کا مقصد یہ ہوتا تھا کہ اس کی پرورش صحرا کی پاک و صاف اور کھلی فضا میں ہو اور مکہ میں ''وبا'' کی بیماری کے خطرے سے دور رہے۔(٨)
______________________
(١) سورۂ ضحی، آیت ٨۔ ٦۔
(٢) تاریخ یعقوبی، ج٢، ص ٦؛ حلبی، گزشتہ حوالہ، ج١، ص١٤٣۔
(٣)تاریخ یعقوبی، ج٢، ص٦؛ طبرسی، اعلام الوریٰ، ص٦؛ بیہقی، گزشتہ حوالہ، ص ١١٠؛ ابن اثیر، اسد الغابہ، ج١، ص١٥؛ مجلسی، بحار الانوار، ج١٥، ص٣٨٤۔
(٤) حلبی، گزشتہ حوالہ، ج١، ص١٤٦۔
(٥)تاریخ یعقوبی، ج٢، ص٧؛ ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ص١٧١؛ محمد بن سعد، گزشتہ حوالہ، ص ١١٠؛ مسعودی، التنبیہ والاشراف، ص ١٩٦؛ مروج الذہب، ج٢، ص٢٧٤؛ طبرسی، اعلام الوریٰ، ص٦؛ بیہقی، گزشتہ حوالہ، ص١٠٢۔ ١٠١؛ ابن کثیر، السیرة النبویہ، ج١، ص٢٢٥؛ ابن اسحاق، السیر والمغازی، تحقیق: سہیل زکار، ط١، ١٣٩٨ھ.ق)، ص٤٩۔
(٦)بلاذری، انساب الاشراف، تحقیق: محمد حمید اللہ (قاہرہ: دارالمعارف)، ج١، ص٩٤؛ مقدسی، البدء و التاریخ، ط پیریس، ١٤٠٣ئ، ج٤، ص١٣١؛ مجلسی، بحار الانوار، ج١٥، ص ٤٠١؛ ابن سعد، گزشتہ حوالہ،ج١، ص١١٢۔
(٧) تاریخ یعقوبی، ج٢، ص٧؛ ابن شہر آشوب، گزشتہ حوالہ، ج١، ص٣٣؛ بلاذری، گزشتہ حوالہ، ص٩٤؛ مسعودی، مروج الذہب، ج٢، ص٢٧٥۔
(٨) ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، تحقیق:محمد ابوالفضل ابراہیم (قاہرہ: دار احیاء الکتب العربیة، ١٩٦١)، ج١٣، ص٢٠٣؛ مجلسی، گزشتہ حوالہ، ص٤٠١۔
اس کے علاوہ بدو قبیلوں کے درمیان زبان کی فصاحت و بلاغت اور خالص اصیل عربی سے آگاہی بھی ایک اہم چیز تھی جو بعض ہم عصر مورخین کی طرف سے بیان ہوئی ہے۔(١)
پیغمبر اکرمۖ کا ایک جملہ، جو اس موضوع کی مناسبت سے نقل ہوا ہے جو شاید اس مقصد کے لئے شاہد قرار پائے، یہ ہے:
''میں تم لوگوں میں سب سے زیادہ فصیح ہوں کیونکہ میں قرشی ہوں اور میں نے قبیلہ بنی سعد بن بکر میں دودھ بھی پیاہے''(٢)
بعض تاریخی کتابوں میں جناب حلیمہ کو دایہ کے طور پر انتخاب کرنے کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ چونکہ حضرت محمد ۖ یتیم تھے لہٰذا کوئی دایہ آپ کو لینے کے لئے تیار نہیں ہوئی کیونکہ دائیاں دودھ پلانے کے عوض بچہ کے باپ سے اجرت لیتی تھیں اور چونکہ اس وقت دائی حلیمہ کو مکہ میں کوئی بچہ نہیں ملا تھا لہٰذا حضرت محمدۖ کو یتیم ہونے کے باوجود مجبوراً رضاعت کے لئے قبول کرلیا۔(٣) لیکن دایوں کی طرف
______________________
(١) جعفر سبحانی، فروغ ابدیت (قم: مرکز انتشارات دفتر تبلیغات اسلامی حوزۂ قم، ط٥، ١٣٦٨)، ج١، ص ١٥٩؛ سید جعفر مرتضی العاملی، الصحیح من سیرة النبی الاعظم (قم: ١٤٠٠ھ.ق)، ج١، ص ٨١۔
(٢) انا اعربکم انا قرشی واسترضعت فی بنی سعد بن بکر، (ابن ہشام، السیرة النبویہ، ج١، ص ١٧٦۔ اور رجوع کریں: ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ص ١١٣؛ حلبی، گزشتہ حوالہ، ص ١٤٦؛ ابو سعید واعظ خرگوشی، شرف النبی، ترجمہ: نجم الدین محمود راوندی (تہران: انتشارات بابک، ١٣٦١). ص ١٩٦۔
کہا جاتا ہے کہ جس زمانہ میں حضرت محمد ۖ ، حلیمہ کے پاس دیہات میں رہ رہے تھے واقعۂ شق صدر پیش آیا۔ لیکن تاریخ اسلام کے محققین اور تجزیہ نگاروںنے متعدد دلیلوں کی بنا پر اس موضوع کو حقیقت سے دور اور من گڑھت گردانا ہے۔ (رجوع کریں: سید جعفر مرتضی العاملی، الصحیح من سیرة النبی الاعظم، ج١، ص ٨٢؛ سید ہاشم رسولی محلاتی، تاریخ تحلیلی اسلام کے دروس، ج١، ص ١٨٩و ٢٠٤؛ شیخ محمد ابویہ، اضواء الی السنة المحمدیہ (مطبعة صور الحدیثہ، ط ٢، ھ.ق)، ج١، ص ١٧٧۔ ١٧٥.
(٣) ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ١٧٢۔ ١٧١؛ بلاذری، گزشتہ حوالہ،ص٩٣؛ ابن سعد،گزشتہ حوالہ، ص١١١۔ ١١٠.
سے محمد ۖ کو یتیمی کی خاطر قبول نہ کرنے کی وجہ قابل قبول نظرنہیں آتی۔ کیونکہ :
١۔ جیسا کہ ہم بیان کرچکے ہیں کہ بعض کتابوںمیں نقل ہوا ہے کہ جناب عبد اللہ کا انتقال، حضرت رسول خداۖ کی ولادت کے چند مہینے بعد ہوا ہے اس لحاظ سے وہ اس وقت یتیم نہیںہوئے تھے۔
٢۔ جناب عبد المطلب کی عظیم شخصیت اور مکہ میںان کا بلند مقام اور درجہ اور ان کی دولت و ثروت کودیکھتے ہوئے نہ صرف دایوں نے لینے سے انکار نہ کیا ہوگا بلکہ ایسے خاندان کے بچہ کی رضاعت کے لئے آپس میں جھگڑا کرتی ہوں گی ۔
٣۔ بہت ساری تاریخی کتابوں میں یہ واقعہ نقل ہوا ہے لیکن یہ بات کہیں نہیں ذکر ہے۔(١) ٭

والدہ کا انتقال اور جناب عبد المطلب کی کفالت جناب آمنہ دائی حلیمہ سے اپنے بچہ کو لینے کے بعد ام ایمن(جناب عبد اﷲ کی کنیز) کے ساتھ ایک قافلہ کے ہمراہ مدینہ گئیں تاکہ اپنے شوہر جناب عبد اللہ کی قبر پر جاکر حاضری دے سکیں اورآپ کے ماموؤں سے ملاقات کرسکیں۔(٢)
مدینہ میں ایک ماہ قیام کے بعد مکہ پلٹتے وقت مقام ابواء میں آپ کا انتقال ہوگیا اور وہیں آپ کو دفن کردیا گیا اس وقت حضرت رسول خداۖ چھ سال کے تھے۔(٣)
______________________
(١) منجملہ ایک بزرگ اور نامور محدث ابن شہر آشوب نے اس واقعہ کو نقل کیا ہے لیکن حضرت محمد ۖ کی یتیمی کے موضوع کو جس طرح سے بیان کیا گیا ہے اس میں نہیں ہے (مناقب آل ابی طالب، ج ١، ص ٣٣.)
٭ پیغمبر اسلام ۖ کی رضاعت کا مسئلہ چاہے حلیمۂ سعدیہ کے ذریعہ ہو یا دیگر کنیزوں کے ذریعہ محل اختلاف ہے ، شیعہ محققین نے اسے قبول نہیں کیا ہے. مترجم.
(٢) عبدالمطلب کی ماں سلمی ، مدینہ کی رہنے والی تھیں اور بنی نجار سے تعلق رکھتی تھیں. (بیہقی، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ١٢١.)
(٣) ابن اسحاق، گزشتہ حوالہ، ص٦٥؛ بلاذری، گزشتہ حوالہ، ص ٩٤؛ ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ص ١١٦؛ ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ص١٧٧؛ بیہقی، گزشتہ حوالہ، ص ١٢١؛ طبرسی، گزشتہ حوالہ، ص ٩؛ صدوق، کمال الدین و تمام النعمہ، تصحیح علی اکبر الغفاری (قم: مؤسسہ النشر الاسلامی، ١٣٦٣)، ج١، ص١٧٢؛ تاریخ یعقوبی، ج٢، ص٧؛ الشیخ عبدالقادر بدران، تہذیب تاریخ دمشق، ج١، ص٢٨٣۔
ام ایمن قافلہ کے ساتھ آپ کو مکہ لے کر آئیںاور جناب عبد المطلب کے حوالہ کردیا۔(١)
جناب عبد المطلب نے آپ کی سرپرستی اور کفالت کی ذمہ داری اپنے سر لے لی، اور جب تک وہ زندہ رہے اپنے پوتے کی اچھی طرح سے دیکھ بھال کرتے رہے اورآپپر ان کی نظر عنایت ہوتی تھی اور کہتے تھے کہیہ بلند مقام پائے گا۔(٢)
______________________
(١)حلبی، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ١٧٢۔
(٢) ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ١٧٨؛ صدوق، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ١٧١؛ مجلسی، گزشتہ حوالہ، ص ٤٠٦؛ تاریخ یعقوبی، ج٢، ص٩۔



۱۳
جناب عبد المطلب کا انتقال اورجناب ابوطالب کی سرپرستی تاریخ اسلام
دور جاہلیت سے وفات مرسل اعظم ۖ تک

جناب عبد المطلب کا انتقال اورجناب ابوطالب کی سرپرستی حضرت رسول خداۖ آٹھ سال کے تھے کہ آپ کے دادا جناب عبد المطلب کا انتقال ہوگیااور آپ کی کفالت کی ذمہ داری جناب ابوطالب کو سونپ دی۔ جناب ابوطالب اور جناب عبداللہ (رسول خدا کے پدر بزرگوار) ایک ہی ماں سے تھے۔(٣)
اس وقت جناب ابوطالب کی مالی حالت اچھی نہیںتھی وہ کثیر العیال اورتنگدست تھے۔(٤) لیکن وہ ایک بہادر، باعزت، قابل احترام(٥) اور قریش کے درمیان بلند درجہ رکھتے تھے۔(٦) وہ محمدۖ کو
______________________
(٣) ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ص١٨٩؛ مجلسی، گزشتہ حوالہ، ص ٤٠٦؛ طبری، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ١٩٤۔
(٤) تاریخ یعقوبی، ج٢، ص١١؛ ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ١١٩؛ مجلسی، گزشتہ حوالہ، ٤٠٧؛ سہیلی، الروض الانف (قاہرہ: مؤسسة المختار)، ج١، ص ١٩٣۔
(٥) تاریخ یعقوبی، ج٢، ص ١١؛ جواد علی،المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام (بیروت: دار العلم للملایین، ط١، ١٩٦٨ئ)، ج٤، ص ٨٢۔
(٦) ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، تحقیق: محمد ابو الفضل ابراہیم (قاہرہ: دار احیاء الکتب العربیہ، ١٩٦٢ئ)، ج١٥، ص ٢١٩۔
بہت زیادہ چاہتے تھے ۔ یہاں تک کہ اپنے بیٹوں سے زیادہ انھیں عزیز رکھتے تھے۔(١)
فاطمہ بنت اسد نے بھی آپ کی پرورش اور سرپرستی میںاہم کردار ادا کیا اور اس سلسلے میں بہت زیادہ زحمتیں اٹھائیں وہ نہ صرف محمدۖ کو ایک مہربان ماں کی طرح چاہتی تھیں بلکہ آپ کواپنے بچوں پر ہمیشہ مقدم رکھتی تھیں۔ حضرت محمد ۖ کبھی بھی ان کی زحمتوںکو فراموش نہیں کرتے تھے اور ہمیشہ اپنی ایک ماں کی طرح انھیں یاد فرماتے تھے۔(٢)

شام کا سفر او رراہب کی پیشین گوئی ایک سال جناب ابوطالب قریش کے قافلہ کے ساتھ تجارت کے لئے شام گئے تو حضرت محمد ۖ کی خواہش اوراصرار پر (مورخین کے اختلاف کے مطابق اس وقت آپ کی عمر ٨، ٩، ١٢یا ١٣ سال کی تھی) آپ کواپنے ہمراہ لے گئے جس وقت قافلہ مقام بصریٰ(٣) پر پہنچا توایک معبد کے کنارے آرام کی غرض سے رک گیا، اس معبد میں ''بحیرا'' نام کا ایک راہب رہتا تھا، جو عیسائیوں کا بزرگ پادری تھا۔ جب مجمع کے درمیان اس کی نظر ابوطالب کے بھتیجے محمد ۖ پر پڑی تو اس کی خاص توجہ کا مرکز بن گئی اس لئے کہ وہ پیغمبر موعود کی بعض نشانیوں سے آگاہ تھا. جب اس نے ان نشانیوں کو محمدۖ کے اندر دیکھا تو اس نے آپ سے مختصر گفتگو اور سوالات کے بعد آپ کے آئندہ ''نبی'' ہونے کے بارے
______________________
(١) ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ١١٩؛ ابن شہر آشوب، گزشتہ حوالہ، ج١، ص٣٦؛ مجلسی، گزشتہ حوالہ، ص ٤٠٧؛ شیخ عبدالقادر بدران، تہذیب تاریخ دمشق، ج١، ص ٢٨٥.
(٢) تاریخ یعقوبی، ج٢، ص ١١؛ ابن ابی الحدید، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ١٤؛ مقدمہ اصول کافی، ج١، ص ٤٥٣.
(٣) دمشق کے علاقہ میں حوران سرزمین کا ایک قصبہ ہے (یاقوت حموی، معجم البلدان، (بیروت: دار احیاء التراث العربی، ١٣٩٩ھ.ق)، ج١، ص ٤٤١.
میں خبر دیدی اور جناب ابوطالب سے تاکید کی کہ اس بچہ کا خاص خیال کریں اور اس کویہود کے شر سے محفوظ رکھیں۔(١)
اس واقعۂ کے سلسلہ میں چند نکات کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے:
١۔ یہ واقعہ بعض تاریخی او رحدیثی کتابوں میں مختصر انداز میں اور بعض دوسری کتابوں میں بطور مفصل نقل ہوا ہے۔ لیکن اصل واقعہ میں کسی قسم کی شک و تردید نہیں پائی جاتی کیونکہ قرآن مجید نے متعدد آیات میں حضرت محمدۖ کی بعثت کے سلسلہ میں گزشتہ پیغمبروں کی پیشین گوئیوں کونقل کر کے آنحضرت ۖ کی ذات اور نشانیوں کے سلسلہ میں علمائے اہل کتاب کی آگاہی اور معرفت کی تائید کی ہے۔(٢) اور اسی طرح اہل کتاب کی متعدد پیشین گوئیاں پیغمبر اسلامۖ کی بعثت کے سلسلہ میں تاریخ و
______________________
(١)اس واقعہ کو اسلامی مورخین و محدثین نے مندرجہ ذیل کتابوں میں نقل کیاہے:
ابن ہشام، السیرة النبویہ، ج١، ص ١٩٣۔ ١٩١؛ محمد بن جریر طبری، تاریخ الامم و الملوک، ج٢، ص ١٩٥؛ سنن ترمذی، ج٥؛ المناقب، باب٣، ص ٥٩٠؛ المناقب، باب٣، ص ٥٩٠، حدیث ٢٦٢٠؛ ابن اسحاق، السیر و المغازی، تحقیق:سہیل زکار، ص٧٣؛ محمد بن سعد، طبقات الکبری، ج١، ص ١٢١؛ مسعودی، مروج الذہب، ج٢، ص ٢٨٦؛ صدوق، کمال الدین و تمام النعمہ، ج١، ١٨٦۔ ١٨٢؛ بلاذری، انساب الاشراف، ج١، ص ٩٦؛ بیہقی، دلائل النبوة، ترجمۂ محمود مہدی دامغانی، ج١، ص ١٩٥؛ طبرسی، اعلام الوری، ص ١٨۔ ١٧؛ ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی طالب، ج١، ص ٣٩۔ ٣٨؛ ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، ج٢، ص ٢٧؛ ابن اثیر، اسد الغابہ، ج١، ص ١٥؛ شیخ عبد القادر بدران، تہذیب تاریخ دمشق (تالیف حافظ ابن عساکر)، ج١، ص ٢٧٠ و ٣٥٤؛ ابن کثیر، سیرة النبی، ج١، ص ١٩١؛ مجلسی، بحار الانوار، ج١٥، ص ٤٠٩۔
(٢) سورۂ بقرہ، آیت ٤١، ٤٢، ٨٩، ١٤٦؛ سورۂ اعراف، آیت ١٥٧؛ سورۂ انعام، آیت ٢٠؛ سورۂ صف، آیت٦۔
حدیث کی کتابوں میں نقل ہوئی ہیں۔(١)
٢۔ حضرت محمد ۖ کے بارے میں علمائے اہل کتاب کی کتابوں میں جو علامتیںاور نشانیاں تھیں ان میں سے کچھ آپ کی ذاتی زندگی اور جسمانی خصوصیات کے بارے میں تھیں (جیسے عرب ہونا ایک باعظمت خاتون سے شادی کرنا وغیرہ) آنحضرت ۖکی جسمانی نشانیوں میں سے سب سے نمایاں نشانی یہ تھی کہ آپ کے دونوں شانوں کے درمیان ایک بڑا تل تھا جس کو ''خال نبوت'' یا ''مہر نبوت'' کہا گیا ہے۔(٢)
٣۔ بحیرا راہب کی پیشین گوئی صرف قافلہ والوں کے لئے نئی بات تھی ورنہ جناب ابوطالب بلکہ حضرت محمدۖ کے تمام قریبی رشتہ دار آپ کے درخشندہ مستقبل سے باخبر تھے۔(٣)
______________________
(١) رجوع کریں: جعفر سبحانی، راز بزرگ رسالت (تہران: کتابخانۂ مسجد جامع تہران، ١٣٥٨)، ص ٢٧٨۔ ٢٦٢؛ پیغمبر اسلامۖ کے سلسلہ میں گزشتہ پیغمبروں کی پیشین گوئیوں کے بارے میں مستقل کتابیں لکھی گئی ہیں جن میں سے ذیل کی تین کتابوں کو نمونہ کے طور پر ذکر کیا جاسکتا ہے۔
محمد در تورات وانجیل تالیف: پروفیسر ، عبد الاحد داؤد: ترجمہ فضل اللہ نیک آئین؛ مدرسہ سیار، تالیف: شیخ محمد جواد بلاغی، ترجمہ: ع۔ و؛ انیس الاعلام، تالیف: فخر الاسلام۔
(٢) ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ١٩٣؛ بیہقی، گزشتہ حوالہ، ص ١٩٥؛ سنن ترمذی، تحقیق: ابراہیم عطوہ عوض (بیروت: دار احیاء التراث العربی)، ج٥، المناقب، باب ٣، ص ٥٩٠، حدیث ٢٦٢٠؛ شیخ عبدالقادر بدران، تہذیب تاریخ دمشق، ج١، ص ٢٧٨؛ ابن کثیر، سیرة النبی، ج١، ص ٢٤٥؛ صحیح بخاری، تحقیق: الشخ قاسم الشماعی الرفاعی، ج٥، ص ٢٨، باب ٢٣، حدیث ٧١۔
(٣) تاریخ یعقوبی، ج٢، ص ١١؛ بلاذری، انساب الاشراف، ج١، ص ٨١؛ اصول کافی، ج١، ص ٤٤٧۔

عیسائیوں کے ذریعہ تاریخ میں تحریف بعض عیسائی مورخین نے حضرت محمدۖ سے بحیرا کی ملاقات کے واقعہ میں تحریف کی ہے اور یہ دعویٰ کیا
ہے کہ حضرت محمد ۖ نے اس ملاقات میں بحیرا راہب سے توریت او ر انجیل کی تعلیمات حاصل کیں۔(١)
ویلڈورانٹ نے نرم لہجے میں اس بے بنیاد دعوے کی طرف اشارہ کیا ہے:
... آپ کے چچا ابوطالب آپ کو ١٢ سال کی عمر میں اپنے ساتھ ایک قافلہ کے ہمراہ شام کے شہر بصریٰ تک لیکر گئے، یہ بعید نہیں ہے کہ اس سفر میں آپ دین یہود اور آئین عیسیٰ کی بعض تعلیمات سے آگاہ ہوئے ہوں۔(٢)
اس تہمت اور تحریف کا ہمیں اس طرح جواب دینا چاہئے:
١۔ مورخین کا اتفاق ہے کہ محمد امی تھے اور لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے۔
٢۔ مورخین نے لکھا ہے کہ اس وقت اپ کی عمر ١٢ سال سے زیادہ نہیں تھی۔
٣۔ بحیرا کے دیدار اور آپ کی بعثت کے درمیان کافی عرصے کا فاصلہ تھا۔
٤۔ بحیرا سے آپ کی ملاقات بہت مختصر ہوئی تھی اس دوران اس نے کچھ سوالات کئے اور آپ نے ان کے جوابات دیئے۔
اس بنا پر یہ کیسے باور کیا جاسکتا ہے کہ ایک بچہ جس نے مدرسے میں تعلیم حاصل نہ کی ہو وہ ایک مختصر ملاقات میں کیسے توریت و انجیل کی تعلیمات حاصل کرسکتا ہے کہ جسے چالیس سال کے بعد ایک
______________________
(١) گوستاولوبون، تمدن اسلام وعرب، ترجمہ: سید ہاشم حسینی، ص ١٠١؛ اجناس گلدزیھر، العقیدة و الشریعہ فی الاسلام، ترجمۂ عربی (قاہرہ: دار الکتب حدیثہ، ط٢)، ص ٢٥؛ محمد غزالی، محاکمۂ گلدزیھرصہیونیست، ترجمۂ صدر بلاغی (تہران: حسینیۂ ارشاد، ١٣٦٣)، ص ٤٧؛ کارل بروکلمان، تاریخ الشعوب الاسلامیہ،ترجمۂ عربی بہ قلم نبیہ امین فارس ( اور) منیر البعلبکی، (بیروت: دار العلم للملایین، ط١، ١٩٨٨ئ)، ص ٣٤؛ اسی طرح رجوع کریں: خیانت در گزارش تاریخ، ج١، ص ٢٢٥۔ ٢٢٠۔
(٢) تاریخ تمدن، عصر ایمان، (بخش اول) ، ترجمہ ابوطالب صارمی اور ان کے ساتھی (تہران: سازمان انتشارات وآموزش انقلاب اسلامی، ط ٢، ١٣٦٨)، ص ٢٠٧۔
کامل شریعت کی شکل میں لوگوں کے سامنے پیش کرے؟
٥۔ اگر حضرت محمد ۖ نے راہب سے کچھ سیکھا ہوتا تو بہانہ باز ضدی اور ہٹ دھرم قریش اس کو محمد ۖ کے خلاف تبلیغ کرنے میں دستاویز قرار دیتے جبکہ تاریخ اسلام میں ہمیں اس طرح کی کوئی بات نظر نہیں آتی ہے اور نہ ہی قرآن مجید میں جہاں قریش کی تہمتوں کا جواب دیا گیا ہے وہاں پر اس موضوع کے بارے میں کوئی تذکرہ ہوا ہے۔
٦۔ اگر اس طرح کی کوئی بات صحیح تھی تو اسے قافلہ والوںنے کیوںنہیں نقل کیا؟
٧۔ اگر حقیقت میں اس طرح کا کوئی دعویٰ تھا تو شام کے مسیحیوںنے کیوں نہیں نقل کیا او ریہ دعویٰ کیوں نہ کیا کہ ہم محمدۖ کے استاد تھے؟
٨۔ اور اگر یہ دعو یٰ صحیح مان لیا جائے تواس کا لازمہ یہ ہوگا کہ اسلام کی تعلیمات اورتوریت و انجیل کی تعلیمات میں یکسانیت ہواور نہ صرف یہ کہ ان کی تعلیمات میں یکسانیت نہیں پائی جاتی بلکہ قرآن کریم نے یہودیوںاور عیسائیوںکے بہت سارے عقائداور توریت و انجیل کی بہت ساری تعلیمات کو نقل کرکے انھیں باطل قرار دیا ہے۔(١)
ایک روز عمرو بن خطاب پیغمبر اسلامۖ سے، یہودیوں سے سنی ہوئی حدیثوں کو لکھنے کی اجازت مانگی تو آپ نے فرمایا: ''کیا تم یہود و نصاریٰ کے مانند اپنے دین کے بارے میں پریشان اور سرگرداں ہو؟ یہ نورانی اور پاک دین میں تمہارے لئے لیکر آیا ہوں اگر موسیٰ زندہ ہوتے تو وہ صرف میری پیروی کرتے۔(٢)
پیغمبر اسلامۖ مدینے میں (جہاں بہت سے یہودی رہتے تھے) بہت سارے احکام اور پروگراموں
______________________
(١) سورۂ نسائ، آیت ٤٧،٥١، ١٧١؛ سورۂ مائدہ، آیت ٧٣۔٧٢؛ سورۂ توبہ، آیت ٣٠۔
(٢) شیخ عباس قمی، سفینة البحار، ج٢، ص ٧٢٧، لفظ ''ھوک''؛ مجد الدین ابن اثیر، النہایہ فی غریب الحدیث و الاثر، ج٥، ص ٢٨٢، وہی الفاظ تھوڑے سے اختلاف کے ساتھ.
میں یہودیوںکی مخالفت کرتے تھے۔(١) یہاں تک کہ وہ (یہودی) کہنے لگے۔ یہ شخص ہمارے سارے پروگراموںکی مخالفت کرنا چاہتا ہے''۔(٢)
عیسائیوں کے درمیان جس شخص نے اس بات کو اسلام کے خلاف جھوٹ، افتراء پردازی او رزہر گھولنے کا بہانہ او ردستاویز قرار دیا وہ کونستان ویرژیل گیور گیو ہے جس نے اس بات کو اس قدر مسخ اور تحریف شدہ نقل کیاہے وہ نہ صرف یہ کہ کسی معیار سے تناسب نہیں رکھتا بلکہ خود عیسائیوں کے دعوے سے مناسبت نہیں رکھتا ہے، وہ کہتا ہے:
''ابن ہاشم ـ عرب کا راویـ لکھتا ہے: بحیرہ ]؟[ لوگوں کے تصور کے برخلاف عیسائی نہیں تھا بلکہ مانوی تھا اور ایک سن رسیدہ شخص کا پیرو تھا جس کا نام مانی تھا اور اس نے ساسانیوں کے دور حکومت میں پیغمبری کا دعوا کیا تھا اور ساسانیوں کے پہلے بادشاہ، بہرام اول نے اسے ٢٧٦ئ میں خوزستان میں گندی شاپور کے دروازہ کے سامنے سولی پر چڑھوا دیا تھا''۔
مانی جس نے پیغمبری کا دعوا کیا تھا اس کے پیرکاروں میں سے بحیرہ بھی تھا جو یہ عقیدہ رکھتا تھا کہ خدا ایک قوم سے مخصوص نہیں ہے بلکہ دنیا کی ساری قوموں سے تعلق رکھتا ہے۔ اور چونکہ دنیا کی ساری قومیںاس سے وابستہ ہیں لہٰذا خداوند جس قوم میں جب چاہتا ہے ایک پیغمبرمبعوث کردیتا ہے جواسی قوم کی زبان میں لوگوں سے باتیں کرے۔(٣)
______________________
(١) مرتضی العاملی، الصحیح من سیرة النبی الاعظم (قم: ١٤٠٣ھ.ق)،ص ١٠٦۔
(٢) حلبی، گزشتہ حوالہ،ج٢، ص٣٣٢۔
(٣) محمد ۖ پیامبری کہ از نو باید شناخت، ترجمہ: ذبیح اللہ منصوری، ص ١٠٥، اس کتاب میں بے شمار غلطیاں اور تحریفات ہوئی ہیں جس نے کتاب کی علمی اہمیت کو کم کردیاہے۔ مترجم: کے طریقۂ کار کی بھی ایک الگ داستان ہے جو اہل فضل و شرف پر مخفی نہیں ہے ، رجوع کریں: مجلہ نشر دانش، سال ٨، نمبر٢، ص ٥٢، مقالہ پدیدہ ای بہ نام ذبیح اللہ منصوری، کریم امالی کے قلم سے۔
بظاہر اس کی ابن ہشام سے مراد عبد الملک بن ہشام (م٢١٣ھ.ق) معروف کتاب ''السیرة النبویہ'' کے مؤلف ہیں جوتاریخ اسلام کا ایک مہم ماخد ہے لیکن کلمہ مانوی کا ذکر نہ صرف سیرۂ ابن ہشام میں بلکہ کسی بھی قدیمی اسلامی کتاب میں نہیں ملتا ہے اس شخص کو تاریخ کی کتابوںمیں مسیحی (اور بہت کم یہودی) کہا گیا ہے او رخود موضوع بحث سے بھی اس کے مسیحی ہونے کا پتہ چلتاہے۔ اب سوال یہ ہے کہ گیورگیو نے یہ باتیں کہاں سے نقل کی ہیں؟!
اس کے علاوہ دین مانی کا شام میں کوئی پیرو نہیں تھا اور جیسا کہ ہم نے (جزیرة العرب) میں ادیان و مذاہب کے تجزیہ کے باب میں یہ کہا ہے کہ دین مانی کا مرکز ایران تھا۔ لہٰذا ہمیں ایک محقق کے کہنے کی بنا پر، یہ سوچنے کا حق ہے کہ بحیرا کے مانوی ہونے کا دعوا صرف اس بنا پر تو نہیںہے کہ خداوند عالم کی توحید اور اسلام کے عالمی دین ہونے کے مسئلہ میں مانی کی تقلید تو نہیں کی جارہی ہے؟
یہ وہ چیزیں ہیں جس کی مثال ہمیں گزشتہ صدیوں میں مسیحیوں سے بہت دیکھنے کو ملی ہیں او ران کے لئے یہ بات اہمیت نہیں رکھتی کہ بلند ترین فکر کو وہ منسوخ ادیان کی طرف نسبت دیتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ان ادیان کے ماننے والے زیادہ نہیںہیں تاکہ ان کے لئے یہ چیز باعث افتخار بن سکے۔
صرف اسلام ایک ایسا دین ہے کہ، صلیبی جنگ کو سیکڑوں سال گزرنے کے باوجود، جس سے آج بھی عیسائی پریشان او رخوف زدہ ہیں۔ لہٰذا ان کی یہ کوشش رہی ہے کہ جھوٹ او رسچ ہر طریقے سے اس دین کی تعلیمات کی عظمت کو لوگوں کی نظروں میں کم کریں۔(١)
______________________
(١) محمد خاتم پیامبران، ج١، ص١٨٨؛ مقالہ سید جعفر شہیدی۔ بعض معاصر ایرانی محققین نے بحیرا کے ساتھ حضرت محمد ۖ کی ملاقات میں شک و تردید پیدا کی ہے اور اصل واقعہ کی صحت کے بارے میں بحث کی ہے جو تاریخی لحاظ سے قابل بحث و تحقیق ہے۔ رجوع کریں: نقد و بررسی منابع سیرۂ نبوی (مجموعۂ مقالات) پژوہشکدۂ حوزہ و دانشگاہ ١٣٧٨ ؛ رمضان محمدی، نقد و بررسی سفر پیامبر اکرم بہ شام ، ص ٣٣٠۔ ٣٢١۔.
لیکن اس بات پر توجہ رہے کہ اگر بالفرض اس واقعہ کی ہم نفی بھی کریں تو عظمت پیغمبر ۖ میں کوئی کمی نہیں واقع ہوگی کیونکہ بعثت اور پیغمبر موعود کے ظہور کی پیشین گوئیاں صرف اس مسئلہ میں منحصر نہیںہیں لیکن جیسا کہ متن میں کہا گیا ہے کہ چونکہ مستشرقین نے اس واقعہ کو جو متون اسلامی میں آیا ہے تاریخ اسلام کی تحریف کا دستاویز قرار دیا ہے۔ لہٰذا ہم نے بھی ان کی باتوں کو ذکر کرکے اس پر تنقید کی ۔



۱۴
تیسری فصل : حضرت محمد مصطفٰے ۖ کی جوانی تاریخ اسلام
دور جاہلیت سے وفات مرسل اعظم ۖ تک

تیسری فصل
حضرت محمد مصطفٰے ۖ کی جوانی

حلف الفضول١ ''حلف الفضول'' قریش کے بہترین او راہم ترین عہد و پیمان میں سے ہے.(٢) جو قریش کے چند قبیلوں کے درمیان انجام پایا۔ یہ پیمان اس بنا پر انجام پایا کہ قبیلۂ بنی زبید کا ایک شخص مکہ آیا اور اس نے عاص بن وائل کا سامان ، جو کہ بنی سہم کے قبیلہ سے تھا، فروخت کردیا۔ عاص نے مال کو لیا لیکن
______________________
١جس واقعہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ حضرت محمد ۖ نے جوانی کے عالم میں اس میں شرکت کی ''جنگ فجار'' ہے اس واقعہ کو حلف الفضول سے پہلے جب آپ کی عمر ١٤ سے ٢٠ سال کی تھی، نقل کیا گیا ہے ۔ لیکن چونکہ اس جنگ کے سلسلہ میں آپ کی شرکت میں شک پایا جاتا ہے بلکہ ایسے شواہد ملتے ہیں جواس کی نفی کرتے ہیں لہٰذا ہم نے اس کو بیان نہیں کیاہے۔ (الصحیح من سیرة النبی الاعظم، ج١، ص ٩٧۔ ٩٥؛ درس ھایی تحلیلی از تاریخ اسلام، ج١، ص ٥٠٣۔ ٣٠٣
(٢)ابن سعد، طبقات الکبری (بیروت: دار صادر)، ج١، ص ١٢٨؛ محمد بن حبیب، المنمق فی اخبار قریش، تحقیق خورشید احمد فارق (بیروت: عالم الکتب،ط١، ١٤٠٥ھ.ق)، ص٥٢۔
اس کی قیمت نہیں دی زُبیدی نے بارہا اس سے مطالبہ کیا لیکن اس نے دینے سے انکار کردیا۔ جیسا کہ یہ چیز پہلے بیان کی جاچکی ہے کہ اس وقت جزیرة العرب میں قبیلہ جاتی نظام پایا جاتا تھا۔ او رہر قبیلہ اپنے افراد کے منافع کی حمایت کرتا تھا۔ اگر کسی پردیسی پر ظلم ہوتا تھا تو اس کا کوئی ناصر و مددگار اورانصاف کرنے والا نہیں ہوتا تھا۔ جب سرداران قریش، کعبہ کے پاس اکٹھا ہوئے تو زبیدی مجبور ہوکر ''ابوقبیس'' پہاڑی کے اوپر گیا اور رنج و مصیبت میں ڈوبے ہوئے اشعار پڑھ کر ان سے انصاف کی فریاد کی۔(١)
انصاف کی مانگ سن کر زبیر بن عبد المطلب کی سرکردگی اور پیش قدمی میں، بنی ہاشم، بنی عبد المطلب، بنی زہرہ، بنی تمیم، اور بنی حارث (جو کہ قریش کے نامور قبیلہ سے تھا) عبداللہ بن جدعان تیمی کے گھر میں جمع ہوئے اور عہد و پیمان کیا کہ ہر مظلوم اور ستم دیدہ کی فریاد پر حق وانصاف دلانے کے لئے ایک ہو جائیں اورشہر مکہ میں کسی پر ظلم نہ ہونے دیں، چاہے وہ ان لوگوں سے وابستہ ہو یا کوئی پردیسی ہو، چاہے وہ فقیر اور معمولی انسان ہو یا ثروتمند اور باعزت۔ اس کے بعد عاص کے پاس جاکر زبیدی کا حق لے کر اسے دیدیا۔(٢)حضرت محمدۖ کی عمر اس وقت ٢٠ سال تھی جب آپ اس عہد کے ممبران میں سے تھے۔(٣)
______________________
(١)۔ یا آل فہر ]یاللرجال خ ل[ لمظلوم بضاعتہ
ببطن مکة نائی الأہل و النفر
و محرم اشعث ]شعث خ ل[ لم یقض عمرتہ
یا آل فہر و بین الحجر
والحجر ہل مخفر من بنی سہم بخفرتہ
ام ذاہب فی ضلالح مال معتمر
ان الحرام لمن تمت حرامتہ
و لا حرام لثوب الفاجر الغدر
(٢) محمد بن حبیب، گزشتہ حوالہ، ص ٥٣۔ ٥٢؛ ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ص ١٢٨؛ تاریخ یعقوبی، ج٢، ص١٣؛ ابن ہشام، السیرة النبویہ، ج١، ص١٤٢؛ بلاذری، انساب الاشراف، تحقیق: الشیخ محمد باقرالمحمودی (بیروت: مؤسسة الاعلمی للمطبوعات، ط١، ١٣٩٤ھ.ق)، ج٢، ص١٢۔
(٣) محمد بن سعد، گزشتہ حوالہ، حضرت محمد ۖ کا سن اس وقت اس سے بھی زیادہ نقل ہوا ہے؛ تاریخ یعقوبی، ج٢، ص ١٣، المنمق، ص ٥٣؛ ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، (قاہرہ: دار احیاء الکتب العربیہ، ١٩٦٢م)، ج١٥، ص ٢٢٥
اس عہد و پیمان میں پیغمبر اسلامۖ کی شر کت میں ایک بہادرانہ قدم اور اس جاہل سماج میں ایک طرح سے ''حقوق بشر'' کی حمایت تھی۔ اور اس لحاظ سے یہ اقدام بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے کہ آپ کے ہم سن و سال جوان، مکہ میں عیش و عشرت اور خوشگزرانی میں سرگرم تھے۔ اور انسانی اقدار جیسے مظلوم کی حمایت، سماج کی تطہیر او رعدالت کا نفاذ ان کے لئے معنی و مفہوم نہیں رکھتا تھا۔ اور آپ قریش کے بزرگوں کے بغل میں کھڑے ہوکر اس طرح کے عہد و پیمان میں شرکت فرماتے تھے۔ اور بعثت کے بعد اپنی اس شرکت کو نیک او راچھا کہتے تھے اور فرماتے تھے۔
''میںنے عبد اللہ بن جدعان کے گھر میں ایک پیمان میں شرکت کی کہ اگر اس کے بدلے مجھے سرخ بالوں کا اونٹ دیدیا جاتا توپھر بھی میں اتنا خوش نہ ہوتا۔ اور اگر دور اسلام میں بھی ہمیں اس طرح کے عہد و پیمان کی دعوت دیں تو ہم ا سکو قبول کریں گے''۔(١)
یہ عہد اس لحاظ سے موجود عہدوں میں سب سے اہم او ربرتر تھا اور اسے ''حلف الفضول'' کہا گیاہے۔(٢) یہ عہد ہمیشہ مظلوموں اور بے پناہوں کی پناہ گاہ تھا او ربعد میں بھی کئی مرتبہ مظلوموں اور پردیسیوں کواس پیمان کی مدد سے مکہ کے بدمعاشوںاور سرغنہ لوگوںکے چنگل سے رہائی ملی۔(٣)٭
______________________
(١) ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ص ١٤٢؛ یعقوبی، گزشتہ حوالہ، ص١٣؛ بلاذری، گزشتہ حوالہ، ص١٦؛ محمد بن حبیب، گزشتہ حوالہ، ص١٨٨۔
(٢) محمد ابن حبیب، گزشتہ حوالہ، ص ٥٥۔ ٥٤۔
(٣) گزشتہ حوالہ، بلاذری، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ١٣
٭عصر اسلام میں اس عہد و پیمان کی یاد بھی باقی ہے جیسا کہ امام حسین نے ولید بن عتبہ بن ابی سفیان سے جو معاویہ کا بھتیجا او رمدینہ کا حاکم تھا ایک زمین کے سلسلہ میں اختلاف کی صورت میں اسے دھمکی دی کہ اگر طاقت کا استعمال کیا تو تلوار لیکرمسجد پیغمبر میں (قریش) کو ایسے عہد و پیمان کی دعوت دوں گا۔ یہ بات سن کر قریش کی کچھ شخصیتوں نے آپ سے نصرت کا وعدہ کیا جب ولید کو اس کی اطلاع ملی تو وہ اپنے ارادہ سے پیچھے ہٹ گیا!(ابن ہشام ، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ١٤٢؛ بلاذری، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ١٤؛ حلبی، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٢١٥؛ ابن ابی الحدید، گزشتہ حوالہ، ج١٥، ص ٢٢٦؛ ابن اثیر، الکامل فی التاریخ (بیروت: دار صادر)، ج٢، ص ٤٢۔

شام کی طرف دوسرا سفر جناب خدیجہ (دختر خویلد) ایک تجارت پیشہ، شریف اور ثروتمند خاتون تھیں۔ تجارت کے لئے لوگوں کو ملازمت پر رکھتی تھیں اور انھیں اپنا مال دے کر تجارت کے لئے بھیجتی تھیں اور انھیں ان کی مزدوری دیتی تھیں۔(١)
جب حضرت محمدۖ ٢٥ سال کے ہوئے(٢) تو جنا ب ابوطالب نے آپ سے کہا: میں تہی دست ہوگیا ہوں او رمشکلات و دشواریوں میں گرفتار ہوں اس وقت قریش کا ایک قافلہ تجارت کے لئے شام جارہا ہے۔ کاش تم بھی خدیجہ کے پاس جاتے او ران سے تجارت کا کام لیتے،وہ لوگوں کو تجارت کے لئے بھیجتی ہیں ۔
دوسری طرف سے جناب خدیجہ جو حضرت محمد ۖ کے پسندیدہ اخلاق، صداقت و راست گوئی اور امانتداری سے آگاہ ہوگئی تھیں آپ کے پاس پیغام بھیجا کہ اگر ہمارے تجارت کے کام کو قبول کریں تو دوسروں سے زیادہ انھیں اجرت دوں گی۔ اور اپنے غلام میسرہ کو بھی ان کا ہاتھ بٹانے کے لئے بھیجوں گی۔
حضرت محمدۖ نے ان کی اس پیشکش کو قبول کرلیا۔(٣) او رمیسرہ کے ہمراہ قریش کے کاروان
______________________
(١) ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ١٩٩؛ ابن اسحاق، السیر و المغازی، تحقیق: سہیل زکار (بیروت: دار افکر، ط١، ١٣٩٨ھ.ق)، ص٨١؛ سبط ابنالجوزی، تذکرة الخواص ،ص ٣٠١، میں کہتا ہے کہ ''جناب خدیجہ نے ان کو ٹھیکہ پر کام دیا تھا'' اورابن اثیر اسدالغابہ میں ، ج١، ص١٦ ۔ پر لکھتا ہے: '' ان کو مزدوری یا ٹھیکہ پر کام دیا تھا''۔
(٢) ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ١٢٩۔
(٣) ایسے ثبوت ملتے ہیں کہ محمدۖ کا کام مضاربہ کی شکل میں تھا آپ مزدوری پر کام نہیں کرتے تھے (الصحیح من سیرة النبی الاعظم، ج١، ص ١١٢)
کے ساتھ شام کے لئے روانہ ہوگئے(١) اس سفر میں انھیں گزشتہ سے زیادہ فائدہ ملا۔(٢)
میسرہ نے اس سفر میں حضرت محمد ۖ کے ذریعہ ایسی کرامتیں دیکھیں کہ وہ حیرت و استعجاب میں پڑ گیا۔ اس سفر میں ''نسطور راہب'' نے آپ کے آئندہ رسالت کی بشارت دی۔ اسی طرح میسرہ نے دیکھاکہ حضرت محمدۖ سے ایک شخص کا ، تجارت کے معالمہ میں اختلاف ہوگیاہے وہ شخص کہتا تھا کہ لات و عزیٰ کی قسم کھاؤ تاکہ میں تمہاری بات کو قبول کروں۔
آپ نے جواب دیا: میں نے ابھی تک کبھی لات و عزیٰ کی قسم نہیں کھائی ہے۔(٣)
میسرہ نے سفر سے پلٹتے وقت محمد ۖ کی کرامتوں اور جو کچھ اس نے دیکھا تھا۔جناب خدیجہ سے آکر بتایا۔(٤)
______________________
(١) ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ص ١٩٩؛ ابن اسحاق، گزشتہ حوالہ، ص ٨١
(٢) ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ص ١٣٠
(٣) ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ص ١٣٠۔
(٤) ابن اسحاق، گزشتہ حوالہ، ص٨٢؛ ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ص ١٣١؛ ابناثیر، الکامل، فی التاریخ الکامل فی التاریخ ( بیروت: دار صادر)، ج٢، ص٣٩؛ طبری، تاریخ الامم والملوک (بیروت: دارالقاموس الحدیث)، ج٢، ص ١٩٦؛ بہقی، دلائل النبوة، ترجمۂ محمود مہدوی دامغانی (تہران: مرکز انتشارات علمی و فرہنگی، ١٣٦١)، ج١، ص٢١٥؛ ابن اثیر، اسد الغابہ (تہران: المکتبة الاسلامیہ)، ج٥، ص ٤٣٥؛ ابی بشر، محمد بن احمد الرازی الدولابی، الذریة الطاھرة، تحقیق:السید محمد جواد الحسینی الجلالی (بیروت: مؤسسة الاعلمی للمطبوعات، ط٢، ١٤٠٨ھ.ق)، ص ٤٦۔ ٤٥۔



۱۵
جناب خدیجہ کے ساتھ شادی تاریخ اسلام
دور جاہلیت سے وفات مرسل اعظم ۖ تک

جناب خدیجہ کے ساتھ شادی جناب خدیجہ ایک باشعور ،دور اندیش او رشریف خاتون تھیں اور نسب کے لحاظ سے قریش کی عورتوں سے افضل و برتر تھیں۔(١) وہ متعدد اخلاقی اور اجتماعی خوبیوں کی بنا پر زمانۂ جاہلیت میں ''طاہرہ''(٢) اور ''سیدۂ قریش''(٣) کے نام سے پکاری جاتی تھیں۔ مشہور یہ ہے کہ اس سے قبل آپ نے دوبار شادی کی تھی اورآپ کے دونوں شوہروں کا انتقال ہوگیا تھا۔(٤)
تمام بزرگان قریش آپ سے شادی کرنا چاہتے تھے(٥) قریش کی معروف ہستیاں، جیسے عقبہ بن ابی معیط، ابوجہل اورابوسفیان نے آپ کے ساتھ شادی کا پیغام بھیجا لیکن آپ، کسی سے
______________________
(١) ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٢٠١۔ ٢٠٠؛ ابن سعد ، گزشتہ حوالہ، ج١، ص١٣١؛ بیہقی، گزشتہ حوالہ، ج١، ص٢١٥؛ رازی دولابی، گزشتہ حوالہ، ص٤٦؛ ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، ج٢، ص ٣٩۔
(٢) ابن اثیر، اسد الغابہ، ج٥، ص٤٣٤؛ حلبی، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٢٢٤؛ عسقلانی، الاصابہ فی تمییز الصحابہ (بیروت: دار احیاء التراث العربی)، ج٤، ص٢٨١؛ ابن عبد البر، الاستیعاب فی معرفة الاصحاب (الاصابہ کے حاشیہ پر) ج٤، ص ٢٧٩۔
(٣) حلبی، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٢٢٤۔
(٤) ان کے گزشتہ شوہر عتیق بن عائد (عابد نسخہ بدل) اور ابوھالہ ہند بن نباش تھے۔ (ابن کثیر، اسد الغابہ، ج٥، ص ٤٣٤؛ ابن حجر، گزشتہ حوالہ، ص ٢٨١؛ ابن عبد البر، گزشتہ حوالہ، ص ٢٨٠؛ حلبی، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٢٢٩؛ ابو سعید خرگوشی، شرف النبی، ترجمہ: نجم الدین محمود راوندی (تہران: انشارات بابک، ١٣٦١)، ص ٢٠١؛ شیخ عبد القادر بدران، تہذیب دمشق (بیروت: دار احیاء التراث العربی، ط ٣، ١٤٠٧ھ۔ق)، ج١، ص ٣٠٢)، لیکن کچھ اسناد و شواہد اس بات کی حکایت کرتے ہیں کہ جناب خدیجہ نے اس سے قبل شادی نہیں کی تھی او رحضرت محمد ۖ آپ کے پہلے شوہر تھے۔ بعض معاصر محققین بھی اس بات کی تاکید کرتے ہیں (مرتضیٰ العاملی، جعفر، الصحیح من سیرة النبی الاعظم، ج١، ص ١٢١)۔
(٥) ابن سعد، گزشتہ حوالہ؛ بیہقی، گزشتہ حوالہ، ص ٢١٥؛ طبری، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ١٩٧؛ حلبی، گزشتہ حوالہ؛ ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، ج٢، ص ٤٠.
شادی کرنے کے لئے تیار نہیں ہوئیں۔(١)
دوسری طرف خدیجہ، حضرت محمد ۖ کی رشتہ دار تھیں اور دونوں کا نسب قصی سے ملتا تھا آپ حضرت محمدۖ کے روشن مستقبل سے بھی باخبر تھیں(٢) اور ان سے شادی کی خواہش مند تھیں۔(٣)
جناب خدیجہ نے حضرت محمد ۖ کے پاس شادی کا پیغام بھیجوایا اور محمدۖ نے اپنے چچا کی مرضی سے اس پیغام کو قبول کرلیااور یہ شادی انجام پائی۔(٤) مشہور قول کے مطابق خدیجہ اس وقت ٤٠ برس کی تھیں اور محمدۖ ٢٥ سال کے تھے۔(٥) جناب خدیجہ پہلی خاتون تھیں جنھوں نے حضرت محمدۖ کے ساتھ شادی کی۔(٦)
______________________
(١) مجلسی، بحار الانوار (تہران: دار الکتب الاسلامیہ)، ج١٦، ص ٢٢۔
(٢) مجلسی، گزشتہ حوالہ ، ص ٢١۔ ٢٠؛ ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٢٠٣؛ ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی طالب (قم: المطبعة العلمیہ)، ج١، ص ٤١۔
(٣) مجلسی، گزشتہ حوالہ، ص ٢٣۔ ٢١۔
(٤) ابن اسحاق،گزشتہ حوالہ، ص ٨٢؛ بلاذری، انساب الاشراف، محمد حمید اللہ (قاہرہ: دار المعارف)، ج١، ص٩٨؛ تاریخ یعقوبی، ج٢، ص١٦؛ ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، ج٢، ص٤٠؛ رازی دولابی، گزشتہ حوالہ، ص ٤٦؛ حلبی، گزشتہ حوالہ، ص ٢٢٧؛ ابن شہر آشوب، ج١، ص ٤٢؛ مجلسی، گزشتہ حوالہ، ج١٦، ص ١٩۔
(٥) بلاذری، گزشتہ حوالہ، ص٩٨؛ ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ١٣٢؛ طبری، گزشتہ حوالہ، ج٢، ١٩٦؛ حلبی، گزشتہ حوالہ، ص ٢٢٨؛ ابن عبد البر، الاستیعاب، ج٤، ص ٢٨٠؛ ابن اثیر، اسد الغابہ، ج٥، ص ٤٣٥؛ الکامل فی التاریخ، ج٢، ص ٣٩۔ جناب خدیجہ کی شادی کے وقت ان کی عمر کے بارے میں دوسرے اقوال بھی موجود ہیں۔ رجوع کریں: امیر مھیا الخیامی، زوجات النبیۖ واولادہ (بیروت: مؤسسة عز الدین، ط١، ١٤١١ھ.ق)، ص ٥٤۔ ٥٣۔
(٦) ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٢٠١؛ رازی دولابی، گزشتہ حوالہ، ص ٤٩؛ بیہقی، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٢١٦؛ ابو سعید خرگوشی، گزشتہ حوالہ، ص ٢٠١؛ شیخ عبد القادر بدران، تہذیب تاریخ دمشق، ج١، ص ٣٠٢؛ ابن اثیر، اسد الغابہ، ج٥، ص٤٣٤۔

حجر اسود کا نصب کرنا حضرت محمدۖ کے نیک اخلاق و کردار، امانت و صداقت اور اچھے اعمال نے اہل مکہ کو ان کا گرویدہ بنادیاتھا۔ سب آپ کو ''امین'' کہتے تھے(١) آپ لوگوںکے دلوں میں اس طرح سے بس گئے تھے۔ کہ حجر اسود(٢) کے نصب کے سلسلہ میں لوگوں نے آپ کے فیصلہ کا استقبال کیا اور آپ نے اپنی خاص تدبیر او رحکمت عملی کے ذریعہ ان کے درمیان موجوداختلاف کو حل کردیا۔ جس کی توضیح یہ ہے۔
جس وقت حضرت محمدۖ ٣٥ برس کے ہوئے تو مکہ کے پہاڑوں سے چشمہ کے جاری ہونے کی وجہ سے خانہ کعبہ کی دیواریں کئی جگہ سے منہدم ہوگئیں کعبہ میں اس وقت تک چھت نہیں تھی اور اس کی دیواریں چھوٹی تھیں اس اعتبار سے اس کے اندر موجود چیزیں محفوظ نہیں تھیں۔ قریش نے چاہا کہ کعبہ کی چھت کو بنائیں لیکن وہ یہ کام نہیں انجام دے سکے۔ اس کے بعد مکہ کے بزرگوں نے چاہا کہ کعبہ کی دیوار کو توڑ کر پھر سے از نو تعمیر کریں او راس پر چھت بھی ڈالیں۔
لہٰذا کعبہ کی تعمیر نو کے بعد، قریش کے قبیلوں کے درمیان حجر اسود کے نصب کرنے کے سلسلہ میں اختلاف پیدا ہوگیااور قبیلہ جاتی رسّہ کشی اور فخر و مباہات دوبارہ زندہ ہوگئیں، ہر قبیلہ چاہتا تھا کہ اس پتھر کے نصب کرنے کا شرف اس کو حاصل ہو بعض قبیلوں نے تواپنے دونوں ہاتھوں کو خون سے لبریز طشت میں ڈال کر یہ عہد کیا کہ یہ افتخار دوسرے قبیلہ کے پاس نہیں جانے دیں گے۔
______________________
(١) ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ١٢١؛ ابن ہشام، ج١، ص ٢١٠؛ بیہقی، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٢١١؛ مجلسی، گزشتہ حوالہ، ج١٥، ص ٣٦٩۔
(٢) یہ پتھر کعبہ کے مقدس ترین اجزاء میں سے ہے۔ روایات میں نقل ہوا ہے کہ یہ بہشتی اور آسمانی پتھر ہے جس کو جنا ب ابراہیم نے حکم خدا سے کعبہ کا جزء قرار دیا ہے (مجلسی، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ٩٩۔ ٨٤)، ازرقی، تاریخ مکہ، تحقیق: رشدی الصالح ملحس، (بیروت: دارالاندلس، ط٣، ١٤٠٣ھ.ق)، ج١، ص ٦٣۔ ٦٢؛ حجر اسود ابھی تک باقی ہے جو انڈہ کے شکل ، سیاہ رنگ، مائل بہ سرخی ہے او رکعبہ کے رکن شرقی میں زمین سے ڈیڑھ میٹر کی بلندی پر نصب ہے او رطواف کا آغاز وہیں سے ہوتاہے۔
آخرکار قریش کے ایک بزرگ اور سن رسیدہ شخص کے مشورہ پر یہ طے پایا کہ کل جو شخص سب سے پہلے باب بنی شیبہ (یا باب صفا) سے مسجد الحرام میں داخل ہوگا ۔ وہی قبائل کے درمیان حجر اسود کے نصب کرنے کا فیصلہ کرے گا۔
اچانک حضرت محمدۖ اس دروازہ سے داخل ہوئے سب نے ملکر کہا: یہ محمدۖ، امین ہیں ہم سب ان کے فیصلہ پر راضی ہیں لہٰذا آنحضرت کے حکم سے ایک چادر منگائی گئی اور چادر کو پھیلا کر اس میں حجر اسود کو رکھا گیا اور قبائل کے سرداروں سے کہا گیا کہ ہر ایک اس کا ایک گوشہ پکڑ لے اور سب ملکر پتھر کو دیوار تک لائیں جب پتھر دیوار کے پاس آگیاتو آنحضرتۖ نے اس کواپنے دست مبارک سے اٹھاکر اپنی قدیمی جگہ پر رکھ دیا۔(١) اور اس طرح آپ نے اپنے حکیمانہ او رمدبرانہ عمل کے ذریعہ قبائل کے درمیان موجود اختلاف کو حل فرمایا اور انھیں ایک خون ریز جنگ سے بچالیا۔

علی مکتب پیغمبر ۖ میں کعبہ کی تعمیر نو کے چند سال بعد او ربعثت پیغمبرۖ سے چند سال قبل مکہ میںایک مرتبہ سخت قحط پڑا۔ اس وقت پیغمبرۖ کے چچا جناب ابوطالب تہی دست اور کثیر العیال تھے۔ حضرت محمدۖ نے اپنے دوسرے چچا عباس کو (جو کہ بنی ہاشم کے ثروتمند ترین افراد میں سے تھے) مشورہ دیاکہ ہم میں سے ہر ایک ابوطالب کے ایک فرزند کو اپنے گھر لے جائے تاکہ ان کا مالی بوجھ کم ہوجائے۔
______________________
(١) ابن سعد، گزشتہ ، ج١، ص ١٤٦۔ ١٤٥؛ تاریخ یعقوبی، ج٢، ص ١٥۔ ١٤؛ مجلسی، گزشتہ، ج١٥، ص ٣٣٨۔ ٣٣٧؛ بلاذری، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ١٠٠۔ ٩٩؛ مسعودی، مروج الذہب، (بیروت: دار الاندلس، ط١، ١٩٦٥.)، ج٢، ص ٢٧٢۔ ٢٧١؛ بعض مورخین نے کعبے کی خرابی اوراس کی تعمیر نو کاسبب ایک دوسرا واقعہ نقل کیا ہے لیکن سب نے حجر اسود کے نصب کے سلسلے میں آپ کے فیصلہ کونقل کیاہے۔ رجوع کریں: ابن اسحاق، السیر و المغازی، ص ١٠٣؛ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٢٠٥؛ بیہقی، دلائل النبوة، ترجمہ: محمود مہدوی دامغانی، ج١، ص٢١٠۔
عباس اس بات پر راضی ہوگئے او ردونوں ابوطالب کے پاس گئے اور اپنی بات ان سے کہی تو وہ بھی راضی ہوگئے او رپھر جعفر کو عباس نے او رحضرت علی کو حضرت محمد ۖ نے اپنی تربیت اور کفالت میں لے لیا اور حضرت علی آنحضرتۖ کے گھر میں رہنے لگے۔ یہاں تک کہ خداوند عالم نے ان کو مبعوث بہ رسالت کیا اور علی نے آپ کی تصدیق اور پیروی کی۔(١)
حضرت علی اس وقت چھ سال کے تھے.(٢) یہ ان کی شخصیت سازی او رتربیت پذیری کا حساس دور تھا گویا حضرت محمدۖ چاہتے تھے کہ ابوطالب کے کسی ایک لڑکے کی تربیت کر کے ان کی اور ان کے شریک حیات کی زحمتوں کا بدلا چکا دیں۔ لہٰذا ابوطالب کی اولاد میں سے علی کو اس معاملہ میں مستعدتر پایا۔ جیسا کہ آپ نے علی کی کفالت قبول کرنے کے بعد فرمایا ہے: میںنے اس کو منتخب کیا جس کو خدا نے منتخب کیا ہے۔(٣)
حضرت محمد ۖ علی سے بہت محبت کرتے تھے اور ان کی تربیت میں کسی قسم کی کوشش سے پیچھے نہیں ہٹے۔ فضل بن عباس (علی کا چچا زادبھائی)کہتا ہے کہ: میںنے اپنے والد محترم (عباس بن عبد المطلب) سے پوچھا کہ پیغمبرۖ اپنے فرزند وں میں سے کس کو سب سے زیادہ چاہتے ہیں؟کہا: علی ابن ابی طالب کو۔
______________________
(١) ابن ہشام، السیرة النبویہ،(قاہرہ: مکتبہ مصطفی البابی الحلبی)، ١٣٥١ ھ.ق)، ج١، ص ٢٦٢؛ طبری، تاریخ الامم والملوک (بیروت: دار القاموس الحدیث)، ج٢، ص ٢١٣؛ ابن اثیر، الکامل فی التاریخ (بیروت: دار صادر)، ١٣٩٩ھ.ق)، ج٢، ص٥٨؛ بلاذری، انساب الاشراف، تحقیق: الشیخ محمد باقر المحمودی (بیروت: مؤسسہ الاعلمی للمطبوعات، ط١)، ١٣٩٤ھ.ق، ج٢، ص ٩٠؛ ابن ابی الحدید ، شرح نہج البلاغہ (قاہرہ: دار احیاء الکتب العربیہ، ١٩٦٢ئ)، ج١٣، ص ١٩ اور ج ١، ص ١٥۔
(٢) ابن ابی الحدید،گزشتہ حوالہ، ج١، ص ١٥؛ ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی طالب (قم: المطبعة العلمیہ)، ج٢، ص١٨٠۔
(٣)ابو الفرج اصفہانی، مقاتل الطالبین (نجف اشرف: منشورات المکتبة الحیدریہ)، ص ١٥۔
میں نے کہا: میں نے رسول خداۖ کے لڑکوں کے بارے میں پوچھا ہے ۔ کہا:رسول خداۖ اپنے تمام لڑکوں میں علی کو زیادہ چاہتے ہیں اور سب سے زیادہ ان پر مہربان ہیں میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ انھوں نے علی کو زمانۂ کمسنی سے اپنے سے الگ کیاہو؟ مگر ایک سفر میں جو آپ نے جناب خدیجہ کے لئے کیا تھا۔ ہم نے کسی پدر کو اپنی اولاد کے بارے میں رسول خدۖا سے زیادہ مہربان نہیں دیکھاہے اور نہ ہی علی سے زیادہ فرمانبردار کوئی لڑکا دیکھا ہے جواپنے باپ کی فرمانبرداری کرے۔(١)
بعثت کے بعد حضرت محمدۖ نے علی کواس طرح سے تعلیمات اسلام سے آگاہ کیا کہ اگر رات میں وحی نازل ہوتی تھی تو صبح ہونے سے قبل علی کو بتادیتے تھے او راگر دن میں وحی نازل ہوتی تھی تو رات ہونے سے قبل علی کو اس سے آگاہ کردیتے تھے۔(٢)
علی سے پوچھا گیا: کس طرح آپ نے دوسرے اصحاب سے پہلے آنحضرتۖ سے حدیث سیکھی؟ تو آپ نے جواب دیا: جب میں پیغمبر ۖ سے پوچھتا تھا تو وہ جواب دیتے تھے او رجب میں خاموش رہتاتھا تو وہ خود مجھے حدیث بتاتے تھے۔(٣)
حضرت علی نے اپنے دورخلافت میںاپنی تربیت کے زمانہ کو یاد کر کے اس طرح سے فرمایا ہے:
''او رتم رسول خداۖ کی قریبی قرابت کے حوالے سے میرا مقام اور بالخصوص قدر و منزلت جانتے ہی ہو میں بچہ تھا کہ رسول ۖ نے مجھے گود میں لے لیا تھا مجھے اپنے سینہ سے چمٹائے رکھتے تھے اور بستر میں اپنے پہلو میں جگہ دیتے او رجسم مبارک کو مجھ سے مس کرتے تھے اور اپنی خوشبو مجھے سنگھاتے تھے ۔ وہ کوئی چیز خود چباتے پھر اس کے لقمے میرے منھ میں دیتے تھے اور میں ان کے پیچھے پیچھے اس طرح لگا رہتا تھا جیسے اونٹنی کا بچہ اپنی ماں کے پیچھے پیچھے رہتا ہے وہ ہر روز مجھے اخلاق حسنہ کی تعلیم دیتے تھے
______________________
(١) ابن ابی الحدید، گزشتہ حوالہ، ج١٣، ص ٢٠٠۔
(٢) شیخ طوسی، الامالی (قم: دار الثقافہ للطباعة والنشر و التوزیع، ط١، ١٤١٤ھ.ق)، ص ٦٢٤۔
(٣) سیوطی، تاریخ الخلفاء (قاہرہ: ط٣، ١٣٨٣ھ.ق)، ص ١٧٠۔
اور مجھے اس کی پیروی کا حکم دیتے تھے۔ وہ ہمیشہ (کوہ) حرا میں مجھے ساتھ رکھتے تھے اور وہاں انھیں میرے سوا کوئی نہیں دیکھتا تھا... اور جب حضور پر پہلے پہل وحی نازل ہوئی تو میںنے شیطان کی چیخ سنی جس پر میںنے پوچھا یا رسول اللہ! یہ آواز کیسی ہے؟
فرمایا: یہ شیطان ہے جواپنی عبادت سے محروم ہوگیا ہے جو کچھ میں سنتا ہوں تم بھی سنتے ہو اور جو کچھ میں دیکھتا ہوںتم بھی دیکھتے ہوفرق صرف یہ ہے کہ تم نبی نہیں ہو بلکہ تم میرے وزیر ہو اور یقینا خیر پر ہو۔(١)
اگرچہ یہ بات بعثت کے بعد پیغمبرۖ کی عبادت سے مربوط ہوسکتی ہے جو آپ نے غار حرا میںانجام دی ہے لیکن یہ بات پیش نظر رہے کہ پیغمبر ۖ کی عبادت غار حرا میں غالباً رسالت سے قبل رہی ہے ۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ موضوع، حضرت محمدۖ کی رسالت سے قبل کا تھا اور شیطان کے نالہ و فریاد کا سننا آنحضرتۖ کی بعثت کے وقت، جب قرآن کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں تھیں۔ اس وقت سے مربوط ہے۔ بہرحال علی کی پاکیزہ نفسی اور پیغمبر اسلامۖ کی مسلسل تربیت کی وجہ سے وہ بچپنے ہی سے اپنی چشم بصیرت و بصارت اور گوش سماعت اور قلبی ادراک کے ذریعہ ایسی چیز وںکو دیکھتے اور سنتے تھے جو عام انسانوں کے لئے ممکن نہیں تھا۔
______________________
(١) نہج البلاغہ، صبحی صالح، خطبہ ١٩٢



۱۶
تیسرا حصہ : بعثت سے ہجرت تک تاریخ اسلام
دور جاہلیت سے وفات مرسل اعظم ۖ تک

تیسرا حصہ
بعثت سے ہجرت تک

پہلی فصل: بعثت اور تبلیغ
دوسری فصل: علی الاعلان تبلیغ اور مخالفتوں کا آغاز
تیسری فصل: قریش کی مخالفتوں کے نتائج اور ان کے اقدامات

پہلی فصل
بعثت اور تبلیغ

رسالت کے استقبال میں جیسا کہ بیان کیا جاچکا ہے کہ حضرت محمد ۖ کے آباء و اجداد موحد تھے اور ان کا خاندان طیب و طاہر تھا اور خدا نے انھیں حسب و نسب کی طہارت کے علاوہ بہترین تربیت سے نوازا تھا وہ بچپنے سے ہی اہل مکہ کے برے اخلاق اور بت پرستی میں ملوث نہیں تھے۔(١) وہ بچپنے سے ہی خداوند عالم کی عنایت اور اس کی خاص تربیت کے زیر نظر تھے اور آپ کے زمانۂ تربیت کو حضرت علی نے اس طرح سے بیان فرمایا ہے:
''اور خدا نے آنحضرتۖ کی دودھ بڑھائی کے وقت ہی سے اپنے فرشتوں میں سے ایک عظیم المرتبت ملک کو آپ کے ساتھ کردیا تھا جو شب و روز بزرگوں کی راہ اور حسن اخلاق کی طرف لے چلتا تھا۔(٢)
______________________
(١)علی بن برہان الدین الحلبی، السیرة الحلبیہ (انسان العیون) ، (بیروت: دار المعرفہ)، ج١، ص ٢٠٤۔ ١٩٩؛ ابی الفداء اسماعیل بن کثیر، السیرة النبویہ، تحقیق: مصطفی عبد الواحد (قاہرہ: مطبعہ عیسی البابی الحلبی)، ج١، ص ٢٥
(٢)و لقد قرن اللّٰہ بہ من لدن ان کان فطیماً اعظم ملک من ملائکتہ، یسلک بہ طریق المکارم و محاسن اخلاق العالم لیلہ و نہارہ... ، نہج البلاغہ، حطبہ ١٩٢.
حضرت امام محمد باقر ـ نے فرمایا ہے: جس وقت سے آنحضرتۖ کا دودھ چھوڑایاگیا خداوند عالم نے آپ کے ساتھ ایک بڑے فرشتہ کو کردیا تاکہ وہ آپ کو نیکیوں اور اچھے اخلاق کی تعلیم دے اور برائیوں اور برے اخلاق سے روکے یہ وہی فرشتہ تھا جس نے جوانی میں آپ کو مبعوث بہ رسالت ہونے سے قبل آواز دی تھی اور کہا تھا: ''السلام علیک یا محمد رسول اللّٰہ'' لیکن آپ نے سوچا کیا کہ یہ آواز پتھر اور زمین سے آرہی ہے کافی غور کیا لیکن کچھ نظر نہ آیا۔(١)
بعثت سے قبل حضرت محمدۖ کی عقل و فکر کامل ہوچکی تھی اور آپ کو اپنے یہاں کے آلودہ ماحول سے تکلیف اور کوفت ہوتی تھی لہٰذا آپ لوگوں سے بچتے تھے۔(٢) اور ٣٧ سال کی عمر میں آپ کے اندر معنویت پیدا ہوگئی تھی اور آپ محسوس کرتے تھے کہ غیب کے دریچے آپ کے لئے کھلے ہوئے ہیں آپ کے بارے میں جو باتیں اکثر آپ کے رشتہ داروں اور اہل کتاب کے دانشوروں جیسے بحیرا، نسطور وغیرہ کے ذریعہ سنی گئی تھیں، وہ عنقریب رونما ہونے والی تھیں کیونکہ آپ ایک خاص نور دیکھنے لگے تھے اور آپ کے اوپر اسرار فاش ہونے لگے تھے اور اکثر آپ کے کانوں سے غیب کی صدا ٹکراتی تھی لیکن کسی کو آپ دیکھتے نہیں تھے۔(٣) کچھ دنوں تک خواب کی حالت میں آواز سنائی پڑتی تھی کہ کوئی انھیں پیغمبر ۖ کہہ رہا ہے ایک دن مکہ کے اطراف کے بیابانوں میں ایک شخص نے آپ کو رسول اللہ کہہ کر پکارا آپ نے پوچھا تو کون ہے؟ اس نے جواب دیا کہ ''میں جبرئیل ہوں۔
______________________
(١) ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، تحقیق: محمد ابو الفضل ابراہیم (قاہرہ: دار احیاء الکتب العربیہ، ١٩٦١ئ)، ج١، ص ٢٠٧
(٢) ابن کثیر ، سابق ، ج ١، ص ٣٨٩.
(٣) حلبی، سابق، ج١، ص ٣٨١۔ ٣٨٠؛ ابن ہشام، السیرة النبویہ، تحقیق : مصطفی السقاء او ردوسرے افراد(قاہرہ: مطبعہ مصطفی البابی الحبی، ١٣٥٥ھ) ، ج١، ص ١٥٠؛ طبری، تاریخ الامم و الملوک (بیروت: دار القاموس الحدیث)، ج٢، ص ٢٠٤۔ ٢٠٣؛ ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی طالب (قم: المطبعہ العلمیہ)، ج١، ص ٤٣؛ مجلسی، بحار الانوار، (تہران: دار الکتب الاسلامیہ، ج١٨، ص ١٨٤ اور ١٩٣؛ مراجعہ: تاریخ یعقوبی (نجف: المکتبہ الحیدریہ، ١٣٨٤ھ)، ج٢، ص ١٧.
خداوند عالم نے مجھے بھیجا ہے تاکہ تمہیں پیغمبری کے منصب پر مبعوث کروں حضرت محمد ۖ نے جس وقت یہ خبر اپنی زوجہ کو سنائی تو وہ خوش ہوکر بولیں ''امید کرتی ہوں کہ ایسا ہی ہو''۔(١)
اس وقت حضرت محمد ۖ سال میں کچھ دن ''غار حرا''(٢) میں رہا کرتے تھے اور دعا و عبادت کیا کرتے تھے(٣) اور اس طرح کی گوشہ نشینی اور غار حرا میں عبادت، قریش کے خدا پرستوں میں سابقہ نہیں رکھتی تھی۔(٤) پہلا شخص جس نے اس سنت کو قائم کیا حضرت محمد ۖ کے جد حضرت عبد المطلب تھے کہ جب ماہ رمضان آتا تھا تو غار حرا میں چلے جاتے تھے اور فقیروں کو کھانا کھلایا کرتے تھے۔(٥)
______________________
(١) ابن شہر آشوب، سابق ، ج١، ص ٤٤؛ مجلسی ، سابق، ج١٨، ص ١٩٤؛ طبرسی، اعلام الوریٰ باعلام الہدی (تہران: دار الکتب السامیہ،ط٣)، ص ٣٦؛ ان دلائل و شواہد کو دیکھتے ہوئے جیسا کہ مرحوم کلینی نے روایت کی ہے حضرت محمد ۖ اس وقت ''نبی'' تھے لیکن ابھی مرتبۂ رسالت پر نہیں پہنچے تھے (الاصول من الکافی، تہران: مکتبہ الصدوق، ١٣٨١ھ)، ج١، ص ١٧٦۔
(٢) غار حرا مکہ کے شمال مشرقی حصے میں واقع ہے اور اس لحاظ کہ خورشید وحی کے طلوع کی جگہ قرار پائی ''جبل النور'' (کوہ نور) کہا جاتا ہے کچھ سال پہلے شہر مکہ سے اس پہاڑ تک تھوڑا فاصلہ پایا جاتا تھالیکن اب، شہر مکہ کی توسیع کی بنا پر پہاڑ کے کنارے تک گھر بن گئے ہیں، حرا پہاڑ جو کئی پہاڑ کے بیچ میں ہے سب سے بلند اور اونچا ہے غار حرا جو پہاڑ کی چوٹی میں واقع ہے ''در اصل وہ غار نہیں ہے بلکہ پتھر کی ایک عظیم پٹیہ جو پتھر کے دو بڑے ٹکڑوں کے اوپر چپکی ہوئی اس سے ایک چھوٹا سا غار تقریباً ڈیڑھ میٹر کا بن گیا تھا ،غار کا منھ پھیلا ہوا ہے ہر شخص آسانی سے اس میں آجاسکتاہے لیکن آدھا حصہ اس کا بعد والا تنگ اور اس کی چھت چھوٹی ہے اور سورج کی روشنی غار کے آدھے حصہ سے زیادہ نہیں پہنچ پاتی ہے۔
(٣) نہج البلاغہ، تحقیق صبحی صالح، خطبہ ١٩٢ (قاصعہ)؛ ابن ہشام، سابق ، ج١، ص ٢٥١.
(٤) ابن ہشام، سابق ، ج١، ص ٢٥١؛ سابق، ج٢، ص ٢٠٦؛ ابن کثیر، سابق ، ج١، ص ٣٩٠؛ بلاذری۔
(٥) حلبی، سابق، ص ٣٨٢.

رسالت کا آغاز حضرت محمد ۖ جب چالیس برس کے ہوئے (١) تو اس وقت بھی آپ اپنے قدیمی دستور کے مطابق کچھ دن کے لئے غار حرا میں چلے گئے تو وہاں وحی کا نمائندہ نازل ہوا اور خدا کی بارگاہ سے قرآن مجید کی ابتدائی آیات آپ کے سینہ پر نازل ہوئیں۔(٢)
(بسم الرحمن الرحیم. اقرأ باسم ربک الذی خلق. خلق الانسان من علق. اقرأ و ربک الأکرم . الذی علَّم بالقلم . علم الانسان ما لم یعلم''(٣)
اس خدا کا نام لے کر پڑھو جس نے پیدا کیا ہے
اس نے انسان کو جمے ہوئے خون سے پیدا کیا ہے
پڑھو اور تمہارا پروردگار بڑا کریم ہے
جس نے قلم کے ذریعہ تعلیم دی ہے
اور انسان کو وہ سب کچھ بتا دیا ہے جو اسے نہیں معلوم تھا۔
خداوند عالم نے حضرت محمد ۖ کے ساتھ فرشتۂ وحی (جناب جبرئیل) کا دیدار اور اس کے پیغام پہنچانے کو قرآن مجید میں دو مقام پر ذکر فرمایا ہے:
______________________
(١) ابن ہشام، سابق، ص ٢٤٩؛ طبری ، سابق، ص ٢٠٩؛ بلاذری، ص ١١٥۔ ١١٤؛ ابن ، الطبقات الکبریٰ (بیروت: دار صادر)، ج١، ص ١٩٠؛ مسعودی، التنبیہ و الاشراف، (قاہرہ: دار الصاوی للطبع و النشر)، ص ١٩٨؛ حلبی ، سابق ، ص ٣٦٣؛ مجلسی، سابق ، ص ٢٠٤۔
(٢) طبرسی، مجمع البیان (تہران: شرکة المعارف الاسلامیہ، ١٣٧٩ھ )، ج١٠، ص ٥١٤؛ مسعودی، مروج الذہب، (بیروت: دار الاندلس، ط ١، ١٩٦٥ئ)، ج٢، ص ١٢٩و ٢٧٦۔
(٣) سورۂ علق، آیت ٥۔ ١ .
قسم ہے ستارہ کی جب وہ ٹوٹا
تمہارا ساتھی (محمد ۖ) نہ گمراہ ہوا ہے اور نہ بہکا
اور وہ اپنی خواہش سے کلام بھی نہیں کرتا ہے
اس کا کلام وہی وحی ہے جو مسلسل نازل ہوتی رہتی ہے
اسے (فرشتہ) نہایت طاقت والے (جبرئیل) نے تعلیم دی ہے
وہ صاحب حسن و جمال جو سیدھا کھڑا ہوا
جبکہ وہ بلند ترین افق پر تھا
پھر وہ قریب ہوا اور آگے بڑھا
یہاں تک کہ دو کمان یا اس سے کم کا فاصلہ رہ گیا
پھر خدا نے اپنے بندہ کی طرف جس راز کی بات کرنا چاہی وحی کردی
دل نے اس بات کو جھٹلایانہیں جس کو آنکھوں نے دیکھا
کیا تم اس سے اس بات کے بارے میں جھگڑا کر رہے ہو جو وہ دیکھ رہاہے۔(١)
تو میں ان ستاروں کی قسم کھاتا ہوں جو پلٹ جانے والے ہیں
چلنے والے اور چھپ جانے والے ہیں
اور رات کی قسم جب ختم ہونے کو آئے
______________________
(١) سورۂ نجم، آیت ١٢۔ ١ ؛ اسلامی دانشوروں نے ان آیات کو پیغمبر اسلاۖم کی بعثت سے مربوط قرار دیا ہے قرائن اور شواہد بھی اس بات کی تائید کرتے ہیں (مراجعہ کریں: مجلسی، بحار الانوار، ج١٨، ص ٢٤٧؛ محمد ہادی معرفت، التمہید فی علوم القرآن، ج١، ص ٣٥؛ احمد بن محمد القسطلانی، المواہب اللدنیہ بالمنح المحمدیہ، تحقیق: صالح احمد الشامی (بیروت: المکتب الاسلامی، ط ١، ١٤١٢ھ) ج٣، ص ٨٩۔ ٨٨؛ لیکن دوسری تفسیر کی بنیاد پر معراج سے مربوط ہے۔
اور صبح کی قسم جب سانس لینے لگے
بیشک یہ ایک معزز فرشتے کا بیان ہے
وہ صاحب قوت ہے اور صاحب عرش کی بارگاہ کا مکین ہے
وہ وہاں قابل اطاعت اور پھر امانت دار ہے
اور تمہارا ساتھی پیغمبر دیوانہ نہیں ہے
اور اس نے فرشتہ کو بلند افق پر دیکھا ہے
اور وہ غیب کے بارے میں بخیل نہیں ہے
اور یہ قرآن کسی شیطان رجیم کا قول نہیں ہے
تو تم کدھر چلے جارہے ہو۔(١)
______________________
(١) سورۂ تکویر، آیت ٢٦۔ ١٥.



۱۷
طلوع وحی کی غلط عکاسی تاریخ اسلام
دور جاہلیت سے وفات مرسل اعظم ۖ تک

طلوع وحی کی غلط عکاسی بعض تاریخ اور حدیث کی کتابوں میں پیغمبر اسلاۖم کی بعثت کو غلط اور افسانوی شکل میں نقل کیا گیا ہے جو کسی طرح سے حدیث اور تاریخی معیاروں کے مطابق، قابل قبول نہیں ہے اور اس اعتبار سے کہ یہ خبر، مشہور ہے۔ فارسی کی درسی کتابوں میں بھی نقل ہوئی ہے۔ لہٰذا مناسب ہے ہم اس کو نقل کریں اور اس پر تنقید کریں۔
عائشہ کہتی ہیں کہ پہلی بار جب رسول خداۖ پر وحی نازل ہوئی تو وہ سچا خواب تھا وہ جو بھی خواب دیکھتے تھے وہ صبح روشن کے مانند ہوا کرتا تھا اس کے بعد وہ چاہتے کہ گوشہ نشین ہوجائیں اور پھر غار حرا میں گوشہ نشین ہو جاتے تھے اور وہاں کچھ راتیں عبادت میں بسر کرتے اور پھر اپنے اہل خانہ کے پاس
واپس چلے آتے تھے اور خدیجہ سے آذوقہ لیتے تھے (اور پھر غار حرا میں واپس چلے جاتے تھے) یہاں تک کہ حق آپ کے پاس آیا اور آپ اس وقت غار میں تھے۔ فرشتہ وحی آپ کے پاس آیا اور کہا: پڑھو۔ کہا:میں پڑھنا نہیں جانتا ہوں۔
پیغمبر ۖ نے فرمایا کہ فرشتے نے مجھے پکڑا اور زور سے دبایا یہاں تک کہ میں بے دم ہوگیا پھر مجھے چھوڑ دیا اور کہا پڑھو۔ میں نے کہا: میں پڑھنا نہیں جانتا ہوں دوبارہ ہم کو پکڑا اور اتنی زور سے دبایا کہ میری ساری طاقت چلی گئی۔ اس وقت مجھے چھوڑ دیا اور کہا: پڑھو میں نے کہا: میں پڑھنا نہیں جانتا ہوں تیسری بار پھر مجھے پکڑا اور اتنی زور سے دبایا کہ میری ساری طاقت ختم ہوگئی پھر مجھے چھوڑ دیا اور کہا: پڑھو اپنے پروردگار کے نام سے جو خالق ہے... (پانچویں آیت تک)
اس وقت رسول خدا ۖ لرزتے ہوئے دل کے ساتھ پلٹے اور جناب خدیجہ کے پاس پہنچے اور فرمایا: مجھے اڑھادو! مجھے اڑھادو! تو انھوں نے اڑھا دیا تاکہ آپ کا اضطراب اور خوف ختم ہو جائے]![ رسول خدا ۖ کے ساتھ جو کچھ پیش آیا تھا اسے آپ نے خدیجہ سے بتایا اور فرمایا کہ میں اپنے بارے میں خوف زدہ ہوں]![ خدیجہ نے کہا: قسم خدا کی! خدا آپ کو ہرگز رسوا نہ فرمائے گا؛ کیونکہ آپ اپنے رشتہ داروں اور گھر والوں کے ساتھ نیکی اور غیروں کے ساتھ بخشش و خیرات کرتے ہیں ۔ فقیروں اور تہی دستوں کی دلجوئی اور مہمانوں کی ضیافت اور حق والوں کی مدد فرماتے ہیں۔
پھر جناب خدیجہ آپ کے ساتھ، اپنے چچازاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس گئیں وہ ایک سن رسیدہ اور نابینا شخص تھے اور زمانۂ جاہلیت میں عیسائیت کے گرویدہ ہوگئے تھے وہ عبرانی زبان سے واقف تھے او رانجیل کو اسی زبان میں لکھتے تھے۔
خدیجہ نے ان سے کہا: عمو زادہ! اپنے بھائی کی بات سنیئے (کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں؟) ورقہ نے کہا: ''بھائی تم نے کیا دیکھا؟'' رسول خدا ۖ نے جو کچھ دیکھا تھا ان سے بتایا۔ ورقہ نے کہا: ''یہ وہی ناموس (فرشتہ) ہے جو موسیٰ پر نازل ہوا تھا کاش آج میں جوان ہوتا۔ کاش میں اس دن زندہ رہوں؟ جب تمہاری قوم والے تم کو شہر سے باہر کردیں گے''۔
رسول خدا نے فرمایا: ''کیا یہ لوگ مجھے شہر سے باہر کردیں گے۔کہا: ہاں...'' (١)

تنقید و تحلیل جیسا کہ اشارہ کیا جاچکا ہے کہ یہ روایت اس شکل میں قابل قبول نہیں ہوسکتی کیونکہ مندرجہ ذیل دلائل کی بنیاد پر سند اور متن دونوں لحاظ سے ناقابل اعتبار ہے۔
١۔ اس واقعہ کی ناقل عائشہ ہیں اور وہ بعثت کے چوتھے یا پانچویں سال پیدا ہوئیں۔(٢) لہٰذا وہ واقعہ کے وقت موجود ہی نہیں تھیں کہ واقعہ کی عینی گواہ بن سکیں اور چونکہ وہ اصلی راوی کا نام کہ شاید جس سے یہ واقعہ سنا ہے ذکر نہیں کرتیں لہٰذا ان کی نقل، فاقد سند اور علوم حدیث کی اصطلاح میں ''مرسل'' ہے اور روایت مرسل قابل اعتبار نہیں ہے۔
٢۔ اس روایت کی بنیاد پر فرشتۂ وحی نے متعدد بار حضرت محمدۖ کو پڑھنے کے لئے کہا اور آپ نے اظہار ناتوانی فرمایا۔ اگر مقصد یہ تھا کہ آنحضرت کلام خدا کو لوح سے دیکھ کر پڑھیں تو ایسی چیز معقول نہ تھی؛ کیونکہ خدا اور اس کا فرشتہ جانتا تھا کہ آپ امی ہیںاور پڑھنا نہیں جانتے ہیں اور اگر مقصد یہ تھا کہ فرشتہ کے کہنے پر آپ پڑھیں تو یہ کام کوئی مشکل نہیں تھا۔ جس سے حضرت محمد ۖ (جو کہ ذہانت اور دقت میں معروف تھے) کمال عقل و فکر کے باوجود عاجز رہے ہوں!
______________________
(١) صحیح بخاری، شرح و تحقیق: الشیخ قاسم الشماعی الرفاعی (بیروت: دار القلم، ط١، ١٤٠٧ھ.ق)، ج١، ص٦٠۔ ٥٩،کتاب بدء الوحی؛ صحیح مسلم، بشرح امام النووی (بیروت: دار الفکر، ١٤٠٣ھ.ق)، ج٢، ص٢٠٤۔ ١٩٧، باب بدء الوحی الی رسول اللہۖ ؛ طبری، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ٢٠٦۔ ٢٠٥۔
(٢) عسقلانی ، الاصابہ فی تمیز الصحابہ (بیروت: دار احیاء التراث العربی، ط١، ١٣٢٨ھ) ج ٤، ص ٣٥٩۔
٣۔ فرشتۂ وحی کے ذریعہ مسلسل دباؤ کے کیا معنی ہوسکتے ہیں؟ جبکہ ہم جانتے ہیں کہ یاد کرنا ایک ذہنی کام ہے جس میں دباؤ کارگر نہیں ہوتا ہے اگر خیال کریں کہ یہ کام اس لئے تھا کہ حضرت، قدرت خدا سے اچانک پڑھنا سیکھ جائیں تو صرف ارادۂ الٰہی اس کام کے لئے کافی تھا ان مقدمات کی ضرورت نہیں تھی اور اگر دباؤ کے مسئلہ کو رسول خدۖا، پروردگار عالم اور عالم غیب سے مربوط سمجھیں پھر بھی قابل تاویل نہیں ہے کیونکہ جیسا کہ خداوند عالم نے صراحت کے ساتھ قرآن میں بیان کردیا ہے کہ پیغمبروں کا رابطہ عالم غیب سے ان تین طریقوں میں سے کسی ایک کے ذریعہ رہا ہے۔
١۔ ڈائرکٹ رابطہ اور بغیر کسی واسطہ کے پیغام الٰہی کو دریافت کرنا؛
٢۔ آواز کے ذریعہ، بغیر کسی کو دیکھے ہوئے؛
٣۔ فرشتۂ وحی کے ذریعہ۔(١)
صرف وحی کے بغیر کسی واسطے کے دریافت کرنے پر پیغمبر اسلاۖم نے دباؤ اور سختی کو برداشت کیا اور بعض روایتوں کی بنیاد پر آپ کا چہرہ متغیر ہو جایا کرتا تھا اور عرق کے قطرات موتی کی شکل میں آپ کے چہرے سے گرنے لگتے تھے۔(٢)
لیکن اگر پیغام الٰہی فرشتہ کے ذریعہ بھیجا جاتا تھا تو حضرت پر کوئی خاص کیفیت طاری نہیںہوا کرتی تھی جیسا کہ حضرت امام صادق فرماتے ہیں: ''جس وقت وحی جبرئیل لے آکر آتے تھے تو پیغمبر ۖ عام حالت میں فرماتے تھے۔ یہ جبرئیل ہیں یا جبرئیل نے مجھ سے اس طرح یہ کہا ہے لیکن
______________________
(١)''و ما کان لبشر ان یکلمہ اللّٰہ الا وحیا او من ورآ حجاب او یرسل رسولاً فیوحی باذنہ مایشاء انہ عل حکیم'' (سورۂ شوریٰ، آیت ٥١) اس بارے میں مزید آگاہی کے لئے مراجعہ کریں: (بحار الانوار، ج١٨، ص ٢٤٦، ٢٥٤، ٢٥٧
(٢)ابن سعد، سابق، ج١، ص ١٩٧؛ ابن شہر آشوب، سابق ، ج١، ص ٤٣؛ مجلسی ، گزشتہ ، ج١٨، ص ٢٧١۔
اگر وحی آپ پر براہ راست نازل ہوتی تھی تو گرانی اور بوجھ کا احساس کرتے تھے اور بے ہوشی جیسی کیفیت آپ پر طاری ہو جایا کرتی تھی''(١) جب جبرئیل حامل وحی ہوا کرتے تھے تو آنحضرتۖ ان کو دیکھ کر نہ تنہا کوئی خاص احساس نہ کرتے تھے بلکہ جب بھی آپ کی خدمت میں وہ حاضر ہوتے تھے، بغیر آپ کی اجازت کے آپ کی خدمت میں قدم نہیں رکھتے تھے اور پیغمبر ۖ کی بارگاہ میں نہایت ہی ادب سے بیٹھتے تھے۔(٢)
اس تشریح اور توضیح کے ساتھ چونکہ مورخین کا اتفاق ہے کہ قرآن کی ابتدئی آیات کو جبرئیل غار حرا میں لے کر آئے تھے لہٰذا کسی طرح کا بوجھ اور سنگینی نہیں پائی جاتی تھی۔ لیکن اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں ہے کہ آنحضرت ۖکو ذمہ داری کی سنگینی کا احساس نہیں تھا اور آنحضرتۖ کو بت پرستوں کی مخالفت کی فکر نہیں تھی۔
٤۔ حضرت محمد ۖ کی آمادگیوں اور تیاریوں کو دیکھتے ہوئے اور اس سے قبل، غیبی پیغاموں کے دریافت کودیکھتے ہوئے، کوئی سوال نہیں پیدا ہوتا کہ حضرت گھبرائے ہوں اور خوف و اضطراب آپ پر طاری ہوا ہو اس سے قطع نظر بعض کتابوں میں ذکر ہوا ہے کہ جناب جبرئیل شب شنبہ اور شب یکشنبہ کے ابتدائی حصہ میں پیغمبر اسلاۖم کے قریب آئے اور تیسری بار (یعنی دوشنبہ کے دن) تھا کہ منصب رسالت پر آپ کو فائز کردیا گیا۔(٣) لہٰذا غار حرا میں بھی آنحضرتۖ کا پہلا دیدار، فرشتے سے نہیں
______________________
(١) مجلسی ، سابق، ص ٢٦٨ اور ٢٧١؛ صدوق ، التوحید (تہران: مکتبة الصدوق)، ص ١١٥؛ مراجعہ کریں: مہر تابان، (آیة اللہ سید محمد حسین حسینی طہرانی کا انٹریو مرحوم علامہ سید محمد حسین طباطبائی سے) ص ٢١١۔ ٢٠٧۔
(٢) صدوق، کمال الدین و تمام النعمہ (ہم: موسسہ النشر الاسلامی، ١٤٠٥ھ)، ج١، ص ٨٥؛ علل الشرایع (نجف: المکتبة الحیدریہ، ١٣٨٥ھ)، باب ٧، ص ٧۔
(٣) طبری، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ٢٠٧؛ بلاذری، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ١٠٥؛ مسعودی، مروج الذہب، ج٢، ص ٢٧٦؛ تاریخ یعقوبی، ج٢، ص ١٧۔
ہوا کہ اس کو دیکھ کر آنحضرت ۖ کو خوف و اضطراب طاری ہوا ۔ اصولی طور پر جب تک کوئی ہر لحاظ سے سرّ الٰہی (رسالت) کو لینے کے لئے تیار نہ ہو خدائے حکیم اتنا بڑا عہدہ اور منصب اس کو نہیں عطا کرتا ہے۔
٥۔ کس طرح یہ بات قابل قبول ہوسکتی ہے کہ جناب خدیجہ کی معلومات (جو کہ ایک عام فرد تھیں) پیغمبر اسلام ۖ سے زیادہ تھیں اور وہ آنحضرت ۖ کے خوف و اضطراب کو دیکھ کر ان کی دلجوئی اور دلداری کرتی تھیں۔
٦۔ اور سب سے زیادہ قبیح بات یہ کہ ہم حضرت محمد ۖ کے بارے میں تصور کریں جو کہ رسالت اور لوگوں کی ہدایت کے لئے مبعوث ہوئے تھے کہ وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ کیا چیز آئندہ رونما ہونے والی ہے اور جبرئیل امین کو نہیں پہچانتے تھے اوراس کے پیغام کو صحیح طرح سے تشخیص نہیں دے سکتے یہاں تک کہ ایک ضعیف اور نابینا مسیحی نے ان کی رسالت کے اوپر مہر تصدیق لگائی اور محمد ۖ کو اس کے اظہارات کے ذریعہ اپنی رسالت کے بارے میں اطمینان حاصل ہوا اور ان کے دل کو سکون و قرار ملا۔ اس بات کا بے بنیاد ہونا اتنا واضح ہے کہ کسی دلیل یا برہان کی ضرورت نہیں ہے۔
٧۔ اس خبر میں حضرت محمد ۖکی طرف جس شک و تردید کی نسبت دی گئی ہے وہ قرآن کی آیت کے مطابق نہیں ہے قرآن فرماتا ہے کہ (قلب محمدۖ) نے جس چیز کو دیکھا اس کو جھٹلایا نہیں۔(١)
طبرسی (مشہور شیعہ عالم دین اور مفسر) کہتے ہیں:
''خداوند عالم اپنے رسول ۖ کو وحی نہیں کرتا مگر یہ کہ اس کو روشن دلیلوں کے ہمراہ کرے اور اسے اطمینان ہو جاتا ہے کہ جو کچھ اس پر وحی ہوتی ہے وہ خدا کی جانب سے ہے اور اسے کسی دوسری چیز کی ضرورت نہیں پڑتی اور اس پر خوف و اضطراب طاری نہیں ہوتا۔(٢)
______________________
(١) ''ما کذب الفؤاد ما رأیٰ'' سورۂ نجم ، آیت ١١
(٢) مجمع البیان ، ج١٠، ص ٣٨٤، تفسیر آیہ ''یا ایہا المدثر...''
حضرت امام صادق نے اپنے ایک صحابی کے سوال کرنے پر کہ رسول خدا ۖ وحی کے وقت، اس بات سے کیوں نہیں ڈرے کہ یہ شیطان کا وسوسہ ہوسکتا ہے؛ فرمایا: ''جس وقت خداوند عالم، اپنے کسی بندے کو رسالت کے درجہ پر فائز کرتا ہے تو اس کو ایسا اطمینان و سکون عطا کردیتا ہے کہ جو کچھ خدا کی جانب سے اس پر نازل ہو وہ اس کے لئے ویسے ہی ہو جیسے کوئی اپنی آنکھ سے دیکھ رہا ہو۔(١)
کتاب صحیح بخاری اور صحیح مسلم (جس میں عائشہ سے روایت نقل ہوئی ہے) کی شرح کرنے والے مشہور عالم ہونے کے باوجود، چونکہ اصل روایت کو مسلم جانتے تھے چونکہ اس کی صحیح تفسیر اور توضیح میں درماندہ اور حیران و پریشان ہوئے، ضعیف اور بے بنیاد توجیہات میں لگ گئے، جو باعث تعجب ہے۔(٢)
پیغمبر اسلاۖم کی بعثت کے بارے میں اس کے مشابہ چند حدیثیں، عبد اللہ بن شدّاد، عبید بن عُمیر، عبد اللہ بن عباس اور عروہ بن زبیر جیسے راویوں کے ذریعہ نقل ہوئی ہیں۔ جنکی ہم نے توضیحات پیش کی ہیں ان کے ذریعہ، ان کا جعلی ہونا واضح ہو جاتا ہے اور اس کے بیان کرنے کی ضرورت
______________________
(١) مجلسی، بحار الانوار ، ج١٨، ص ٢٦٢؛ محمد ہادی معرفت، التمہید فی علوم القرآن (مرکز مدیریت حوزہ علمیہ قم)، ج١، ص ٤٩.
(٢) جہاں تک ہمیں معلوم ہے کہ پہلا شخص جو اس روایت کے ضعیف اور بے اعتبار ہونے کی طرف متوجہ ہواوہ مرحوم سید عبد الحسین شرف الدین موسوی (١٢٩٠۔ ١٣٧٧ھ.ق) جبل عامل کے مایہ ناز شیعہ عالم دین تھے جنھوں نے اپنی کتاب ''الی المجمع العلمی العربی بدمشق'' اور کتاب النص و الاجتہاد، ص ٣٢٢۔ ٣١٩ میں اس روایت پر تنقید اور تجزیہ کیا ہے پھر ہمارے محققین اور علماء نے خاص طور سے دانشمند معظم جناب علی دوانی نے مذکورہ کتاب میں اس کے ذیل میں تفصیلی بحث اور تحقیق فرمائی ہے اور مسئلہ کو مکمل حل کردیا ہے اور ہم نے اس بحث میں ان کی تحقیقات سے استفادہ کیا ہے۔
شعاع وحی برفراز کوہ حرا، ص ١٠٨۔ ٧٠؛ تاریخ اسلام از آغاز تا ہجرت، ص ١١٠۔ ٩٨؛ نقشہ ائمہ در احیاء دین، ج٤، ص٤٤۔ ٦؛ الصحیح من سیرة النبی الاعظم، ج١، ص٢٣٢۔ ٢١٦؛ خیانت در گزارش تاریخ، ج٢، ص ٢٣۔ ١٣؛ التمہید، ج١، ص٥٦۔ ٥٢؛ درسھایی تحلیلی از تاریخ اسلام، ج٢، ص ٢٣٦۔ ١٩٦۔
نہیں پڑتی۔(١) یہ غلط خبر مسیحیوں کی کتابوں میں بھی نقل ہونے لگی ہے او ران میں سے کچھ لوگوں نے اس کو زہر چھڑکنے اور پیغمبر اسلامۖ کے خلاف وسوسہ ڈالنے کا ذریعہ بنا رکھا ہے۔(٢)
اس تنقید کے ذریعہ ان کی، غلط فہمی کا بے بنیاد ہونا بھی واضح اور آشکار ہو جاتا ہے۔

مخفی دعوت حضرت محمد ۖ نے تین سال تک خاموشی سے لوگوں کو تبلیغ کی(٣) کیونکہ مکہ کے حالات ابھی ظاہری تبلیغ کے لئے ہموار نہیں ہوئے تھے۔ اس تین سال کے دوران آپ مخفی طور سے ایسے افراد سے ملے جن کے بارے میں آپ کو معلوم تھا کہ وہ اسلام قبول کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
______________________
(١) سید مرتضیٰ عسکری، نقش عائشہ در احیائے دین، انتشارات مجمع علمی اسلامی، ج ٤، ص ١٢.
(٢) مراجعہ کریں: دائرة المعارف الاسلامیہ، ترجمہ عربی توسط محمد ثابت الفندی ( اور دوسرے افراد)، ج٣، ص ٣٩٨۔ (لفظ بحیرا)۔ مونٹگومری واٹ۔ ادینبورو یونیورسٹی کے عربی محکمہ کا چیرمین۔ ان لوگوں میں سے ہے جس نے اس سلسلہ میں زہر چھڑکا ہے اور بے بنیاد باتیں کہی ہیں ۔ وہ کہتا ہے: ''... ایک ایسے شخص کے بارے میں جس نے آٹھویں صدی عیسوی میں مکہ جیسے دور داراز شہر میں زندگی بسر کی، یہ ایمان رکھنا کہ خدا کی جانب سے وہ پیغمبری کے لئے مبعوث ہوا ہے حیرت کی بات ہے لہٰذا تعجب کی بات نہیں ہے اگر ہم یہ سنیں کہ محمد ۖ کو خوف اور شک لاحق ہوا تھا۔ اس سلسلے میں قرآن اور احادیث میں ایسے شواہد ملتے ہیں جو اس کی زندگی سے مربوط ہیں اور پتہ نہیں کب اسے، اطمینان حاصل ہوا کہ خدا نے اس کو فراموش نہیں کیا ہے !!۔دوسرا خوف، جنون کا خوف تھا کیونکہ اس زمانہ میں عرب عقیدہ رکھتے تھے کہ اس طرح کے افراد، روحوں یا جنات کے قبضہ میں ہیں ۔
مکہ کے کچھ لوگ حضرت محمد ۖ کے الہامات کو ایسا بتاتے تھے اوروہ خود بھی کبھی اس تردید کا شکار ہو جاتے تھے کہ حق ان لوگوں کے ساتھ ہے یا نہیں؟!! (محمد پیامبر و سیاستمدار، ترجمہ اسماعیل والی زادہ (تہران: کتابفروشی اسلامی، ١٣٤٤)، ص ٢٧۔ ٢٦.
(٣) ابن ہاشم، سابق ، ج١، ص ٢٨٠؛ طبری، سابق ، ج٢، ص ٢١٦؛ مسعودی ، مروج الذہب، ج٢، ص ٢٧٦۔ ٢٧٥؛ بلاذری، سابق، ج١، ص ١١٦؛ تاریخ یعقوبی، ج٢، ص١٩؛ حلبی، سابق، ج١، ص ٤٥٦؛ طوسی، الغیبہ (تہران: مکتبہ نینوی الحدیثہ)، ص٢٠٢؛ صدوق ، کمال الدین و تمام النعمة، (قم: موسسہ النشر الاسلامی، ١٣٦٣)، ج٢، ص ٣٤٤، ح ٢٩.
لہٰذا ان کو خدا کی وحدانیت اس کی عبادت اور اپنے نبوت کی طرف دعوت دی۔ اس عرصہ میں قریش آپ کے دعوے سے باخبر ہوگئے تھے۔ لہٰذا جب کہیںآپ کو راستے میں دیکھتے تھے تو کہتے تھے کہ نبی عبدالمطلب کا جوان آسمان سے باتیں کرتا ہے۔(١) لیکن چونکہ آپ عمومی جگہوں پر کلام نہیں کرتے تھے لہٰذا آپ کی دعوت کی باتوںسے کوئی باخبر نہیں تھا اور اسی بنا پر وہ لوگ کوئی عکس العمل نہیں دیکھاتے تھے۔
اس عرصہ میں کچھ لوگ مسلمان ہوئے اور انھیں ابتدائی مسلمانوں میں سے ایک شخص جس کا نام ارقم تھا اس نے اپنا گھر (جو صفا پہاڑی کے کنارے تھا) پیغمبر ۖ کے حوالہ کردیا حضرت رسول خداۖ اور تمام مسلمان اسی گھر میں ؛ جو تبلیغات کا سنٹر تھا ظاہری تبلیغ کے زمانہ تک جمع ہوتے تھے اور وہیں نماز پڑھا کرتے تھے۔(٢)

پہلے مسلمان مرد اور عورت تمام مورخین کا اتفاق ہے کہ جناب خدیجہ وہ پہلی خاتون ہیں جو مسلمان ہوئیںاور مردوں میں حضرت علی ـ وہ پہلے شخص ہیں جو پیغمبر ۖ کے گرویدہ ہوئے۔(٣-٤) کیونکہ یہ بات فطری ہے کہ پیغمبر اسلاۖم
نے غار حرا سے پلٹنے کے بعد اپنے آئین کو سب سے پہلے اپنی شریک حیات جناب خدیجہ اور حضرت علی جو اسی گھر کی ایک فرد اور آپ کی آغوش کے پروردہ تھے ان کے درمیان بیان کیا اور ان دونوں حضرا ت نے، جو کہ آپ کی نبوت کی نشانیوںاور صداقت و راستگوئی سے اچھی طرح واقف تھے، اس کی تصدیق کی۔
______________________
(١) تاریخ یعقوبی، ج٢، ص ١٩؛ ابن سعد ، الطبقات الکبریٰ ، ج١، ص ١٩٩؛ بلاذری، سابق ، ج١، ص ١١٥
(٢) حلبی، سابق، ج١، ص ٤٥٧۔ ٤٥٦.
(٣) ابن ہشام نے ابتدائی مسلمانوں کی تعداد ٨ افراد تک اس طرح سے نقل کی ہے ''علی، زید بن حارثہ، ابوبکر، عثمان بن عفان، زبیر بن عوام، عبد الرحمان بن عوف، سعد بن وقاص اور طلحہ بن عبید اللہ'' (السیرة النبویہ، ج١، ص ٢٦٩۔ ٢٦٢.)
(٤) جیسا کہ ہم نے عرض کیا ہے کہ چونکہ علی بچپنے سے موحد تھے اور کبھی بت پرستی میں آلودہ نہیں ہوئے ان کے مسلمان ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ پہلے (معاذ اللہ) بت پرست تھے اور پھر اسے ترک کردیا۔ (جبکہ پیغمبر ۖ کے دوسرے اصحاب کے بارے میں ایسا ہی تھا) بلکہ انھوں نے حقیقت میں دین اسلام جو کہ اسی توحید پر استوار تھا بہ عنوان دین آسمانی قبول کیا۔ زینی دحلان لکھتے ہیں'' علی ہرگز سابقہ شرک نہیں رکھتے تھے؛ کیونکہ وہ رسول خدا ۖ کے ایک فرزند کی طرح آنحضرت کے ہمراہ اور ان کے زیر تربیت تھے اور تمام امور میں ان کی پیروی کرتے تھے حدیث میں آیاہے کہ تین افراد نے ہرگز کفر نہیں اختیار کیا، مومن آل یاسین، علی بن ابی طالب ، آسیہ فرعون کی بیوی( السیرة النبویہ، ج١، ص ٩٢) ابن سعد علی کے بارے میں نقل کرتا ہے کہ لم یعبد الاوثان قط لصغرہ۔ (الطبقات الکبریٰ، ج٣، ص ٢١) اور ابن حجر ہیثمی مکی (٩٧٤٢ھ.ق) ابن سعد کے اس جملہ کو نقل کرنے کے بعد کہتا ہے: و من ثم یقال فیہ کرم اللّٰہ وجہہ۔ (الصواعق المحرقہ۔ الباب التاسع، ص ١٢٠) قبول اسلام کے وقت علی کے سن کے بارے میں مراجعہ کریں: شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید (ط مصر) ج١٣، ص ٢٣٥۔ ٢٣٤۔


۱۸
حضرت علی کی سبقت کی دلیلیں تاریخ اسلام
دور جاہلیت سے وفات مرسل اعظم ۖ تک

حضرت علی کی سبقت کی دلیلیں جو کچھ ذکر ہو چکا ہے اس کے اعتبار سے اگر کوئی حدیث یا تاریخی سند اس مطلب کی تائید نہ بھی کرے پھر بھی اس کا ثابت کرنا اتنا مشکل نہیں ہے جبکہ بے شمار دلیلیں اور شواہد ایسے موجود ہیں جو اس موضوع کی تائید کرتے ہیں، نمونہ کے طور پر ان میں سے کچھ یہ ہیں:
١۔ حضرت علی کے پہلے اسلام قبول کرنے کو پیغمبر اسلاۖم نے بیان کیا ہے اور مسلمانوں کے ایک گروہ کے درمیان فرمایا ہے: ''تم میں سے سب سے پہلا شخص، جو روز قیامت مجھ سے حوض (کوثر) پر ملاقات کرے گا وہ علی بن ابی طالب ہوں گے جنھوں نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا ہے''۔(١)
______________________
(١) اولکم وروداً علی الحوض ، اولکم اسلاماً علی بن ابی طالب۔ (ابن عبد البر، الاستیعاب فی معرفة الاصحاب، حاشیة الاصابہ میں، (بیروت: دار احیاء التراث العربی، ط ١، ١٣٢٨ھ)، ج٣، ص ٢٨؛ ابن ابی الحدید، گزشتہ حوالہ، ج١٣، ص ٢٢٩؛ مراجعہ کریں: الحاکم النیشاپوری، المستدرک علی الصحیحین، تحقیق: عبد الرحمن المرعشی(بیروت: دار المعرفہ، ط١، ١٤٠٦ھ)، ج٣، ص ١٧؛ خطیب بغدادی، تاریخ بغداد (بیروت: دار الکتاب العربی)، ج٢، ص ٨١؛ حلبی، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٤٣٢؛ بعض روایات میں اس طرح نقل ہوا ہے: اول ہذہ الامة وروداً علی الحوض اولہا اسلاماً علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالی عنہ۔ (حلبی، گزشتہ حوالہ، ص ٤٣٢.)
٢۔ علمائے کرام اور محدثین نقل کرتے ہیں کہ پیغمبر اسلاۖم دوشنبہ کے دن مبعوث بہ نبوت ہوئے اور علی ـ نے اس کے دوسرے دن (سہ شنبہ) آپ کے ساتھ نماز پڑھی۔(١)
٣۔ حضرت علی نے خود فرمایا ہے:
اس روز اسلام، صرف پیغمبر ۖ اور خدیجہ کے گھر میں داخل ہوا تھا اور میں ان میں سے تیسرا شخص تھا میں نے نور وحی اور رسالت کو دیکھا اور نبوت کی خوشبو کو محسوس کیا۔(٢)
٤۔ امیر المومنین علی ایک دوسری جگہ اسلام میں اپنی سبقت کے بارے میں اس طرح سے بیان فرماتے ہیں:
اے خدا! میں وہ پہلا شخص ہوں جو تیری طرف آیا ہوں اور تیرے پیغام کو سنا اور پیغمبر ۖ کی دعوت پر لبیک کہی ہے مجھ سے پہلے پیغمبر ۖ کے علاوہ کسی نے نماز نہیں پڑھی ہے۔(٣)
______________________
(١) استنبیء النبی یوم الأثنین و صلی علی یوم الثلاثائ۔ (ابن عبد البر، گزشتہ حوالہ، ص ٣٢؛ ابن اثیر، الکامل فی التاریخ (بیروت: دار صادر، ١٣٩٩)، ج٢، ص ٥٧.) حاکم نیشاپوری، اس حدیث کو دو طریقہ سے ''نبیء رسول اللّٰہ...'' اور ''وحی رسول اللّٰہ یوم الاثنین...'' نقل کیا ہے (گزشتہ حوالہ، ج٣، ص ١١٢.) بعض روایات میں اس طرح نقل ہوا ہے: استنبیء النبی ۖ یوم الاثنین و اسلم علی یوم الثلاثائ۔ (ابن ابی الحدید، گزشتہ حوالہ، ص ٢٢٩؛ جوینی خراسانی، فرائد السمطین (بیروت: مؤسسة المحمودی للطباعة و النشر، ط ١ ج١، ص ٢٤٤)۔ علی خود بھی اس بات پر تاکید کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ بعث رسول اللّٰہ یوم الاثنین و اسلمت یوم الثلاثائ۔ (سیوطی،تاریخ الخلفاء (قاہرہ: المکتبة التجاریہ الکبریٰ، ط ٣، ١٣٨٣ھ)، ص ١٦٦؛ الشیخ محمد الصبان، اسعاف الراغبین، درحاشیہ نور الابصار، ص ١٤٨؛ احمد بن حجر الھیتمی المکی، الصواعق المحرقہ (قاہرہ: ط٢، ١٣٨٥ھ ١٢٠.)
(٢)لم یجمع بیت واحد یومئذ فی الاسلام غیر رسول اللّٰہ و خدیجہ و انا ثالثہما، اریٰ نور الوحی و الرسالة و اشم ریح النبوة۔ (نہج البلاغہ، تحقیق : صبحی صالح، خطبہ ١٩٢ (قاصعہ)
(٣)اللّٰہم انی اول من اناب، و سمع و اجاب، لم یسبقنی الا رسول اللّٰہ بالصلاة۔ (گزشتہ حوالہ، خطبہ ١٣١)
٥۔ اور ایک جگہ آپ نے اس طرح سے فرمایا: میں خدا کا بندہ ، پیغمبر ۖ کا بھائی اور صدیق اکبر ہوں میرے بعد اس کلام کو، سوائے جھوٹے، افتراء پرداز کے کوئی نہیں کہے گا۔ میں نے سات سال کی عمر میں، لوگوں سے پہلے رسول خدا کے ساتھ نماز پڑھی ہے۔(١)
٦۔ عفیف بن قیس کندی کہتا ہے: میں دور جاہلیت میں عطر کا تاجر تھا۔ ایک تجارتی سفر کی غرض سے مکہ گیا جب مکہ میں داخل ہوا تو عباس (جو کہ مکہ کے ایک تاجر اور پیغمبر ۖ کے چچا تھے) کا مہمان ہوا، ایک دن میں مسجد الحرام میں عباس کے بغل میں بیٹھا ہوا تھا اور سورج نصف النہار کو پہنچ چکا تھا اس عالم میں ایک جوان مسجد میں داخل ہوا جس کا چہرہ چودھویں کے چاند کی طرح چمک رہا تھا اس نے ایک نظر آسمان پر ڈالی اور پھر کعبے کی طرف رخ کر کے کھڑا ہوااور نماز پڑھنے میں مشغول ہوگیا کچھ دیر گزری تھی کہ ایک خوبصورت نوجوان آیا اور اس کے داہنی طرف کھڑا ہوگیا پھر ایک نقاب پوش خاتون آئی اور ان دونوں کے پیچھے کھڑی ہوگئی اور تینوں ایک ساتھ نماز میں مشغول ہوگئے اور رکوع و سجود بجالانے لگے۔
میں (بت پرستوں کے بیچ یہ منظر دیکھ کر کہ تین افراد آئین بت پرستی سے ہٹ کر ایک دوسرے آئین کو اپنائے ہوئے ہیں) حیرت میں پڑگیا اور عباس کی طرف رخ کر کے کہا: یہ بہت بڑا واقعہ ہے! اس نے بھی اسی جملہ کو دہرایا اور مزید کہا: کیا تم ان تینوں کو پہچانتے ہو؟ میں نے کہا نہیں: اس نے کہا: پہلا شخص جو دونوں سے پہلے داخل ہوا وہ میرا بھتیجا محمد بن عبد اللہ ہے اور دوسرا شخص میرا دوسرا بھتیجا علی بن ابی طالب ہے اور تیسرے محمد ۖ کی زوجہ ہیں. محمد ۖ کا دعوا ہے کہ اس کا دین خدا کی طرف سے نازل ہوا
______________________
(١)انا عبد اللّٰہ و اخو رسولہ و انا الصدیق الاکبر لایقولہا بعدی الا کاذب مفتر. صلیت مع رسول اللّٰہ قبل الناس سبع سنین. (طبری، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ٢١٢؛ ابن اثیر، کامل فی التاریخ، ج٢، ص٥٧.) اور اسی مضمون پر کتاب ''مستدرک علی الصحیحین، ج٣، ص ١١٢؛ میں جمع آوری ہوئی ہے۔ ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج١٣، ص ٢٠٠، و ٢٢٨؛ مراجعہ کریں: مناقب علی بن ابی طالب ، ابوبکر احمد بن موسی مردویہ اصفہانی ، اور مقدمہ عبد الرزاق محمد حسین حرز الدین (قم: دار الحدیث، ط١، ١٤٢٢ھ)، ص ٤٨۔ ٤٧.
ہے اور ابھی روئے زمین پر ان تینوں کے علاوہ کسی نے اس دین کی پیروی نہیں کی ہے۔(١)
اس واقعہ سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ پیغمبر اسلاۖم کی دعوت کے آغاز میں آپ کی زوجہ جناب خدیجہ کے علاوہ صرف حضرت علی ـ نے آپ کے آئین کو قبول کیا تھا۔
اسلام کے قبول کرنے میں پیش قدمی کرنا ایک ایسی فضیلت ہے جس پر قرآن نے تکیہ کر کے فرمایا ہے: ''جو لوگ اسلام لانے میںپیش قدم تھے خدا کی بارگاہ میں بلند درجہ رکھتے ہیں اور وہی اللہ کی بارگاہ میں مقرب ہیں''۔(٢)
دین اسلام، قبول کرنے میں سبقت کے موضوع پر قرآن کی خاص توجہ اس حد تک ہے کہ جو لوگ فتح مکہ سے قبل ایمان لائے اور خدا کی راہ میں اپنی جان اور مال سے دریغ نہیں کیا، یہ لوگ ان لوگوں سے جو فتح مکہ کے بعد ایمان لائے اور جہاد کیا، بنص قرآن ان سے افضل اور برتر ہیں۔
''اورتم میں فتح مکہ سے پہلے انفاق اور جہاد کرنے والا اس کے جیسا نہیں ہوسکتا ہے جو فتح کے بعد انفاق اور جہاد کرے۔ پہلے جہاد کرنے والے کا درجہ بہت بلند ہے اگر چہ خدا نے سب سے نیکی کا
______________________
(١) طبری ، سابق، ج٢، ص ٢١٢؛ ابن ابی الحدید، سابق، ج ١٣، ص ٢٢٦۔ ابن ابی الحدید نے اس واقعہ کو عبد اللہ بن مسعود سے بھی نقل کیا ہے: وہ مکہ کے سفر میں اس واقعہ کے گواہ تھے۔ حلبی، السیرة الحلبیہ، ج١، ص ٤٣٦۔ اسی طرح مراجعہ کریں: ابن عبد البر، الاستیعاب (الاصابہ کے حاشیہ میں) ج٣، ص ١٦٥؛ عفیف بن قیس کندی کے حالات زندگی کی تشریح میں، ص ٣٣؛ پر علی کے حالات زندگی میں تھوڑا لفظ کے اختلاف کے ساتھ؛ محمد بن اسحاق، السیر و المغازی، تحقیق: ڈاکٹر سہیل زکار، (بیروت، دار المعرفہ، ط١، ١٣٩٨ھ) ص ١٣٨۔ ١٣٧؛ ابو الفتح کراجکی، کنز الفوائد (قم: دار الذخائر، ط ١، ١٤١٠ھ)، ج١، ص ٢٦٢۔ اور اسلام قبول کرنے میں علی کی پیش قدمی کے بارے میں زیادہ معلومات حاصل کرنے کے لئے الغدیر کی طرف رجوع کریں۔ ج٢، ص ٣١٤؛ ج ٣، ص ٢٢٤۔ ٢٢٠
(٢) ''والسابقون السابقون. اولئک المقربون.'' سورۂ واقعہ، آیت ١١۔ ١٠.
وعدہ کیا ہے اور وہ تمہارے جملہ اعمال سے باخبر ہے''۔(١)
مسلمانوں کے ایمان کی برتری کی وجہ فتح مکہ (جو کہ ٨ھ میں رخ پایا) سے پہلے یہ تھی کہ وہ لوگ ایسے وقت میں ایمان لائے کہ جب اسلام، جزیرة العرب میں پورے طور سے قدم نہیں جما سکا تھا اور ابھی بت پرستوں کا اڈہ ، یعنی شہر مکہ شکست ناپزیر قلعہ کے مانند باقی رہ گیا تھا اور ہر طرف سے خطرات مسلمانوں کی جان و مال کو خوف زدہ کئے ہوئے تھے. البتہ مدینہ کی طرف مسلمانوں کی ہجرت کے بعد اور دو قبیلے، اوس و خزرج اور مدینہ کے اطراف میں موجودہ قبائل کا، اسلام کی طرف رحجان پیدا ہونے سے وہاں ترقی اور کچھ امنیت پائی جانے لگی تھی اور بہت ساری لڑائیوں میں انھیں کامیابی بھی ملی۔ لیکن چونکہ خطرات ابھی پورے طور سے برطرف نہیں ہوئے تھے۔ لہٰذا ایسی صورت میں اسلام کی طرف رجحان اور جان و مال کی قربانی خاص اہمیت رکھتی تھی۔ یقینا ایسا کام، پیغمبر ۖ کی تبلیغ کے آغاز میں جبکہ قریش کی قدرت کے علاوہ اور کوئی قدرت اور بت پرستوں کی طاقت کے علاوہ اور کوئی طاقت نہ تھی، بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔
اسی وجہ سے پیغمبر اسلاۖم کے اصحاب کے درمیان اسلام میں سبقت کو ایک بہت بڑا افتخار سمجھا جاتا تھا اور اس توضیح کے ذریعہ اسلام کے سلسلہ میں حضرت علی کی سبقت کی اہمیت اور آپ کے معیار کا اچھی طرح سے اندازہ ہو جاتا ہے۔

اسلام قبول کرنے میں سبقت کرنے والے گروہ اس زمانہ کے اجتماعی گروہوں ا ور طبقوں میں سے دو طبقہ اسلام قبول کرنے میں پیش قدم تھا۔

الف: جوانوں کا طبقہ: ابتدائی مسلمانوں کی فہرست کا تجزیہ کرنے اور دوسرے شواہد سے یہ پتہ چلتا ہے کہ زیادہ تر ابتدائی مسلمان جوان تھے۔ بزرگ اور سن رسیدہ افراد مخالف تھے اور بت پرستی
______________________
(١) ''لایستوی منکم من انفق من قبل الفتح و قاتل اولٰئک اعظم درجة من الذین انفقوا من بعد و قاتلوا و کلًّا وعد اللّٰہ الحسنیٰ...'' (سورۂ حدید، آیت ١٠)
کا رواج ان کے افکار میں رچ بس گیا تھا۔ لیکن جوان نسل کے اذہان اور افکار، جوانی کی بنا پر نئے عقائد او رافکار کو قبول کرنے کے لئے آمادہ اور تیار تھے۔
ایک تاریخی رپورٹ کی بنیاد پر پیغمبر اسلاۖم کے مخفی دعوت کے زمانہ میں جوانوں اور ضعیفوں کا ایک گروہ اسلام کا گرویدہ ہوگیا تھا۔(١)
جس وقت پیغمبر اسلاۖم نے ظاہری تبلیغ کا آغاز کیا اور آپ کی اتباع اور پیروی کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا تو قریش کے سردار کئی مرتبہ ابوطالب سے شکایت کرنے کے بعد، آخری بار ان کے پاس آئے اور ان سے کہا: ہم کئی بار تمہارے پاس آچکے ہیں تاکہ تمہارے بھتیجے کے بارے میں تم سے بات کریں کہ ہمارے آباؤ و اجداد اور خداؤوں کو برا بھلا نہ کہیںاور ہمارے بچوں، جوانوں، غلاموں اور کیزوں کو ہمارے راستے سے نہ ہٹائیں...''۔(٢)
پیغمبر اسلاۖم نے جب طائف کا تبلیغی سفر کیا تو اس شہر کی اہم شخصیتوں نے اس ڈر سے اسلام قبول کرنے سے انکار کردیا کہ کہیں ان کے جوان آنحضرت ۖ کی پیروی نہ کرنے لگیں۔(٣) مسلمانوں کے حبشہ ہجرت کرنے کے بعد جب قریش کے نمائندے مہاجرین کو پلٹانے کے لئے نجاشی کے دربار میں گئے تو درباریوں سے گفتگو کے دوران اسلام کی طرف مکہ کے جوانوں کے رحجانات کی شکایت کی۔(٤)
ایک شخص قبیلۂ ''ہذیل'' سے مکے میں آیا تو پیغمبر اسلاۖم نے اسے اسلام کی طرف دعوت دی۔
______________________
(١) ابن سعد ، طبقات الکبریٰ (بیروت: دار صادر)، ج١، ص ١٩٩.
(٢)بلاذری، انساب الاشراف، تحقیق: محمد حمید اللہ (قاہرہ: دار المعارف، ط ٣)، ج١، ص ٢٢٩؛ مراجعہ کریں: بحار الانوار، ج١٨، ص ١٨٥ .
(٣)ابن سعد ، گزشتہ حوالہ، ص ٢١٢۔
(٤)ابن ہشام ، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٣٥٨؛ طبرسی، اعلام الوریٰ، (تہران: دار الکتب الاسلامیہ، ط ٣)، ص ٤٤؛ سبط ابن جوزی، تذکرة الخواص (نجف: المکتبہ الحیدریہ، ١٣٨٣ھ)، ص ١٨٦۔
ابوجہل نے اس ہذلی سے کہا: ''کہیں ایسا نہ ہو کہ تم اس کی بات کو قبول کرلو؛ اس لئے کہ وہ ہم کو بے وقوف اور ہمارے گزشتہ آبا و اجداد کو جہنمی کہتا ہے اور دوسری عجیب و غریب باتیں کرتا ہے!''
ہذلی نے کہا: تم کیوں نہیں اس کو اپنے شہر سے باہر کردیتے؟
ابو جہل نے جواب دیا: اگر وہ باہر چلا گیا اور جوانوںنے اس کی باتوں کو سن لیا اور اس کی شیرین بیانی کو دیکھ لیا تو وہ اس کے گرویدہ ہو جائیں گے اور اس کی پیروی کرنے لگیں گے اور ممکن ہے وہ ان کی مدد سے ہم پر حملہ کردے۔(١)
عتبہ: ( قریش کا ایک سردار) نے بھی اسعد بن زرارہ (جو کہ مدینہ میں قبیلۂ خزرج کے بزرگوں میں سے تھا) سے ملنے پر پیغمبر اسلاۖم سے جوانوں کے رحجانات اور لگاؤ کا شکوہ کیا۔(٢)
ابتدائی مسلمانوں کی فہرست کا تجزیہ کرنے سے پتہ چلتاہے کہ ان میں زیادہ تر افراد کی عمر، اسلام قبول کرتے وقت ٣٠ سال سے کم تھی۔ مثلاً سعد بن وقاص ١٧ (٣) یا ١٩ (٤) سال، زبیر بن عوام ١٥(٥) یا ١٦(٦) او رعبد الرحمن بن عوف ٣٠ سال کے تھے کیونکہ وہ ''عام الفیل'' کے دس سال بعد پیدا ہوئے تھے۔(٧) مصعب ابن عمیر بھی تقریباً ٢٥ سال کے تھے۔ کیونکہ جنگ احد ٣ھ میں شہادت کے وقت تقریباً چالیس سال کے تھے۔(٨) ارقم جن کا گھر پیغمبرۖ کے اختیار میں تھا وہ ٢٠ یا ٣٠
______________________
(١)بلاذری، سابق، ص١٢٨.
(٢) طبرسی ، سابق، ص ٥٦.
(٣) ابن سعد ، سابق، ج٣، ص ١٣٩.
(٤) حلبی، سیرة الحلبیہ، (بیروت: دار المعرفہ)، ج١، ص ٤٤٦.
(٥) حلبی، سابق، ج١، ص ٤٣٤.
(٦) ابن سعد، سابق، ج٣، ص ١٠٢.
(٧) گزشتہ حوالہ، ص ١٢٤.
(٨) ابن سعد، سابق، ج٣، ص ٢٢٢.
سال کے تھے کیونکہ مرتے وقت (٥٥ھ) میں وہ ٨٠ یا ٨٢ سال کے تھے۔(١)

ب: محروموں اور مظلوموں کا طبقہ: اس گروہ کا مطلب جو اسلامی کتابوں میں ''ضعیفوں'' اور ''مستضعفین'' کے نام سے ذکر ہوا ہے۔ غلام یا آزاد شدہ افراد تھے جو اپنی آزادی کے باوجود عربوں کی رسم کے مطابق ایک طرح سے اپنے آپ کو آقاؤوں سے متعلق اور وابستہ سمجھتے تھے اور اصطلاح میںان کو ''مولیٰ'' (آزاد شدہ) کہا جاتا تھا۔ مستضعفین کا دوسرا گروہ پردیسی اور مسافروں کا تھا جو دوسرے علاقوں سے آکر مکہ میں بس گئے تھے اور چونکہ وہاں کے کسی قبیلہ سے ان کا کوئی تعلق نہیں تھا لہٰذا وہ مجبوری کے تحت اپنی جان و مال کی حفاظت کے لئے کسی ایک طاقت ور قبیلہ کی پناہ میں رہتے تھے لیکن پھر بھی قریش کے لوگوں کے مساوی حقوق سے محروم تھے اور اجتماعی لحاظ سے انھیں ایک پست اور حقیر طبقہ سمجھا جاتا تھا۔
مکہ میں اس گروہ کا کوئی قبیلہ یا خاندان نہیں تھا اور نہ ہی اس کے پاس کوئی قدرت و طاقت تھی(٢)لیکن اسلام قبول کرنے میں سب سے آگے تھے لہٰذا ان کا مسلمان ہو جانا مشرکوں پر بہت ہی تلخ اور گراں گزرا اور انھیں مسلمانوں کی تحقیر کا مناسب بہانہ مل گیا۔
ایک روایت کی بنا پر جب پیغمبر اسلاۖم مسجد الحرام میں تشریف فرما ہوتے تھے تو آپ کے ضعیف پیرو، جیسے عمار یاسر، خباب بن الارت، صُہَیب بن سنان، بلال بن رَباح، ابوفَکیَہ اور عامر بن فُہَیر، آپ کے پہلو میں بیٹھتے تھے تو قریش ان کا مذاق اڑاتے تھے اور طعنہ دے کر ایک دوسرے سے کہتے تھے کہ دیکھو اس کے ہم نشین ایسے لوگ ہیں۔ خدا نے ہم سب لوگوں کے درمیان میںسے فقط ان
______________________
(١) ابن سعد، سابق، ج٣، ص ٢٤٤۔ عبد المتعال مصری نے ایک کتاب ''شباب قریش فی بدء الاسلام'' کے نام سے تالیف کی ہے اورقریش کے جن چالیس جوان افراد نے دعوت اسلام کو قبول کیا تھا ان کو ترتیب کے ساتھ ذکر کیا ہے اور انھیں سنّی بتایا ہے ، جن میں سب سے اول حضرت علی ہیں۔ ص ٣٤۔ ٣٣.
(٢)بلاذری، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ١٥٦اور ١٨١؛ رجوع کریں: طبقات الکبریٰ، ج٣، ص ٢٤٨۔
پر احسان کیاہے (کہ اسلام کو قبول کرکے ہدایت یافتہ ہوئے ہیں)۔(١)
ایک دن قریش کے سرداروں کا ایک گروہ پیغمبر ۖ کی مجلس کے بغل سے گزرا تو اس وقت صہیب ، خبّاب، بلال، عمار وغیرہ پیغمبر ۖ کی بارگاہ میں بیٹھے ہوئے تھے ان لوگوں نے یہ منظر دیکھ کر کہا: ''اے محمدۖ! اپنی قوم والوں میں سے صرف ان پر تکیہ کیاہے؟! کیا ہم ان کی پیروی کریں؟! کیا خدا نے صرف ان پر احسان کیا ہے (اور ان کی ہدایت کی ہے؟!) ان کو اپنے سے دور کردو شاید ہم تمہاری پیروی کرلیں ۔ اس وقت سورۂ ''انعام'' کی ٥٢ ویں اور ٥٣ ویں آیت نازل ہوئی۔(٢)
''اور خبر دار جو لوگ صبح و شام اپنے خدا کو پکارتے ہیںاور خدا ہی کو مقصود بنائے ہوئے ہیں انھیں اپنی بزم سے الگ نہ کیجئے گا۔ نہ آپ کے ذمہ ان کا حساب ہے اور نہ ان کے ذمہ آپ کا حساب ہے کہ آپ انھیں دھتکار دیںاور اس طرح ظالموں میں شمار ہوجائیں''۔
اور اسی طرح ہم نے بعض کو بعض کے ذریعہ آزمایا ہے تاکہ وہ یہ کہیں کہ یہی لوگ ہیں جن پر خدا نے ہمارے درمیان فضل و کرم کیا ہے اور کیا وہ اپنے شکر گزار بندوں کو بھی نہیں جانتا؟!(٣)
پیغمبرۖ کی رسالت کے ابتدائی سالوں میں قریش نے چند نمائندے مدینہ بھیجے تاکہ اس شہر کے یہودیوں سے آپ کے بارے میں تحقیق کریں۔ ان لوگوںنے یہودیوں سے کہا: ''جو حادثہ ہمارے شہر میں رونما ہوا ہے اس کے لئے ہم تمہارے پاس آئے ہوئے ہیں ایک یتیم اور حقیر جوان بڑی بڑی باتیں کر رہا ہے اس کا خیال ہے کہ وہ ''رحمان'' کی طرف سے بھیجا گیا ہے اور ہم، صرف ایک شخص کو اس نام سے جو ''یمامہ'' میں رہتا ہے جانتے ہیں''
یہودیوں نے پیغمبر اسلاۖم کی خصوصیات کے بارے میں چند سوالات کئے ان میں ایک سوال یہ تھا
______________________
(١)گزشتہ حوالہ۔
(٢) طبرسی، مجمع البیان، ج٢، ص ٣٠٥.
(٣)سورۂ انعام،آیت ٥٣۔ ٥٢۔
کہ کن لوگوں نے اس کی پیروی کی ہے؟
ان لوگوں نے کہا: ہم میں سے پست لوگوں نے۔
یہودیوں کا بڑا عالم ہنسا اور کہا: یہ وہی پیغمبر ۖ ہے جس کی نشانیاں ہماری کتابوں میں موجود ہیں اور اس کی قوم اس کی شدید دشمن ہو جائے گی۔(١)
البتہ مفلوک الحال لوگوں کا تیزی کے ساتھ اسلام کی طرف رجحان ہرگز مصلحتی اسلام یا طبقاتی منافع کی خاطر نہیں تھا بلکہ انسانی تسلط اور حکمرانی کے نفی کا پہلو اور خدائی حکمرانی کے قبول کرنے کا مسئلہ تھا اور یہ مسئلہ سب سے زیادہ، مستکبرین اور تسلط خواہوں کے اجتماعی طاقت کے لئے خطرہ بن گیا تھا اوران کی مخالفت کو اکسانے کا باعث بنا تھا جیسا کہ گزشتہ پیغمبروں کے زمانہ میں بھی ایسا ہی ہو ا ہے۔
''تو ان کی قوم کے بڑے لوگ جنھوںنے کفر اختیار کرلیا تھا۔ انھوںنے کہا کہ ہم تو تم کو اپنا ہی جیسا ایک انسان سمجھ رہے ہیں اور تمہارے اتباع کرنے والوںکو دیکھتے ہیں کہ وہ ہمارے پست طبقہ کے سادہ لوح افراد ہیں۔ ہم تمہارے لئے اپنے اوپر کسی فضیلت وبرتری کے قائل نہیں ہیںبلکہ تمھیں جھوٹا خیال کرتے ہیں''۔(٢)
''تو ا ن کی قوم کے بڑے لوگوں نے کمزور بنادیئے جانے والے لوگوں میں سے جوایمان لائے تھے ان سے کہنا شروع کیا کہ کیا تمھیںاس کا یقین ہے کہ صالح خدا کی طرف سے بھیجے گئے ہیں؟ انھوںنے کہا کہ بیشک ہمیں ان کے پیغام کا ایمان اور ایقان حاصل ہے۔ تو بڑے لوگوںنے جواب دیا کہ ہم تو ان باتوں کے منکر ہیں جن پر تم ایمان لائے ہو''۔(٣)
______________________
(١) ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ١٦٥؛ حلبی، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٤٩٩۔
(٢) سورۂ ہود، آیت ٢٧۔
(٣) سورۂ اعراف، آیت ٧٦۔ ٧٥۔

دعوت ذو العشیرہ پیغمبر اسلاۖم کی رسالت کے تیسرے سال فرشتۂ وحی خدا کا حکم لیکر آپ کے پاس نازل ہوا کہ اپنے خاندان والوں اور رشتہ داروں کو ڈرائیں اور انھیں دعوت دیں:
''اور پیغمبر ۖ آپ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈارئیے اور جو صاحبان ایمان آپ کا اتباع کرلیں ان کے لئے اپنے شانوں کو جھکا دیجئے پھر یہ لوگ آپ کی نافرمانی کریں تو کہہ دیجئے کہ میں تم لوگوں کے اعمال سے بیزار ہوں'' (١)
اس آیت کے نازل ہونے پر پیغمبر اسلاۖم نے علی کو حکم دیا کہ کھانے کا انتظام کیا جائے اور عبد المطلب کی اولاد کو دعوت دی جائے تاکہ خدا کا حکم ان تک پہنچایا جاسکے۔ چنانچہ علی نے ایسا ہی کیا۔ تقریباً کم و بیش چالیس (٤٠) افراد جمع ہوئے جن میں ابوطالب، حمزہ اور ابولہب بھی تھے، کھانا کم تھا اور عام طور سے اتنا کم کھانا اتنے بڑے مجمع کے لئے ناکافی تھا۔ لیکن سب نے سیر ہوکر کھایا ۔ ابولہب نے کہا: ''اس نے تم پر جادو کر دیا ہے'' یہ بات سن کر سارا مجمع پیغمبر ۖ کی بات سننے سے کنارہ کش ہوگیا اور پیغمبر ۖ نے بھی کوئی بات نہیں کہی اور مجلس کسی نتیجہ پر پہنچے بغیر تمام ہوگئی۔ پیغمبر ۖ کے حکم سے دوسرے دن علی نے پھر اسی طرح کھانے کا انتظام کیا اور ان لوگوں کو دعوت دی اس مرتبہ پیغمبر ۖ نے مجمع سے کھانا کھانے کے فوراً بعد فرمایا: ''عرب کے درمیان کوئی ایسا نہیں ہے جو مجھ سے بہتر چیز تمہارے لئے لے کر آیا ہو میں دنیا اور آخرت کی بھلائی اور نیکی تمہارے لئے لیکر آیا ہوںخدا نے حکم دیا ہے کہ تم کو اس کی جانب دعوت دوںتم میں سے کون ہے جو اس وقت میری مدد کرنے کے لئے تیار ہے؟ تاکہ وہ میرا بھائی، وصی اور جانشین تمہارے درمیان قرار پائے''
کسی نے جواب نہ دیا، علی جو کہ سب سے کم سن تھے، کہا: اے خدا کے رسول ۖ ! میں آپ کی مدد
______________________
(١)سورۂ شعرا، آیت ٢١٦۔ ٢١٤۔
کرنے کے لئے تیار ہوں'' پیغمبر ۖ نے فرمایا: ''یہ تمہارے درمیان میرا بھائی، وصی اور جانشین ہے، اس کی باتوں کو سنو اور اس کی اطاعت کرو''۔(١)
یہ واقعہ ہم کو ایک بنیادی مطلب کی طرف راہنمائی کرتاہے کہ ''نبوت'' اور ''امامت'' دو ایسے بنیادی اصول ہیں جو ایک دوسرے سے جدا نہیں ہیں کیونکہ پیغمبر اسلاۖم نے اپنی رسالت کے ابتدائی
______________________
(١) یہ واقعہ اسلامی دانشوروں کے درمیان ''بدء الدعوة'' ،''یوم الدار'' اور ''یوم الانذار'' کے نام سے مشہور ہے، اکثر محدثین، مفسرین اور مورخین نے اس واقعہ کو تھوڑے سے الفاظ کے اختلاف کے ساتھ نقل کیا ہے ، ان میں سے محمد بن جریر الطبری، تاریخ الامم و الملوک، ج٢، ص ٢١٧؛ ابن اثیر، الکامل فی تاریخ ، ج٢، ص ٦٣؛ ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج١٣، ص ٢١١؛ بیہقی، دلائل النبوة، ترجمہ محمود مہدی دامغانی، ج١، ص ٢٧٨؛ طبرسی، مجمع البیان، ج٧، ص ٢٠٦؛ شیخ مفید، الارشاد، ص ٢٩؛ علی بن موسی بن طاوس، الطرائف فی معرفة مذاہب الطوائف، ج١، ص٢٠؛ حلبی، السیرة الحلبیہ، (انسان العیون)، ج١، ص ٤٦١؛ مجلسی، بحارالانوار، ج١٨، ص ١٧٨؛ ١٨١، ١٩١، ٢١٤؛ علامہ امینی ، الغدیر، ج٢، ص ٢٨٩۔ ٢٧٨؛ سید مرتضی عسکری، نقش ائمہ در احیاء دین، ج٢، ص ٨٦؛ ج٦، ص ١٨۔ ١٧؛ احمد حنبل، مسند، ج١، ص ١٥٩۔ قابل ذکر ہیںجیسا کہ مرحوم علامہ امینی نے توجہ دی ہے کہ مورخین کے درمیان طبری نے اپنی تاریخ میں اسی طرح سے نقل کیا ہے جیسا کہ ہم نے لکھا ہے۔ لیکن اپنی تفسیر (جامع البیان، ج١٩، ص ٧٥) میں کلام پیغمبر ۖ کو دو جگہ پر تحریف کر کے بجائے میرا وصی اور جانشین کے ''ایسااور ویسا'' لفظ ذکر کیا ہے: فأَیُّکم یؤازرنی علی ہذا الامر علی ان یکون اخی و کذا و کذا ثم قال ان ہذا اخی و کذا و کذا فأسمعوا لہ و اطیعوہ۔ اسماعیل بن کثیر شامی نے بھی اپنی تین کتابوں میں (تفسیر ، ج٣، ص ٣٥١، البدایہ و النہایہ، ج٣، ص ٤٠، السیرہ النبویہ، ج١، ص ٤٥٩) ، میں اس غلط روش میں اس کی پیروی کی ہے! البتہ ان دو افراد کے خاص نظریات کی بنا پر اس مسئلہ میں ان کے مقاصد کو سمجھنا کوئی مشکل کام نہیںہے۔
سالوں میں اپنی نبوت کے اعلان کے دن، مسلمانوں کی آئندہ رہبری اور امامت کو بھی بیان کیا۔
دوسری طرف سے یہ تصور نہ ہو کہ پیغمبرۖ نے صرف ایک بار وہ بھی ''غدیر خم'' میں (اپنی زندگی کے آخری مہینے میں) علی کی امامت کو بیان کیا ہے۔ بلکہ دعوت ذو العشیرہ کے علاوہ بھی دوسری مناسبتوں سے (جیسے حدیث منزلت میں) بھی اس موضوع کو ذکر فرمایا ہے: البتہ غدیر میں سب سے زیادہ واضح اور تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے، جہاں مجمع بھی بہت زیادہ تھا۔
سوروں کی ترتیب نزول کے لحاظ سے یہ نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ دعوت ذو العشیرہ کا واقعہ، دعوت ظاہری سے کچھ دن پہلے پیش آیا ہے۔(١)
______________________
(١)سورۂ ''شعرائ'' جس میں آیات انذار موجود ہے سورۂ واقعہ کے بعد نازل ہوا ہے اور پھر ترتیب وار سورۂ ''نمل، قصص، اسرائ، یونس، ھود، یوسف'' اور ''سورۂ حجر'' جس میں علنی دعوت کا حکم ''فاصدع بما تؤمر'' موجود ہے نازل ہوا ہے (محمد ہادی معرفت، التمہید فی علوم القرآن، ج١، ص ١٠٥)



۱۹
دوسری فصل : علی الاعلان تبلیغ اور مخالفتوں کا آغاز تاریخ اسلام
دور جاہلیت سے وفات مرسل اعظم ۖ تک

دوسری فصل
علی الاعلان تبلیغ اور مخالفتوں کا آغاز

ظاہری تبلیغ کا آغاز پیغمبر اسلاۖم ایک عرصہ سے مخفی دعوت کا آغاز کرچکے تھے اس کے بعد خداوند عالم کی طرف سے آپ کوحکم ملا کہ اپنی دعوت کو علی الاعلان پیش کیجئے اور مشرکین سے نہ ڈریئے۔ ''پس آپ اس بات کا واضح اعلان کردیں جس کا حکم دیا گیا ہے اور مشرکین سے کنارہ کش ہو جائیں ہم ان استہزاء کرنے والوں کے لئے کافی ہیں''۔(١)
یہ فرمان ملنے پر ایک دن پیغمبر اسلاۖم مقام ''ابطح''(٢) میں کھڑے ہوئے اور فرمایا: ''میں خدا کی جانب سے بھیجا گیا ہوں تم کو خدائے یکتا کی عبادت اور بتوں کی عبادت ترک کرنے کی دعوت دیتا
______________________
(١) سورۂ حجر، آیت ٩٥ .
(٢)ابطح سے مراد ، منیٰ کے نزدیک ایک درہ ہے (یاقوت حموی، معجم البلدان، ج١، ص ٧٤) گویا حج کے وقت منی میں حاجیوں کے اجتماع کے موقع پر فرمایا ہے۔
ہوں جو کہ نہ تمہیں نفع پہنچاتے ہیں اور نہ نقصان، نہ تمہارے خالق ہیں اور نہ ہی رازق، اور نہ کسی کو زندہ کرتے ہیں اور نہ کسی کو مارتے ہیں''۔(١)
اس دن سے پیغمبر ۖ کی دعوت ایک نئے مرحلہ میں داخل ہوگئی اور آپ نے اجتماعی پروگراموں میںحج کے دوران، منیٰ اوراطراف مکہ میں رہنے والے قبائل کے درمیان دعوت و تبلیغ، شروع کردی۔

قریش کی کوششیں پیغمبر اسلاۖم کے ظاہری تبلیغ کے آغاز میں، قریش نے کوئی خاص عکس العمل (ریکشن) نہیںدکھایا؛ لیکن جس دن سے پیغمبر ۖ نے ان کے بتوں کا کھلے الفاظ میں سختی سے انکار کیا اور بتوں کوایک بے شعور اور بے اثر؛ موجود بتایا، ان کو طیش آگیا اور وہ پیغمبرۖ کی مخالفت اور ان کے خلاف گروپ بازی پر کمر بستہ ہوگئے۔(٢) لیکن چونکہ مکہ میں قبیلہ جاتی نظام پایا جاتا تھا لہٰذا محمدۖ کو گزند پہنچانے پر انھیں قبیلۂ بنی ہاشم کے انتقام کا خطرہ لاحق تھا لہٰذا وہ قریش کے سرکردہ لوگوں سے مشورہ کرنے کے بعد اس نتیجہ پر پہنچے کہ محمدۖ کودعوت سے روکنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ابو طالب پر جو کہ اس کے چچا ہیں اور ان کی نظر میں محمد ۖ کا بڑا احترام ہے ،دباؤ ڈالیں تاکہ وہ اپنے بھتیجے کو اس راہ پر چلنے سے منع کریں۔ لہٰذا وہ لوگ کئی بار جناب ابوطالب سے اس خیال سے ملے کہ وہ (ابوطالب) حسب و نسب اور سن کے لحاظ سے
______________________
(١) تاریخ یعقوبی، ج١، ص ١٩۔ پیغمبر اسلاۖم کی پہلی ظاہری دعوت مختلف صورتوںمیں نقل ہوئی ہے۔ اور شایدآنحضرتۖ نے تھوڑے تھوڑے وقفہ کے بعد بت پرستوں کو اس طرح کے بیانات سے دعوت دی ہے۔ مراجعہ کریں: یعقوبی، سابق، ص ١٩؛ طبری ، سابق، ج٢، ص ٢١٦؛ بلاذری، انساب الاشراف، ج١، ص ١٢١؛ بیہقی، سابق، ج١، ص ٢٧٩؛ طبری ، اعلام الوریٰ ، (تہران: دار الکتب الاسلامیہ، ط ٣) ص ٣٩؛ مجلسی، بحار الانوار ، ج١٨، ص ١٨٥؛ حلبی، سابق، ج١، ص ٤٦١.
(٢)طبری، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ٢١٨؛ ابن ہشام، السیرة النبویہ (قاہرہ: مطبعة مصطفی البابی الحلی، ١٣٥٥ھ.ق)، ج١، ص ٢٨٢؛ ابن سعد، طبقات الکبریٰ، ج١، ص١٩٩؛ ابناثیر، الکامل فی التاریخ، ج٢، ص٦٣۔
سماج میںاپناایک مقام رکھتے ہیں اور ان سے کہا کہ وہ اپنے بھتیجے کو منع کریں کہ وہ ان کے خداؤوں کو برا بھلا'' اور ان کے دین و آئین کو بیکار؛ اور ان کو بیوقوف اور ان کے آباء و اجداد کو گمراہ کہنے سے باز آجائے۔
وہ لوگ ان ملاقاتوں میں کبھی دھمکی کے ذریعہ اور کبھی مال و ثروت او رریاست کی لالچ دے کر ان سے مطالبہ کرتے تھے اور جب کسی نتیجہ پر نہ پہنچے تو ابوطالب سے پیش کش کی کہ اس کو (محمدۖ) عمارہ بن ولید بن مغیرہ سے جو کہ ایک خوبصورت اور طاقت ور جوان، اور قریش کا شاعر ہے بدل لیں۔ لیکن ابوطالب نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔ ایک مرتبہ کفار قریش نے جناب ابوطالب اور پیغمبر اسلاۖم کو جنگ اور قتل کی سخت دھمکی دی تو آنحضرتۖ نے ان کی دھمکی کے جواب میں فرمایا: ''چچا جان! اگر سورج کو ہمارے داہنے ہاتھ پر اور چاند کو بائیں ہاتھ پر رکھ دیں پھر بھی میں اپنے کام سے باز نہ آؤں گا ۔ یہاں تک کہ خداوند اس کام کو کامیابی سے ہمکنار کردے یا میں اس راہ میں نابود ہوجاؤ ں۔ (١)
______________________
(١)طبری، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ٢٠٠۔ ٢١٨؛ ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ص ٢٨٧۔ ٢٨٢ اور ٣١٣، ٣١٦؛ بیہقی، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٢٨٢؛ ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٢٠٣۔ ٢٠٢؛ بلاذری، گزشتہ حوالہ،ص ٢٣٢۔ ٢٣١؛ ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، ج٢، ص ٦٥۔ ٦٣؛ حلبی، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٤٦٣۔ ٤٦٢؛ ابن کثیر، السیرة النبویہ (قاہرہ: مطبعة عیسی البابی الحبی، ١٣٨٣ھ.ق)، ج١، ص٤٧٤۔
اس نقل کے مطابق، پیغمبر اسلامۖ کا سورج اور چاند سے جواب دینا قریش کی دھمکی سے ظاہراً مناسبت نہیں رکھتا تھا اور اس کے سند میں بھی بحث ہوئی ہے لیکن جو جواب بعض کتابوں میں نقل ہوا ہے وہ قریش کی دھمکی سے مناسبت رکھتا ہے۔ اس نقل کی بنیاد پر رسول خدا ۖ نے اپنے چچا سے قریش کے دھمکی آمیز پیغام کو سننے کے بعد آسمان کی طرف رخ کر کے فرمایا: ''میرے لئے تبلیغ اور رسالت کا چھوڑنا اتنا ہی مشکل ہے جتنا تم میں سے کوئی ہاتھ پھیلائے اور چاہے کہ خورشید کا ایک شعلہ اپنے ہاتھ میں لے لے'' اس وقت جناب ابوطالب نے قریش کے نمائندوں سے کہا: خداکی قسم! میرے بھتیجے نے کبھی جھوٹ نہیں بولا ہے۔ تم لوگ یہاں سے پلٹ جاؤ!'' (حافظ نور الدین ھیثمی، مجمع الزوائد، بیروت: دار الکتاب، ج٦، ص ١٥؛ معجم اوسط، کبیر طبرانی اور مسند ابی یعلی کے نقل کے مطابق) ھیثمی نے روایت ابویعلی کی سند کو صحیح بتایاہے اور مزید رجوع کریں۔ فقہ السیرةکی طرف۔ محمد غزالی، عالم المعرفہ، ص ١١٥۔ ١١٤.

ابوطالب کی طرف سے حمایت کا اعلان قریش کی دھمکیوں پر جناب ابوطالب نے (رشتہ داری کے ناتے) پیغمبر اسلام ۖ کی حمایت کا اعلان کیا اور قبیلۂ بنی ہاشم کے لوگوں کو خواہ وہ مسلمان رہے ہوں یا بت پرست سب کو اسی کام کے لئے آمادہ کیا اور قریش کو خبر دار کیا کہ اگر ان کے بھتیجے کو گزند پہنچا تو بنی ہاشم کے انتقام سے وہ بچ نہیں سکتے ہیں۔(١) کیونکہ قبائلی جنگ ایک خطرناک کام تھا اور اس کے نتائج افسوس ناک اور غیر مشخص تھے اور قریش کے سردار ابھی اس قسم کا خطرہ مول لینے کے لئے تیار نہیں تھے۔ لہٰذا وہ اپنی اس دھمکی کو پورا نہیں کرسکے اور ناکام رہے۔ بنی ہاشم میں سے صرف ابولہب، دشمنوں کی صف میں تھا۔

قریش کی طرف سے مخالفت کے اسباب یہاں پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قریش نے پیغمبر اسلاۖم کی ظاہری دعوت کے ابتدائی سالوں میں جبکہ اس وقت اسلام کی تعلیمات اور قرآن کے احکام ابھی تھوڑے سے نازل ہوئے تھے، کن خطرات کا احساس کرلیا تھا کہ مخالفت کے لئے کمر بستہ ہوگئے تھے؟
کیا ان کی مخالفت فقط اس بنا پر تھی کہ وہ بت پرست تھے یا دوسرے اسباب و علل بھی پائے جاتے تھے۔ (البتہ یہ گفتگو قریش کے سرداروں او ران کے بزرگوں کے جذبات کے بارے میں ہے، لیکن عوام الناس اپنے قبائل کے سرداروں کی پیروی میںتھے۔ ان کے احساسات اور جذبات کو ابھارنا اور ان کو ایک نئے دین کے خلاف ورغلانا کوئی زیادہ مشکل کام نہیں تھا۔ کیونکہ وہ لوگ اپنے عقائد و
______________________
(١)ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ص٢٨٧؛ طبری، گزشتہ حوالہ، ص٢٢٠؛ ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی طالب (قم: المطبعة العلمیہ)، ج١، ص٥٩؛ ابن اثیر، گزشتہ حوالہ، ص ٦٥؛ ابن کثیر، گزشتہ حوالہ، ص ٤٧٧؛ حلبی، گزشتہ حوالہ، ص ٤٦٣۔
آداب و رسوم کے اس قدر پابند تھے کہ کسی بھی جدید دین کے مقابلہ میں عکس العمل دکھا سکتے تھے۔(١)
مکہ میں قریش کی قدرت ، نفوذ او ران کے اعلیٰ مقام کو دیکھتے ہوئے شاید ان کی مخالفت کو سمجھنا دشوار نہ تھا اس لئے کہ تجارت اور خانہ کعبہ کی کنجی کی ذمہ داری کی بحث میں اس بات کی طرف اشارہ کیا جاچکا ہے کہ یہ قبیلہ مکہ کی اجتماعی اور اقتصادی قدرت کو اپنے ہاتھ میں لئے ہوئے تھا اور اپنے کسی رقیب کو برداشت نہیں کرتا تھا او رکسی کو اجازت نہیں دیتاتھا کہ بغیر اس کی یا اس کے قبیلہ کی مرضی کے کوئی قدم اٹھا سکے۔ قریش دوسرے قبائل سیخراجلیتے تھے اوران کے ساتھ دوگانہ سلوک کرتے تھے۔ اور اپنی سیاست خانۂ خدا کے زائروں پر تھوپتے تھے۔
اس بنا پر یہ فطری بات تھی کہ بزرگان قریش، حضرت محمد ۖ کے دین کو برداشت نہ کریں؛ کیونکہ وہ آنحضرت ۖ کے ابتدائی بیانات سے سمجھ گئے تھے کہ اس کا دین ہمارے دین کے برخلاف اور ضد ہے۔ اس کے علاوہ پیغمبرۖ کو یہ پیش بینی کردی گئی تھی کہ بہرحال ایک گروہ، آپ کے دین کو قبول کرے گا اور آپ کو اس کے ذریعہ شہرت ملے گی۔ لہٰذا یہ چیزیں ہرگز قریش کی شان کے مطابق نہ تھیں۔
ان تمام باتوں کے پیش نظر مکہ میں نازل ابتدائی آیات اور سوروں اور تمام دستاویز اور شواہد کے تجزیہ و تحلیل سے قریش کی مخالفت کے اسباب و عوامل میں سے چند اہم اسباب کو شمار کیا جاسکتا ہے:
______________________
(١) خداوند عالم نے قرآن مجید میں، متعدد مقامات پر ان کے دینی تعصب؛اورموروثی عقائد اور رسم و رواج کی تقلید کے بارے میں ذکر فرمایا ہے اور اس کی مذمت کی ہے۔ ان میں سے کچھ یہ ہیں: سورۂ بقرہ، آیت ١٧٠، مائدہ، آیت ١٠٤؛ یونس، آیت ٧٨؛ لقمان ، آیت ٢١؛ زخرف ، آیت ٣٢۔ ٢٢.



۲۰